منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید ابوبکر بن نافع غندر شعبہ (رض) ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رِجَالًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنْ الْعَذَابِ
حسن بن علی حلوانی محمد بن سہل تمیمی ابن ابی مریم محمد بن جعفر، زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں منافقین میں سے بعض ایسے تھے جو جب نبی ﷺ غزوہ کے لئے نکلے تو وہ پیچھے رہ گئے اور نبی ﷺ کے خلاف بیٹھ جانے سے خوش ہوئے جب نبی ﷺ واپس تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ سے معذرت کی اور قسم اٹھائی اور انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ ان کی تعریف کی جائے اس کام پر جو انہوں نے سر انجام نہیں دیئے تو آیت (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ) 3 ۔ ال عمران : 188) نازل ہوئی اپنے کئے پر خوش ہونے والے لوگوں کو مت گمان کرو جو پسند کرتے ہیں اس بات کو کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے اعمال پر جو انہوں نے سر انجام نہیں دئے پس آپ ﷺ ان کے بارے میں عذاب سے نجات کا گمان نہ کریں۔
Abu Said Khudri reported that during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the hypocrites behaved in this way that when Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) set out for a battle, they kept themselves behind, and they became happy that they had managed to sit in the house contrary to (the act of) Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and when Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) came back, they put forward excuses and took oath and wished that people should laud them for the deeds which they had not done. It was on this occasion that this verse was revealed: "Think not that those who exult in what they have done, and love to be praised for what they have not done-think not them to be safe from the chastisement; and for them is a painful chastisement" (iii. 18).
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ کَانَ کُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أَتَی وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا لَکُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الْکِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُونَهُ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ فَکَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِکَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ کِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ
زہیر بن حرب، ہارون بن عبداللہ زہیر حجاج بن محمد ابن جریج، ابن ابی ملیکہ حمید بن عبدالرحمن بن عوف مروان حضرت حمید بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ابن عباس کے پاس جاؤ اور کہو کہ اگر ہم میں سے ہر آدمی اپنے کئے ہوئے عمل پر خوش ہو اور وہ اس بات کو پسند کرے کہ اس کی تعریف ایسے عمل میں کی جائے جو اس نے سر انجام نہیں دیا تو اسے عذاب دیا جائے گا پھر تو ہم سب کو ہی عذاب دیا جائے گا تو ابن عباس (رض) نے کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے حالانکہ یہ آیت تو اہل کتاب کے بارے میں نازل کی گئی تھی پھر ابن عباس (رض) نے (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّه لِلنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَه) 3 ۔ آل عمران : 187) تلاوت کی اور جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنہیں کتاب دی گئی کہ تم ضرور بضرور اسے لوگوں کے لئے بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں اور ابن عباس (رض) نے (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ) 3 ۔ آل عمران : 188) تلاوت کی ان کو ہرگز نہ گمان کرنا (مومن) جو اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اس بات کو کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے سر انجام نہیں دیئے ابن عباس (رض) نے فرمایا نبی ﷺ نے ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس چیز کو آپ سے چھپایا اور اس کے علاوہ دوسری بات کی خبر دی پھر نکلے اس حال میں خوش ہوتے ہوئے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اس بات کی اطلاع دے دی ہے جو آپ ﷺ نے ان سے پوچھی تھی پس انہوں نے آپ ﷺ سے اس بات پر تعریف کو طلب کیا اور جو بات بتائی اور آپ نے ان سے جو بات پوچھی اسے آپ ﷺ سے چھپانے کی وجہ سے خوش ہوئے۔
Humaid bin Abdul Rahman bin Auf reported that Marwan said to Rafi, his chamberlain, that he should go to Ibn Abbas and ask him: If every one of us be punished for his being happy upon his deed and for his being praised for what he has not done, nobody would be saved from the torment. Ibn Abbas said: What you have to do with this verse? It has been in fact revealed in connection with the people of the Book." Then Ibn Abbas (RA) recited this verse: "When Allah took a covenant from those who had been given the Book: You shall explain it to people and shall not conceal this" (iii. 186), and then Ibn Abbas recited this verse: "Think not that those who exult in what they have done and love to be praised for what they have not done" (iii. 186). Ibn Abbas (further) said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked them about something and then they concealed that and they told him something else and they went out and they thought that they had informed him as he had asked them and they felt happy of what they had concealed.