Sunan At-Tirmidhi 2732

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2732Sunan At-Tirmidhi

گلے ملنے اور بوسہ دینے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے (اس وقت) رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف ننگے بدن اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے لپکے اور قسم اللہ کی میں نے آپ کو ننگے بدن نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا ١ ؎، آپ نے (بڑھ کر) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated: When Zayd ibn Harithah came to Madinah, Allah’s Messenger ﷺ was in my home. He came and knocked at the door. Allah’s Messenger ﷺ stood up naked, dragging his garment. By Allah, I have never seen him naked before that or after that. He embraced him and kissed him.

ضعيف، المشکاة (4682)، مقدمة رياض الصالحين و / (5)، نقد الکتاني ص (16) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2732
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی کے استقبال میں آپ ﷺ کو اس حالت و کیفیت میں نہیں دیکھا جو حالت و کیفیت زید بن حارثہ سے ملاقات کے وقت تھی کہ آپ کی چادر آپ کے کندھے سے گرگئی تھی اور آپ نے اسی حالت میں ان سے معانقہ کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٦١١) (ضعیف) (سند میں ” ابراہیم بن یحییٰ بن محمد “ اور ان کے باپ ” یحییٰ بن محمد بن عباد “ دونوں ضعیف ہیں )