مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْکُرِيِّ عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَآثَارٍ مَوْطُوئَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَکِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ لَکَانَ خَيْرًا لَکِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِکْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ کَانُوا قَبْلَ ذَلِکَ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، حجاج بن شاعر، حجاج اسحاق حجاج عبدالرزاق، ثوری علقمہ ابن مرثد مغیرہ بن عبداللہ یشکری معرور بن سوید حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے کہا اے اللہ مجھے میرے خاوند رسول اللہ اور والد ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے متمتع فرما رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تو نے اللہ سے مقرر شدہ مدتوں اور چلائے ہوئے معین قدموں اور تقسیم کئے ہوئے رزق کا سوال کیا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز مقرر وقت سے مقدم نہ ہوگی اور نہ ہی مؤخر ہوگی اگر تو اللہ سے جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے عافیت مانگتی تو یہ تیرے لئے بہتر ہوتا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا بندر اور خنزیر ان مسخ شدہ میں سے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی نے کسی قوم کو ہلاک کرنے یا اسے عذاب دینے کے بعد اس کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور سور اس سے پہلے ہی موجود تھے۔
Ibn Masud reported that Umm Habiba said: O Allah, enable me to derive benefit from my husband, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and from my father Abu Sufyan (RA) , and from my brother Muawiyah. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to her: Verily, you have asked Allah about the durations of life already set, and the steps which you would take, and the sustenances the share of which is fixed. Nothing would take place earlier than its due time, and nothing would be deferred beyond that when it is due. So, if you were to ask Allah about your safety from the torment of Hell-Fire and from the torment of the grave, it would have been better for you. A person said: Allahs Messenger, what about those apes and swine which suffered metamorphosis? Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, did not destroy a people or did not torment a people, and let their race grow. Apes and swine had been even before that (when the deniers of truth were tormented and suffered metamorphosis).
مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ وَرَوَی بَعْضُهُمْ قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ
ابوداؤد سلیمان بن معبد حسین بن حفص سفیان، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
تقدیر پر ایمان لانے اور تقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي کُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَی مَا يَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَکَ شَيْئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا وَلَکِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَائَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس ربیعہ بن عثمان محمد بن یحییٰ بن حبان اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور پسندیدہ ہے ہر بھلائی میں ایسی چیز کی حرص کرو جو تمہارے لئے نفع مند ہو اور اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور اس سے عاجز مت ہو اور اگر تم پر کوئی مصیبت واقع ہوجائے تو یہ نہ کہو کاش میں ایسا ایسا کرلیتا کیونکہ کاش کا لفظ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A strong believer is better and is more lovable to Allah than a weak believer, and there is good in everyone, (but) cherish that which gives you benefit (in the Hereafter) and seek help from Allah and do not lose heart, and if anything (in the form of trouble) comes to you, dont say: If I had not done that, it would not have happened so and so, but say: Allah did that what He had ordained to do and your "if" opens the (gate) for the Satan.
متشابہات القرآن کے درپے ہونے کی ممانعت ان کی اتباع کرنے والوں سے بچنے کا حکم اور قرآن میں اختلاف کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْکَ الْکِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْکَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَائَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِکَ الَّذِينَ سَمَّی اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب یزید بن ابراہیم تستری عبداللہ بن ابی ملیکہ قاسم بن محمد سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَا ءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَا ءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ ) 3 ۔ آل عمران : 7) وہی ہے جس نے آپ ﷺ پر یہ کتاب نازل کی اس میں بعض آیات محکم ہیں جو کہ کتاب کی اصل اور بنیاد ہیں (جن کے معنی واضح ہیں) اور دوسری متشابہات (جن کے معنی واضح نہیں) پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ قرآن کی متشابہات آیات کی اتباع فتنہ طلب کرنے اور اس کی تاویل کی تلاش کرنے کے لئے کرتے ہیں حالانکہ ان کی تفسیر سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا جو علم میں پختگی رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور نصیحت صرف عقلمند ہی قبول کرتے ہیں سیدہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کے متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام ذکر فرمایا پس ان سے بچو۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited (these verses of the Quran): "He it is Who revealed to thee (Muhammad) the Book (the Quran) wherein there are clear revelations-these are the substance of the Book and others are allegorical (verses). And as for those who have a yearning for error they go after the allegorical verses seeking (to cause) dissension, by seeking to explain them. And none knows their implications but Allah, and those who are sound in knowledge say: We affirm our faith in everything which is from our Lord. It is only the persons of understanding who really heed" (iii. 6). Aisha (further) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said (in connection with these verses): When you see such verses, avoid them, for it is they whom Allah has pointed out (in the mentioned verses).