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَکُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً وَلَکِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّی يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَکْفِيکَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسود بن عامر شعبہ بن حجاج قتاہ ابی نضرہ حضرت قیس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمار (رض) سے کہا آپ اپنے اس عمل کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں جو آپ نے حضرت علی (رض) کے معاملہ میں اختیار کیا ؟ (انکا ساتھ دیا) کیا وہ تمہاری اپنی رائے تھی جسے تم نے اختیار کیا یا کوئی ایسی چیز تھی جس کا وعدہ تم سے رسول اللہ ﷺ نے لیا تھا انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کوئی ایسا وعدہ نہیں لیا تھا جس کا وعدہ آپ ﷺ نے تمام لوگوں سے نہ لیا ہو لیکن حذیفہ نے مجھے نبی ﷺ سے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کی طرف منسوب لوگوں میں سے بارہ آدمی منافق ہیں ان میں سے آٹھ آدمی جنت میں داخل نہ ہوں گے اور یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے آگ کا شعلہ ان میں سے آٹھ کے لئے کافی ہوگا اور چار کے بارے میں مجھے یاد نہیں رہا کہ شعبہ نے ان کے بارے میں کیا کہا۔
Qais reported: I said to Ammar: What is your opinion about that which you have done in case (of your siding with Hadrat Ali)? Is it your personal opinion or something you got from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? Ammar said: We have got nothing from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which people at large did not get, but Hudhaifa told me that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had especially told him amongst his Companion, that there would be twelve hypocrites out of whom eight would not get into Paradise, until a camel would be able to pass through the needle hole. The ulcer would be itself sufficient (to kill) eight. So far as four are concerned, I do not remember what Shubah said about them.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْنَا لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَکُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي أُمَّتِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّی يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَکْفِيکَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَکْتَافِهِمْ حَتَّی يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ ابی نضرہ حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ ہم نے عمار سے عرض کیا کیا تم نے اپنے قتال (معاویہ و علی کے درمیان جنگ) میں اپنی رائے سے شرکت کی تھی حالانکہ رائے میں خطاء بھی ہوتی ہے اور درستگی بھی یا یہ کوئی وعدہ تھا جس کا تم سے رسول اللہ ﷺ نے عہد لیا ہو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کوئی ایسا وعدہ نہیں لیا جس کا وعدہ آپ ﷺ نے تمام لوگوں سے نہ لیا ہو اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک میری امت میں شعبہ نے کہا راوی نے کہا کہ حضرت حذیفہ نے حدیث بیان کی اور غندر نے کہا میں بھی یہی خیال کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں بارہ منافق ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ کے لئے دبیلہ (آگ کا شعلہ) کافی ہوگا جو ان کے کندھوں سے ظاہر ہوگا یہاں تک کہ ان کی چھاتیاں توڑ کر نکل جائے گا۔
Qais bin Ubad reported: We said to Ammar: Was your fighting (on the side of Ali in the Battle of Siffin) a matter of your own choice or you got its hints from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for it is likely for one to err in ones own discretion or was it because of any covenant that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got from you? He said: It was not because of any covenant that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got from us which he did get from other people, and he further said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: "In my Ummah." And I think that Hudhaifa reported to me and according to Ghundar (the words are) that he said: In my Ummah, there would be twelve hypocrites and they would not be admitted to Paradise and they would not smell its odour, until the camel would pass through a needles hole. Dubaila (ulcer) would be enough to (torment them) -a kind of flame of Fire which would appear in their shoulders and it would protrude from their chest.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ کَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَکُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ کَمْ کَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَکَ قَالَ کُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ کُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ کَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ کَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَی فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ
زہیر بن حرب، ابواحمد کوفی ولید بن جمیع حضرت ابوطفیل سے روایت ہے کہ اہل عقبہ میں سے ایک آدمی اور حضرت حذیفہ (رض) کے درمیان عام لوگوں کی طرح جھگڑا ہوا تو انہوں نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ بتاؤ اصحاب عقبہ کتنے تھے (حضرت حذیفہ (رض) سے) لوگوں نے کہا آپ ان کے سوال کا جواب دیں جو انہوں نے آپ سے کیا ہے حضرت حذیفہ (رض) نے کہا ہم کو خبر دی جاتی تھی کہ وہ چودہ تھے اور اگر تم بھی انہیں میں سے ہو تو وہ پندرہ ہوجائیں گے میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ ایسے تھے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول کے رضامندی کے لئے جہاد کیا۔
Abu Tufail reported that there was a dispute between Hudhaifa and one from the people of Aqabah as it happens amongst people. He said: I adjure you by Allah to tell me as to how many people were from Aqabah. The people said to him (Hudhaifa) to inform him as he had asked. We have been informed that they were fourteen and If you are to be counted amongst them, then they would be fifteen and I state by Allah that twelve amongst them were the enemies of Allah and of His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in this world. The rest of the three put forward this excuse: We did not hear the announcement of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and we were not aware of the intention of the people as he (the Holy Prophet) had been in the hot atmosphere. He (the Holy Prophet) then said: The water is small in quantity (at the next station), so nobody should go ahead of me, but he found people who had gone ahead of him and he cursed them on that day.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُلُّکُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُکُمْ قَالَ وَکَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ
عبیداللہ بن معاذ عبنری ابی قرہ بن خالد ابی زبیر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ثنیہ المرار گھاٹی پر چڑھے گا اس کے گناہ اس سے اسی طرح ختم ہوجائیں گے جس طرح بنی اسرائیل سے ان کے گناہ ختم ہوئے تھے پس سب سے پہلے اس پر چڑھنے والا ہمارا شہسوار یعنی بنو خزرج کے گھوڑے چڑھے پھر دوسرے لوگ یکے بعد دیگرے چڑھنا شروع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سب کے سب بخش دیئے گئے ہو سوائے سرخ اونٹ والے آدمی کے ہم اس کے پاس گئے اور اس سے کہا چلو رسول اللہ تیرے لئے مغفرت طلب کریں گے اس نے کہا اللہ کی قسم اگر میں اپنی گمشدہ چیز کو حاصل کروں تو یہ میرے نزدیک تمہارے ساتھی کی میرے لئے مغفرت مانگنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور وہ آدمی اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who climbed this hill, the hill of Murar, his sins would be obliterated as were obliterated the sins of Bani Israil. So the first to take their horses were the people of Banu Khazraj. Then there was a ceaseless flow of persons and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to them: All of you are those who have been pardoned except the owner of a red camel. We came to him and said to him: You also come on, so that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) may seek forgiveness for you. But he said: By Allah, so far as I am concerned, the finding of something lost is dearer to me than seeking of forgiveness for me by your companion (the Holy Prophet), and he remained busy in finding out his lost thing.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوْ الْمَرَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَائَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ ابوزبیر، حضرت جابر (رض) بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو ثنیہ المرار یا مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے اور اس میں یہ ہے کہ وہ دیہاتی آیا جو اپنی گمشدہ چیز کو تلاش کر رہا تھا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who would climb this hill of Murar. The rest of the hadith is the same but with this variation that it was a desert Arab who was finding out his lost thing.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَکَانَ يَکْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّی لَحِقَ بِأَهْلِ الْکِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوهُ قَالُوا هَذَا قَدْ کَانَ يَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَی وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَی وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَی وَجْهِهَا فَتَرَکُوهُ مَنْبُوذًا
