Sunan At-Tirmidhi 177

نماز کا بیان

177Sunan At-Tirmidhi

سونے کے سبب نماز چھوٹ جانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، وَذِي مِخْبَرٍ وَيُقَالُ: ذِي مِخْمَرٍ وَهُوَ ابْنُ أَخِي النَّجَاشِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَنْسَاهَا، فَيَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْكُرُ وَهُوَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَقَالَ: بَعْضُهُمْ يُصَلِّيهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ أَوْ ذَكَرَ، وَإِنْ كَانَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَالشَّافِعِيِّ، وَمَالِكٍ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، (کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے ۔

Sayyidina Abu Qatadah (RA) said that the sahabah asked the Prophet ﷺ about being asleep at the time of prayer. He said, "Indeed there is no squandering in sleep. Only when one is awake is there negligence (if one does not offer Salah). So, if anyone forgets a Salah or oversleeps then he must observe it when he remembers it."

صحيح، ابن ماجة (698)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 177
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر (جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں) ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی (قضاء) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨١)، (في سیاق طویل)، سنن ابی داود/ الصلاة ١١ (٤٣٧)، سنن النسائی/المواقیت ٥٣ (٦١٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٨)، ( تحفة الأشراف: ١٢٠٨٥)، مسند احمد (٥/٣٠٥) (صحیح)