Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 340 of 379

6792Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب حمید بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمانہ باہم قریب ہوجائے گا اور علم قبض کرلیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوجائیں گے بخل ڈال دیا جائے گا اور ہرج کی کثرت ہوجائے گی صحابہ نے عرض کیا ہرج کیا ہے آپ نے فرمایا قتل۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: (When) the time would draw close to the Last Hour, knowledge would be snatched away, turmoil would be rampant, miserliness would be put (in the hearts of the people) and therewould be much bloodshed. They said: What is al-harj? Thereupon he said: It is bloodshed.

6793Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَهُ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زمانہ باہم قریب ہوجائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording.

6794Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی معمر، زہری، سعید حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زمانہ قریب ہوجائے گا اور علم کم ہوجائے گا پھر ان کی حدیثوں کی طرح ہی ذکر کی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: The time would draw close to the Last Hour and knowledge would decrease. The rest of the hadith is the same.

6795Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کُلُّهُمْ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَذْکُرُوا وَيُلْقَی الشُّحُّ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، ابن نمیر، ابوکریب عمرو ناقد اسحاق بن سلیمان حنظلہ سالم محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ ابوطاہر ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی یونس ابوہریرہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے لیکن ان میں بخل کے ڈالے جانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) through other chains of narrators and there is no mention of: "Miserliness would be put (in the hearts of the people)."

6796Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْ النَّاسِ وَلَکِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَتْرُکْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُئُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا

قتیبہ بن سعید، جریر، ہشام بن عروہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علم کو علماء کے اٹھا لینے کے ذریعہ سے قبض کیا جائے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے پس ان سے پوچھا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

Abdullah bin Amr bin al-As reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily, Allah does not take away knowledge by snatching it from the people but He takes away knowledge by taking away the scholars, so that when He leaves no learned person, people turn to ignorant as their leaders; then they are asked to deliver religious verdicts and they deliver them without knowledge, they go astray, and lead others astray.

6797Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَعَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهُ فَرَدَّ عَلَيْنَا الْحَدِيثَ کَمَا حَدَّثَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ

ابوربیع عتکی حماد بن زید یحییٰ بن یحیی، عباد بن عباد ابومعاویہ ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، ابوکریب (رض) ابن ادریس ابواسامہ ابن نمیر، عبدہ ابن ابی عمر سفیان، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید ابوبکر بن نافع عمر بن علی عبد بن حمید یزید بن ہارون، شیعبہ بن حجاج ہشام بن عروہ عبداللہ بن عمروان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ عمرو بن علی (رض) کی حدیث میں ہے کہ پھر میں نے عبداللہ بن عمرو سے ملاقات کی تو ان سے میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے ہمارے سامنے اس حدیث کو اسی طرح دہرایا جس طرح پہلے بیان کیا تھا اور کہا میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) through other chains of transmitters, but in the hadith transmitted by Umar bin Ali there is an addition of these words: I met Abdullah bin Amr at the end of the year and I asked him about it, and he narrated to us the hadith as he had narrated before that he had heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying.... (The rest of the hadith is the same).

6798Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي جَعْفَرٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

محمد بن مثنی، عبداللہ بن حمران عبدالحمید بن جعفر ابی جعفر عمر بن حکم حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah bin Amr (RA) bin al-As through another chain of transmitters.

6799Sahih Muslimصحیح

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي بَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَارٌّ بِنَا إِلَی الْحَجِّ فَالْقَهُ فَسَائِلْهُ فَإِنَّهُ قَدْ حَمَلَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا کَثِيرًا قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَائَلْتُهُ عَنْ أَشْيَائَ يَذْکُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرْوَةُ فَکَانَ فِيمَا ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ مِنْ النَّاسِ انْتِزَاعًا وَلَکِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَائَ فَيَرْفَعُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ وَيُبْقِي فِي النَّاسِ رُئُوسًا جُهَّالًا يُفْتُونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا حَدَّثْتُ عَائِشَةَ بِذَلِکَ أَعْظَمَتْ ذَلِکَ وَأَنْکَرَتْهُ قَالَتْ أَحَدَّثَکَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا قَالَ عُرْوَةُ حَتَّی إِذَا کَانَ قَابِلٌ قَالَتْ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَمْرٍو قَدْ قَدِمَ فَالْقَهُ ثُمَّ فَاتِحْهُ حَتَّی تَسْأَلَهُ عَنْ الْحَدِيثِ الَّذِي ذَکَرَهُ لَکَ فِي الْعِلْمِ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَائَلْتُهُ فَذَکَرَهُ لِي نَحْوَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ فِي مَرَّتِهِ الْأُولَی قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهَا بِذَلِکَ قَالَتْ مَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ أَرَاهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ شَيْئًا وَلَمْ يَنْقُصْ

