کتاب الا شربة

Sunan An Nasai · Chapter 51 · 220 hadiths · Page 4 of 11

5602Sunan An Nasai

ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ابن سیرین کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

It was narrated that Ibn Sirin said: "Every intoxicant is unlawful.

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5599
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٣٠٧) (صحیح الإسناد )
5603Sunan An Nasai

ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثَهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا: طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کے دو حصے (جل کر) ختم نہ ہوجائیں اور ایک حصہ باقی رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

It was narrated that Abdul-Malik bin At-Tufail Al-Jazari said: "Umar bin Abdul-Aziz wrote to us, saying: Do not drink the thickened juice of grapes (obtained by boiling it down) until two-third of it has gone and one-third is left. And every intoxicant is unlawful.

ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5600
Notes · وضاحت
١ ؎: طلاء: وہ شراب ہے، جسے آگ پر رکھ کر جوش دیا جائے یہاں تک کہ وہ گاڑھی ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩١٥٢)، ویأتي عند المؤلف: ٥٧٣٠) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” عبدالملک “ لین الحدیث ہیں )
5604Sunan An Nasai

ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الصَّعْقِ بْنِ حَزْنٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو لکھا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

It was narrated that As-Saq bin Hazn said: "Umar bin Abdul-Aziz wrote to Adiy bin Artah (saying): Every intoxicant is unlawful.

حسن الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5601
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن الإسناد )
5605Sunan An Nasai

ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔

It was narrated from Abu Musa Al-Ashari that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Every intoxicant is unlawful.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5602
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٠٠ (صحیح )
5606Sunan An Nasai

بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ، قَالَ: وَمَا هِيَ ؟قُلْتُ: الْبِتْعُ، وَالْمِزْرُ، قَالَ: وَمَا الْبِتْعُ، وَالْمِزْرُ ؟، قُلْتُ: أَمَّا الْبِتْعُ: فَنَبِيذُ الْعَسَلِ، وَأَمَّا الْمِزْرُ: فَنَبِيذُ الذُّرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا، فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: بتع اور مزر، آپ نے فرمایا: بتع اور مزر کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: بتع تو شہد کا نبیذ ہے اور مزر مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام کردی ہے ۔

Abu Bakr bin Abi Musa narrated that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent me to Yemen and I said: O Messenger of Allah, there are (different kinds of) drinks there, what should I drink, and what should I refrain from? He said: What are they? I said: Al-Bit (mead) and Al-Mizr (beer). He said: What are mead and beer? I said: Mead is a drink made from honey and beer is a drink made from grains. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not drink any intoxicant, for I have forbidden all intoxicants.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5603
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩١٤٢) (حسن الإسناد )
5607Sunan An Nasai

بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ: وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ ؟، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں بتع اور مزر کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: بتع کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور مزر جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔

It was narrated from Abu Burdah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent me to Yemen and I said: O Messenger of Allah, there are drinks there which they call Al-Bit (mead) and Al-Mizr (beer). He said: What is mead (and beer)? I said: A drink made from honey, and beer is made from barley. He said: Every intoxicant is unlawful.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5604
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٠ (٤٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٩٠٩٥) (صحیح )
5608Sunan An Nasai

بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ آيَةَ الْخَمْرِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الْمِزْرَ ؟، قَالَ: وَمَا الْمِزْرُ ؟، قَالَ: حَبَّةٌ تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ: تُسْكِرُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو خمر (شراب) والی آیت کا ذکر کیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول!مزر نامی مشروب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: مزر کیا ہوتا ہے؟ وہ بولا: جَو کی شراب جو یمن میں بنائی جاتی ہے ، آپ نے فرمایا: کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟ جی ہاں، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered a Khutbah and quoted the Verse about Khamr. A man said: O Messenger of Allah, what do you think about Al-Mizr (beer)? He said: What is beer? He said: A (drink) from grains that is made in Yemen. He said: Does it intoxicate? He said: Yes. He said: Every intoxicant is unlawful.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5605
Takhrij · تخریج
تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧١٠٧) (صحیح الإسناد )
5609Sunan An Nasai

بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ: أَفْتِنَا فِي الْبَاذِقِ ؟ فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ.

ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا: ہمیں بادہ ١ ؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے۔ تو انہوں نے کہا: محمد ﷺ کے زمانے میں بادہ نہیں تھا، (یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔

It was narrated that Abu Al-Juwairiyah said: "I heard Ibn Abbas when he was asked: Advise us about Badhiq (a drink made from the juice of grapes slightly boiled). He said: Muhammad came before Badhiq (i.e., it was not known during his time), but everything that intoxicates is unlawful.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5606
Notes · وضاحت
١ ؎: باذق فارسی کے لفظ بادہ کی تعریب ہے۔ اس کے معنی خمر اور شراب کے ہیں، شاعر کہتا ہے: ہیں رنگ جدا، دور نئے، کیف نرالے شیشہ وہی، بادہ وہی، پیمانہ وہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔبشربة ١٠(٥٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٤١٠)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٦٩٠ (صحیح )
5610Sunan An Nasai

جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس چیز کے زیادہ پینے سے نشہ آجائے تو اسے تھوڑا سا پینا بھی حرام ہے ۔

Amr bin Shuaib narrated from his father, from his grandfather, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What intoxicates in large amounts, a small amount of it is unlawful.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5607
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الٔجشربة ١٠ (٣٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٦٠)، مسند احمد (٢/١٦٧، ١٧٩) (حسن صحیح )
5611Sunan An Nasai

جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکتا ہوں، جس کے زیادہ پی لینے سے نشہ آجائے ۔

It was narrated from Amir bin Sad, from his father, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I forbid to you small amounts of whatever intoxicates in large amounts.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5608
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ٣٨٧١) (صحیح )
5612Sunan An Nasai

جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکا جسے زیادہ پینے سے نشہ آجائے۔

It was narrated from Amir bin Sad, from his father, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade a small amount of whatever intoxicates in large amounts.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5609
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5613Sunan An Nasai

جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنَ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ لَهُ فِي دُبَّاءٍ، فَجِئْتُهُ بِهِ، فَقَالَ: أَدْنِهِ، فَأَدْنَيْتُهُ مِنْهُ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى تَحْرِيمِ السَّكَرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَلَيْسَ كَمَا، يَقُولُ: الْمُخَادِعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ بِتَحْرِيمِهِمْ آخِرِ الشَّرْبَةِ، وَتَحْلِيلِهِمْ مَا تَقَدَّمَهَا الَّذِي يُشْرَبُ فِي الْفَرَقِ قَبْلَهَا، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ السُّكْرَ بِكُلِّيَّتِهِ لَا يَحْدُثُ عَلَى الشَّرْبَةِ الْآخِرَةِ دُونَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ بَعْدَهَا، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ روزہ رکھ رہے ہیں، تو ایک دن میں نے نبیذ لے کر آپ کے افطار کرنے کے وقت کا انتظار کیا جسے میں نے آپ کے لیے کدو کی تو نبی میں تیار کی تھی، میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس لاؤ ، میں نے اسے آپ کے پاس بڑھا دی، وہ جوش مار رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اس دیوار سے مار دو، اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس میں دلیل ہے کہ نشہ لانے والی چیز حرام ہے، خواہ وہ زیادہ ہو یا کم، اور معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ حیلہ کرنے والے اپنے لیے کہتے ہیں کہ ایسے مشروب کا آخری گھونٹ حرام ہوتا ہے اور وہ گھونٹ حلال ہوتے ہیں جو پہلے پیے جا چکے ہیں اور اس سے پہلے رگوں میں سرایت کرچکے ہیں، اس بات میں علماء کے درمیان اختلاف نہیں پایا جاتا کہ پورا نشہ ابتدائی گھونٹوں کے علاوہ صرف آخری گھونٹ سے پیدا نہیں ہوتا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "I know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was fasting, so I prepared some Nabidh for him to break his fast that I had prepared for him in a gourd. I brought it to him and he said: Bring it here. So I brought it closer and it was bubbling. He said: Throw it against the wall (throw it away), for this is the drink of one who does not believe in Allah or the Last Day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5610
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کہنا کہ نشہ کا اثر صرف اخیر گھونٹ سے ہوتا ہے یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس اثر میں تو اس سے پہلے کے گھونٹ کا بھی دخل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الٔيشربة ١٢ (٣٧١٦)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٥ (٣٤٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩٧)، ویأتي عند المؤلف: ٥٧٠٧) (صحیح )
5614Sunan An Nasai

جو کی شراب کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، قَالَ: نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَالْجِعَةِ.

علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے سونے کے چھلے، ریشمی کپڑے، لال زین پوش اور جو کے مشروب سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ali - said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade to me to use gold rings, Al-Qassi, Al-Mitharah and Al-Jiah (a barley drink).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5611
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥١٧١ (صحیح )
5615Sunan An Nasai

جو کی شراب کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ: انْهَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ.

مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کدو کی تو نبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔

Sasaah said to Ali (RA) bin Abi Talib: "Forbid to us, O Commander of the Believers! What the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade to you." He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from using Ad-Dubba and Al-Hantam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5612
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥١٧١ (صحیح )
5616Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے کن برتنوں میں نبیذ تیار کی جاتی تھی؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے پتھر کے کو نڈے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی۔

It was narrated from Jabir that : (fruits) would be soaked for the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in a small vessel made of stone

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5613
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٨)، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٧٠٢)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٩٥)، مسند احمد (٣/٣٠٤، ٣٠٧، ٣٣٦، ٣٧٩، ٣٨٤)، سنن الدارمی/الأشربة ١٢ (٢١٥٣) (صحیح )
5617Sunan An Nasai

ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اسے میں نے ان سے (ابن عمر سے) سنا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Tawus said: "A man said to Ibn Umar: Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid soaking (fruits) in earthenware jars? He said: Yes. Tawus said: By Allah, I heard that from him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5614
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے خطرہ رہتا ہے کہ فوراً نشہ پیدا ہوجائے اور آدمی کو پتہ نہ چلے اور نشہ لانے والی نبیذ پی بیٹھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الٔمشربة ٦ (١٩٩٧)، سنن الترمذی/الٔلشربة ٤ (١٨٦٧)، (تحفة الٔعشراف: ٧٠٩٨)، مسند احمد (٢/٢٩، ٣٥، ٤٧، ٥٦، ١٠١، ١٠٦، ١١٥، ١٥٥) (صحیح )
5618Sunan An Nasai

ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَا: سَمِعْنَا طَاوُسًا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، قَالَ: نَعَمْ، زَادَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: وَالدُّبَّاءِ.

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ کے پاس آ کر کہا: رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں والدباء مزید کہا ١ ؎۔

It was narrated that Sulaiman At-Taimi and Ibrahim bin Maisarah said: "We heard Tawus say: A man came to Ibn Umar and said: Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid soaking (fruits) in earthenware jars? He said: Yes. Ibrahim added in his Hadith: "And Ad-Dubba (gourds).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5615
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کدو کی تو نبی سے بھی منع فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5619Sunan An Nasai

ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔

Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade soaking (fruits) in earthenware jars.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5616
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٨١٤)، مسند احمد (١/٢٢٨، ٢٢٩) (صحیح الإسناد )
5620Sunan An Nasai

ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ ؟، قَالَ: الْجَرُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سبز رنگ کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: حنتم کیا ہوتا ہے؟ کہا: مٹی کا برتن۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Hantam. I (the narrator) said: "What is Al-Hantam? He said: The earthenware jar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5617
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الِٔشربة ٦ (١٩٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٠)، مسند احمد (٢/٢٧، ٤٢) (صحیح )
5621Sunan An Nasai

ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَسِيدٍ الطَّاحِيَّ بَصْرِيٌّ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ: نَهَانَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالعزیز بن اسید طاحی بصریٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر ؓ سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Maslamah said: "I heard Abdul-Aziz - that is, bin Asid At-Tahi from Al-Basrah - say: Ibn Az-Zubair was asked about soaking (fruits) in earthenware jars and he said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5618
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٢٧٣)، مسند احمد (٤/٣، ٦) (صحیح )