Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 338 of 379

6752Sahih Muslimصحیح

ہر چیز کا تقدیر الہی کے ساتھ وابستہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ مُشْرِکُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا کُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب وکیع، سفیان، زیاد بن اسماعیل محمد بن عباد بن جعفر مخزومی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ مشرکینِ قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرنے کے لئے آئے تو یہ آیت نازل ہوئی (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ) 54 ۔ القمر : 48) جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا دوزخ کا عذاب چکھو بیشک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that the polytheists of the Quraish came to have an argument with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in regard to Destiny and then this verse was revealed: "On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure" (liv. 48).

6753Sahih Muslimصحیح

ابن آدم پر زنا وغیرہ میں سے حصہ مقدر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنْ الزِّنَا أَدْرَکَ ذَلِکَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّی وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِکَ أَوْ يُکَذِّبُهُ قَالَ عَبْدٌ فِي رِوَايَتِهِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید اسحاق عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میرے نزدیک بِاللَّمَمِ کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے اس قول سے بہتر کوئی بات نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا جسے وہ ضرور حاصل کرے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا کہنا ہے اور دل تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily Allah has fixed the very portion of adultery which a man will indulge in, and which he of necessity must commit. The adultery of the eye is the lustful look, and the adultery of the tongue is the licentious speech, the heart desires and yearns, which the parts may or may not put into effect.

6754Sahih Muslimصحیح

ابن آدم پر زنا وغیرہ میں سے حصہ مقدر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنْ الزِّنَا مُدْرِکٌ ذَلِکَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْکَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَی وَيَتَمَنَّی وَيُصَدِّقُ ذَلِکَ الْفَرْجُ وَيُکَذِّبُهُ

اسحاق بن منصور ابوہشام مخزومی وہیب سہیل بن ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابن آدم پر اس کے زنا سے حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ لا محالہ اسے ملے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل کا گناہ خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying. Allah fixed the very portion of adultery which a man will indulge in. There would be no escape from it. The adultery of the eye is the lustful look and the adultery of the ears is listening to voluptuous (song or talk) and the adultery of the tongue is licentious speech and the adultery of the hand is the lustful grip (embrace) and the adultery of the feet is to walk (to the place) where he intends to commit adultery and the heart yearns and desires which he may or may not put into effect.

6755Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَائَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ الْآيَةَ

حاجب بن ولید محمد بن حرب زبیدی زہری، سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ جانور کے پورے اعضاء والا جانور پیدا ہوتا ہے کیا تمہیں ان میں کوئی کٹے ہوئے عضو والا جانور معلوم ہوتا ہے پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا اگر تم چاہو تو آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا) 30 ۔ الروم : 30) پڑھ لو یعنی اے لوگو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت (دین اسلام ہے) کو لازم کرلو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی مخلوق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

There is none born but is created to his true nature (Islam). It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian quite as beasts produce their young with their limbs perfect. Do you see anything deficient in them? Then he quoted the Quran., The nature made by Allah in which He has created men there is no altering of Allahs creation; that is the right religion" (xxx. 33)

6756Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً وَلَمْ يَذْکُرْ جَمْعَائَ

ابوبکر بن ابی شبیہ عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے البتہ ایک سند سے یہ الفاظ ہیں کہ جیسے جانور کے ہاں جانور پیدا ہوتا ہے اور کامل الاعضاء ہونے کو ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters and there is no mention of his deficiency in limbs.

6757Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ ثُمَّ يَقُولُ اقْرَئُوا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِکَ الدِّينُ الْقَيِّمُ

ابوطاہر احمد بن عیسیٰ ابن وہب، یونس بن یزید ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا یہ آیت پڑھو (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا) 30 ۔ الروم : 30) اے لوگوں اپنے اوپر اللہ کی بنائی فطرت کو لازم کرلو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی مخلوق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور یہی دین قیم ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: No child is born but upon Fitra. He then said. Recite: "The nature made by Allah in which He created man, there is no altering of Allahs nature; that is the right religion."

6758Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشَرِّکَانِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِکَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ

زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر وہ اس سے پہلے ہی مرجائے تو آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہوتے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: No baby is born but upon Fitra. It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Polytheist. A person said: Allahs Messenger, what is your opinion if they were to die before that (before reaching the age of adolescence when they can distinguish between right and wrong)? He said: It is Allah alone Who knows what they would be doing.

