Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 337 of 379

6732Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ وَقَالَ فَأَخَذَ عُودًا وَلَمْ يَقُلْ مِخْصَرَةً وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن شری ابوالاحوص منصور اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے تلاوت کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

6733Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْکُتُ بِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَ نَعْمَلُ أَفَلَا نَتَّکِلُ قَالَ لَا اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی إِلَی قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوسعید اشج وکیع، ابن نمیر، ابی اعمش، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، سعد بن عیبدہ ابوعبدالرحمن سلمی علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کرید رہے تھے آپ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر ایک کا مقام جنت یا دوزخ میں معلوم ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول تو پھر ہم عمل کیوں کریں کیا ہم بھروسہ نہ کریں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ عمل کرو ہر آدمی کے لئے انہیں کاموں کو آسان کیا جاتا ہے جس کے لئے اس کی پیدائش کی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) تک تلاوت کی۔

Ali reported that one day Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was sitting with a wood in his hand and he was scratching the ground. He raised his head and said: There is not one amongst you who has not been allotted his seat in Paradise or Hell. They said: Allahs Messenger. then, why should we perform good deeds, why not depend upon our destiny? Thereupon he said. No, do perform good deeds, for everyone is facilitated in that for which he has been created; then he recited this verse: "Then, who gives to the needy and guards against evil and accepts the excellent (the truth of Islam and the path of righteousness it prescribes), We shall make easy for him the easy end..." (xcii. 5-10).

6734Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، منصور اعمش، سعد بن عبیدہ حضرت علی (رض) کی نبی ﷺ سے یہی روایت ان اسناد سے بھی مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ali through another chain of transmitters.

6735Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا کَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ قَالَ لَا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ زُهَيْرٌ ثُمَّ تَکَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْئٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَسَأَلْتُ مَا قَالَ فَقَالَ اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ

احمد بن یونس زہیر ابوزبیر، یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک بن جعشم (رض) نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمارے لئے ہمارے دین کو واضح کریں۔ گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے کیا ان سے متعلق ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے یا اس چیز سے متعلق ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے سراقہ نے عرض کیا پھر ہم عمل کیوں کریں ؟ زہیر نے کہا پھر ابوالزبیر نے کوئی کلمہ ادا کیا لیکن میں اسے سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا ؟ تو انہوں نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Jabir bin Abdullah (RA) with the same wording (and includes these words): "Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Every doer of deed is facilitated in his action."

6736Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَی وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ

ابوطاہر ابن وہب، عمرو حارث ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے ان اسناد سے بھی نبی ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Jabir bin Abdullah (RA) with the same wording (and includes these words): "Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Every doer of deed is facilitated in his action."

6737Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ الضُّبَعِيِّ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ قِيلَ فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ کُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید یزید ضبعی مطرف حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول کیا اہل جنت اہل جہنم معلوم ہوچکے ہیں تو آپ نے فرمایا ہاں۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا پھر عمل کرنے والے عمل کس لئے کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہر آدمی جس عمل کے لئے پیدا کیا گیا اس کے لئے وہ عمل آسان کردیا گیا ہے۔

Imran bin Husain repotted that it was said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Has there been drawn a distinction between the people of Paradise and the denizens of hell? He said: Yes. It was again said: (If it is so), then What is the use of doing good deeds? Thereupon he said: Everyone is facilitated in what has been created for him.

6738Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

شیبان بن فروخ عبدالوارث ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن نمیر ابن علیہ، یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، یزید ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسیطرح مروی ہے صرف عبدالوارث کی روایت میں یہ ہے کہ صحابی کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ۔

This hadith has been narrated through other chains of transmiters with slight variations of wording.

