Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 336 of 379

6712Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ کَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي

محمد بن رافع عبد بن حمید عبد ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ دیہات سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی اس میں اس طرح ہے کہ اس نے عرض کیا میں نے اس کے لئے اتنی زیادہ تیاری نہیں کی جس پر میں اپنے آپ کی تعریف کروں۔

Anas reported that a person said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : When would be the Last Hour? He (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for that? And he gave no details, but said: I love Allah and His Messenger. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love.

6713Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَإِنَّکَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّکَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَأَنَا أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ مَعَهُمْ وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ

ابوربیع عتکی حماد ابن زید ثابت بن حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول قیامت کب ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا تو نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے اس نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تو محبت رکھتا ہے انس کہتے ہیں ہمیں اسلام کے بعد نبی ﷺ کے قول " تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تو محبت رکھتا ہے " سے بڑھ کر اور کسی بات کی زیادہ خوشی نہیں ہوئی انس نے کہا پس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میں انہیں کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں نے ان جیسے اعمال نہیں کئے۔

Anas bin Malik (RA) reported through another chain of transmitters that a desert Arab came to Allahs Messenger (may peace be upon, him), the rest of the hadith is the same but with this variation that he said: I have not made much preparations which merit appreciation for myself.

6714Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ أَنَسٍ فَأَنَا أُحِبُّ وَمَا بَعْدَهُ

محمد بن عبید الغبری جعفر بن سلیمان ثابت بن حضرت انس بن مالک (رض) نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں کہ لیکن اس سند میں حضرت انس کا قول میں ان سے محبت کرتا ہوں اور اس کے بعد والا (حدیث کا ٹکڑا موجود) نہیں۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) this hadith through another chain of transmitters but he did not make mention of the words of Anas (RA) : I love, and what follows subsequently.

6715Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَيْنِ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَقِينَا رَجُلًا عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ فَکَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَکَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا کَبِيرَ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَکِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، منصور سالم بن ابی جعد حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ مسجد سے نکل رہے تھے ہم مسجد کی چوکھٹ پر ایک آدمی سے ملے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قیامت کب ہوگی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے یہ سن کر اس آدمی پر خاموشی چھا گئی پھر اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے اس کے لئے نمازیں اور روزے اور صدقہ وغیرہ تو زیادہ تیار نہیں کئے البتہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and I were coming out of the mosque that we met a person on the threshold of the mosque and he said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : When would be the Last Hour? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What preparation have you made for that? The man became silent and then said: Allahs Messenger, I have made no significant preparation with prayer and fasting and charity but I, however, love Allah and His Messenger. Thereupon (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love.

6716Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْيَشْکُرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

محمد بن یحییٰ بن عبدالعزیز یشکری، عبداللہ بن عثمان بن جبلہ، شعبہ، عمرو بن مرہ، سالم بن ابی جعد حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کی پہلی حدیث اسی طرح اس سند سے بھی مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

6717Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا ح و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

قتیبہ ابوعوانہ، قتادہ، ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابوغسان مسعمی محمد بن مثنی، معاذ ابن ہشام ابوقتادہ، انس، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Anas with a different chain of transmitters.

6718Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت تو رکھتا ہو لیکن ان تک پہنچ نہ سکتا ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا۔

Abdullah reported that a person came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : What is your opinion about the person who loves the people but his (acts or deeds are not identical to theirs)? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A person would be along with one whom he loves.

6719Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابن ابی عدی، بشر بن خالد محمد ابن جعفر شعبہ، ابن نمیر ابوجواب سلیمان بن قرم ابو وائل حضرت عبداللہ (رض) نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں۔

A hadith like this has been transmitted on the authority of Abdullah.

6720Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ ابن نمیر، ابومعاویہ محمد بن عبید اعمش، شقیق حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔

Abu Musa, reported that a person came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; the rest of the hadith is the same.

6721Sahih Muslimصحیح

نیک آدمی کی تعریف ہونا اس کے لئے بشارت ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنْ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ابوربیع ابوکامل جحدری فضیل بن حسین یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید ابی عمران جونی عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا آپ ﷺ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو نیک اعمال کرے اور اس پر لوگ اس کی تعریف کریں آپ ﷺ نے فرمایا یہ مومن کی فوری بشارت ہے۔

Abu Dharr (RA) reported: It was said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : What is your opinion about the person who has done good deeds and the people praise him? He said: It is glad tidings for a believer (which he has received in this mortal world).

