Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 335 of 379

6692Sahih Muslimصحیح

نیکی لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور بری ہم نشینی سے پرہیز کرنے کے مستحب ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَکَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْکِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، برید بن عبداللہ حضرت ابوموسی (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال خوشبو والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے پس خوشبو والا یا تو تجھے کچھ ویسے ہی عطا کر دے گا یا تو اس سے خرید لے گا ورنہ تو اس سے عمدہ خوشبو تو پائے گا ہی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا ورنہ تو اس بدبو کو تو پائے ہی گا۔

Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of good company and that of bad company is that of the owner of musk and of the one (iron-smith) blowing bellows, and the owner of musk would either offer you free of charge or you would buy it from him or you would smell its pleasant odour, and so far as one who blows the bellows is concerned, he would either burn your clothes or you shall have to smell its repugnant smell.Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said: A woman came to me along with her two daughters. She asked me for (charity) but she found nothing with me except one date, so I gave her that. She accepted it and then divided it between her two daughters and herself ate nothing out of that. She then got up and went out, and so did her two daughters. (In the meanwhile) Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited me and I narrated to him her story. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who is involved (in the responsibility) of (bringing up) daughters, and he accords benevolent treatment towards them, there would be protection for him against Hell-Fire.

6693Sahih Muslimصحیح

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَائَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ کُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

محمد بن عبداللہ بن قہزاد سلیم بن سلیمان عبداللہ معمر، ابن شہاب عبداللہ بن ابی بکر بن حزم عروہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہزام ابوبکر بن اسحاق ابویمان شعبی، زہری، عبداللہ بن ابی بکر عروہ بن زبیر عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ہمراہ اس کی دو بیٹیاں تھیں اس نے مجھ سے مانگا لیکن میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے اسے وہی عطا کردی پس اس نے لے کر اسے اپنی دونوں بیٹیوں کو تقسیم کر کے دے دیا اور اس نے خود کچھ نہ کھایا پھر کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں پھر نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ سے اس کی اس حرکت کو بیان کیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو وہ اس مرد کے لئے جہنم سے پردہ ہوں گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.

6694Sahih Muslimصحیح

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْنِي مِسْکِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعَتْ إِلَی فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْکُلَهَا فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا فَشَقَّتْ التَّمْرَةَ الَّتِي کَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْکُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَکَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنْ النَّارِ

قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر ابن ہاد ابن زیاد ابن عباس عراک بن مالک عمر بن عبدالعزیز سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیاں اٹھائے ہوئے آئی میں نے اسے تین کھجوریں دیں اور اس نے اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو اپنے منہ میں کھانے کے لئے رکھ لیا پھر اس کی لڑکیوں نے اس سے یہ کھجور بھی کھانے کے لئے طلب کی تو اس نے اس کھجور کو دو ٹکڑوں میں توڑ کر ان دونوں کو دے دیا جسے وہ خود کھانے کا ارادہ رکھتی تھی مجھے اس کی اس حالت نے متعجب کردیا پس میں نے اس کے اس واقعہ کو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اس عمل نے اس کے لئے جنت کو واجب کردیا ہے اور جہنم سے اسے آزاد کردیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.

6695Sahih Muslimصحیح

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّی تَبْلُغَا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ

عمرو ناقد ابواحمد ابوبکر بن انس حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔

Malik reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He, who brought up two girls properly till they grew up, he and I would come (together) (very closely) on the Day of Resurrection, and he interlaced his fingers (for explaining the point of nearness between him and that person).

6696Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ

یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان آدمی کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے آگ صرف قسم کو پورا کرنے کے لئے چھوئے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.

6697Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَبِمَعْنَی حَدِيثِهِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو نا قد زہیر بن حرب سفیان بن عیینہ، عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، مالک ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ حضرت سفیان کی حدیث میں ہے کہ وہ صرف قسم کو پورا کرنے کے لئے جہنم میں داخل ہوگا۔

This hadith has been reported by Zuhri on the authority of Malik, and in the hadith transmitted on the authority of Sufyan (the words are): "He would enter into Fire, except for the fulfilment of the oath."