6759Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ عَلَی الْمِلَّةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِلَّا عَلَی هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّی يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَی هَذِهِ الْفِطْرَةِ حَتَّی يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اعمش، ابن نمیر، ابی معاویہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے ابن نمیر کی روایت میں یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ ملت (اسلامیہ) پر پیدا ہوتا ہے اور حضرت ابومعاویہ کی روایت میں یہ ہے کہ وہ اس ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کر دے ابوکریب کی روایت میں ہے کہ ہر پیدا ہونے والا اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان چل سکے اور اس کے ضمیر کی ترجمانی کرسکے۔

It is reported on the authority of Abu Muawiyahh (RA)h (RA) that (the Holy Prophet) said: Every new-born babe is born on the millat (of Islam) and he remains on this until his tongue is enabled to express himself. This hadith has been narratted on the authority of Abu Muawiyahh (RA)h (RA) through another chain of transmitters (and the words are): "Every child is born but on this Fitra so long as he does not express himself with his tongue."

6760Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَی هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ کَمَا تَنْتِجُونَ الْإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَائَ حَتَّی تَکُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کی رسول اللہ ﷺ کی مروی احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بھی پیدا کیا جاتا ہے اسے اس فطرت اسلام پر پیدا کیا جاتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بناتے ہیں جیسے اونٹوں کے بچے پیدائش کے وقت تمہیں پورے اعضاء والے نظر آتے ہیں کیا تمہیں کٹے ہوئے اعضاء والا بھی ملتا ہے بلکہ تم خود ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو بچپن میں ہی فوت ہوجائے اس کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔

Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger (may peace be upom him) many ahadith and one amongst them is that he is reported to have said: An infant is born according to his (true) nature. It is his parents who make him a Jew, a Christian, just as a she-camel gives birth to its young ones. Do you find any deficiency in their limbs? You cut their ears (i. e. after birth). They (the Companions of the Holy Prophet) said: What is your opinion about him who dies in infancy? Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It is Allah alone Who knows best what they would be doing.

6761Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَی الْفِطْرَةِ وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ فَإِنْ کَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ کُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْکُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر انسان کو اس کی والدہ فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے بعد اس کے والدین اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں کہ اگر والدین مسلمان ہوں تو وہ مسلمان بن جاتا ہے ہر انسان کی پیدائش کے بعد اس کے دونوں پہلوؤں میں شیطان انگلی چبھو دیتا ہے سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The mother of every person gives him birth according to his true nature. It is subsequently his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian. Had his parents been Muslim he would have also remained a Muslim. Every person to whom his mother gives birth (has two aspects of his life); when his mother gives birth Satan strikes him but it was not the case with Mary and her son (Jesus Christ).

6762Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِکِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ

ابوطاہر ابن وہب، ابن ابی ذہب یونس ابن شہاب عطاء بن یزید حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکیں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked about the children of the polytheists, whereupon he said: It is Allah Who knows best what they would be doing.

6763Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ح و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْقِلٍ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِکِينَ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہزام ابوالیمان شعیب سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن عبیداللہ زہری، یونس ابن ابی ذئب ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ سے مشرکین کی ذریت کے بارے میں پوچھا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Shuaib and Maqil with a slight variation of wording.

6764Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِکِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ

ابن ابی عمر سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کے ان بچوں کے بارے میں پوچھا گیا جو بچپن میں ہی فوت ہوجاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked about the children of the polytheists who die young. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It is Allah Who knows what they would be doing.

6765Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِکِينَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ

یحییٰ بن یحیی، ابوعوانہ، ابی بشر سعید بن جبیر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان کے پیدا کرتے وقت بخوبی علم تھا کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہیں۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked about the children of the polytheists, whereupon he said: It is Allah alone Who knows what they would be doing according to their creation.

6766Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ کَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَکُفْرًا

عبداللہ بن مسملہ بن قعنب معتمر بن سلیمان رقبہ بن مسقلہ اسحاق سعید بن جبیر ابن عباس (رض) حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ بچہ جسے حضرت خضر نے مار ڈالا تھا وہ فطرةً ہی کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کردیتا۔

Ubayye bin Kab reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The young man whom Khadir killed was a non-believer by his very nature and had he survived he would have involved his parents in defiance and unbelief.