محمد بن رافع ابونضر سلیمان ابن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم بنی نجار میں سے ایک آدمی نے سورت البقرہ اور آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے لکھا کرتا تھا وہ بھاگ کر چلا گیا یہاں تک کہ اہل کتاب کے ساتھ جا کر مل گیا پس اہل کتاب نے اس کی بڑی قدر ومنزلت کی اور کہنے لگے کہ یہ وہ آدمی ہے جو محمد ﷺ کے لئے لکھا کرتا ہے وہ خوش ہوئے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن انہیں میں توڑ دی پس انہوں نے گڑھا کھود کر اسے چھپا دیا پس جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے انہوں نے پھر اس کے لئے گڑھا کھودا اور اسے دفن کردیا لیکن صبح پھر زمین نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا انہوں نے دوبارہ اس کے لئے گڑھا کھودا اور اسے دفن کردیا پس صبح پھر زمین نے اسے نکال کر باہر پھینک دیا انہوں نے اسے اسی طرح باہر پھینکا ہوا چھوڑ دیا۔
Anas bin Malik (RA) reported: There was a person amongst us who belonged to the tribe of Bani Najjar and he recited Sura al-Baqarah and Surat Al-Imran and he used to transcribe for Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He ran away as a rebel and joined the People of the Book. They gave it much importance and said: He is the person who used to transcribe for Muhammad and they were much pleased with him. Time rolled on that Allah caused his death. They dug the grave and buried him therein, but they found to their surprise that the earth had thrown him out over the surface. They again dug the grave for him and buried him but the earth again threw him out upon the surface. They again dug the grave for him and buried him but the earth again threw him out upon the surface. At last they left him unburied.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا کَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ تَکَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاکِبَ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ
ابوکریب محمد بن علاء، حفص ابن غیاث اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر سے آئے جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آندھی اتنے زور سے چلی قریب تھا کہ سوار زمین میں دھنس جائے پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لئے بھیجی گئی ہے جب آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو منافقین میں سے ایک بہت بڑا منافق مرچکا تھا۔
Jabir reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came back from a journey and as he was near Madinah, there was such a violent gale that the mountain seemed to be pressed. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This wind has perhaps been made to blow for the death of a hypocrite, and as he reached Madinah a notorious hypocrite from amongst the hypocrites had died.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا قَالَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ
عباس بن عبدالعظیم عنبری ابومحمد نضر بن محمد بن موسیٰ یمامی عکرمہ حضرت ایاس (رض) سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے باپ نے حدیث روایت کی کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک بیمار کی عیادت کی جسے بخار ہو رہا تھا میں نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو میں نے کہا اللہ کی قسم میں نے آج تک کسی بھی آدمی کو اتنا تیز بخار نہیں دیکھا اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں قیامت کے دن اس سے زیادہ گرم جسم والے آدمی کے بارے میں خبر نہ دوں یہ دو آدمی ہیں جو سوار ہو کر منہ پھیر کر جا رہے ہیں ان دو آدمیوں کے بارے میں فرمایا جو اس وقت بظاہر آپ ﷺ کے اصحاب میں سے (سمجھے جاتے) تھے۔
Iyas reported on the authority of his father: We went along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to visit a person suffering from fever. When I placed my hand upon him, I said: By Allah, I have never seen, till this day, a person running higher temperature than he. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , turning his face to his companions, said: May I not inform you of a severer temperature than this which these two persons would run on the Day of Resurrection? And they were two hypocrites riding upon the camel turning their back towards (the Muslims).
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَی هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَی هَذِهِ مَرَّةً
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عبیداللہ محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی عبیداللہ بن نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے کبھی اس ریوڑ میں چرتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of a hypocrite is that of a sheep which roams aimlessly between two flocks. She goes to one at one time and to the other at another time.
منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ تَکِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری موسیٰ بن عقبہ نافع اس سند سے بھی حضرت ابن عمر (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں ہے کبھی وہ اس ریوڑ میں گھس آتی اور کبھی دوسرے ریوڑ میں۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying like this but with this change of words: "She sometimes finds a way in one flock and then in another flock."