متشابہات القرآن کے درپے ہونے کی ممانعت ان کی اتباع کرنے والوں سے بچنے کا حکم اور قرآن میں اختلاف کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ هَجَّرْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْکِتَابِ
ابوکامل فضیل ابن حسیں جحدری حماد بن زید ابوعمران جونی عبداللہ بن رباح انصاری حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو ایک آیت میں اختلاف کر رہے تھے چناچہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات تھے پھر آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگ کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
Abdullah bin Umar reported: I went to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the morning and he heard the voice of two persons who had an argumentation with each other about a verse. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to us (and) the (signs) of anger could be seen on his face. He said: Verily, the (peoples) before you were ruined because of their disputation in the Book.
متشابہات القرآن کے درپے ہونے کی ممانعت ان کی اتباع کرنے والوں سے بچنے کا حکم اور قرآن میں اختلاف کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُکُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا
یحییٰ بن یحیی، ابوقدامہ حارث بن عبید ابوعمران حضرت جندب بن عبداللہ بجلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارے دلوں کو اس پر اتفاق ہو اور جب تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اٹھ جاؤ۔
Jundub bin Abdullah al-Bajali reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Recite the Quran as long as your hearts agree to do so, and when you feel variance between them (between your hearts and tongues), then get up (and leave its recital for the time being).
متشابہات القرآن کے درپے ہونے کی ممانعت ان کی اتباع کرنے والوں سے بچنے کا حکم اور قرآن میں اختلاف کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدَبٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُکُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا
اسحاق بن منصور عبدالصمد ہمام ابوعمران جونی حضرت جندب بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک تمہارے دلوں کو قرآن پر اتفاق ہو اس کی تلاوت کرتے رہو اور جب اختلاف ہوجائے تو اٹھ کھڑے ہو۔
Jundub (i. e. Ibn Abdullah) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Recite the Quran as long as your hearts agree to do so and when you find variance between them, then stand up.
متشابہات القرآن کے درپے ہونے کی ممانعت ان کی اتباع کرنے والوں سے بچنے کا حکم اور قرآن میں اختلاف کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْکُوفَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا
احمد بن سعید بن صخر دارمی حبان ابان حضرت ابوعمران (رض) سے روایت ہے کہ حضرت جندب نے ہمیں کہا اور ہم کوفہ کے نوجوان تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھو باقی حدیث اسی طرح ہے۔
Abu Imran reported that Jundub told us as we were young boys living in Kilfa, that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said: Recite the Quran. The rest of the hadith is the same.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَی اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کا سب سے ناپسندیدہ آدمی وہ ہے جو سخت جھگڑنے والا ہو۔
Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The most despicable amongst persons in the eye of Allah is one who tries to fall into dispute with others (for nothing but only to display his knowledge and power of argumentation).
یہودو نصاری کے طریقوں کی اتباع کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلْيَهُودَ وَالنَّصَارَی قَالَ فَمَنْ
سوید بن سعید حفص بن میسرہ زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ لوگوں کے طریقے پر بالشت بالشت اور ہاتھ ہاتھ چلیں گے یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوارخ میں داخل ہوئے تو بھی تم ان کی پیروی کرو گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہود و نصاری (کے طریقے پر) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور کون۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: You would tread the same path as was trodden by those before you inch by inch and step by step so much so that if they had entered into the hole of the lizard, you would follow them in this also. We said: Allahs Messenger, do you mean Jews and Christians (by your words) "those before you"? He said: Who else (than those two religious groups)?
