دنیا کی محبت اور اس کے متعلق غمگین ہونا
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جائیداد ١ ؎ کو مت بناؤ کہ اس کی وجہ سے تمہیں دنیا کی رغبت ہوجائے گی ۔
Sayyidina Abdulah (ibn Mas’ud) (RA) reported the saying of Allah’s Messenger ﷺ “Do not build estate because you will long for the world.” [Ahmed 3579]
صحيح، الصحيحة (12)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2328
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں ضیعہ آیا ہے، اس سے مراد ایسی جائدادیں ہیں جو غیر منقولہ ہوں مثلاً باغ، کھیت اور گاؤں وغیرہ، کچھ لوگ کہتے ہیں: اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسان کی معاشی زندگی کا دارومدار ہو، اگر یہ چیزیں انسان کو ذکر الٰہی سے غافل کردینے والی ہوں اور انسان آخرت کو بھول بیٹھے اور اس کے دل میں پورے طورے پر دنیا کی رغبت پیدا ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیار کرے اور خشیت الٰہی کو اپنائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٢٣١) (صحیح )