Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 245 of 289

4871Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْكَبَائِرُ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔

It was narrated that Ubaidullah bin abi Bakr said: "I heard Anas say: The Messenger of Allah ﷺ said: the major sins are; associating others with Allah (shirk), disobeying ones parents, killing a soul (murder) and speaking falsely.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4867
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٠١٥ (صحیح )
4872Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا فِرَاسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The major sins are: associating others with Allah, disobeying parents, killing a souls (murder) and swearing a false oath knowingly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4868
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٠١٦ (صحیح )
4873Sunan An Nasaiصحیح

ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزْنِي الْعَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی بندہ مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کرتا، نہ مومن رہتے ہوئے شراب پیتا ہے، نہ مومن رہتے ہوئے چوری کرتا ہے، اور نہ ہی مومن رہتے ہوئے قتل کرتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina, and no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it, and no thief is a believer at the moment when he is stealing, and no killer is a believer at the moment he is killing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4869
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اور اس طرح کی احادیث سے ان برے کاموں کی شناعت کا پتہ چلتا ہے، اور یہ وعید والی احادیث ہیں، جس میں اس طرح کے اعمال سے دور رہنے کی دعوت دی گئی ہے، اور یہ کہ اس طرح کا کام کرنے والا ایمانی کیفیت سے دور رہتا ہے، جس کی بنا پر اس طرح کے برے کام میں ملوث ہوجاتا ہے، گویا حدیث میں مومن سے اس طرح کے کاموں میں ملوث ہونے کے حالت میں ایمان چھین لیا جاتا ہے، اور وہ مومن کامل نہیں رہ پاتا، یا یہاں پر ایمان سے مراد شرم و حیاء ہے کہ اس صفت سے نکل جانے کے بعد آدمی یہ برے کام کرتا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ حیاء ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مومن سے مراد وہ مومن ہے جو عذاب سے کلی طور پر مامون ہو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومن سے اس حالت میں ایمان کی نفی کا معنی نہی اور ممانعت ہے، یعنی کسی شخص کا حالت ایمان میں زنا کرنا مناسب نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٦ (٦٧٨٢) ، ٢٠ (٦٨٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٦١٨٦) (صحیح )
4874Sunan An Nasaiصحیح

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ.

ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے زنا نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے چوری نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور نہ ہی وہ ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسی بڑی لوٹ کرتا ہے جس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believe at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; and no robber is a believer at the moment when he is robbing and the people are looking on.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4870
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ ( ٤٨٧٣ ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٨٧١) (صحیح )
4875Sunan An Nasaiصحیح

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، ثُمَّ التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا۔ جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو پیتے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، اس کے بعد بھی اب تک اس کی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) - and Ahmad said in his Hadith: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believer at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; but repentance is available to him after that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4871
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٢٠ (٦٨١٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٤ (٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٩٥، ١٢٤٩٥، ١٢٨٦٦) (صحیح )
4876Sunan An Nasaiصحیح

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَذَكَرَ رَابِعَةً، فَنَسِيتُهَا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب کوئی زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت وہ مومن نہیں رہتا، چوری کرتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا، شراب پیتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا۔ (راوی کہتا ہے) پھر چوتھی چیز بیان کی جو میں بھول گیا، جب وہ یہ سب کرتا ہے تو وہ اپنے گلے سے اسلام کا قلادہ نکال پھینکتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believer at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it." - And he mentioned a fourth but I (the narrator) have forgotten it - "When he does that the yoke of Islam is shed from his neck, but if he repents, Allah accepts his repentance.

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4872
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٨٧٥ (صحیح) (مگر اس کا آخری ٹکڑا ” فإذا فعل ذلک … من عنقہ “ کا اضافہ منکر ہے، اور اس کا سبب ” یزید بن أبی زیاد “ ہیں جو ضعیف راوی ہیں )
4877Sunan An Nasaiصحیح

چوری کس قدر سخت گناہ ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہو چوری کرنے والے پر، انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, said: "The Messenger of Allah ﷺ said; Allah curses the thief who steals an egg and had his hand cut off, and who steals a rope and has his hand cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4873
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تھوڑے سے مال کے لیے ہاتھ کٹنا قبول کرتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥١٥) ، مسند احمد (٢/٢٥٣) (صحیح )
4878Sunan An Nasaiصحیح

چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ: رَفَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ، أَنَّ حَاكَةً سَرَقُوا مَتَاعًا فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَ هَؤُلَاءِ بِلَا امْتِحَانٍ وَلَا ضَرْبٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ، إِنْ شِئْتُمْ أَضْرِبْهُمْ، فَإِنْ أَخْرَجَ اللَّهُ مَتَاعَكُمْ فَذَاكَ، وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَهُ، قَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ ؟، قَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ.

نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس قبیلہ کلاع کے کچھ لوگ مقدمہ لائے کہ کچھ بنکروں نے سامان چرا لیا ہے، انہوں نے کچھ دنوں تک ان کو قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا : آپ نے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے اور مارے بغیر چھوڑ دیا ؟ نعمان (رض) نے کہا : تم کیا چاہتے ہو ؟ کہو تو ان کو ماروں ؟ اگر ان کے پاس تمہارا مال نکل آیا تو بہتر ہے ورنہ اسی قدر میں تمہاری پیٹھ پر ماروں گا ؟ وہ بولے : کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے ١ ؎۔

It was narrated from An-Numan bin Bashir that: a group of the Kalaiyin complaned to him about some people who had stolen some goods, shoe detained them for several days, and then he let them go. They came and said: "You let them go without any pressure (to make them admit to their crime) or beating?" An-Numan said: "What do you want? If you wish, I will beat them, and if Allah brings back your goods thereby, all well and good. Otherwise I will take retaliation from your backs (by beating you) likewise." They said: "is this your ruling?" He said: "This is the ruling of Allah and His Messenger "(Daif)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4874
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا شک و شبہ اور گمان کی بنیاد پر کچھ دنوں تک مجرم کو قید رکھنا کہ ممکن ہے وہ اعتراف جرم کرلے صحیح ہے، البتہ اعتراف سے پہلے اسے سزا دینا صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٠ (٤٣٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١١) (حسن )
4879Sunan An Nasaiصحیح

چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ نَاسًا فِي تُهْمَةٍ.

بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔

It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ detained some people who were under suspicion.

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4875
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٣٠) ، سنن الترمذی/الدیات ٢١(١٤١٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨٢) ، مسند احمد (٥/٢، ٤) (حسن )
4880Sunan An Nasaiصحیح

چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ.

بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک الزام میں قید میں رکھا، پھر اسے رہا کردیا۔

It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ detained a man who was under suspicion, and then he let him go. (Hssan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4876
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن )
4881Sunan An Nasaiضعیف

چوری کرنے والے کو تعلیم دینا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ؟. قَالَ: بَلَى، قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ جِيئُوا بِهِ، فَقَطَعُوهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ لَهُ: قُلْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ.

ابوامیہ مخزومی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور پکڑ کر لایا گیا جس نے اقبال جرم کرلیا لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں ملا، تو آپ نے اس سے فرمایا : میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے ، اس نے کہا : نہیں، میں نے چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا : اسے لے جاؤ، اس کے ہاتھ کاٹ دو ، پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ، لوگوں نے اس کے ہاتھ کاٹے اور اسے لے کر آپ کے پاس آئے، تو آپ نے اس سے فرمایا : کہو، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ، اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : اے اللہ اس کی توبہ قبول کر ۔

It was narrated from abu Umayyah Al-Makhzumi that: a thief who confused to a crime but with whom no stolen goods has been found, was brought to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah said to him: "I do not think that you stole anything."He He said: "Yes I did." He said: "Take him and cut off his hands, then bring him here, "So they cut off his hand then they brought him to him. He said to him; "Say: I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him." He said: "I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him." He said:: "O Allah, accept his repentance."(Daif)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4877
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٨ (٤٣٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٩ (٢٥٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٦١) ، مسند احمد (٥/٢٩٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٦ (٢٣٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابوالم نذر “ لین الحدیث ہیں )
4882Sunan An Nasaiصحیح

جس وقت چور حاکم تک پہنچ جائے پھر مال کا مالک اس کا جرم معاف کر دے اور اس حدیث میں اختلاف

أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ: أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ بُرْدَةً لَهُ، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَبَا وَهْبٍ، أَفَلَا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ ؟، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کی چادر چرا لی، وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو وہ بولے : اللہ کے رسول ! میں نے اسے معاف کردیا ہے، آپ نے فرمایا : ابو وہب ! تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی کیوں نہ معاف کردیا ؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ١ ؎۔

It was narrated from Safwan bin Umayyah, that: a man stole a Burdah of his, so he brought him before the Messenger of Allah ﷺ, who ordered that his hand be cut off. He said: "O Messenger of Allah, I will let him have it." He said: "Abu Wahb! Why didnt you do that before you brought him to us?" And the Messenger of Allah ﷺ had (the mans) hand cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4878
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چور کے معاملہ کو سرکاری انتظامیہ تک پہنچ جانے سے پہلے جس کا مال چوری ہوا ہے اگر وہ معاف کردیتا ہے تو چور کا گناہ عند اللہ توبہ سے معاف ہوسکتا ہے، اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اگر معاملہ سرکاری ذمہ داروں ( پولیس اور عدلیہ ) تک پہنچ جاتا ہے تب صاحب مال کو معاف کردینے کا حق بحق سرکار ختم ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٤ (٤٣٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٤٣) ، مسند احمد (٣/٤٠١ و ٦/٤٦٥، ٤٦٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٨٣-٤٨٨٥، ٤٨٨٧، ٤٨٨١٨) (صحیح )
4883Sunan An Nasaiصحیح

جس وقت چور حاکم تک پہنچ جائے پھر مال کا مالک اس کا جرم معاف کر دے اور اس حدیث میں اختلاف

أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ مُرَقَّعٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ: أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ بُرْدَةً، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: فَلَوْلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ يَا أَبَا وَهْبٍ، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک چادر چرائی، وہ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو وہ بولے : اللہ کے رسول ! میں نے اسے معاف کردیا ہے، آپ نے فرمایا : ابو وہب ! اسے میرے پاس لانے سے پہلے ہی تم نے کیوں نہ معاف کردیا ؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

It was narrated from Safwan bin Umayyah that: a man stole his Burdah, so he brought him before the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who ordered that his hand be cut off. He said: "O Messenger of Allah, I will let him have it." He said: "O Abu Wahb! Why didnt you do that before you brought him to me?" And the Messenger of Allah ﷺ had (the mans) hand cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4879
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4884Sunan An Nasaiصحیح

جس وقت چور حاکم تک پہنچ جائے پھر مال کا مالک اس کا جرم معاف کر دے اور اس حدیث میں اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ ثَوْبًا، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ لَهُ. قَالَ: فَهَلَّا قَبْلَ الْآن ؟.

عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک کپڑا چرایا، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا (جس کا کپڑا تھا) وہ شخص بولا : اللہ کے رسول ! وہ اسی کے لیے ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : ایسا اس سے پہلے ہی کیوں نہ کیا ۔

Ata bin Abi Rabah narrated that: a man stole a garment, and was brought before the Messenger of Allah ﷺ, who order that his hand be cut off. The man said: "O Messenger of Allah, he can keep it." He said: "Why (did you not say that) before now?

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4880
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں نے اسے دے دیا، اب اسے معاف کر دیجئیے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ اس میں عطاء تابعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان واسطہ کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایت مرفوع متصل ہے )
4885Sunan An Nasaiصحیح

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى، ثُمَّ لَفَّ رِدَاءً لَهُ مِنْ بُرْدٍ، فَوَضَعَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَنَامَ، فَأَتَاهُ لِصٌّ فَاسْتَلَّهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَأَخَذَهُ، فَأَتَي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا سَرَقَ رِدَائِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبَا بِهِ فَاقْطَعَا يَدَهُ، قَالَ صَفْوَانُ: مَا كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فِي رِدَائِي، فَقَالَ لَهُ: فَلَوْ مَا قَبْلَ هَذَا ؟. خَالَفَهُ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ.

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی، پھر اپنی چادر لپیٹ کر سر کے نیچے رکھی اور سو گئے، ایک چور آیا اور ان کے سر کے نیچے سے چادر کھینچی، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آئے اور بولے : اس نے میری چادر چرائی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تم نے ان کی چادر چرائی ہے ؟ وہ بولا : ہاں، آپ نے (دو آدمیوں سے) فرمایا : اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ صفوان (رض) نے کہا : میرا مقصد یہ نہ تھا کہ میری چادر کے سلسلے میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ کام پہلے ہی کیوں نہ کرلیا ۔ اشعث نے عبدالملک کے برخلاف (ابن عباس (رض) کی حدیث سے) اس کو روایت کیا ہے۔

It was narrated from Safwan bin Umayyah that: he circumambulated theKabah and prayed, then he rolled up a Rid of his and placed it beneath his head, and slept. A thief came and slid it out from beneath his head and took it. He brought him to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "This man stole my Rida. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Did you steal this mans Rida?" He said: "Yes." He said: "Take him away and cut his hand off." Safwan said: "I* did not want to have his hand cut off for my Rida." He said: "Why (did you not say that) before now?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4881
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (صحیح )
4886Sunan An Nasaiصحیح