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَئُوا فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
ابوبکر بن اسحاق یحییٰ بن بکیر مغیرہ حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بہت موٹا آدمی لایا جائے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کی اہمیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگی پڑھو ( فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا) پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔
Abu Huraira reported Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying:
A bulky person would be brought on the Day of Judgment and he would not carry the weight to the eye of Allah equal even to that of a gnat. Nor shall We set up a balance for them on the Day of Resurrection" (xviii. 105).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَائَ حَبْرٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی يُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْمَائَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَی إِصْبَعٍ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا يُشْرِکُونَ
احمد بن عبداللہ بن یونس فضیل ابن عیاض منصور ابراہیم، عبیدہ سلمانی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد یا کہا اے ابوالقاسم بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور کیچڑ ایک انگلی پر اور باقی ساری مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر انہیں ہلا کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، رسول اللہ ﷺ اس یہودی عالم کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے پھر وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا يُشْرِکُونَ تلاوت کی انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے اللہ پاک اور بلند ہے اس چیز سے جسے یہ مشرک شریک کرتے ہیں۔
Abdullah bin Masud reported that a Jew scholar came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) and said. Muhammad, or Abu al-Qasim, verify, Allah, the Exalted and Glorious. Would carry the Heavens on the Day of Judgment upon one finger and earths upon one finger and the mountains and trees upor one finger and the ocean and moist earth upon one finger-in fact the whole of the creation upon one finger, and then He would stir them and say: I am your Lord, I am your Lord. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) smiled testifying what that scholar had said. He then recited this verse:" And they honour not Allah with the honour due to Him; and the whole earth will be in His grip on the Day of Resurrection and the heavens will be rolled up up in His right hand. Glory be to Him and highly Exalted is He above what they associate (with Him)" (xxxix. 67).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ جَائَ حَبْرٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ وَقَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَتَلَا الْآيَةَ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ یہودیوں میں سے ایک عالم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث فضیل کی حدیث کیطرح ذکر کی لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ پھر انہیں حرکت دے گا اور یہ کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں اس کی بات پر تعجب اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت مبارکہ (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِه) 39 ۔ الزمر : 67) حق قدرہ تلاوت فرمائی۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters (and the words are): A Jew scholar came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The rest of the hadith is the same, but there is no mention of "then He would stir them." But there is this addition: "I saw Allahs Messengcr (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) smiling so much that his front teeth appeared and testifying him (the Jew scholar); then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited the verse: "And they honour not Allah with the honour due to Him" (xxxix. 67).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ يَقُولُا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْأَرْضِينَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَی إِصْبَعٍ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
عمر بن حفص ابن غیاث ابی اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے ابوقاسم بیشک اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور کیچڑ کو ایک انگلی پر اور باقی مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک ظاہر ہوئیں پھر آپ ﷺ نے (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ) تلاوت کی۔
Abdullah reported that a person from the People of the Book came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) and said: Abu al-Qasim, verify, Allah would carry the Heavens upon one finger and the earths upon one finger and the trees and moist earth upon one finger and in fact the whole of the creation upon one finger and then say: I am your Lord. I am your Lord. And he (the narrator) further said: I saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) seeming so happy that his front teeth became visible and then he recited the Verse: "And they honour not Allah with the honour due to Him" (xxxix. 67).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَی إِصْبَعٍ وَلَکِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَی إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ
ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، عثمان بن ابی شبیہ جریر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ان میں یہ ہے کہ درخت ایک انگلی پر اور کیچڑ ایک انگلی پر اور جریر کی حدیث میں یہ نہیں کہ باقی مخلوقات ایک انگلی پر لیکن اس کی حدیث میں پہاڑ ایک انگلی پر اور جریر کی حدیث میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے اور اس کی بات پر تعجب کرتے ہوئے (آپ ﷺ ہنسے) ۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَائَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ مُلُوکُ الْأَرْضِ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, will take in His grip the earth on the Day of Judgment and He would roll up the sky in His right hand and would say: I am the Lord; where are the sovereigns of the world?
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَی ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عمر بن حمزہ سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ رب العزت آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، زور والے (جابر) بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں زور والے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں ؟
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: Allah, the Exalted and Glorious, would fold the Heavens on the Day of Judgment and then He would place them on His right hand and say: I am the Lord; where are the haughty and where are the proud (today)? He would fold the earth (placing it) on the left hand and say: I am the Lord; where are the haughty and where are the proud (today)?