قبور پر بیٹھنے کی برائی سے متعلق
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَحْرُقَ ثِيَابَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: If any one of you were to sit on a live coal until it burns his garment, that would be better for him than sitting on a grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2044
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٣ (٩٧١)، (تحفةا الأشراف: ١٢٦٦٢)، قد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٧٧ (٣٢٢٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٥ (١٥٦٦)، مسند احمد ٢/٣١١، ٣٨٩، ٤٤٤، ٥٢٨ (صحیح )