6698Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاکُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَوْ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَوْ اثْنَيْنِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی عورتوں سے فرمایا تم میں سے جس کسی کے بھی تین بچے فوت ہوجائیں گے اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے گی تو جنت میں داخل ہوگی ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر دو مرجائیں ؟ (تو کیا حکم ہے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا : یا دو (یعنی دو مرجائیں تب بھی یہی حکم ہے ) ۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to a woman of the Ansar: In case anyone amongst you sees the sad demise of three children of (hers) and she resigns herself to the will of God hoping to get reward, she would be admitted to Paradise. A woman from amongst them said: Allahs Messenger, even if they (the children who die) are two. Thereupon, he (the Holy Prophet,) said: Even if they are two.

6699Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِکَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ يَوْمًا نَأْتِيکَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ قَالَ اجْتَمِعْنَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْکُنَّ مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا کَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ

ابوکامل جحدری فضیل بن حسین ابوعوانہ، عبدالرحمن بن اصبہانی ابوصالح ذکوان حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول مرد تو آپ ﷺ سے احادیث لے گئے اور آپ ﷺ اپنے پاس سے ایک دن ہمارے لئے بھی مقرر کردیں تاکہ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے وہ تعلیم حاصل کریں جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم فلاں فلاں دن جمع ہوا کرو پس وہ جمع ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں (احکام کی) تعلیم دی جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھائی تھے پھر فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے سے پہلے اپنے تین بچوں کو بھیجے گی تو وہ اس کے لئے جہنم سے پردہ ہوں گے ایک عورت نے کہا اور دو اور دو اور دو ؟ (کا کیا حکم ہے ؟ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو ۔ (کے لئے بھی یہی بشارت ہے) ۔

Abu Said Khudri reported that a woman came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, men receive your instructions; kindly allocate at your convenience a day for us also, on which we would come to you and you would teach us what Allah has taught you. He said: You assemble on such and such a day. They assembled and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to them and taught them what Allah had taught him and he then said: No woman amongst you who sends her three children as her forerunners (in the Hereafter) but they would serve him as a protection against Hell-Fire. A woman said: What about two and two and two? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Even if they are two and two and two.

6700Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، عبدالرحمن بن اصبہانی ان اسناد سے بھی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ تین ایسے بچے جو ابھی تک بالغ نہ ہوئے ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported that he (the Holy Prophet) said: Three (children) who die in childhood.

6701Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ قَالَ نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّی أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ أَوْ قَالَ بِيَدِهِ کَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِکَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَی أَوْ قَالَ فَلَا يَنْتَهِي حَتَّی يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ وَفِي رِوَايَةِ سُوَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ

سوید بن سعید محمد بن عبدالاعلی معتمر ابی سلیل حضرت ابوحسان (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے کہا میرے دو بچے فوت ہوگئے ہیں تو کیا آپ رسول اللہ ﷺ سے ایسی کوئی حدیث بیان کرسکتے ہیں جس سے ہمارے دلوں کو اپنے فوت شدہ کی طرف سے طبعی خوشی مل جائے حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا جی ہاں چھوٹے بچے تو جنت کے کپڑے ہیں ان میں سے جو بھی اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملے گا تو اس کے کپڑے کو یا اس کے ہاتھ کو پکڑ لیں گے جیسا کہ میں تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے ہوں وہ اس کو اس وقت تک نہ چھوڑے گا جب تک کہ اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کر دے گا۔

Abu Hassan reported: I said to Abu Hurairah (RA) that my two children had died. Would you narrate to me anything from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a hadith which would soothe our hearts in our bereavements? He said: Yes. Small children are the fowls of Paradise. If one of them meets his father (or he said his parents) he would take hold of his cloth, or he said with his hand as I take hold of the hem of your cloth (with my hand). And he (the child) would not take off (his hand) from it until Allah causes his father to enter Paradise.