6739Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَکْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتْ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقُلْتُ بَلْ شَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی عَلَيْهِمْ قَالَ فَقَالَ أَفَلَا يَکُونُ ظُلْمًا قَالَ فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِکَ فَزَعًا شَدِيدًا وَقُلْتُ کُلُّ شَيْئٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْکُ يَدِهِ فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ فَقَالَ لِي يَرْحَمُکَ اللَّهُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُکَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَکَ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَکْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتْ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِکَ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا

اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن عمر عزرہ بن ثابت یحییٰ بن عقیل یحییٰ ابن یعمر حضرت ابوالاسود دیلی (رض) سے روایت ہے کہ مجھے عمران بن حصین نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ آج لوگ عمل کیوں کرتے ہیں اور اس میں مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر الٰہی اس پر جاری ہوچکی ہے یا وہ عمل ان کے سامنے آتے ہیں جنہیں ان کے نبی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت نے دلائل ثابتہ سے واضح کردیا ہے تو میں نے کہا نہیں بلکہ ان کا عمل ان چیزوں سے متعلق ہے جن کا حکم ہوچکا ہے اور تقدیر ان میں جاری ہوچکی ہے تو عمران نے کہا کیا یہ ظلم نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ اس سے میں سخت گھبرا گیا اور میں نے کہا ہر چیز اللہ کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہے پس اس سے اس کے فعل کی باز پرس نہیں کی جاسکتی اور لوگوں سے تو پوچھا جائے گا تو انہوں نے مجھے کہا اللہ تجھ پر رحم فرمائے میں نے آپ سے یہ سوال صرف آپ کی عقل کو جانچنے کے لئے ہی کیا تھا (ایک مرتبہ) قبیلہ مزنیہ کے دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ لوگ آج عمل کس بات پر کرتے ہیں اور کس وجہ سے اس میں مشقت برادشت کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں حکم صادر ہوچکا ہے اور اس میں تقدیر جاری ہوچکی ہے یا ان کے نبی ﷺ جو احکام لے کرئے ہیں اور تبلیغ کی حجت ان پر قائم ہوچکی ہے اس کے مطابق عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ان کا عمل اس چیز کے مطابق ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر اس میں جاری ہوچکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا) موجود ہے اور قسم ہے انسان کی اور جس نے اس کو بنایا اور اسے اس کی بدی اور نیکی کا الہام فرمایا۔

Abu al-Aswad reported that Imran b Husain asked him: What is your view, what the people do today in the world, and strive for, is it something decreed for them or preordained for them or will their fate in the Hereafter be determined by the fact that their Prophets brought them teaching which they did not act upon? I said: Of course, it is something which is predetermined for them and preordained for them. He (further) said: Then, would it not be an injustice (to punish them)? I felt greatly disturbed because of that, and said: Everything is created by Allah and lies in His Power. He would not be questioned as to what He does, but they would be questioned; thereupon he said to me: May Allah have mercy upon you, I did not mean to ask you but for testing your intelligence. Two men of the tribe of Muzaina came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, what is your opinion that the people do in the world and strive for, is something decreed for them; something preordained for them and will their fate in the Hereafter be determined by the fact that their Prophets brought them teachings which they did not act upon. And thus they became deserving of punishment? Thereupon, he said: Of course, it happens as it is decreed by Destiny and preordained for them, and this view is confirmed by this verse of the Book of Allah, the Exalted and Glorious: "Consider the soul and Him Who made it perfect, then breathed into it its sin and its piety" (xci. 8).

6740Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

قتبیہ بن سعید عبدالعزیز بن محمد علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی زمانہ طویل تک اہل جنت کے سے اعمال کرتا رہتا ہے پھر اس کا خاتمہ اہل جہنم کے اعمال پر ہوتا ہے اور بیشک آدمی مدت دراز تک اہل جہنم کے سے اعمال کرتا رہتا ہے پھر اس کے اعمال کا خاتمہ اہل جنت کے سے اعمال پر ہوتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (way peace be upon him) as saying: Verily, a person performs deeds for a long time like the deeds of the people of Paradise. Then his deeds are terminated like the deeds of the people of Hell and, verily, a person performs deeds like the denizens of Fire for a long time, and then this deed of his is ultimately followed by the deeds of the people of Paradise.

6741Sahih Muslimصحیح

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، ابی حازم حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی لوگوں کے ظاہر میں اہل جنت کے سے اعمال کرتا ہے حالانکہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے اور آدمی لوگوں کے ظاہر میں اہل جہنم کے جیسے اعمال کرتا ہے حالانکہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔

Sahl bin Sad reported it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that a person performs deeds like the deeds of the people of Paradise apparently before people and he would be amongst the dwellers of Hell and a person acts apparently like the people of Hell, but (in fact) he would be among the dwellers of Paradise.

