چوری کرنے والے کو تعلیم دینا
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ؟. قَالَ: بَلَى، قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ جِيئُوا بِهِ، فَقَطَعُوهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ لَهُ: قُلْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ.
ابوامیہ مخزومی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور پکڑ کر لایا گیا جس نے اقبال جرم کرلیا لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں ملا، تو آپ نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے ، اس نے کہا: نہیں، میں نے چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے لے جاؤ، اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ، لوگوں نے اس کے ہاتھ کاٹے اور اسے لے کر آپ کے پاس آئے، تو آپ نے اس سے فرمایا: کہو، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ، اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: اے اللہ اس کی توبہ قبول کر ۔
It was narrated from abu Umayyah Al-Makhzumi that: a thief who confused to a crime but with whom no stolen goods has been found, was brought to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah said to him: "I do not think that you stole anything."He He said: "Yes I did." He said: "Take him and cut off his hands, then bring him here, "So they cut off his hand then they brought him to him. He said to him; "Say: I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him." He said: "I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him." He said:: "O Allah, accept his repentance."(Daif)