حرملہ بن یحییٰ عبداللہ بن وہب، ابوشریح ابواسود (رض) حضرت عروہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے سیدہ عائشہ (رض) نے کہا اے میرے بھانجے مجھے یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) حج کے موقعہ پر ہمارے پاس سے گزرنے والے ہیں پس تو ان سے مل کر ان سے پوچھنا کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ سے بہت سا علم حاصل کیا ہے کہتے ہیں میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کیا جنہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے عروہ نے کہا کہ اسی دوران انہوں نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے اٹھانے کے ساتھ نہیں اٹھائیں گے بلکہ علماء کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کے ساتھ ہی علم بھی اٹھ جائے گا اور لوگوں میں جاہل سردار رہ جائیں گے جو انہیں علم کے بغیر فتوی دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے عروہ نے کہا جب میں نے یہ حدیث عائشہ (رض) سے روایت کی تو انہیں اس سے تعجب ہوا اور انکار کردیا اور کہا کہ اس نے تجھ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ؟ عروہ نے کہا یہاں تک کہ آنے والا سال آیا تو سیدہ (رض) نے اس سے کہا کہ ابن عمرو آ چکے ہیں آپ ان سے ملیں اور سلسلہ کلام شروع کرنے کے بعد ان سے اسی حدیث کے بارے میں دریافت کریں جو انہوں نے تجھ سے علم کے بارے میں روایت کی تھی میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی مرتبہ روایت کی تھی عروہ نے کہا جب میں نے سیدہ کو اس بات کی خبر دی تو سیدہ نے کہا میں انہیں سچا ہی گمان کرتی ہوں اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث میں کوئی چیز زیادہ یا کم نہیں کی۔

Urwa bin Zubair reported that Aisha said to him: This news has reached me that Abdullah bin Amr al-As would pass by us during the Hajj season, so you meet him and ask him (about religious matters) as he has acquired great knowledge from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I thus met him and asked him about things which he narrated from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And amongst these the one he mentioned was that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily, Allah does not take away knowledge from people directly but he takes away the scholars and consequently takes away (knowledge) along with them and leaves amongst persons the ignorant as their leaders who deliver religious verdicts without (adequate) knowledge and themselves go astray and lead others astray. Urwa said: When I narrated this to Aisha, she deemed it too much (to believe) and thus showed reluctance to accept that (as perfectly true) and said to Urwa (RA) : Did he (Abdullah bin Amr) say to you that he had heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: (Urwa had forgotten to ask this from Abdullah bin Amr). So when it was the next year, she (Aisha) said to him (Urwa): Ibn Amr has come (for Hajj), so meet him, talk to him and ask him about this hadith that he narrated to you (last year on the occasion of the Hajj) pertaining to knowledge. He (Urwa), said: So I met him, and asked about it and he narrated to me exactly like one that he had narrated (to me) for the first time. So when I informed her (Aisha) about that, she said: I do not think but this that he has certainly told the truth and I find that he has neither made any addition to it, nor missed anything from it.

6800Sahih Muslimصحیح

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ الصُّوفُ فَرَأَی سُوئَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَی الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّی رُئِيَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَائَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّی عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ

زہیر بن حرب، جریر، بن عبد الحمید اعمش، موسیٰ بن عبداللہ بن یزید ابی ضحی عبدالرحمن بن ہلال عیسیٰ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ دیہاتی آدمی اونی کپڑے پہنے ہوئے حاضر ہوئے آپ نے ان کی بدحالی دیکھ کر ان کی حاجت و ضرورت کا اندازہ لگا لیا آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی پس لوگوں نے صدقہ میں کچھ دیر کی تو آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر کچھ ناراضگی کے آثار نموادر ہوئے پھر انصار میں سے ایک آدمی دراہم کی تھیلی لے کر حاضر ہوا پھر دوسرا آیا پھر صحابہ نے متواتر اتباع شروع کردی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس پر خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے اس عمل کرنے والے کے برابر ثواب لکھا جائے گا اور ان کے ثواب میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس آدمی نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس پر اس عمل کرنے والے کے گناہ کے برابر گناہ لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔

Jarir bin Abdullah reported that some desert Arabs clad in woollen clothes came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He saw them in sad plight as they had been hard pressed by need. He (the Holy Prophet) exhorted people to give charity, but they showed some reluctance until (signs) of anger could be seen on his face. Then a person from the Ansar came with a purse containing silver. Then came another person and then other persons followed them in succession until signs of happiness could be seen on his (sacred) face. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who introduced some good practice in Islam which was followed after him (by people) he would be assured of reward like one who followed it, without their rewards being diminished in any respect. And he who introduced some evil practice in Islam which had been followed subsequently (by others), he would be required to bear the burden like that of one who followed this (evil practice) without theirs being diminished in any respect.

6801Sahih Muslimصحیح

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَی الصَّدَقَةِ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی معاویہ، اعمش، مسلم عبدالرحمن بن ہلال حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کی ترغیب دی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔

Jarir reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) delivered an address in which he exhorted people to give charity.

6802Sahih Muslimصحیح

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ قَالَ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةً صَالِحَةً يُعْمَلُ بِهَا بَعْدَهُ ثُمَّ ذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِيثِ

محمد بن بشار، یحییٰ ابن سعید محمد بن ابی اسماعیل عبدالرحمن بن ہلال عیسیٰ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی کسی بھی نیک طریقہ کو رائج کرتا ہے جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا ہے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ذکر کی۔

Jarir bin Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The servant does not introduce good practice which is followed after him.... The rest of the hadith is the same.