6702Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ نَعَمْ

عبیداللہ بن سعید یحییٰ ابن سعید تیمی اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ انہوں نے کہا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی ایسی بات سنی ہے جو ہمیں ہمارے فوت شدگان کی طرف سے خوش کر دے حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا جی ہاں۔

This hadith has been narrated on the authority of Tamim with the same chain of transmitters. And he is reported to have said: Did you hear from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) anything which may soothe our heart in our bereavements? He said: Yes.

6703Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً قَالَ دَفَنْتِ ثَلَاثَةً قَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنْ النَّارِ قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ عَنْ جَدِّهِ و قَالَ الْبَاقُونَ عَنْ طَلْقٍ وَلَمْ يَذْکُرُوا الْجَدَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوسعید اشج، ابوبکر حفص ابن غیاث، عمر بن حفص بن غیاث، طلق بن معاویہ، ابی زرعہ بن عمرو بن جریر، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ اس کے حق میں اللہ سے دعا مانگیں اور میں تین بچوں کو دفن کرچکی ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تو نے پھر جہنم سے ایک مضبوط بندش باندھ لی ہے آگے سند کا اختلاف ذکر کیا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that a woman came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with her child and said: Allahs Apostle, invoke Allahs blessing upon him for I have already buried three. He said: You have buried three! She said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You have, indeed, safeguarded yourself against the torment of Hell with a strong safeguard. Umar has made a mention of his father, whereas others have not made a mention of his father.

6704Sahih Muslimصحیح

جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَشْتَکِي وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً قَالَ لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنْ النَّارِ قَالَ زُهَيْرٌ عَنْ طَلْقٍ وَلَمْ يَذْکُرْ الْکُنْيَةَ

قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، طلق بن معاویہ ابی غیاث ابی زرعہ بن عمرو بن جریر، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ بچہ بیمار ہے اور میں ڈرتی ہوں کیونکہ میں تین بچوں کو دفن کرچکی ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق تو نے پھر جہنم سے ایک مضبوط بندش باندھ لی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that a woman came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with her child and said: Allahs Messenger, he is ailing, and I am afraid (that he may die), as I have already buried three. Thereupon he said: It (their sad demise) would be a protection against Hell-Fire for you. Zuhair has not mentioned the kunya of Abu Ghiyath; he has mentioned his name.

6705Sahih Muslimصحیح

اللہ جب کسی بندے کو محبوب رکھے تو جبرئیل (علیہ السلام) کو بھی اسے محبوب رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں پھر اسے زمین میں مقبول بنائے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَائِ فَيَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَائِ قَالَ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ قَالَ فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ قَالَ فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَائُ فِي الْأَرْضِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتے ہیں کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو اسے محبوب رکھ فرمایا پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں منادی کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب کسی بندے کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ( وہ دنیا والوں کے لئے مقبول ہوجاتا ہے) اور جب اللہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں تو بھی اسے مبغوض رکھ پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے بغض رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے عداوت رکھ دی جاتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When Allah loves a servant, He calls Gabriel (علیہ السلام) and says: Verily, I love so and so; you should also love him, and then Gabriel (علیہ السلام) begins to love him. Then he makes an announcement in the heaven saying: Allah loves so and so and you also love him, and then the inhabitants of the Heaven (the Angels) also begin to love him and then there is conferred honour upon him in the earth; and when Allah is angry with any servant He calls Gabriel (علیہ السلام) and says: I am angry with such and such and you also become angry with him, and then Gabriel (علیہ السلام) also becomes angry and then makes an announcement amongst the inhabitants of heaven: Verily Allah is angry with so-and so, so you also become angry with him, and thus they also become angry with him. Then he becomes the object of wrath on the earth also.

6706Sahih Muslimصحیح

اللہ جب کسی بندے کو محبوب رکھے تو جبرئیل (علیہ السلام) کو بھی اسے محبوب رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں پھر اسے زمین میں مقبول بنائے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِکْرُ الْبُغْضِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، قتیبہ عبدالعزیز سعید بن عمرو اشعثی عبثر علاء بن مسیب ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، مالک ابن انس، سہیل اس اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ابن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Suhail with the same chain of transmitters except with this variation that in the hadith transmitted on the authority of Ali bin Musayyib, there is no mention of (the word) "Anger".

6707Sahih Muslimصحیح

اللہ جب کسی بندے کو محبوب رکھے تو جبرئیل (علیہ السلام) کو بھی اسے محبوب رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں پھر اسے زمین میں مقبول بنائے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ کُنَّا بِعَرَفَةَ فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَی الْمَوْسِمِ فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتِ إِنِّي أَرَی اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قُلْتُ لِمَا لَهُ مِنْ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَقَالَ بِأَبِيکَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ

عمرو ناقد یزید بن ہارون عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابوسلمہ ماجشون سہیل بن ابی صالح (رض) سے روایت ہے کہ ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) گزرے اور وہ امیر حج تھے تو لوگ انہیں دیکھنے کے لئے کھڑے ہوگئے میں نے اپنے باپ سے کہا ابا جان میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے انہوں نے کہا کس وجہ سے ؟ میں نے کہا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ہونے کی وجہ سے تو انہوں نے کہا تجھے تیرے باپ کی قسم تم نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث سنی ہوگی پھر جریر عن سہیل کی طرح حدیث بیان کی۔

Suhail bin Abi Salih, reported: We were in Arafa that there happened to pass Umar bin Abdul Aziz (RA) and he was the Amir of Hajj. People stood up in order to catch a glimpse of him. I said to my father: Father, I think that Allah loves Umar bin Abdul Aziz (RA) . He said: How is it? I said: It is because of the love in peoples heart for him. Thereupon he said: By One Who created your father, I heard Abu Hurairah (RA) narrating from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a hadith like one transmitted on the authority of Suhail.

6708Sahih Muslimصحیح

تمام روحوں کے مجتمع جماعتوں میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاکَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد بن سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روحیں مجتمع جماعتیں تھیں جن کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا ان میں محبت ہوگئی اور جن کا تعارف نہیں ہوا ان میں اختلاف رہے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Saying: Souls are troops collected together and those who familiarised with each other (in the heaven from where these come) would have affinity, with one another (in the world) and those amongst them who opposed each other (in the Heaven) would also be divergent (in the world).

6709Sahih Muslimصحیح

تمام روحوں کے مجتمع جماعتوں میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ قَالَ النَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاکَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ

زہیر بن حرب، کثیر بن ہشام جعفر بن برقان یزید بن اصم حضرت ابوہریرہ (رض) سے مرفوع روایت ہے کہ لوگ چاندی اور سونے کی کانوں کی طرح کانیں ہیں ان کی جاہلیت میں اچھے لوگ اسلام میں بھی اچھے ہیں جبکہ وہ سمجھدار ہیں اور روحیں باہم جماعتیں تھیں جن کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا ان میں محبت ہوگئی اور جن کو تعارف نہیں ہوا ان میں اختلاف رہے گا۔

Abu Hurairah (RA) narrated directly from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: People are like mines of gold and silver; those who were excellent in Jahiliya (during the days of ignorance) are excellent In Islam, when they have, an understanding, and the souls are troops collected together and those who had a mutual familiarity amongst themselves in the store of prenatal existence would have affinity amongst them, (in this world also) and those who opposed one of them, would be at variance with one another.

6710Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مالک اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا قیامت کب ہوگی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے اس نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported that a desert Arab said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : When would be the Last Hour? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What preparation have you made for that? Thereupon he said: The love of Allah and of His Messenger (that is my preparation for the Last Hour) (for the Day of Resurrection). Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love.

6711Sahih Muslimصحیح

آدمی کا اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھے گا کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَلَمْ يَذْکُرْ کَبِيرًا قَالَ وَلَکِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن ابی عمرو زہیر سفیان بن زہیر حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قیامت کب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے اس نے کسی بڑے عمل کا ذکر نہ کیا اور عرض کیا بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے محبت کرتا ہے۔

Anas reported that a person said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : When would be the Last Hour? He (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for that? And he gave no details, but said: I love Allah and His Messenger. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love. Anas bin Malik (RA) reported through another chain of transmitters that a desert Arab came to Allahs Messenger (may peace be upon, him), the rest of the hadith is the same but with this variation that he said: I have not made much preparations which merit appreciation for myself.