شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًی إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ فَکَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَائَ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق بن ابراہیم، ابی معاویہ، عمر بن حفص بن غیاث ابی اعمش، منجاب بن حارث تمیمی ابن مسہر اعمش، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ہمراہ منیٰ میں تھے کہ چاند پھٹ گیا دو ٹکڑوں میں پس ایک ٹکڑا تو پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا گواہ ہوجاؤ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abdullah bin Masud (who said): We were along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at Mina, that moon was split up into two. One of its parts was behind the mountain and the other one was on this side of the mountain. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to us: Bear witness to this.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً وَکَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، اعمش، ابراہیم، ابی معمر، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہ۔
Abdullah bin Masud reported that the moon was split up in two parts during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The mountain covered one of its parts and one part of it was above the mountain and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Bear witness to this.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، اعمش، مجاہد حضرت ابن عمر (رض) نے نبی ﷺ سے یہ حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فَقَالَ اشْهَدُوا اشْهَدُوا
بشر بن خالد محمد بن جعفر، محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، ابن معاذ شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ابن ابی عدی کی حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجاؤ تم گواہ ہوجاؤ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ مَکَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ
زہیر بن حرب، عبد بن حمید یونس بن محمد شیبان قتادہ (رض) ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ انہیں کوئی نشانی دکھائیں تو آپ ﷺ نے انہیں دو مرتبہ چاند کا پھٹنا دکھایا۔
Anas reported that the people of Makkah demanded from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he should show them (some) signs (miracles) and he showed them the splitting of the moon twice.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَی حَدِيثِ شَيْبَانَ
محمد بن رافع عبد الرزاق معمر، قتادہ، انس، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، ابوداؤد ابن بشار یحییٰ بن سعید محمد بن جعفر، ابوداؤد شعبہ (رض) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا اور ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹا۔
Anas reported that the moon was split up in two parts and in the hadith recorded in Abu Dawud, the words are: "The moon was split up into two parts during the life of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ."
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَی زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
موسیٰ بن قریش تمیمی اسحاق بن ابکر بن مضر ابی جعفر بن ربیعہ عراک بن مالک عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ بن مسعود (رض) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا تھا۔
Ibn Abbas reported that the moon was split up during the lifetime of Allahs Messenger (may peace he upon him).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَی أَذًی يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَکُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ ابواسامہ اعمش، سعید بن جبیر ابوعبدالرحمن سلمی حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بھی اللہ رب العزت سے بڑھ کر تکلیفوں پر صبر کرنے والا نہیں ہے کہ اس سے شریک کیا جاتا ہے اور اس کے لئے اولاد ثابت کی جاتی ہے پھر بھی وہ انہیں عافیت اور رزق عطا کرتا ہے۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is none to show more patience at listening to the most irksome things than Allah, the Exalted and Glorious. Partnership is associated to Him (polytheism) and (fatherhood) of a child is attributed to Him, but in spite of this He protects them (people) and provides them sustenance.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوسعید اشج وکیع، اعمش، سعید بن جبیر ابوعبدالرحمن سلمی حضرت ابوموسی (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اللہ کے لئے اولاد ثابت کی جاتی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa with a slight variation of wording.
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَی أَذًی يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَی إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِکَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ
عبیداللہ بن سعید ابواسامہ اعمش، سعید بن جبیر ابوعبدالرحمن حضرت عبداللہ بن قیس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی تکلیف دہ باتوں کو سن کر ان پر صبر کرنے والا نہیں ہے کافر اللہ کے لئے ہمسر بناتے ہیں اور اس کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں پھر بھی وہ اس کے باوجود انہیں رزق اور عافیت اور (دوسری چیزیں) عطا کرتا ہے۔
Abdullah bin Qais (RA) reported from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that none is more forbearing in listening to the most irksome things than Allah, the Exalted. They associate rivals with him, attribute sonhood to Him, but in spite of this He provides them sustenance, grants them safety, confers upon them so many things.
کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا أَکُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِکَ أَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْکَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، ابوعمران جونی حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم والوں میں سے کم عذاب والوں سے فرمائے گا اگر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے تیرے لئے ہو تو کیا تو اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لئے وہ دے دے گا وہ کہے گا جی ہاں اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے اس سے بھی کم ترین چیز کا مطالبہ اس وقت کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ تو شرک نہ کرنا میرا گمان ہے کہ اللہ فرمائے گا کہ میں تجھ کو جہنم میں نہ ڈالوں گا لیکن تو نے شرک کے سوا (باقی سب باتوں کا) انکار کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and High, would say to one who shall have to undergo the least torture (on the Day of Resurrection): Would you like to go as ransom if you had all worldly riches; he would say: Yes. Allah would say to him: When you were in the loins of Adam, I demanded from you something easier than this that you should not associate anything with Me. (The narrator says): I think He also said: I would not cause you to enter Hell-Fire but you defied and attributed Divinity (to others besides Me).
کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَکَ النَّارَ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْهُ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوعمر انس بن مالک (رض) اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں البتہ اس حدیث میں تجھ کو جہنم میں داخل نہ کروں گا مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters, but with a slight variation of wording (and the words are): "I shall cause him to enter Hell." (The words subsequent to these) have not been mentioned.
کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلْکَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَ لَکَ مِلْئُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِکَ
عبیداللہ بن عمر قواریری اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ابن بشار اسحاق معاذ بن ہشام (رض) قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا اگر تیرے لئے زمین بھر کے برابر سونا ہوتا تو کیا تو اسے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کردیتا تو وہ کہے گا جی ہاں تو اس سے کہا جائے گا تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It would be said to the non-believers on the Day of Resurrection: If you were to possess gold, filling the whole earth, would you like to secure your freedom by paying that? He would say: Yes. Thereupon it would be said to him: Something easier (than this) was demanded from you (but you paid no heed to it).
کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ کِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ کَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِکَ
عبد بن حمید روح بن عبادہ عمرو بن زرارہ عبدالوہاب ابن عطاء، سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اسے کہا جائے گا تو نے جھوٹ کہا حالانکہ تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
Anas reported this hadlth through another chain of transmitters and the words are: "It would be said to him: You have told a lie; what had been demanded from you was quite easier than this (the belief in the Oneness of Allah)."
کافر کو چہرے کے بل جمع کئے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ يُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلَی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَی رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَی أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَتَادَةُ بَلَی وَعِزَّةِ رَبِّنَا
زہیر بن حرب، عبد بن حمید زہیر یونس بن محمد شیبان قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قیامت کے دن کفار کو کیسے چہرے کے بل جمع کیا جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا کیا وہ جو دنیا میں اسے پاؤں کے بل چلاتا ہے وہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے یہ حدیث سن کر قتادہ نے کہا کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی عزت کی قسم۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person said: Allahs Messenger, how the non-believers would be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet is not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord.
جہنم میں اہل دنیا کی نعمتوں کے اثر اور جنت میں دنیا کی سختیوں اور تکلیفوں کے اثر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ
عمرو ناقد یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جہنم والوں میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا جو اہل دنیا میں سے بہت نعمتوں والا تھا پھر اس سے کہا جائے گا اے ابن آدم کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی بھی دیکھی تھی کیا تجھے کبھی کوئی نعمت بھی ملی تھی وہ کہے گا اے میرے رب اللہ کی قسم نہیں اور اہل جنت میں سے اس آدمی کو پیش کیا جائے گا جسے دنیا میں لوگوں سے سب سے زیادہ تکلیفیں آئی ہوں گی پھر اسے جنت میں ایک دفعہ غوطہ دے کو پوچھا جائے گا اے ابن آدم کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف بھی دیکھی کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی بھی گزری وہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار اللہ کی قسم نہیں کبھی کوئی تکلیف میرے پاس سے نہ گزری اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی شدت و سختی دیکھی۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that one amongst the denizens of Hell who had led a life of ease and plenty amongst the people of the world would be made to dip in Fire only once on the Day of Resurrection and then it would be said to him: O, son of Adam, did you find any comfort, did you happen to get any material blessing? He would say: By Allah, no, my Lord. And then that person from amongst the persons of the world be brought who had led the most miserable life (in the world) from amongst the inmates of Paradise. and he would be made to dip once in Paradise and it would be said to him. 0, son of Adam, did you face, any hardship? Or had any distress fallen to your lot? And he would say: By Allah, no,O my Lord, never did I face any hardship or experience any distress.
مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ملنے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ صرف دنیا میں دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَی بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَی بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْکَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّی إِذَا أَفْضَی إِلَی الْآخِرَةِ لَمْ تَکُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَی بِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، زہیر یزید بن ہارون، ہمام یحییٰ قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کسی مومن سے ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں کرے گا دنیا میں اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور آخرت میں بھی اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور کافر کو دنیا میں ہی بدلہ عطا کردیا جاتا ہے جو وہ نیکیاں اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں فیصلہ ہوگا تو اس کے لئے کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جاتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily, Allah does not treat a believer unjustly in regard to his virtues. He would confer upon him (His blessing) in this world and would give him reward in the Hereafter. And as regards to a non-believer, he would be made to taste the reward (of virtue in this world) what he has done for himself so much that when it would be the Hereafter, he would find no virtue for which he should be rewarded.
مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ملنے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ صرف دنیا میں دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْکَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنْ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَی طَاعَتِهِ
عاصم بن نضر تیمی معتمر ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کافر کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کی وجہ سے دنیا سے ہی اسے لقمہ کھلا دیا جاتا ہے اور مومن کے لئے اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو آخرت کے لئے ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور دنیا میں اپنی اطاعت پر اسے رزق عطا کرتا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) thus told him: When a non-believer does good he is made to taste its reward in this world. And so far as the believer is concerned, Allah stores (the reward) of his virtues for the Hereafter and provides him sustenance in accordance with his obedience to Him.
مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ملنے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ صرف دنیا میں دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا
محمد بن عبداللہ رزی عبدالوہاب بن عطاء، سعید قتادہ، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.