Sunan An Nasai 5164

زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

5164Sunan An Nasai

جس کی ناک کٹ جائے کیا وہ شخص سونے کی ناک بنا سکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ،فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ.

عرفجہ بن اسعد ؓ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا لی، پھر اس میں بدبو آگئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا۔

It was narrated from Arafah bin Asad that: His nose was cut off at the battle of Al-Kulab during the Jahiliyyah, so he wore a nose made of silver, but it began to rot, so the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him to wear a nose made of gold.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5161
Notes · وضاحت
١ ؎: کلاب ایک چشمے یا کنویں کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کے پاس ایک عظیم جنگ لڑی گئی تھی۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے بوقت حاجت سونے کی ناک بنوانے اور دانتوں کو سونے کے تار سے باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٧ (٤٢٣٢، ٤٢٣٣)، سنن الترمذی/اللباس ٣١ (١٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٥)، مسند احمد (٥/١٣، ٢٣) (حسن )