Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 355 of 379

7092Sahih Muslimصحیح

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَائُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّی تَسْتَحْصِدَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، معمر، زہری، سعید، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ اسے ہمیشہ ہوا جھکاتی رہتی ہے اور مومن کو بھی مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو حرکت نہیں کرتا یہاں تک کہ جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of a believer is that of (a standing) crop which the air continues to toss from one side to another; in the same way a believer always (receives the strokes) of misfortune. The similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which does not move until it is uprooted.

7093Sahih Muslimصحیح

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَکَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ

محمد بن رافع عبد بن حمید معمر، زہری، عبدالرزاق، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.

7094Sahih Muslimصحیح

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَی حَتَّی تَهِيجَ وَمَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَی أَصْلِهَا لَا يُفِيئُهَا شَيْئٌ حَتَّی يَکُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر محمد بن بشر زکریاء بن ابی زائدہ سعد بن ابراہیم، حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کے سر کنڈے کی طرح ہے ہوا اسے جھونکے دیتی ہے ایک مرتبہ اسے گرا دیتی ہے اور ایک مرتبہ اسے سیدھا کردیتی ہے یہاں تک کہ خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے اس درخت کی ہے جو اپنے تنے پر کھڑا رہتا ہے اسے کوئی بھی (ہوا) نہیں گراتی یہاں تک کہ ایک ہی دفعہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔

Kab reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that the similitude of a believer is that of a standing crop in a field which is shaken by wind and then it comes to its original position but it stands at its roots. The similitude of a non-believer is that of a cypress tree which stands on its roots and nothing shakes it but it is uprooted (with) one (violent stroke).

7095Sahih Muslimصحیح

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّی يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْئٌ حَتَّی يَکُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً

زہیر بن حرب، بشر بن سری عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، عیینہ سعد بن ابراہیم، حضرت عبدالرحمن بن کعب (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کے سر کنڈے کی طرح ہے ہوا اسے جھونکے دیتی رہتی ہے کبھی اسے گرا دیتی اور کبھی سیدھا کردیتی ہے یہاں تک کہ اس کا مقررہ وقت آجاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے جو اپنے اس تنے پر کھڑا رہتا ہے جسے کوئی آفت نہیں پہنچتی یہاں تک کہ ایک ہی دفعہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔

Kab bin Malik reported on the authority of his father that the similitude of a believer is that of a standing crop. The wind sometimes shakes it and sometimes raises it up and then it comes to its destined end. And the similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which is not affected by anything but is uprooted once for all.

7096Sahih Muslimصحیح

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ وَمَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْأَرْزَةِ وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ فَقَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَا قَالَ زُهَيْرٌ

محمد بن حاتم، محمود بن غیلان بشر بن سری سفیان، سعد بن ابراہیم، حضرت عبداللہ بن کعب (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا البتہ محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے اور ابن حاتم نے منافق کی مثال کہا ہے جیسا کہ زہیر نے کہا۔

This hadith has been narrated through another chain, of transmitters also.Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allahs Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allahs Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.

7097Sahih Muslimصحیح

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ عَنْ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَی وَمَثَلُ الْکَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ

محمد بن بشار، عبداللہ بن ہاشم یحییٰ قطان سفیان، سعد بن ابراہیم، ابن ہاشم عبداللہ بن بشار ابن کعب ابن مالک اس سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ان سب اسناد سے یہ مروی ہے کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Kab through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7098Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ هِيَ النَّخْلَةُ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ قَالَ لَأَنْ تَکُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر سعدی یحییٰ اسماعیل ابن جعفر عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے پس تم مجھے بیان کرو کہ وہ کونسا درخت ہے پس لوگوں کا خیال جنت کے درختوں کی طرف گردش کرنے لگا حضرت عبداللہ نے کہا میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے پس میں نے شرم محسوس کی پھر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہی ہمیں بتادیں وہ کون سا درخت ہے تو آپ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے کہتے ہیں پھر میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عمر (رض) سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تو کہہ دیتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو یہ میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allahs Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.