6767Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ تُوُفِّيَ صَبِيٌّ فَقُلْتُ طُوبَی لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا وَلِهَذِهِ أَهْلًا

زہیر بن حرب، جریر، علاء بن مسیب فضیل بن عمرو عائشہ بنت طلحہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک بچہ فوت ہوگیا تو میں نے کہا اس کے لئے خوشی ہو وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لئے کچھ لوگوں کو پیدا کیا اور کچھ لوگوں کو اس کے لئے پیدا کیا۔

Aisha, the mother of the believers, reported that a child died and I said: There is happiness for this child who is a bird from amongst the birds of Paradise. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dont you know that Allah created the Paradise and He created the Hell and He created the dwellers for this (Paradise) and the denizens for this (Hell)?

6768Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَی لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ السُّوئَ وَلَمْ يُدْرِکْهُ قَالَ أَوَ غَيْرَ ذَلِکَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، طلحہ بن یحییٰ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو انصار کے ایک بچہ کا جنازہ پڑھانے کے لئے بلایا گیا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس جنت کی چڑیوں میں سے چڑیا کے لئے خوشی ہو اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی گناہ کرنے کے زمانے تک پہنچا آپ نے فرمایا اے عائشہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جنت کے لئے کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے اور بعض کو جہنم کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جہنم کے لئے کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔

Aisha, the mother of the believers, said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was called to lead the funeral prayer of a child of the Ansar. I said: Allahs Messenger, there is happiness for this child who is a bird from the birds of Paradise for it committed no sin nor has he reached the age when one can commit sin. He said: Aisha, per adventure, it may be otherwise, because God created for Paradise those who are fit for it while they were yet in their fathers loins and created for Hell those who are to go to Hell. He created them for Hell while they were yet in their fathers loins.

6769Sahih Muslimصحیح

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی ح و حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی بِإِسْنَادِ وَکِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ

محمد بن صباح اسماعیل بن زکریا، طلحہ بن یحییٰ سلیمان بن معبد حسین بن حفص اسحاق بن منصور محمد بن یوسف سفیان، ثوری طلحہ بن یحییٰ وکیع، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yahya with the same chain of transmitters.

6770Sahih Muslimصحیح

مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْکُرِيِّ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ وَلَوْ کُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَکِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ کَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ قَالَ وَذُکِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ مِسْعَرٌ وَأُرَاهُ قَالَ وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا وَقَدْ کَانَتْ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی بکر وکیع، مسعر علقمہ بن مرثد مغیرہ بن عبداللہ یشکری معرور بن سوید حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ زوجہ نبی ﷺ ام حبیبہ (رض) نے کہا اے اللہ مجھے اپنے خاوند رسول اللہ ﷺ اور والد ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے متمتمع کرنا نبی ﷺ نے فرمایا تو نے اللہ سے مقرر شدہ اوقات و ایام اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا ان میں سے کسی چیز کو وقت مقرر سے مقدم اور مؤخر نہیں کیا جاتا اور اگر تو اللہ سے سوال کرتی کہ وہ تجھے جہنم کے عذاب یا قبر کے عذاب سے پناہ دے تو وہ بہتر اور افضل ہوتا راوی نے کہا آپ ﷺ کے پاس بندروں اور خنزیروں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ نے کسی مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں چلائی اور تحقیق بندر اور سور پہلے ہی سے موجود تھے۔

Abdullah reported that Umm Habiba, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said: O Allah, enable me to derive benefit from my husband, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and from my father Abu Sufyan (RA) and from my brother Muawiyah. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You have asked from Allah about durations of life already set, and the length of days already allotted and the sustenances the share of which has been fixed. Allah would not do anything earlier before its due time, or He would not delay anything beyond its due time. And if you were to ask Allah to provide you refuge from the torment of the HellFire, or from the torment of the grave, it would have good in store for you and better for you also. He (the narrator) further said: Mention was made before him about monkeys, and Misar (one of the narrators) said: I think that (the narrator) also (made a mention) of the swine, which had suffered metamorphosis. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Verily, Allah did not cause the race of those which suffered metamorphosis to grow or they were not survived by young ones. Monkeys and swine had been in existence even before (the metamorphosis of the human beings).

6771Sahih Muslimصحیح

مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ بِشْرٍ وَوَکِيعٍ جَمِيعًا مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ

ابوکریب ابن بشر مسعد ابن بشر وکیع، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے اس روایت میں عذاب جہنم اور عذاب قبر کے الفاظ ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Misar with the same chain of transmitters but with this variation that the hadith transmitted on the authority of Ibn Bishr and Waki, the torment of the Hell-Fire and the torment of grave have been mentioned together (and there is no conjunction of "or" between them).