6722Sahih Muslimصحیح

نیک آدمی کی تعریف ہونا اس کے لئے بشارت ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَکِيعٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ کَمَا قَالَ حَمَّادٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، محمد بن مثنی عبدالصمد اسحاق نضر شعبہ، ابوعمران جونی حماد بن زید ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ایک روایت میں ہے کہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters also and the one transmitted on the authority of Shubah (the words are): "People love him." In the hadith transmitted on the authority of Abd-us-Samad (the words are): "People praise him as stated by Hammad."

6723Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ قَالُوا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ إِنَّ أَحَدَکُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَکُونُ فِي ذَلِکَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَکُونُ فِي ذَلِکَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَکُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ بِکَتْبِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ہمدانی ابومعاویہ وکیع، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے پھر اسی میں جما (پھٹکی بنا ہؤا) ہوا خون اتنی مدت رہتا ہے پھر اتنی ہی مدت میں گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے پھر فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کا رزق، عمر، عمل اور شقی یا سعید ہونا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بیشک تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرلیتا ہے اور جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے کوئی اہل جہنم جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت والا عمل کرلیتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔

Abdullah (b. Masud) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who is the most truthful (of the human beings) and his being truthful (is a fact) said: Verily your creation is on this wise. The constituents of one of you are collected for forty days in his mothers womb in the form of blood, after which it becomes a clot of blood in another period of forty days. Then it becomes a lump of flesh and forty days later Allah sends His angel to it with instructions concerning four things, so the angel writes down his livelihood, his death, his deeds, his fortune and misfortune. By Him, besides Whom there is no god, that one amongst you acts like the people deserving Paradise until between him and Paradise there remains but the distance of a cubit, when suddenly the writing of destiny overcomes him and he begins to act like the denizens of Hell and thus enters Hell, and another one acts in the way of the denizens of Hell, until there remains between him and Hell a distance of a cubit that the writing of destiny overcomes him and then he begins to act like the people of Paradise and enters Paradise.

6724Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ إِنَّ خَلْقَ أَحَدِکُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً و قَالَ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَمَّا فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَی أَرْبَعِينَ يَوْمًا

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر بن عبدالحمید اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابوسعید اشج وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ بن حجاج اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے فرق یہ ہے کہ وکیع کی روایت میں ہے تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس راتیں ہوتی ہے شعبہ کی روایت میں چالیس دن یا چالیس رات ہے جریر اور عیسیٰ کی روایت میں چالیس دن مذکور ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Waki (the words are): "The creation of any one of you is like this that (semen) is collected in the womb of the mother for forty nights," and in the hadith transmitted on the authority of Shubah (the words are): "Forty nights and forty days." And in the hadith transmitted on the authority of Jarir and Isa (the words are): "Forty days."

6725Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَيُکْتَبَانِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی فَيُکْتَبَانِ وَيُکْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ثُمَّ تُطْوَی الصُّحُفُ فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، عمر ابن دینار ابی طفیل حضرت حذیفہ بن اسید (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا چالیس یا پینتالیس رات تک نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے تو فرشتہ اس پر داخل ہو کر کہتا ہے اے رب یہ بدبخت ہے یا نیک بخت پھر انہیں لکھ دیا جاتا ہے پھر کہتا ہے اے رب یہ مذکر ہوگا یا مونث پر یہ دونوں باتوں کو لکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال افعال موت اور اس کا رزق لکھا جاتا ہے پھر صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے اس میں زیادتی کی جاتی ہے نہ کمی۔

Hudhaifa bin Usaid reported directly from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: When the drop of (semen) remains in the womb for forty or fifty (days) or forty nights, the angel comes and says: My Lord, will he be good or evil? And both these things would be written. Then the angel says: My Lord, would he be male or female? And both these things are written. And his deeds and actions, his death, his livelihood; these are also recorded. Then his document of destiny is rolled and there is no addition to it nor subtraction from it.