7099Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْکُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ فَأَهَابُ أَنْ أَتَکَلَّمَ فَلَمَّا سَکَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ

محمد بن عبید عنبری حماد بن زید ایوب ابی خلیل مجاہد حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کرام سے فرمایا مجھے اس درخت کی خبر دو جس کی مثال مومن کی طرح ہے پس صحابہ نے جنگل کے درختوں کا ذکر کرنا شروع کردیا ابن عمر (رض) نے کہا میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے پس میں نے اسے کہنے کا ارادہ کیا لیکن میں وہاں بڑے لوگوں کی وجہ سے بات کرنے سے ڈر گیا جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) one day said to his Companions: Tell me about a tree which has resemblance with a believer. The people began to mention (different) trees of the forest. Ibn Umar said: It was instilled in my mind or in my heart and it stuck therein that it implied the date-palm tree. I made up my mind to make a mention of that but could not do that because of the presence of the elderly people there. When there was a hush amongst them (after they had expressed their views), Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It is the date-palm tree.

7100Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَذَکَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح حضرت مجاہد (رض) سے روایت ہے کہ میں مدینہ تک حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ رہا پس میں نے ان سے ایک حدیث کے سوا کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے نہیں سنی انہوں نے کہا ہم نبی ﷺ کے پاس حاضر تھے آپ ﷺ کی خدمت میں کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Mujahid said: (I have had the privilege) of accompanying Ibn Umar up to Madinah but I did not hear him narrate anything from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) except one hadith. And he said: We were in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that there was brought to him the kernel of a date. The rest of the hadith is the same.

7101Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

ابن نمیر، ابی سفیف مجاہد حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Mujahid reported: I heard Ibn Umar as saying: There was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the kernel. The rest of the hadith is the same.

7102Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ کَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَعَلَّ مُسْلِمًا قَالَ وَتُؤْتِي أُکُلَهَا وَکَذَا وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُکُلَهَا کُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَکَلَّمَانِ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَکُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا

ابوبکر بن ابی شبہ ابواسامہ عبیداللہ بن عمر نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے ایسے درخت کی خبر دو جو مشابہ ہوتا ہے یا فرمایا مسلمان مرد کے مشابہ ہوتا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے ابراہیم نے کہا شاید کہ وہ مسلمان ہو امام مسلم نے کہا انہوں نے شاید یہ کہا وہ پھل دیتا ہے اور اسی طرح میں نے اپنے سے علاوہ کی روایات میں یہ پایا ہے کہ وہ ہر وقت پھل نہیں دیتا ابن عمر (رض) نے کہا پس میرے دل میں یہ بات واقع ہوگئی کہ وہ کھجور کا درخت ہوگا اور میں نے ابوبکر وعمر (رض) کو دیکھا کہ وہ نہیں بول رہے تو میں نے اس بارے میں کوئی بات کرنا پسند نہ کیا تو عمر (رض) نے فرمایا اگر تم بتا دیتے تو یہ فلاں فلاں چیز سے زیادہ (میرے نزدیک) پسندیدہ ہوتا۔

Ibn Umar (RA) reported: We were in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: Tell me of a tree which has resemblance to a Muslim and the leaves of which do not wither. Ibrahim said that perhaps Imam Muslim had stated like this: It constantly bears fruit but I have, however, seen [It does not bear fruit constantly]. Ibn Umar (RA) said: It crossed my mind that it could be the date-palm tree, but as I saw Aba Bakr and Umar observe silence, I did not deem it fit that I should speak or I should say something. Umar said: Had you said so, it would have been dearer to me than such and such thing.

7103Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَکِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک شیطان تحقیق مایوس ہوچکا ہے اس بات سے کہ نمازی حضرات اس کی جزیرہ عرب میں عبادت کریں لیکن وہ ان میں لڑائی اور فساد کرا دے گا۔

Jabir reported: I heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily, the Satan has lost all hopes that the worshippers would ever worship (him) in the peninsula of Arabia, but he (is hopeful) that he would sow the seed of dissension amongst them.

7104Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.

7105Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَی الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ابلیس کا تخت سمندر پر ہوتا ہے پس وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو فتنہ میں ڈالیں پس ان لشکر والوں میں سے اس کے نزدیک بڑے مقام والا وہی ہوتا ہے جو ان میں سب سے زیادہ فتنہ ڈالنے والا ہو۔

Jabir reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The throne of Iblis is upon the ocean and he sends detachments (to different parts) in order to put people to trial and the most important figure in his eyes is one who is most notorious in sowing the seed of dissension.

