Sunan At-Tirmidhi 2734

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2734Sunan At-Tirmidhi

مرحبا کہنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟ قُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ، قَالَ: فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً طَوِيلَةً، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ فتح مکہ والے سال میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی۔ آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے، اور فاطمہ ؓ ایک کپڑے سے آپ کو آڑ کیے ہوئے تھیں۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا: کون ہیں یہ؟ میں نے کہا: میں ام ہانی ہوں، آپ نے فرمایا: ام ہانی کا آنا مبارک ہو ۔ راوی کہتے ہیں پھر ابو مرہ نے حدیث کا پورا واقعہ بیان کیا۔

Sayyidah Umm Hani (RA) narrated: At the conquest of Makkah, I met Allah’s Messenger ﷺ , I found him having a bath. Fatimah had screened him with a garment. I greeted with salaam and he asked “Who is it”? I said, “I, Umm Hani.” He said, “Marhabah (welcome) O Umm Hani” then the narrator narrated at length. [Ahmed 26973,Bukhari 280,Muslim 336,Abu Dawud 1291,Nisai 275, Ibn e Majah 465]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2734
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠)، والصلاة ٤ (٣٥٧)، والجزیة ٩ (٣١٧١)، والأدب ٩٤ (٦١٥٨)، صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦)، والمسافرین ١٣ (٣٣٦/٨٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٩ (٤٦٥) (ببعضة) (تحفة الأشراف: ١٨٠٨)، وط/قصر الصلاة ٨ (٢٨)، و مسند احمد (٦/٣٤٣، ٤٢٣)، وسنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٤) (صحیح )