کتابت علم کی کراہت کے متعلق
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابَةِ فَلَمْ يَأْذَنْ لَنَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، رَوَاهُ هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے (ابتداء اسلام میں) نبی اکرم ﷺ سے علم (حدیث) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that they sought the Prophet’s ﷺ permission to write down (his ahadith), but he did not permit them.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2665
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی زید بن اسلم کے واسطہ سے آئی ہے، اور اسے ہمام نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں یہ حکم تھا: «لا تکتبوا عني ومن کتب عني غير القرآن فليمحه وحدثوا عني ولا حرج» (صحیح مسلم) یعنی قرآن کے علاوہ میری کوئی بات نہ لکھو، اور اگر کسی نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھ لیا ہے تو اسے مٹا دے، البتہ میری حدیثوں کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر بعد میں آپ ﷺ نے اپنے فرمان: «بلغوا عني ولو آية» کے ذریعہ اس کی اجازت بھی دے دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١٦ (٣٠٠٤) (بلفظ ” لاتکتبوا عني، ومن کتب عني غیر القرآن فلیمحہ “ )(تحفة الأشراف: ٤١٦٧) (صحیح )