7106Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيئُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيئُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَکْتُهُ حَتَّی فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ

ابوکریب محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہیم، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں ان سے بڑا ہو ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس اس طرح کیا تو شیطان کہتا ہے تو نے کوئی (بڑا کام) سر انجام نہیں دیا پھر ان میں سے ایک (اور) آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی شیطان اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے ہاں ! تو ہے (جس نے بڑا کام کیا ہے) اعمش نے کہا میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا وہ اسے اپنے سے چمٹا لیتا ہے۔

Jabir reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Iblis places his throne upon water; he then sends detachments (for creating dissension) ; the nearer to him in rank are those who are most notorious in creating dissension. One of them comes and says: I did so and so. And he says: You have done nothing. Then one amongst them comes and says: I did not spare so and so until I sowed the seed of discord between a husband and a wife. The Satan goes near him and says: You have done well. Amash said: He then embraces him.

7107Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے شیطان اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں میں فتنہ ڈالتے ہیں پس ان میں سے مرتبہ کے اعتبار سے وہی زیادہ بڑا ہوتا ہے جو ان میں سے فتنہ ڈالنے کے اعتبار سے بڑا ہو۔

Jabir reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be upqn him) said: The Satan sends detachments of his own in order to put people to trial and the highest in rank, in his eyes, is one who is most notorious in sowing the seed of dissension.

7108Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ قَالُوا وَإِيَّاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، منصور سالم بن ابی جعد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ اس کا جن ساتھی مقرر کیا گیا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا اور میرے ساتھ بھی مگر اللہ نے مجھے اس پر مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہوگیا پس وہ مجھے نیکی ہی کا حکم کرتا ہے۔

Abdullah bin Masud reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is none amongst you with whom is not an attached from amongst the jinn (devil). They (the Companions) said: Allahs Messenger, with you too? Thereupon he said: Yes, but Allah helps me against him and so I am safe from his hand and he does not command me but for good.

7109Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَقَدْ وُکِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِکَةِ

ابن مثنی ابن بشار عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم عمار بن رزیق منصور جریر، عمران سفیان، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ سفیان کی حدیث میں ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ اس کا ساتھی جن اور ایک ساتھی فرشتہ مقرر کیا گیا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Mansiir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7110Sahih Muslimصحیح

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَائَ فَرَأَی مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَکِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ فَقُلْتُ وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَی مِثْلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَدْ جَائَکِ شَيْطَانُکِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ کُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَکِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّی أَسْلَمَ

ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط عروہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے جب مجھے اس پر غیرت آئی پس آپ تشریف لائے تو دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ تجھے کیا ہوا کیا تجھے غیرت آئی میں نے عرض کیا مجھے کیا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو آپ ﷺ جیسے مرد پر غیرت نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس تیرا شیطان آیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا میرے ساتھ شیطان ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ کے ساتھ بھی ہے آپ نے فرمایا ہاں لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد کی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا۔

Aisha the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that one day Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came out of her (apartment) during the night and she felt jealous. Then he came and he saw me (in what agitated state of mind) I was. He said: Aisha, what has happened to you? Do you feel jealous? Thereupon she said: How can it be (that a woman like me) should not feel jealous in regard to a husband like you. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It was your devil who had come to you, and she said: Allahs Messenger, is there along with me a devil? He said: Yes. I said: Is devil attached to everyone? He said: Yes. I (Aisha) again said: Allahs Messenger, is it with you also? He said: Yes, but my Lord has helped me against him and as such I am absolutely safe from his mischief.

7111Sahih Muslimصحیح

کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُهُ قَالَ رَجُلٌ وَلَا إِيَّاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَلَکِنْ سَدِّدُوا

قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر بسر بن سعید حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات نہ دے گا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بھی نہیں ! مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے گا لیکن تم سیدھی راہ پر گامزن رہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None amongst you would attain salvation purely because of his deeds. A person said: Allahs Messenger, even you also. Thereupon he said: Yes. Not even I, but that Allah wraps me in Mercy, but you should act with moderation. This hadith has been transmitted on the authority of Bukair bin al-Ashajj with a slight variation of wording.