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خِيَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ الْعَلَاءِ الْكُوفِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ صَفْوَانُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرِدَاؤُهُ تَحْتَهُ فَسُرِقَ، فَقَامَ وَقَدْ ذَهَبَ الرَّجُلُ، فَأَدْرَكَهُ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَلَغَ رِدَائِي أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ رَجُلٌ، قَالَ: هَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ ؟، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَشْعَثُ ضَعِيفٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ صفوان (رض) مسجد میں سو رہے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، کسی نے اسے چرایا تو وہ اٹھ گئے، اتنے میں آدمی جا چکا تھا، انہوں نے اسے پا لیا اور اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، صفوان (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میری چادر اس قیمت کی نہ تھی کہ کسی شخص کا ہاتھ کاٹا جائے ١ ؎۔ آپ نے فرمایا : تو ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کرلیا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اشعث ضعیف ہیں۔

It narrated that Ibn Abbas said: "Safwina was slleping in the Masjid with his Rida beneath him, and it was stolen. He got up, and the man had gone, but he caught up with him, and took him to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who ordered that his hand be cut off. Safwan said; O Messenger of Allah, my Rida is not worth cutting off a mans hand for. He said Why did you not say that before you brought him to me.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4882
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان کا اپنا ظن و گمان تھا ورنہ چادر کی قیمت چوری کے نصاب کی حد سے متجاوز تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٩٨٥) (صحیح) (اشعث ضعیف راوی ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )
4887Sunan An Nasaiضعیف

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ، عَنْصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلَاثُونَ دِرْهَمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا، قَالَ: فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ؟.

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اپنی ایک چادر پر سو رہا تھا، جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور مجھ سے چادر اچک لے گیا، پھر وہ آدمی پکڑا گیا اور اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے، تو میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا : کیا آپ اس کا ہاتھ صرف تیس درہم کی وجہ سے کاٹ دیں گے ؟ میں چادر اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں اور اس کی قیمت ادھار کرلیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں کیا ۔

It was knarrated that Safwan bin Umayyah said: "I was sleeping in the Masjid on a Khmaishah of mine that was worth thirty dirhams, and a man came and stole it from me. The man was caught and taken to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who ordered that his hand be cut off. I came to him and said: "Will you cut off his hand for the sake of only thirty Dirhams? I will sell it to him on credit." He said:" Why did you not say this before you brought him to me?

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4883
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (منکر) (اس کا یہ ٹکڑا ” أبیعہ … منکر ہے، اور نکارت کے سبب حمید ہیں جو لین الحدیث ہیں باقی مشمولات صحیح ہیں )
4888Sunan An Nasaiصحیح

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سُرِقَتْ خَمِيصَتُهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ اللِّصَّ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَتَقْطَعُهُ ؟، قَالَ: فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ تَرَكْتَهُ ؟.

صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک چادر ان کے سر کے نیچے سے چوری ہوگئی اور وہ مسجد نبوی میں سو رہے تھے، انہوں نے چور پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو صفوان (رض) نے کہا : کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے ؟ آپ نے فرمایا : تو پھر اسے میرے پاس لانے سے پہلے ہی کیوں نہ چھوڑ دیا ۔

It was narrated from Safwan bin Umayyah that: a Khamisah was stolen from beneath his head while he slept in the Masjid of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He caught there thief and brought him to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who ordered that his hand be cut off. Safwan said: "Are you going to cut off his hand?" He said "Why didnt you let him go before you brought him to me?" (Daif)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4884
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٨٨٢ (صحیح )
4889Sunan An Nasaiصحیح

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعَافَوْا الْحُدُودَ قَبْلَ أَنْ تَأْتُونِي بِهِ، فَمَا أَتَانِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حدود کو میرے پاس آنے سے پہلے معاف کردیا کرو، کیونکہ جس حد کا مقدمہ میرے پاس آیا، اس میں حد لازم ہوگئی ۔

It was narrated form Amr bin Shuainb, from his father, from his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Pardon matters that may deserve a Hadd punishment before you bring it to my attention, for whatever is brought to my attention, the Hadd punishment becomes binding." (Saif)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4885
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٥ (٤٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٧) (حسن )
4890Sunan An Nasaiصحیح

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعَافَوْا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ، فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو ، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوگئی ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib from his father, from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Pardon matters among yourselves that may deserve a Hadd punishment, for whatever is brought to my attention, the Hadd punishment b becomes binding." (Daif)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4886
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن )