قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ أَنَّهُ نَظَرَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کَيْفَ يَحْکِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ فَيَقُولُ أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا أَنَا الْمَلِکُ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّکُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْئٍ مِنْهُ حَتَّی إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سعید بن منصور، یعقوب ابن عبدالرحمن ابوحازم، حضرت عبیداللہ بن مقسم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر (رض) کی طرف دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کیسے حدیث روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑے گا تو فرمائے گا میں اللہ ہوں اور آپ اپنی انگلیوں کو بند کرتے اور کھولتے تھے (پھر اللہ فرمائے گا) میں بادشاہ ہوں یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا تو اس کے نیچے کی طرف کوئی چیز حرکت کر رہی تھی یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ (منبر) رسول اللہ ﷺ کو لے کر گرپڑے گا۔
Abdullah bin Miqsam reported that he saw Abdullah bin Umar (RA) as he narrated Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, would take in His hand His Heavens and His Earth, and would say: I am Allah. And He would clench His fingers and then would open them (and say): I am your Lord. I saw the pulpit in commotion from underneath because of something (vibrating) there. And (I felt this commotion so much) that I said (to myself): It may not fall with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) upon it.
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
سعید بن منصور، عبدالعزیزبن ابی حازم، ابی عبیداللہ بن مقسم حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ جبار رب العزت اپنے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے گا باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
Abdullah bin Miqsam reported that Abdullah bin Umar reported: I saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) upon the pulpit and he was saying that the Mighty Lord, the Exalted and Glorious would take hold of the Heavens and earth in His hand. The rest of the hadith is the same.
مخلوق کی پیدائش کی ابتداء اور حضرت آدم کی پیدائش کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَکْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَائِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَائِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَی اللَّيْلِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ
سریج بن یونس ہارون بن عبداللہ حجاج بن محمد ابن جریج، اسماعیل بن امیہ ایوب بن خالد عبداللہ بن رافع مولیٰ ام سلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑ اتوار کے دن پیدا کئے اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور مکروہات منگل کے دن پیدا کئے اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین میں چوپائے پھیلائے اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوق میں سب سے آخر میں جمعہ کی ساعات میں سے آخری ساعت عصر اور رات کے درمیان پیدا فرمایا آگے اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
Abu Haraira reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took hold of my hands and said: Allah, the Exalted and Glorious, created the clay on Saturday and He created the mountains on Sunday and He created the trees on Monday and He created the things entailing labour on Tuesday and created light on Wednesday and He caused the animals to spread on Thursday and created Adam علیہ السلام(peace be upon him) after Asr on Friday; the last creation at the last hour of the hours of Friday, i. e. between afternoon and night.
دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن زمین کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی أَرْضٍ بَيْضَائَ عَفْرَائَ کَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد محمد بن جعفر بن ابی کثیر ابوحازم، دینار حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو سرخی مائل سفیدی پر اٹھایا جائے گا جو میدے کی روٹی کی طرح ہوگی اس (زمین) میں کسی کے لئے علامت ونشان نہ ہوگا۔
Sahl bin Sad reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The people will be assembled on the Day of Resurrection on a white plain with a reddish tinge like the loaf of white bread with no marks set up for anyone.
دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن زمین کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ فَأَيْنَ يَکُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ عَلَی الصِّرَاطِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، داؤد شعبی، مسروق، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ رب العزت کے قول َوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان (بھی بدل دئے جائیں گے) کے متعلق پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول اس دن لوگ کہاں ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا پل صرا پر۔
Aisha reported: I asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the words of Allah, the Exalted and Glorious: "The day when the earth would be changed for another earth and Heaven would be changed for another Heaven (XiV. 48), (and inquired:) (Allahs Messenger), where would the people be on that day? He said: They would be on the Sirat.
اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَکْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ کَمَا يَکْفَأُ أَحَدُکُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَأَتَی رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَکَ الرَّحْمَنُ عَلَيْکَ أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخْبِرُکَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ بَلَی قَالَ تَکُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ بَلَی قَالَ إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْکُلُ مِنْ زَائِدَةِ کَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا
عبدالملک بن شعیب بن لیث، خالد بن یزید سعید بن ابی ہلال زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوجائے گی اللہ رب العزت اسے اپنے دست قدرت سے اوپر نیچے کر دے گا اہل جنت کی مہمانی کے لئے جیسا کہ تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی کو الٹ پلٹ لیتا ہے اتنے میں یہود میں سے ایک آدمی نے عرض کیا آپ ﷺ پر اللہ کی برکتیں ہوں اے ابوالقاسم کیا میں آپ ﷺ کو قیامت کے دن اہل جنت کی مہمانی کے بارے میں خبر نہ دوں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے عرض کیا زمین ایک روٹی ہوجائے گی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف دیکھ کر ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں اس نے کہا میں آپ کو (اہل جنت کے) سالن کی خبر نہ دوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے عرض کیا ان کا سالن با، لام اور نون ہوگا صحابہ نے کہا یہ کیا ہے اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کے کلیجے کے ٹکڑے میں سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔
Abu al-Said Khudri reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that the earth would turn to be one single bread on the Day of Resurrection and the Almighty would turn it in His hand as one of you turns a loaf while on a journey. It would be a feast arranged in the honour of the people of Paradise. He (the narrator) further narrated that a person from among the Jews came and he said: Abu al-Qasim, may the Compassionate Lord be pleased with you! May I inform you about the feast arranged in honour of the people of Paradise on the Day of Resurrection? He said: Do it, of course. He said: The earth would become one single bread. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) looked towards us and laughed until his molar teeth became visible. He then again said: May I inform you about that with which they would season it? He said: Do it, of course. He said: Their seasoning would be balim and fish. The Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What is this balam? He said: Ox and fish from whose excessive livers seventy thousand people would be able to eat.
اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَابَعَنِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لَمْ يَبْقَ عَلَی ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ محمد بن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہود میں سے دس (عالم) میری اتباع کرلیتے تو زمین پر کوئی یہودی بھی مسلمان ہوئے بغیر نہ رہتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If ten scholars of the Jews would follow me, no Jew would be left upon the surface of the earth who would not embrace Islam.
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا مَا رَابَکُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُکُمْ بِشَيْئٍ تَکْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَسَأَلَهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ فَأَسْکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَی إِلَيْهِ قَالَ فَقُمْتُ مَکَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ قَالَ وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
عمر بن حفص ابن غیاث ابی اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک کھیت میں چل رہا تھا اور آپ ﷺ ایک لکڑی سے سہارا لیتے ہوئے چل رہے تھے کہ آپ ﷺ کا ایک یہودی کی جماعت کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھو انہوں نے کہا تمہیں اس بارے میں کیا شبہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ﷺ تم کو ایسا جواب دیں جو تمہیں ناگوار گزرے انہوں نے کہا آپ ﷺ سے پوچھو ان میں سے کچھ نے کھڑے ہو کر آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا پس نبی ﷺ خاموش ہوگئے اور انہیں اس بارے میں کوئی جواب نہ دیا پس مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی ہے پس میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا جب وحی نازل ہوچکی تو آپ نے فرمایا ( وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا) وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرما دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں کم علم عطا کیا گیا ہے۔
Abdullah (b. Masud) reported: As I was going along with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a cultivable land and he (the Holy Prophet) was walking with the support of a wood, a group of Jews happened to meet him. Some of them said to the others: Ask him about the Soul. They said: What is your doubt about it? There is a possibility that you may ask him about anything (the answer of) which you may not like. They said: Ask him. So one amongst them asked him about the Soul. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) kept quiet and he gave no reply and I came to know that revelation was being sent to him, so I stood at my place and thus this revelation descended upon him: "They ask thee about Soul. Say: The Soul is by the Commandment of my Lord, and of Knowledge you are given but a little" (xvii. 58).
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا وَفِي حَدِيثِ عِيسَی بْنِ يُونُسَ وَمَا أُوتُوا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابراہیم، علقمہ (رض) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی ایک کھیتی میں نبی ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا باقی حدیث حفص کی حدیث کی طرح ہے البتہ وکیع کی حدیث میں إِلَّا قَلِيلًا اور عیسیٰ بن یونس کی حدیث میں وَمَا أُوتُوا ہے۔
Abdullah reported: I was walking along with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a field of Madinah. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording.
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ يَقُولُ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَکَّأُ عَلَی عَسِيبٍ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ عَنْ الْأَعْمَشِ وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
ابوسعید اشج عبداللہ بن ادریس اعمش، عبداللہ بن مروہ مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کھجوروں کے باغ میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے باقی حدیث اسی طرح ہے البتہ اس میں بھی (وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا) ہے۔
Abdullah reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was reclining against a tree in the garden. The rest of the hadith is the same but there is a slight variation of wording
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ کَانَ لِي عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لِي لَنْ أَقْضِيَکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي لَنْ أَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّی تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ فَسَوْفَ أَقْضِيکَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَی مَالٍ وَوَلَدٍ قَالَ وَکِيعٌ کَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي کَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا إِلَی قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن سعید اشج، عبداللہ، وکیع، اعمش، ابی ضحی، مسروق، حضرت خباب (رض) سے روایت ہے کہ عاص بن وائل پر میرا قرض تھا پس میں اس کے پاس آیا اور اس سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا میں ہرگز تمہارا قرض ادا نہیں کروں گا یہاں تک کہ تم محمد کا انکار کرو تو میں نے اس سے کہا ہرگز نہیں میں محمد کے ساتھ کفر نہ کروں گا یہاں تک کہ تو مرجائے پھر دوبارہ زندہ کیا جائے اس نے کہا میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا تو تیرا قرض ادا کر دوں گا جب میں مال اور اولاد کی طرف لوٹوں گا وکیع نے کہا اعمش نے بھی اسی طرح کہا ہے پس یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا) 19 ۔ مریم : 77) سے وَيَأْتِينَا فَرْدًا کیا آپ ﷺ نے اس آدمی کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے ضرور بالضرور مال اور اولاد عطا کی جائے گی کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے رحمن کے پاس سے کوئی وعدہ لے لیا ہے ہرگز نہیں عنقریب ہم لکھ لیں گے جو وہ کہتا ہے اور ہم اس کے لئے عذاب کو طویل کردیں گے اور ہم اس کے قول کے وارث ہیں اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔
Khabbab reported that al-As bin Wail owed debt to me. I came to him in order to demand that. He said: I will never repay you unless you belie Muhammad. I said: I would never belie Mubammad until you die and you are again raised up. He said: When I would be raised up after death, I would repay your debt when I would get my property and children back. Waki said: This is how Almash has narrated and it was on this occasion that this verse was revealed: "Hast thou seen him who disbelieves in Our message and says: I shall certainly be given wealth and children (xis, 77) up to "he would come to Us alone" (xiX. 80).
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وَکِيعٍ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ کُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ
ابوکریب ابومعاویہ ابن نمیر، ابواسحاق بن ابراہیم جریر، ابن ابی عمر (رض) ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت خباب کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا پس میں عاص بن وائل کے لئے کام کیا کرتا تھا پھر میں اس کے پاس تقاضا کرنے کے لئے آیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Khabbib through another chain of transmitters and the words are. I, in the pre-Islamic days used to work as an iron-smith. I did some work for As bin Wail and came to him for getting the remuneration of my wages.
اللہ عزوجل کے قول اللہ انہیں آپ ﷺ کی موجودگی میں عذاب نہ دے گا کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنْ السَّمَائِ أَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ وَمَا کَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا کَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمْ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری شعبہ، عبدالحمید زیاد حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو پھر ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی دردناک عذاب لے آ تو آیت مبارکہ (وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ) 8 ۔ الأنفال : 33) نازل ہوئی کہ جب تک آپ ﷺ ان میں موجود ہیں اللہ انہیں عذاب نہ دے گا اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے اس حال میں کہ وہ بخشش مانگتے ہوں اور کیا وجہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abu Jahl said: O Allah, if he is true, then shower upon us the volley of stones from the sky or inflict upon us a grievous torment, and it was on this occasion that this verse was revealed: "Allah would never torment them so long as you are amongst them. And Allah is not going to torment them as long as they seek forgiveness. And why is it that Allah should not torment them and they prevent people from coming to the sacred mosque...." (viii. 34) to the end.
اللہ رب العزت کے قول ہرگز نہیں بے شک انسان البتہ سر کشی کرتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّی لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِکَ لَأَطَأَنَّ عَلَی رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَی رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْکُصُ عَلَی عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ فَقِيلَ لَهُ مَا لَکَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِکَةُ عُضْوًا عُضْوًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْئٌ بَلَغَهُ کَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَی أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَی إِنَّ إِلَی رَبِّکَ الرُّجْعَی أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَی عَبْدًا إِذَا صَلَّی أَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ عَلَی الْهُدَی أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَی أَرَأَيْتَ إِنْ کَذَّبَ وَتَوَلَّی يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَی کَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ کَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ کَلَّا لَا تُطِعْهُ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ
عبیداللہ بن معاذ محمد بن عبدالاعلی معتمر ابی نعیم ابن ابی ہند ابی حازم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا کیا محمد تمہارے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں اسے کہا گیا ہاں تو اس نے کہا لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کی گردن (معاذ اللہ) روند دوں گا یا ان کا چہرہ مٹی میں ملاؤں گا پس وہ رسول اللہ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نماز ادا کر رہے تھے اس ارادہ سے کہ وہ آپ ﷺ کی گردن کو روندے جب وہ آپ کے قریب ہونے لگا تو اچانک اپنی ایڑیوں پر واپس لوٹ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے کسی چیز سے بچ رہا تھا پس اسے کہا گیا تجھے کیا ہوا تو اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق تھی ہول اور (فرشتوں کے) بازو تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو نوچ ڈالتے پس اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں راوی کہتا ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں ہے یا ہمیں کسی اور طریقہ سے پہنچی ہے آیات (كَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰ ى اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى) 96 ۔ العلق : 6 ۔ 7 ۔ 8) ہرگز نہیں بیشک انسان البتہ سرکشی کرتا ہے اس نے اپنے آپ کو مستغنی سمجھ لیا ہے بیشک تیرے پروردگار کی طرف ہی لوٹنا ہے کیا آپ نے اس کو دیکھا ہے جو (ہمارے) بندے کو روکتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے کیا خیال ہے کہ اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا تقوی اختیار کرنے کا حکم دیتا (تو یہ اچھا خیال نہ تھا) کیا خیال ہے اگر وہ جھٹلائے اور پیٹھ پھیرے (ابو جیل & تو پھر کیسے گرفت سے بچ سکتا ہے) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہرگز نہیں اگر وہ باز نہ آیا تو ہم یقینا اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے ایسی پیشانی جو جھوٹی اور گناہ گار ہے پس چاہئے کہ وہ اپنے مددگاروں کو پکارے عنقریب ہم بھی فرشتوں کو بلائیں گے ہرگز نہیں آپ اس کی اطاعت نہ کریں۔ اور عبیداللہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اور اسے وہی حکم دیا جس کا انہیں حکم دیا ہے اور ابن عبدالاعلی نے اپنی حدیث میں أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ کا معنی بھی درج کیا کہ وہ اپنی قوم کو پکارے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Abu Jahl asked (people) whether Muhammad placed his face (on the ground) in their presence. It was said to him: Yes. He said: By Lat and Uzza. If I were to see him do that, I would trample his neck, or I would besmear his face with dust. He came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he was engaged in prayer and thought of trampling his neck and the people said that he came near him but turned upon his heels and tried to repulse something with his hands. It was said to him: What is the matter with you? He said: There is between me and him a ditch of fire and terror and wings. Thereupon Allahs Messenger (may peace he upon him) said: If he were to come near me the angels would have torn him to pieces. Then Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse- (the narrator) said: We do not whether it is the hadith transmitted to Abu Hurairah (RA) or something conveyed to him from another source: "Nay, man is surely inordinate, because he looks upon himself as self-sufficient. Surely to thy Lord is the return. Hast thou seen him who forbids a servant when he prays? Seest thou if he is on the right way, or enjoins observance of piety? Seest thou if he [Abu Jah]] denies and turns away? Knowest he not that Allah sees? Nay. if he desists not, We will seize him by the forelock-a lying, sinful forelock. Then let him summon his council. We will summon the guards of the Hell. Nay! Obey not thou him" (Icvi. 6-19). (Rather prostrate thyself.) Ubaidullah made this addition: It was after this that (prostration) was enjoined upon and Ibn Abdul Ala made this addition that by Nadia he meant his people.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ کِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيئُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْکُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ کَهَيْئَةِ الزُّکَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْکُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِکُمْ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی مِنْ النَّاسِ إِدْبَارًا فَقَالَ اللَّهُمَّ سَبْعٌ کَسَبْعِ يُوسُفَ قَالَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی أَکَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجُوعِ وَيَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ أَحَدُهُمْ فَيَرَی کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّکَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَکَ قَدْ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ إِلَی قَوْلِهِ إِنَّکُمْ عَائِدُونَ قَالَ أَفَيُکْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور ابی ضحی، عبداللہ حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کندہ کے دروازوں کے پاس ایک قصہ گو بیان کر رہا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن میں جو دھوئیں کی آیت ہے وہ دھواں آنے والا ہے پس وہ کفار کی سانسوں کو روک لے گا اور مومنین کے ساتھ صرف زکام کی کیفیت پیش آئے گی حضرت عبداللہ غصہ سے اٹھ بیٹھے پھر فرمایا اے لوگو اللہ سے ڈرو تم میں سے جو کوئی بات جانتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق ہی بیان کرے اور جو بات نہیں جانتا تو کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ تم میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جو جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک اللہ رب العزت نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا آپ فرما دیں میں تم سے اس بات پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں سے بعضوں کی رو گردانی دیکھی تو فرمایا اللہ نے ان پر سات سالہ قحط نازل فرمایا جیسا کہ یوسف کے زمانہ میں سات سالہ قحط نازل ہوا تھا ابن مسعود (رض) نے کہا پس ان پر ایک سالہ قحط آیا جس نے ہر چیز کو ملیا میٹ کردیا یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور مردار کھائے گئے اور ان میں سے جو کوئی آسمان کی طرف نظر کرتا تھا تو دھوئیں کی سی کیفیت دیکھتا تھا پس آپ ﷺ کے پاس ابوسفیان حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد بیشک آپ اللہ کی اطاعت کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں اور بیشک آپ ﷺ کی قوم و برادری تحقیق ہلاک ہوچکی آپ ﷺ اللہ سے ان کے لئے دعا مانگیں اللہ رب العزت نے فرمایا آپ ﷺ انتظار کریں اس دن کا جس دن کھلم کھلا دھواں ظاہر ہوگا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ دردناک عذاب ہے بیشک تم لوٹنے والے ہو تک نازل فرمائیں تو انہوں نے کہا کیا آخرت کا عذاب دور کیا جاسکتا ہے تو اللہ عزوجل نے فرمایا جس دن ہم پکڑیں گے بڑی گرفت کے ساتھ بیشک ہم بدلہ لینے والے ہوں گے پس اس پکڑ سے مراد بدر کے دن کی پکڑ ہے اور دھوئیں اور لزام (یعنی بدر کی دن کی گرفت و قتل) اور روم کی علامات کی نشانیاں گزر چکی ہیں۔
Masruq reported: We were sitting in the company of Abdullah and he was lying on the bed that a person came and said: Abd Abdul Rahmin, a story-teller at the gates of Kinda says that the verse (of the Quran) which deals with the "smoke" implies that which is about to come and it would hold the breath of the infidels and would inflict the believers with cold. Thereupon Abdullah got up and said in anger. O people, fear Allah and say only that which one knows amongst you and do not say which he does not know and he should simply say: Allah has the best knowledge for He has the best knowledge amongst all of you. It does not behoove him to say that which he does not know. Allah has the best knowledge of it. Verily Allah, the Exalted and Glorious, said to His Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to state: "I do not ask from you any remuneration and I am not the one to put you in trouble," and when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw people turning back (from religion) he said: O Allah, afflict them with seven famines as was done in the case of Yusuf, so they were afflicted with famine by which they were forced to eat everything until they were obliged to eat the hides and the dead bodies because of hunger, and every one of them looked towards the sky and he found a smoke. And Abu Sufyan (RA) came and he said: Muhammad, you have come to command us to obey Allah and cement the ties of blood-relation whereas your people are undone; supplicate Allah for them. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, said: "Wait for the day when there would be clear smoke from the sky which would envelop people and that would be grievous torment" up to the words: "you are going to return to (evil)." (if this verse implied the torment of the next life) could the chastisement of the next (life) be averted (as the Quran states): On the day when We seize (them) with the most violent seizing; surely We shall exact retribution" (xliv. 16)? The seizing (in the hadith) implies that of the Day of Badr. And so far as the sign of smoke, seizing, inevitability and signs of Rome are concerned, they have become things of the past now.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ فَقَالَ تَرَکْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ قَالَ يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّی يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ کَهَيْئَةِ الزُّکَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّمَا کَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ کَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ فَيَرَی بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجَهْدِ وَحَتَّی أَکَلُوا الْعِظَامَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَکُوا فَقَالَ لِمُضَرَ إِنَّکَ لَجَرِيئٌ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّکُمْ عَائِدُونَ قَالَ فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمْ الرَّفَاهِيَةُ قَالَ عَادُوا إِلَی مَا کَانُوا عَلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، ابوسعید اشج وکیع، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، یحییٰ بن یحیی، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم بن صبیح، عبداللہ حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا میں مسجد میں ایک ایسے آدمی کو چھوڑ آیا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرتا ہے وہ اس آیت (یوم نبطش البطشہ) کہ جس دن آسمان پر واضح دھواں ظاہر ہوگا کی تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے دن دھواں لوگوں کی سانسوں کو بند کر دے گا یہاں تک کہ ان کی زکام کی سی کیفیت ہوجائے گی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا جو آدمی کسی بات کا علم رکھتا ہو وہ وہی بات کہے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ جس بات کا علم نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ اعلم ان قریشیوں نے جب نبی ﷺ کی نافرمانی کی تو آپ ﷺ نے ان کے خلاف قحط پڑنے کی دعا کی جیسے کہ حضرت یوسف کے زمانہ کے لوگوں پر قحط اور مصیبت و تنگی آئی تھی یہاں تک کہ جب کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر کرتا تو اپنے اور آسمان کے درمیان اپنی مصیبت کی وجہ سے دھواں دیکھتا تھا اور یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیوں کو کھایا پس ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول مضر (قبیلہ) کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں پس بیشک وہ ہلاک ہوچکے ہیں آپ نے فرمایا تو نے مضر کے لئے بڑی جرات کی ہے پھر آپ نے اللہ سے ان کے لئے دعا مانگی تو اللہ رب العزت نے (إِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّکُمْ عَائِدُونَ ) ہم چند دنوں کے لئے عذاب روکنے والے ہیں (لیکن) تم پھر وہی کام سر انجام دو گے نازل فرمائی کہتے ہیں پس ان پر بارش برسائی گئی پس جب وہ خوشحال ہوگئے تو پھر وہ اسی کی طرف لوٹ گئے جس پر پہلے قائم تھے تو اللہ رب العزت نے یہ آیات (فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ) نازل کی۔
Masruq reported that there came to Abdullah a person and said: I have left behind in the mosque a man who explains the Quran according to his personal discretion and he explained this verse: "So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke." He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection and it will withhold breath and they would be inflicted with cold. Abdullah said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he supplicated Allah that they should be afflicted with famine and starvation as was done in case of Yusuf. And they were so much hard pressed that a person would ace the sky and he would see between him and the sky something like smoke and they were so much hard pressed that they began to eat the bones, and a person came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, seek forgiveness for the tribe of Mudar for (its people) have been undone. The Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: For Mudar? You are overbold, but he supplicated Allah for them. It was upon this that this verse was revealed: "We shall remove the chastisement a little, but they will surely return to evil" (xliv. 15). He (the narrator) said: There was a downpour of rain upon them. When there was some relief for them they returned to the same position as they had been before, and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "So wait for the day when the heaven brings a clear smoke enveloping people. This is a grievous torment on the day when We seize them with the most violent seizing; surely, We shall exact retribution." And this (seizing) implied (Battle) of Badr.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ
قتیبہ بن سعید، جریر، اعمش، ابی ضحی مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو کہ گزر چکی ہیں دھواں لزام (قیدوبند) ، (غلبہ) روم بطشہ (جنگ بدر) اور (شق) قمر۔
Abdullah said that five signs have (become things) of the past (and have proved the truth of the Holy Prophet): (Enveloping) by the smoke, inevitable (punishment to the Makkahns at Badr), (the victory of) Rome, (violent) seizing (of the Makkahns at Badr) and (the splitting up of) the Moon.
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ قَالَ مَصَائِبُ الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوْ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاکُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوْ الدُّخَانِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، قتادہ، عزرہ حسن عرنی یحییٰ حزار عبدالرحمن ابن ابی لیلی حضرت ابی بن کعب (رض) سے اللہ عزوجل کے قول وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ ) ہم ضرور بالضرور بڑے عذاب سے پہلے انہیں چھوٹے عذاب دیں گے کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں (غلبہ) روم بطشہ (غزوہ بدر) یا دھواں ہے اور شعبہ کو بطشہ یا دخان میں شک ہے۔
Ubayy bin Kab reported that the words of Allah, the Exalted and Glorious: "We will, surely, make them taste the lesser punishment before the severer punishment (that they may return)" (xxxii. 21) imply the torments of the world. (victory of) Rome, seizing (of the Makkahns), or smoke. And Shalba was in doubt about seizing or smoke.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
عمرو ناقد زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح مجاہد ابی معمر، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گواہ ہوجاؤ۔
Abu Mamar reported on the authority of Abdullah that the moon was split up during lifetime by Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in two parts and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Bear testimony to this.