6742Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ وَابْنِ دِينَارٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَقَالَ مُوسَی يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی اصْطَفَاکَ اللَّهُ بِکَلَامِهِ وَخَطَّ لَکَ بِيَدِهِ أَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَابْنِ عَبْدَةَ قَالَ أَحَدُهُمَا خَطَّ و قَالَ الْآخَرُ کَتَبَ لَکَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ

محمد بن حاتم، ابراہیم بن دینار، ابن ابی عمر مکی، احمد بن عبدہ الضبی، ابن عیینہ، عا مر، طاؤس، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم و موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکالمہ ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے آدم آپ ہمارے باپ ہیں آپ نے ہمیں نامراد کیا اور ہمیں جنت سے نکلوایا۔ تو ان سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا تم موسیٰ ہو اللہ نے آپ کو اپنے کلام کے لئے منتخب کیا اور آپ کے لئے اپنے دست خاص سے تحریر لکھی کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جسے میرے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی مجھ پر مقدر فرما دیا گیا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے دوسری روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا تیرے لئے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There was argument between Adam علیہ السلامعلیہ السلامand Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said to Adam: You are our father. You did us harm and caused us to get out of Paradise. Adam علیہ السلامعلیہ السلامsaid to him: You are Moses (علیہ السلام). Allah selected you (for direct conversation with you) and wrote with His own Hand the Book (Torah) for you. Despite this you blame me for an act which Allah had ordained for me forty years before He created me. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This is how Adam علیہ السلامعلیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام) and Adam علیہ السلامعلیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام).

6743Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی فَقَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ کُلِّ شَيْئٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ ہوا تو حضرت آدم حضرت موسیٰ پر غالب آگئے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہ آدم ہیں جنہوں نے لوگوں کو راہ راست سے دور کیا اور انہیں جنت سے نکلوایا حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم عطا کیا اور جسے لوگوں پر اپنی رسالت کے لئے مخصوص کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جی ہاں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا پس تم مجھے اس معاملہ پر ملامت کر رہے ہو جو میرے لئے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر کردیا گیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There was argument between Adam علیہ السلامعلیہ السلامand Moses (علیہ السلام), and Adam علیہ السلامعلیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said to him: You are the same Adam علیہ السلامwho misled people, and caused them to get out of Paradise. Adam علیہ السلامsaid: You are the same ( Moses (علیہ السلام)) whom Allah endowed the knowledge of everything and selected him amongst the people as His Messenger. He said: Yes. Adam علیہ السلامthen again said: Even then you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created.

6744Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَی عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی قَالَ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَهُ وَأَسْکَنَکَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِکَ إِلَی الْأَرْضِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي اصْطَفَاکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ وَأَعْطَاکَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ کُلِّ شَيْئٍ وَقَرَّبَکَ نَجِيًّا فَبِکَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ کَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَی بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا وَعَصَی آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَی قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَی أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی

اسحاق بن موسیٰ ابن عبداللہ بن موسیٰ بن عبداللہ یزید انصاری انس ابن عیاض حارث بن ابی ذباب یزید ابن ہرمز عبدالرحمن اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم اور موسیٰ کا اپنے رب کے پاس مکالمہ ہوا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے موسیٰ نے فرمایا آپ وہ آدم ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور تم میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں سکونت عطا کی پھر آپ نے لوگوں کو اپنی غلطی کی وجہ سے زمین کی طرف اتروا دیا آدم نے فرمایا آپ وہ موسیٰ ہیں جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے منتخب فرمایا اور آپ کو تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت تھی اور آپ کو سرگوشی کے لئے قربت عطا کی تو اللہ کو میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے پایا جس نے توارۃ کو لکھا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا چالیس سال پہلے۔ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تو نے اس میں (وَعَصَی آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَی) یعنی آدم نے اپنے رب کی ظاہرا نافرمانی کی اور راہ راست سے دور ہوئے پایا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جی ہاں حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ مجھے ایسا عمل کرنے پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ نے میرے لئے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There was an argument between Adam علیہ السلامand Moses (علیہ السلام) (peace be upon both of them) in the presence of their Lord. Adam علیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said: Are you that Adam علیہ السلامwhom Allah created with His Hand and breathed into him His sprit, and commanded angels to fall in prostration before him and He made you live in Paradise with comfort and ease. Then you caused the people to get down to the earth because of your lapse. Adam علیہ السلامsaid: Are you that Moses (علیہ السلام) whom Allah selected for His Messengership and for His conversation with him and conferred upon you the tablets, in which everything was clearly explained and granted you the audience in order to have confidential talk with you. What is your opinion, how long Torah would have been written before I was created? Moses (علیہ السلام) said: Forty years before. Adam علیہ السلامsaid: Did you not see these words: Adam علیہ السلامcommitted an error and he was enticed to (do so). He ( Moses (علیہ السلام)) said: Yes. Whereupon, he (Adam) said: Do you then blame me for an act which Allah had ordained for me forty years before He created me? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This is how Adam علیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام).

