نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَی أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَی فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِکَ غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُکُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ کُلُّ ذَلِکَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ قَالَتْ فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ قَالَ الْمُرَادِيُّ عَنْ يُونُسَ وَلَمْ يَقُلْ أَخْبَرَنِي
حرملہ بن یحیی، محمد بن سلمہ، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن عبداللہ بن حارث، عبداللہ بن حارث، ابن نوفل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا اور مجھے اس بات کی آرزو بھی تھی کہ میں کسی ایسے آدمی کو ملوں جو مجھے خبر دے کہ رسول اللہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے، تو مجھے کوئی بھی نہیں ملا جو مجھے یہ بیان کرتا ہو سوائے ام ہانی بنت ابوطالب کے، انہوں نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے روز دن چڑھے کے بعد تشریف لائے پھر ایک کپڑا لایا گیا جس سے پردہ کیا گیا اور آپ ﷺ نے غسل فرمایا: پھر آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، مجھے نہیں معلوم کہ اس میں آپ ﷺ کا قیام لمبا تھا یا رکوع و سجود، اس کا ہر رکن تقریبا برابر تھا، حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ نماز نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد پڑھتے دیکھا ہے، مرادی نے یونس سے روایت کیا ہے اور اس میں (أَخْبَرَتْنِي) نہیں کہا۔
Abdullah bin Harith bin Naufal reported: I had been asking about, as I was desirous to find one among people who should inform me, whether the Messenger of Allah ﷺ observed the forenoon prayer, but I found none to narrate that to me except Umm Hani, daughter of Abu Talib (the real sister of Hadrat Ali), who told me that on the day of the Conquest the Messenger of Allah ﷺ came (to our house) after the dawn had (sufficiently) arisen. A cloth was brought and privacy was provided for him (the Holy Prophet). He took a bath and then stood up and observed eight rakahs. I do not know whether his Qiyam (standing posture) was longer, or bending or prostration or all of them were of equal duration. She (Umm Hani) further said: I never saw him saying this Nafl prayer prior to it or subsequently. (Al-Muradi narrated on the authority of Yunus that he made no mention of the words: "He informed me." )
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِکَ ضُحًی
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابونضر، ام ہانی بنت ابی طالب فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ ﷺ کی طرف گئی تو میں نے آپ ﷺ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور حضرت فاطمہ ؓ آپ ﷺ کی بیٹی نے ایک کپڑے کے ساتھ پردہ کیا ہوا تھا، حضرت ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ میں نے سلام کیا، آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے؟ میں نے کہا، ام ہانی ابوطالب کی بیٹی! آپ ﷺ نے فرمایا مرحبا! ام ہانی ہو؟ جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں نماز پڑھیں، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری ماں جائے حضرت علی ؓ بن ابی طالب ایک ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہیں جسے میں پناہ دے چکی ہوں اور وہ آدمی فلاں بن ہبیرہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام ہانی ہم نے پناہ دی جسے تو نے پناہ دی، حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ وہ نماز چاشت کی نماز تھی۔
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani, daughter of Abu Talib, reported Umm Hani to be saying: I went to the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest of Makkah and found him taking bath, and Fatimah, his daughter, had provided him privacy with the help of a cloth. I gave him salutation and he said: Who is she? I said: It is Umm Hani, daughter of Abu Talib. He (the Holy Prophet) said: Greeting for Umm Hani. When he had completed the bath, he stood up and observed eight rakahs wrapped up in one cloth. When he turned back (after the prayer), I said to him: Messenger of Allah, the son of my mother Ali bin Abu Talib is going to kill a person, Fulan bin Hubaira whom I have given protection. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: We too have given protection whom you have given protection, O Umm Hani. Umm Hani said: It was the forenoon (prayer).
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ
حجاج بن شاعر، معلی بن اسد، وہیب بن خالد، جعفر بن محمد، عقیل، ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ والے سال ان کے گھر میں آٹھ رکعتیں نماز کی پڑھی ہیں ایک ہی کپڑے میں کہ جس کے دائیں حصے کو بائیں جانب اور بائیں حصہ کو دائیں جانب ڈال رکھا تھا۔
Abu Murra narrated on the authority of Umm Hani that the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest of Makkah observed in her house eight rakahs of prayer in one cloth, its opposite corners having been tied from the opposite sides.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُصْبِحُ عَلَی کُلِّ سُلَامَی مِنْ أَحَدِکُمْ صَدَقَةٌ فَکُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَکُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَکُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَکُلُّ تَکْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْکَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِکَ رَکْعَتَانِ يَرْکَعُهُمَا مِنْ الضُّحَی
عبداللہ بن محمد بن اسماء، مہدی ابن میمون، واصل مولیٰ ابی عیینہ، یحییٰ بن عقیل، یحییٰ بن یعمر، ابواسود، ابوذر ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں جو کوئی آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے تُو ہر مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ کہ صدقہ ہے، ہر ایک مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہنا صدقہ ہے اور ہر ایک مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنا صدقہ ہے اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور سب صدقات کا متبادل چاشت کی نماز کی دو رکعتوں کا پڑھ لینا ہے۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: In the morning charity is due from every bone in the body of every one of you. Every utterance of Allahs glorification is an act of charity. Every utterance of praise of Him is an act of charity, every utterance of profession of His Oneness is an act of charity, every utterance of profession of His Greatness is an act of charity, enjoining good is an act of charity, forbidding what is disreputable is an act of charity, and two rakahs which one prays in the forenoon will suffice.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَکْعَتَيْ الضُّحَی وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابوتیاح، ابوعثمان نہدی، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میرے خلیل نے مجھے وصیت فرمائی ہر مہینہ میں تین دن تین روزے رکھنے کی اور دو رکعت چاشت کی اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
