چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ.
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک الزام میں قید میں رکھا، پھر اسے رہا کردیا۔
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ detained a man who was under suspicion, and then he let him go. (Hssan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4876
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن )