Sunan At-Tirmidhi 181

نماز کا بیان

181Sunan At-Tirmidhi

عصر کی نماز وسطی ہونا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو النَّضْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْمُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: حَدِيثُ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى حَسَنٌ وصَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَائِشَةُ: صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ، وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عُمَرَ: صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "Salat ul-wusta is the Salah of Asr."

صحيح، المشکاة (634) صحيح (بما قبله)، المشکاة (634)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 181 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ١- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ٤- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ ؓ کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ (یعنی فجر) ہے
Notes · وضاحت
١ ؎: «وسطیٰ» یہ اس لیے ہے کہ یہ دن اور رات کی نمازوں کی بیچ میں واقع ہے۔ ١ ؎: «صلاۃ وسطیٰ» سے کون سی صلاۃ مراد ہے اس بارے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں صحیح قول یہی ہے کہ اس سے مراد صلاۃ عصر ہے یہی اکثر صحابہ اور تابعین کا مذہب ہے، امام ابوحنیفہ، امام احمد بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ٢ ؎: امام مالک اور امام شافعی کا مشہور مذہب یہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٦ (٦٢٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٦)، ( تحفة الأشراف: ٩٥٤٨)، مسند احمد (١/٤٠٤، ٤٥٦)، (ویأتی عند المؤلف فی تفسیر البقرة (٢٩٨٥) (صحیح) تفرد بہ المؤلف، ویأتی عندہ فی تفسیر البقرة (٢٩٨٣)، ( تحفة الأشراف: ٤٦٠٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے، حسن بصری کے سمرہ ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، نیز قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)