6726Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ وَكَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ أَجَلُهُ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ رِزْقُهُ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَخْرُجُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يَزِيدُ عَلَى مَا أُمِرَ وَلَا يَنْقُصُ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی زبیر مکی عامر بن واثلہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے رایت ہے کہ بدبخت وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی بدبخت ہو اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے پس اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے ایک آدمی آیا جسے حذیفہ بن اسید غفاری کہا جاتا تھا اور عامر بن واثلہ سے حضرت ابن مسعود کا یہ قول روایت کیا تو عامر نے کہا آدمی بغیر عمل کے بدبخت کیسے ہوسکتا ہے تو اس سے حذیفہ نے فرمایا کیا تو اس بات سے تعجب کرتا ہے ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ اس کی طرف فرشتہ بھیجتے ہیں جو اس کی صورت بناتا ہے اور اس کے کان آنکھیں اور جلد گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے رب یہ مذکر ہے یا مؤنث پس تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے فرشتہ پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کی عمر تو تیرا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے وہ پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کا رزق تو تیرا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر نکل جاتا ہے اور وہ نہ کوئی زیادتی کرتا ہے اور نہ کمی اس میں جو اسے حکم دیا جاتا ہے۔

Abdullah bin Masud reported: Evil one is he who is evil in the womb of his mother and the good one is he who takes lesson from the (fate of) others. The narrator came to a person from amongst the Companion of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who was called Hudhaifa bin Usaid Ghifari and said: How can a person be an evil one without (committing an evil) deed? Thereupon the person said to him: You are surprised at this, whereas I have heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saving: When forty nights pass after the semen gets into the womb, Allah sends the angel and gives him the shape. Then he creates his sense of hearing, sense of sight, his skin, his flesh, his bones, and then says: My Lord, would he be male or female? And your Lord decides as He desires and the angel then puts down that also and then says: My Lord, what about his age? And your Lord decides as He likes it and the angel puts it down. Then he says: My Lord, what about his livelihood? And then the Lord decides as He likes and the angel writes it down, and then the angel gets out with his scroll of destiny in his hand and nothing is added to it and nothing is subtracted from it.

6727Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ

احمد بن عثمان نوفلی ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر، ابوطفیل عبداللہ بن مسعود اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah bin Masud through another chain of transmitters.

6728Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَائٍ أَنَّ عِکْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ إِنَّ النُّطْفَةَ تَقَعُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَکُ قَالَ زُهَيْرٌ حَسِبْتُهُ قَالَ الَّذِي يَخْلُقُهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ ذَکَرًا أَوْ أُنْثَی ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ أَسَوِيٌّ أَوْ غَيْرُ سَوِيٍّ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ سَوِيًّا أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ مَا رِزْقُهُ مَا أَجَلُهُ مَا خُلُقُهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ اللَّهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا

محمد بن احمد ابن ابی خلف یحییٰ بن ابی بکیر زہیر ابوخیثمہ عبداللہ بن عطاء، عکرمہ بن خالد ابوطفیل حضرت حذیفہ (رض) بن اسید غفاری سے روایت ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نطفہ رحم میں چالیس رات تک رہتا ہے پھر فرشتہ اس پر صورت بناتا ہے زہیر نے کہا میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا اس کی تخلیق کرتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے رب یہ مذکر ہے یا مونث پس اللہ اسے مذکر یا مونث بنا دیتے ہیں پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کے اعضاء پورے اور برابر ہوں یا ادھورے اور ناہموار پس اللہ اسے کامل الاعضاء یا ادھورے اعضاء والا بناتے ہیں پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کیا ہے اس کے اخلاق کیا ہیں پھر اللہ اسے شقی یا سعید بناتا ہے۔

Abu Tufail reported: I visited Abu Sariha Hudhaifa bin Usaid al-Ghifari who said: I listened with these two ears of mine Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The semen stays in the womb for forty nights, then the angel, gives it a shape. Zubair said: I think that he said: One who fashions that and decides whether he would be male or female. Then he (the angel) says: Would his limbs be full or imperfect? And then the Lord makes them full and perfect or otherwise as He desires. Then he says: My Lord, what about his livelihood, and his death and what about his disposition? And then the Lord decides about his misfortune and fortune.