6745Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَقَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْکَ خَطِيئَتُکَ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي اصْطَفَاکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی

زہیر بن حرب، ابن حاتم یعقوب بن ابراہیم، ابن ابی عدی ابن شہاب حمید ابن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم و موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکالمہ ہوا تو آدم (علیہ السلام) سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہ آدم ہیں جسے آپ کی اپنی خطا نے جنت سے نکلوایا تھا۔ تو ان سے آدم (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہی موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے مخصوص فرمایا۔ پھر آپ مجھے ایسے حکم پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ نے میرے پیدا کرنے سے پہلے ہی مجھ پر مقدر فرما دیا تھا تو آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There was an argument between Adam علیہ السلامand Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said: Are you that Adam علیہ السلامwhose lapse caused you to get out of Paradise? Adam علیہ السلامsaid to him: Are you that Moses (علیہ السلام) whom Allah selected for His Messengership, for His conversation and you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created? This is how Adam علیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام).

6746Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ

عمرو ناقد، ایوب بن نجار یمامی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، ابو ہریرہ۔ ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ (رض) ان اسناد سے بھی نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کی۔

Abu Hurairah (RA) narrated a hadith like this through another chain of transmitters.

6747Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

محمد بن منہال، ضریر، یزید بن زریع، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، ابوہریرہ (رض) اس سند سے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.

6748Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ

ابوطاہر احمد عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح ابن وہب، ابوہانی خولانی ابوعبدالرحمن حبلی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔

Abdullah bin Amr bin al-As reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah ordained the measures (of quality) of the creation fifty thousand years before He created the heavens and the earth, as His Throne was upon water.

6749Sahih Muslimصحیح

حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هَانِئٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْکُرَا وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ

ابن ابی عمر مقری حیوۃ محمد بن سہل تمیمی ابن ابی مریم نافع ابن یزید ابی ہانی اس سند سے بھی حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں یہ مذکور نہیں کہ اللہ کا عرش پانی پر تھا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hani with the same chain of transmitters, but there is no mention of "His Throne was upon water."

6750Sahih Muslimصحیح

اللہ تعالیٰ کا مرضی کے مطابق دلوں کو پھیرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُقْرِئِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ کُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَائُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ

زہیر بن حرب، ابن نمیر، مقری زہیر عبداللہ بن یزید مقری حیوۃ ابوہانی ابوعبدالرحمن حبلی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ ) اے اللہ دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔

Abdullah bin Amr (RA) bin al-As reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily, the hearts of all the sons of Adam علیہ السلامare between the two fingers out of the fingers of the Compassionate Lord as one heart. He turns that to any (direction) He likes. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, the Turner of the hearts, turn our hearts to Thine obedience.

6751Sahih Muslimصحیح

ہر چیز کا تقدیر الہی کے ساتھ وابستہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزِ وَالْکَيْسِ أَوْ الْکَيْسِ وَالْعَجْزِ

عبدالاعلی بن حماد مالک بن انس، قتیبہ بن سعید مالک زیادہ بن سعید عمرو بن مسلم حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کے متعدد صحابہ سے ملاقات کی ہے وہ کہتے تھے ہر چیز تقدیر سے وابستہ ہے اور میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز تقدیر سے وابستہ ہے یہاں تک کہ عجز اور قدرت یا قدرت اور عجز۔

Tawus reported: I found some Companions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Everything is by measure. And he further said: I heard Abdullah bin Umar as saying: There is a measure for everything-even for incapacity and capability.