نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَصَلَاةِ الضُّحَی وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّی أُوتِرَ
ہارون بن عبداللہ، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک بن عثمان، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، ابی مرہ مولیٰ ام ہانی، حضرت ابوالدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے حبیب ﷺ نے تین (باتوں) کی وصیت فرمائی جن کو میں زندگی بھر کبھی نہیں چھوڑوں گا ہر مہینے تین دنوں کے روزے اور چاشت کی نماز اور اس بات کی کہ میں نہ سوؤں یہاں تک کہ میں وتر پڑھ لوں۔
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani, narrated on the authority of Abu Darda: My Friend ﷺ instructed me in three (acts), and I would never abandon them as long as I live. (And these three things are): Three fasts during every month, the forenoon prayer, and that I should not sleep till I have observed the Witr prayer.