Sunan At-Tirmidhi 2673

علم کا بیان

2673Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ نیکی کا راستہ بتانے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، وَذَلِكَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ أَسَنَّ الْقَتْلَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: سَنَّ الْقَتْلَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: سَنَّ الْقَتْلَ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظلم سے جو بھی خون ہوتا ہے اس خون کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے (پہلے) بیٹے پر جاتا ہے، کیونکہ اسی نے سب سے پہلے خون کرنے کی سبیل نکالی ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No one is killed unjustly but a portion of his blood is (recorded) against the son of Adam. This because he was the first to begin murder” Abdur Razzaq used the words سَنَّ الْقَتْلَ instead of سن القتل meaning ‘begin murder’, introduce murder’. [Ibn Majah 2616]

صحيح، ابن ماجة (2616) صحيح، ابن ماجة (2616)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2673 اس سند سے بھی ابن مسعود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2673
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ خلاف شریعت اور برے کاموں کو پہلے پہل کرنا جس کی بعد میں لوگ تقلید کریں کتنا بڑا جرم ہے، قیامت تک اس برے کام کے کرنے کا گناہ اسے بھی ملتا رہے گا، اس لیے امن و سلامتی کی زندگی گزار نے کے لیے ضروری ہے کہ کتاب و سنت کی اتباع و پیروی کریں اور بدعات و خرافات سے اجتناب کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١ (٣٣٣٥)، والدیات ٢ (٦٨٦٧)، والاعتصام ١٥ (٧٣٢١)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٧ (١٦٧٧)، سنن النسائی/المحاربة ١ (٣٩٩٠)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٦ (٢٦) (تحفة الأشراف: ٩٥٦٨)، و مسند احمد (١/٣٨٣، ٤٣٠، ٤٣٣) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )