عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی مومن کا (ناحق) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
It was narrated that Abdullah bin Amr bin Al-As said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: By the One in Whose Hand is my soul, killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3986
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسا مومن کامل جو اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا علم رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی احکام کا پورے طور پر پابند بھی ہے ایسے مومن کا ناحق قتل ہونا اللہ رب العالمین کی نظر میں ایسے ہی ہے جیسے دنیا والوں کی نگاہ میں دنیا کی عظمت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٦٠٥) (صحیح) (اگلی متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابراہیم بن مہاجر “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کا زوال اور اس کی بربادی کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرنے سے زیادہ حقیر اور آسان ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The extinction of the whole world is less significant before Allah than killing a Muslim man.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3987
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کا (ناحق) قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کے ہلاک ہونے سے کہیں زیادہ بڑی بات ہے ۔
t was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3990
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جس کا بندے سے حساب ہوگا نماز ہے، اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The first thing concerning which a person will be brought to account will be the Salah, and the first thing concerning which scores will be settled among the people, will be bloodshed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3991
Notes · وضاحت
١ ؎: خالق کے حقوق سے متعلق پہلی چیز جس کا بندے سے حساب ہوگا نماز ہے، اور بندوں کے آپسی حقوق میں سے سب سے پہلے خون کی بابت فیصلہ کیا جائے گا۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The first matter concerning which judgment will be passed among the people will be bloodshed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3992
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان قیامت کے روز سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔
It was narrated from Abdullah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The first matter concerning which scores will be settled among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed.
صحيح موقوف وهو في حکم المرفوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3993
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا یہ کلام موقوف ہے، لیکن حکم میں یہ مرفوع یعنی حدیث نبوی ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ قیامت کے روز سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔
It was narrated that Abdullah said: "The first matter concerning which scores will be settled among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed.
صحيح موقوف وهو في حکم المرفوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3994
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
It was narrated that Amr bin Shurahbil said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The first matter concerning which scores will be settled among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3995
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩١٦٤) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) آدمی آدمی کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا تاکہ عزت و غلبہ تجھے حاصل ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ یقیناً میرے ہی لیے ہے، ایک اور شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا: اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: تاکہ عزت و غلبہ فلاں کا ہو، اللہ فرمائے گا: وہ تو اس کے لیے نہیں ہے۔ پھر وہ (قاتل) اس کا (جس کے لیے قتل کیا اس کا) گناہ سمیٹ لے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A man will come, holding another mans hand, and will say: O Lord, this man killed me. Allah will say to him: Why did you kill him? He will say: I killed him so that the glory would be to You. He will say: It is to Me. Then (another) man will come holding another mans hand, and will say: This man killed me. Allah will say to him: Why did you kill him? He will say: So that the glory would be to so and so. He will say: It is not to so and so, and the burden of sin will be upon him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3997
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث آیت کریمہ ولا تزر وازرة وزر أخرء کے منافی اور خلاف نہیں ہے، اس لیے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی دوسرے کا گناہ ایسے شخص پر نہیں لادا جاسکتا جس کا اس گناہ سے نہ تو ذاتی تعلق ہے اور نہ ہی اس کے کسی ذاتی فعل کا اثر ہے، اور یہاں جس قتل ناحق کا تذکرہ ہے اس میں اس شخص کا تعلق اور اثر موجود ہے جس کی عزت و تکریم یا حکومت کی خاطر قاتل نے اس قتل کو انجام دیا ہے۔
جندب ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے فلاں (صحابی) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور کہے گا: (اے اللہ! ) اس سے پوچھ، اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا؟ تو وہ کہے گا: میں نے اس کو فلاں کی سلطنت میں قتل کیا ۔ جندب کہتے ؓ ہیں: تو اس سے بچو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Imran Al-Jawni said: "Jundab said: So and so told me that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The slain will bring his killer on the Day of Resurrection and will say: Ask him why he killed me. He will say: I killed him defending the kingdom of so and so." Jundab said: "So be careful.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3998
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس طرح کے عذر لنگ والے جواب کی نوبت آنے سے بچو، یعنی تم کو اللہ کے پاس اس طرح کے جواب دینے کی نوبت نہ آئے، یہ خیال رکھو۔
سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، اور نیک عمل کئے پھر راہ راست پر آگیا؟ ابن عباس ؓ نے کہا: اس کی توبہ کہاں ہے؟ میں نے تمہارے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: وہ قاتل کو پکڑے آئے گا اور اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ، اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ پھر (ابن عباس ؓ نے) کہا: اللہ تعالیٰ نے اس آیت (ومن يقتل مؤمنا متعمدا ... ) کو نازل کیا اور اسے منسوخ نہیں کیا ١ ؎۔
It was narrated from Salim bin Abi Jad that: Ibn Abbas (RA) was asked about someone who killed a believer deliberately, then he repented, believed and did righteous deeds, and followed true guidance. Ibn Abbas (RA) said: "There is no way the repentance could avail him! I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: He (the victim) will come hanging onto his killer, with his jugular veins flowing with blood and saying: O Lord, ask him why he killed me. Then he said: By Allah, Allah revealed it and never abrogated anything of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3999