6729Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ کُلْثُومٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلْثُومٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَلَکًا مُوَکَّلًا بِالرَّحِمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا بِإِذْنِ اللَّهِ لِبِضْعٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

عبدالوارث بن عبدالصمد ابی ربیعہ بن کلثوم ابی کلثوم ابی طفیل حضرت حذیفہ بن اسید (رض) رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ رحم پر مقرر شدہ ہے جب اللہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ فرشتہ اللہ کے حکم سے چالیس راتوں سے کچھ زیادہ گزرنے پر اسے بناتا ہے باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Hadhaifa bin Usaid Ghifari, a Companion of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported it directly from Allahs Messenger (may peace upon him) as he said: There is an angel who looks after the womb when Allah decides to create anything after more than forty nights are over; the rest of the hadith is the same.

6730Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَرَفَعَ الْحَدِيثَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَکًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَيْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ فَيُکْتَبُ کَذَلِکَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ

ابوکامل فضیل ابن حسین جحدری حماد بن زید عبیداللہ بن ابی بکر، رافع حضرت انس بن مالک (رض) سے مرفوع روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے تو وہ عرض کرتا ہے یہ نطفہ ہے اے رب یہ جما ہوا خون ہے اے رب یہ لوتھڑا ہے پس جب اللہ اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو فرشتہ عرض کرتا ہے اے رب یہ نر ہے یا مادہ، شقی ہے یا سعید اس کا رزق کتنا ہے اور اس کی عمر کیا ہے پس اسی طرح اس کی ماں کے پیٹ ہی میں سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported directly from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: Allah, the Exalted and Glorious, has appointed an angel as the caretaker of the womb, and he would say: My Lord, it is now a drop of semen; my Lord, it is now a clot of blood; my Lord, it has now become a lump of flesh, and when Allah decides to give it a final shape, the angel says: My Lord, would it be male or female or would he be an evil or a good person? What about his livelihood and his age? And it is all written as he is in the womb of his mother.

6731Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَکَّسَ فَجَعَلَ يَنْکُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ کَتَبَ اللَّهُ مَکَانَهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَإِلَّا وَقَدْ کُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً قَالَ فَقَالَ رَجَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَمْکُثُ عَلَی کِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَقَالَ مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَی عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَی عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَقَالَ اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَی وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنَی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَی

عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر اسحاق جریر، منصور سعد ابن عیبدہ ابوعبدالرحمن حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ بقیع الغرقد میں تھے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لا کر بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی پس آپ نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا پھر فرمایا تم میں سے کوئی جان (نفس) ایسا نہیں جس کا مکان جنت یا دوزخ میں اللہ نے نہ لکھ دیا ہو اور شقاوت وسعادت بھی لکھ دی جاتی ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم اپنی تقدیر پر ٹھہرے نہ رہیں اور عمل چھوڑ دیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ اہل سعادت کے عمل ہی کی طرف ہوجائے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ اہل شقاوت ہی کے عمل کی طرف جائے گا پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم عمل کرو ہر چیز آسان کردی گئی ہے بہر حال اہل سعادت کے لئے اہل سعادت کے سے اعمال کرنا آسان کردیا ہے پھر آپ نے فرمایا ( مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) تلاوت فرمائی جس نے صدقہ کیا اور تقوی اختیار کیا اور نیکی کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کردیں گے اور بخل کیا اور لاپرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا تو ہم اس کے لئے برائیوں کو آسان کردیں گے۔

All reported: We were in a funeral in the graveyard of Gharqad that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to us and we sat around him. He had a stick with him. He lowered his head and began to scratch the earth with his stick, and then said: There is not one amongst you whom a spot in Paradise or Hell has not been allotted and about whom it has not been written down whether he would be an evil person or a blessed person. A person said: Allahs Messenger, should we not then depend upon our destiny and abandon our deeds? Thereupon he said: Acts of everyone will be facilitated in that which has been created for him so that whoever belongs to the company of the blessed will have good works made easier for him and whoever belongs to the unfortunate ones will have evil acts made easier for him. He then recited this verse (from the Quran): "Then, who gives to the needy and guards against evil and accepts the excellent (the truth of Islam and the path of righteousness it prescribes), We shall make easy for him the easy end and who is miserly and considers himself above need, We shall make easy for him the difficult end". (XCii. 5-10).