6803Sahih Muslimصحیح

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

عبیداللہ بن عمر قواریری ابوکامل محمد بن عبدالملک اموی ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ (رض) عبیداللہ بن معاذابی شعبہ، عون بن ابی جحیفہ منذر بن جریر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

Jarir transmitted this hadith from his father through another chain of narrators.

6804Sahih Muslimصحیح

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَی هُدًی کَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَةٍ کَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا

یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی کو ہدایت کی دعوت دی تو اس کے لئے اس کی پیروی کرنے والے کے برابر ثواب ہوگا اور ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی اور جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی تو اس کے لئے اس کی پیروی کرنے والے کے برابر گناہ ہوگا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who called (people) to righteousness, there would be reward (assured) for him like the rewards of those who adhered to it, without their rewards being diminished in any respect. And he who called (people) to error, he shall have to carry (the burden) of its sin, like those who committed it, without their sins being diminished in any respect.

6805Sahih Muslimصحیح

اللہ کے ذکر کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْکُرُنِي إِنْ ذَکَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَکَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَکَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَکَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتا ہے میں اپنے بندوں کے گمان کے مطابق ان سے معاملہ کرتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی گروہ میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو ان سے بہتر ہے اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں (میری رحمت) اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I am near to the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him as he remembers Me. And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in assembly, better than his (remembrance), and if he draws near Me by the span of a palm, I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And if he walks towards Me, I rush towards him.

6806Sahih Muslimصحیح

اللہ کے ذکر کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں مذکور نہیں ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters, but there is no mention of these words: "He draws near Me by the space of a hand, I draw near him by the space (covered) by four hands."

6807Sahih Muslimصحیح

اللہ کے ذکر کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ أَتَيْتُهُ بِأَسْرَعَ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میرا بندہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں (میری رحمت) چار ہاتھ اس کی طرف بڑھتی ہے اور جب وہ میری طرف چار ہاتھ بڑھتا ہے تو میں (میری رحمت) تیزی سے بڑھتی ہے۔

Hammam bin Munabbih reported so many ahadith from Abu Hurairah (RA) and one out of them is this; that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that Allah thus stated: When My servant draws close to me by the span of a palm, I draw close to him by the space of a cubit, and when he draws close to Me by the space of a cubit, I draw close to him by the space (covered) by two hands, and when he draws close to Me by the space (covered by) two hands, I go in hurry towards him.

6808Sahih Muslimصحیح

اللہ کے ذکر کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَکَّةَ فَمَرَّ عَلَی جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ فَقَالَ سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الذَّاکِرُونَ اللَّهَ کَثِيرًا وَالذَّاکِرَاتُ

امیہ بن بسطام عیشی یزید ابن زریع روح بن قاسم عنہ علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ مکہ کے راستے میں چل رہے تھے آپ ایک پہاڑ پر سے گزرے جسے جمدان کہا جاتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا چلتے رہو یہ جمدان ہے مفردون آگے بڑھ گئے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مفردون کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مرد و عورتیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was travelling along the path leading to Makkah that he happened to pass by a mountain called Jumdan. He said: Proceed on, it is Jumdan, Mufarradun have gone ahead. They (the Companions of the Holy Prophet) said: Allahs Messenger, who are Mufarradun? He said: They are those males and females who remember Allah much.

6809Sahih Muslimصحیح

اللہ تعالیٰ کے ناموں اور انہیں یاد کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ مَنْ أَحْصَاهَا

عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن ابی عمر (رض) سفیان، عمرو سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے ننانوے نام ہیں جو انہیں یاد کرے جنت میں داخل ہوگا اور اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے اور حضرت ابن ابی عمر (رض) کی روایت میں ہے جو انہیں شمار کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There are ninety-nine names of Allah; he who commits them to memory would get into Paradise. Verily, Allah is Odd (He is one, and it is an odd number) and He loves odd number. And in the narration of Ibn Umar (the words are): "He who enumerated them."

6810Sahih Muslimصحیح

اللہ تعالیٰ کے ناموں اور انہیں یاد کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَزَادَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ایوب ابن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ننانوے نام ہیں جس نے انہیں یاد کیا وہ جنت میں داخل ہوگا ہمام نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily, there are ninety-nine names for Allah, i. e. hundred excepting one. He who enumerates them would get into Paradise. And Hammam has made this addition on the authority of Abu Hurairah (RA) who reported it from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: "He is Odd (one) and loves odd number."

6811Sahih Muslimصحیح

یقین کے ساتھ دعا کرنے اور اگر تو چاہے تو عطا کردے نہ کہنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَائِ وَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُسْتَکْرِهَ لَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن علیہ، ابوبکر اسماعیل بن علیہ عبدالعزیز بن صہیب حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو پورے یقین سے مانگے اور یہ نہ کہے اے اللہ اگر تو چاہے تو عطا کر کیونکہ اللہ کسی سے مجبور نہیں ہے۔

Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When one of you makes supplication, he should supplicate with a will and should not say: O Allah, confer upon me if Thou likest, for there is none to coerce Allah.