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آیت: ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها جو کوئی مؤمن کو عمداً قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا (النساء: ٩٣ ) مدنی ہے اور بقول ابن عباس مدنی زندگی کے آخری دور میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے۔ اس لیے یہ اس مکی آیت کی بظاہر ناسخ ہے جو سورة الفرقان میں ہے: والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق سے لے کر إلا من تاب و عمل صالحا تک اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے۔۔۔۔ مگر جس نے توبہ کرلی اور نیک عمل کیے۔۔۔ (الفرقان: ٦٨-٧٠ ) علماء نے تطبیق کی صورت یوں نکالی ہے کہ پہلی آیت کو اس صورت پر محمول کریں گے جب قتل کرنے والا مؤمن کے قتل کو مباح بھی سمجھتا ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وہ جہنمی ہوگا۔ ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مدنی آیت میں خلود سے مراد زیادہ عرصہ تک ٹھہرنا ہے، ایک نہ ایک دن توحید کی بدولت اسے ضرور جہنم سے خلاصی ہوگی۔ یہ بھی جواب دیا جاسکتا ہے کہ آیت میں زجر و توبیخ مراد ہے۔ یا جو بغیر توبہ مرجائے، یہ ساری تاویلات اس لیے کی گئی ہیں کہ جب کفر و شرک کے مرتکب کی توبہ مقبول ہے تو مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوگی، یہی وجہ ہے کہ ابن عباس ؓ نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا۔ دیکھئیے (صحیح حدیث نمبر: ٢٧٩٩ )
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢ (٢٦٢١)، (تحفة الأشراف: ٥٤٣٢)، مسند احمد (١/٢٤٠، ٢٩٤، ٣٦٤)، ویأتي عند المؤلف في القسامة (برقم: ٤٨٧٠) (صحیح )
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا کے سلسلے میں اہل کوفہ میں اختلاف ہوا تو میں ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: وہ سب سے اخیر میں نازل ہونے والی آیتوں میں اتری اور اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "The people of Al-Kufah differed concerning this Verse: "And whoever kills a believer intentionally." So I went to Ibn Abbas (RA) and asked him, and he said: It was revealed among the last of what was revealed, and nothing of it was abrogated after that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4000
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا تو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟، میں نے ان کے سامنے سورة الفرقان کی یہ آیت: والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق پڑھی تو انہوں نے کہا: یہ آیت مکی ہے اسے ایک مدنی آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم نے منسوخ کردیا ہے۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I said to Ibn Abbas: Can a person, who killed a believer intentionally, repent? He said: No. I recited the Verse from Al-Furqan to him: And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, or kill such person as Allah has forbidden, except by right, he said: This Verse was revealed in Makkah and was abrogated by a Verse that was revealed in Al-Madinah: And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4001
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس سے ان دو آیتوں ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم،والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق کے متعلق پوچھوں، اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا: یہ اہل مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "Abdur-Rahman bin Abi Laila told me to ask Ibn Abbas about two Verses: And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell. I asked him and he said: Nothing of this has been abrogated. (And I asked him about the Verse): And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, or kill such person as Allah has forbidden, except by right, he said: This was revealed concerning the people of Shirk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4002
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک (مشرک) قوم کے لوگوں نے بہت زیادہ قتل کئے، کثرت سے زنا کیا اور خوب حرام اور ناجائز کام کئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا: محمد! جو آپ کہتے ہیں اور جس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں یقیناً وہ ایک بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے کیا اس کا کفارہ بھی ہے؟، تو اللہ تعالیٰ نے والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر سے لے کر فأولئك يبدل اللہ سيئاتهم حسنات تک آیت نازل فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا: یعنی اللہ ان کے شرک کو ایمان سے، ان کے زنا کو عفت و پاک دامنی سے بدل دے گا اور یہ آیت قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم نازل ہوئی ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that : Some people used to kill, and they did a great deal of it, and they used to commit adultery and they did a great deal of it, and they committed violations. They came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Muhammad, what you say and call people to is good, if only you could tell us that there is any expiation for what we have done." Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah up to for those, Allah will change their sins into good deeds," he said: "So Allah will change their Shirk into faith, and their adultery into chastity. And the Verse: "Say: O Ibadi (My slaves) who have transgressed against themselves (by committing evil deeds and sins)" was revealed.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4003
Notes · وضاحت
١ ؎: میرے ان بندوں سے کہہ دیجئیے جن ہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، الآیۃ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٥٤٧) (صحیح) (سعید بن جبیر سے پہلے کے تمام رواة حافظے کے کمزور ہیں لیکن اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے کے کچھ لوگوں نے محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا: آپ جو کہتے اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے کیا اس کا بھی کفارہ ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور یہ نازل ہوئی قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم اے میرے بندو جن ہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (الزمر: ٥٣) ۔
It was narrated from Ibn Abbas that : Some of the people of Shirk came to Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "What you say and call people to is good, if only you could tell us that there is any expiation for what we have done." Then the Verses: "And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, or kill such a person as Allah has forbidden, except by right." And "Say: O Ibadi (My slaves) who have transgressed against themselves (by committing evil deeds and sins)" were revealed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4004
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اور اس کا سر اس (مقتول) کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر عرش کے قریب جائے گا ۔ راوی (عمرو) کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت: ومن يقتل مؤمنا متعمدا جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تلاوت کی اور کہا: جب سے یہ نازل ہوئی منسوخ نہیں ہوئی پھر اس کے لیے توبہ کہاں ہے؟ ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The slain will bring his killer on the Day of Resurrection with his forelock and his head in his hand, and with his jugular veins flowing with blood, and will say: O Lord, he killed me, until he draws near to the Throne." They mentioned repentance to Ibn Abbas and he recited this Verse: "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell" He said: "It has not been abrogated since it was revealed; there is no way he could repent.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4005
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (٣٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦٣٠٣) (صحیح )