Abu Hurairah (RA) reported. My friend (the Holy Prophet, may peace be upon him) has instructed me to do three things: three fasts during every month, two rakahs of the forenoon prayer, and observing Witr prayer before going to bed.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ وَأَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عباس، جریر، ابی شمر، ابوعثمان نہدی اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا۔
A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
سلیمان بن معبد، معلی بن اسد، عبدالعزیز بن مختار، عبداللہ الداناج، ابورافع، ابوہریرہ اس سند کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا مجھے میرے خلیل ابوالقاسم ﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
Abu Hurairah (RA) reported: My friend Abul-Qasim ﷺ instructed me to do three things, and the rest of the hadith is the same.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَصَلَاةِ الضُّحَی وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّی أُوتِرَ
ہارون بن عبداللہ، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک بن عثمان، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، ابی مرہ مولیٰ ام ہانی، حضرت ابوالدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے حبیب ﷺ نے تین (باتوں) کی وصیت فرمائی جن کو میں زندگی بھر کبھی نہیں چھوڑوں گا ہر مہینے تین دنوں کے روزے اور چاشت کی نماز اور اس بات کی کہ میں نہ سوؤں یہاں تک کہ میں وتر پڑھ لوں۔
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani, narrated on the authority of Abu Darda: My Friend ﷺ instructed me in three (acts), and I would never abandon them as long as I live. (And these three things are): Three fasts during every month, the forenoon prayer, and that I should not sleep till I have observed the Witr prayer.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ رَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت حفصہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مؤذن صبح کی نماز کے لئے اذان دے کر خاموش ہوگیا اور صبح ظاہر ہوگئی تو آپ ﷺ نے نماز کھڑی ہونے سے پہلے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔
Ibn Umar reported that Hafsa, the Mother of the Believers, informed him that when the Muadhdhin became silent after calling (people) to the dawn prayer, the Messenger of Allah ﷺ commenced the dawn (prayer) when it dawned by observing two short rakahs before the commencement of the (Fard) prayer.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ کَمَا قَالَ مَالِکٌ
یحییٰ بن یحییٰ قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، یحییٰ بن عبیداللہ، اسماعیل، ایوب، نافع سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted by Nafi with the same chain of narrators.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
احمد بن عبداللہ بن حکم، محمد بن جعفر، شعبہ، زید بن محمد، نافع، حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب طلوع فجر ہوجاتا تھا تو کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے سوائے دو ہلکی رکعتوں کے۔
Hafsa reported that when it was dawn, the Messenger of Allah ﷺ did not observe (any other prayers) but two short rakahs.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، نضر، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا أَضَائَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ
محمد بن عباد، سفیان، عمرو، زہری، سالم، حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر روشن ہوجاتی تھی تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
Hafsa reported: When the dawn appeared, the Apostle of Allah ﷺ observed two rakahs (of Sunnah prayers).
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَيُخَفِّفُهُمَا
عمرو ناقد، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اذان سنتے تو نماز فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے اور وہ دونوں رکعتیں ہلکی ہوتیں۔
Hafsa reported: When the dawn appeared, the Apostle of Allah ﷺ observed two rakahs (of Sunnah prayers).
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ
علی بن حجر، علی بن مسہر، ابوکریب، ابواسامہ، ابوبکر، ابن نمیر، عمرو ناقد، وکیع، ہشام اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس حدیث میں طلوع فجر کا ذکر ہے۔
This hadith has been narrated by the same chain of transmitters and in the hadith narrated by Usama the words are:
" When it was dawn".
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَائِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ہشام، یحیی، ابی سلمہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ used to observe two rakahs of Sunnah (prayer) when he heard the Adhan and shortened them. (This hadith has been narrated by the same chain of transmitters and in the hadith narrated by Usama the words are:" When it was dawn".)
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُ حَتَّی إِنِّي أَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، محمد بن عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز کی دو رکعتیں اتنی ہلکی پڑھتے تھے یہاں تک کہ میں نے عرض کیا کیا آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں میں سورت الفاتحہ پڑھی ہے؟۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ observed two rakahs of the dawn prayer and he shortened them (to the extent) that I (out of surprise) said: Did he recite in them Surah Fatiha (only)?
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ أَقُولُ هَلْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن انصاری، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے تھے، میں عرض کرتی، کیا آپ ﷺ ان دو رکعتوں میں سورت الفاتحہ پڑھتے ہیں؟
Aisha reported: When it was dawn, the Messenger of Allah ﷺ observed two rakahs, and I would say: Does he recite only the opening chapter of the Quran in it?
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ عَلَی شَيْئٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَی رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتوں پر جتنا التزام فرماتے تھے اس سے زیادہ نفلوں میں سے کسی چیز پر اتنا اہتمام نہیں ہوتا تھا۔
Aisha reported that the Apostle ﷺ was not so much particular about observing supererogatory rakahs as in case of the two rakahs of the dawn prayer.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْئٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَی الرَّکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، حفص بن غیاث، ابن نمیر، حفص، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمیر، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے نفل نمازوں میں سے کسی کو اتنی تیزی سے پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس قدر تیزی سے آپ ﷺ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
Aisha reported: I have never seen the Messenger of Allah ﷺ hastening as much in observing supererogatory as two rakahs before the (Fard) of the dawn prayer.