چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ نَاسًا فِي تُهْمَةٍ.
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ detained some people who were under suspicion.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4875
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٣٠)، سنن الترمذی/الدیات ٢١(١٤١٧)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٢)، مسند احمد (٥/٢، ٤) (حسن )