یہودو نصاری کے طریقوں کی اتباع کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
سعید بن ابی مریم ، ابوغسان، محمد بن مطرف، زید بن اسلم، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith is reported through Muhammad bin Muttarif from Zayd bin Aslam with the same chain.
یہودو نصاری کے طریقوں کی اتباع کے بیان میں
قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ وَذَکَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ
ابو اسحاق بن ابراہیم، محمد محمد بن یحییٰ ابن ابی مریم ابوغسان زید بن اسلم عطاء بن یسار ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ata bin Yasir through another chain of transmitters.
غلو کرنے والوں کی ہلاکت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَکَ الْمُتَنَطِّعُونَ قَالَهَا ثَلَاثًا
ابوبکر بن ابی شیبہ حفص بن غیاث یحییٰ بن سعید ابن جریج، سلیمان بن عتیق طلق ابن حبیب احنف بن قیس حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار ارشاد فرمایا غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Ruined, were those who indulged in hair-splitting. He (the Holy Prophet) repeated this thrice.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا
شیبان بن فروخ عبدالوارث ابوتیاح حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم اٹھا لینا اور جہالت کا ظاہر ہوجانا شراب کا پیا جانا اور زنا کا علی الاعلان ہونا قیامت کی علامات میں سے ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is from the conditions of the Last Hour that knowledge would be taken away and ignorance would prevail (upon the world), the liquor would be drunk, and adultery would become rampant.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتَ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُکُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَتَبْقَی النِّسَائُ حَتَّی يَکُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں ایسی حدیث نہ بیان کروں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور میرے بعد تمہیں کوئی بھی آپ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث روایت نہ کرے گا آپ نے فرمایا علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا غالب ہوجانا اور زنا کا عام ہوجانا اور شراب کا پیا جانا مردوں کا کم ہونا اور عورتوں کا باقی رہنا یہاں تک کہ پچاس عورتوں کے لئے ایک مرد ہی نگران ہوگا قیامت کی علامات میں سے ہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of narrators, but with a slight variation of wording.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَأَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ وَعَبْدَةَ لَا يُحَدِّثُکُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر ابوکریب عبدہ ابواسامہ سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے یہی حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت انس نے کہا میرے بعد تم کو کوئی بھی اسی طرح حدیث روایت نہیں کرے گا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Anas b. Malik through another chain of narrators, but with a slight variation of wording.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبِي قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيَکْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، ابوسعید اشج وکیع، اعمش، حضرت ابو وائل (رض) سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ اور حضرت موسیٰ (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ان دونوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب کچھ زمانہ ایسا آئے گا جس میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت نازل کردی جائے گی اور خون ریزی کی زیادتی ہوجائے گی۔
Abu Wail reported: I was sitting with Abdullah and Abu Musa that they reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: Prior to the Last Hour, there would be a time when knowledge would be taken away, and ignorance would take its place and there would be bloodshed on a large scale.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ
ابوبکر بن نضر بن ابی نضر ابونضر عبیداللہ بن اشجعی سفیان، اعمش، ابو وائل عبداللہ ابوموسی اشعری ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے کہ حضرت عبداللہ اور حضرت عبداللہ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdullah (b. Masud) and Abu Musa (al-Ashari) through other chains of transmitters.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، اسحاق حنظلی ابی معاویہ، اعمش، شقیق حضرت ابوموسی (رض) نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Musa through another chain of transmitters.
آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوموسی اور حضرت عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ دونوں آپس میں گفتگو کر رہے تھے تو حضرت ابوموسی (رض) نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا۔
Abu Wail reported: I was sitting with Abu Musa and Abdullah and they were conversing with each other and Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying (that we find in the above-mentioned ahadith).