دو رخے انسان کی مذمت کے اور اس طرح کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مشیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم قیامت کے دن سب سے زیادہ برے حال میں اس آدمی کو پاؤ گے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: You will find the worst amongst the people one having double face. He comes to some people with one face and to the others with the other face.
جھوٹ بولنے کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتوں کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَکَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَيْسَ الْکَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْئٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ کَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس حضرت ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ حمید بن عبدالرحمن بن عوف (رض) نے مجھے خبر دی ہے کہ ان کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ابتداء ٍہجرت اور نبی ﷺ سے بیعت کرنے والوں میں سے تھیں وہ خبر دیتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ آدمی جھوٹا نہیں ہے کہ جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور اچھی بات کہتا ہے اور دوسرے کی طرف اچھی بات منسوب کرتا ہے ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں سے صرف تین موقعوں پر جھوٹ بولنے کا جواز سنا ہے (1) جنگ (2) لوگوں کے درمیان صلح کرتے وقت (3) آدمی کا اپنی بیوی سے بات کرتے وقت اور بیوی کا اپنے خاوند سے بات کرتے وقت۔
Humaid bin Abdul Rahman bin Auf reported that his mother Umm Kulthum daughter of Uqba bin Abu Muait, and she was one amongst the first emigrants who pledged allegiance to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , as saying that she heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A liar is not one who tries to bring reconciliation amongst people and speaks good (in order to avert dispute), or he conveys good. Ibn Shihab said he did not hear that exemption was granted in anything what the people speak as lie but in three cases: in battle, for bringing reconciliation amongst persons and the narration of the words of the husband to his wife, and the narration of the words of a wife to her husband (in a twisted form in order to bring reconciliation between them).
جھوٹ بولنے کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ وَقَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْئٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ
عمرو ناقد یعقوب بن ابراہیم، سعد ابوصالح محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن شہاب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
جھوٹ بولنے کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتوں کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَنَمَی خَيْرًا وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
عمروناقد، اسماعیل بن ابراہیم، زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں دوسرے آدمی کی طرف خیر کی بات منسوب کرنے کا ذکر ہے اور اس کے بعد کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّی يُکْتَبَ صِدِّيقًا وَيَکْذِبُ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، ابوالاحوص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سخت قبیح چیز کیا ہے وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پھیلاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا آدمی سچ کہتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ سچا لکھا جاتا ہے اور وہ جھوٹ کہتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Abdullah bin Masud reported that Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Should I inform you that slandering, that is in fact a tale-carrying which creates dissension amongst people, (and) he (further) said: The person tells the truth until he is recorded as truthful, and he tells a lie until he is recorded as a liar.
جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّی يُکْتَبَ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إِلَی الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَکْذِبُ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، منصور ابو وائل حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے اور انسانی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ سچا لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Truth leads one to Paradise and virtue leads one to Paradise and the person tells the truth until he is recorded as truthful, and lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell, and the person tells a lie until he is recorded as a liar.
جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْکَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شبیہ ہناد بن سری ابوالاحوص منصور ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور بندہ سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی ہے اور یہ برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے اور بندہ جھوٹ بولنے میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لکھا ہے۔
Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Telling of truth is a virtue and virtue leads to Paradise and the servant who endeavours to tell the truth is recorded as truthful, and lie is obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the servant who endeavours to tell a lie is recorded as a liar. Ibn Abu Shaiba reported this from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْکُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِيَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إِلَی الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَکْذِبُ وَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ کَذَّابًا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ وکیع، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is obligatory for you to tell the truth, for truth leads to virtue and virtue leads to Paradise, and the man who continues to speak the truth and endeavours to tell the truth is eventually recorded as truthful with Allah, and beware of telling of a lie for telling of a lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the person who keeps telling lies and endeavours to tell a lie is recorded as a liar with Allah.
جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَی وَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ وَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ حَتَّی يَکْتُبَهُ اللَّهُ
منجاب بن حارث تمیمی ابن مسہر اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں جھوٹ بولنے کا متمنی رہنے کا ذکر نہیں ہے اور ابن قسم کی روایت میں یہ ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اسے لکھ لیتا ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters and no mention is made in the hadith transmitted on the authority of Isa (of these words): "He who endeavours to tell the truth and endeavours to tell a lie," and in the hadith transmitted on the authority of Mushir (the words are): "Until Allah records it".
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيکُمْ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ لَيْسَ ذَاکَ بِالرَّقُوبِ وَلَکِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا قَالَ فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيکُمْ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ قَالَ لَيْسَ بِذَلِکَ وَلَکِنَّهُ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
قتیبہ بن سعید، عثمان بن ابی شیبہ قتیبہ جریر، اعمش، ابراہیم، تیمی حارث بن سوید حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں رقوب کسے شمار کیا جاتا ہے ؟ (یعنی رقوب کا معنی کیا ہے ؟ ) راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا جس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوتی ہو آپ ﷺ نے فرمایا رقوب اسے نہیں کہتے بلکہ رقوب کا معنی یہ ہے کہ جس آدمی نے پہلے سے اپنی اولاد میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو آپ ﷺ نے فرمایا تم پہلوان کس کو شمار کرتے ہو راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی کہ جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ پہلوان نہیں ہے بلکہ پہلوان وہ ہے کہ جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔
Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Whom do you count as "Raqub" amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage.Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Whom do you count as "Raqub" amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage.
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کے معنی کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَا کِلَاهُمَا قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
یحییٰ بن یحیی، عبدالاعلی بن حماد مالک ابن شہاب سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاقتور پہلوان وہ آدمی نہیں ہے کہ کشتی کرتے وقت اپنے مد مقابل کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ آدمی ہے کہ جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The strong-man is not one who wrestles well but the strong man is one who controls himself when he is in a fit of rage.
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ قَالُوا فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
حاجب بن ولید محمد بن حرب زبیدی زہری حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ طاقتور آدمی پہلوان نہیں ہوتا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر طاقتور کون آدمی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: One is not strong because of ones wrestling skillfully. They said: Allahs Messenger, then who is strong? He said: He who controls his anger when he is in a fit of rage.
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرہان بن بہزام ابویمان شعیب زہری، حمید بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَهَلْ تَرَی بِي مِنْ جُنُونٍ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ فَقَالَ وَهَلْ تَرَی وَلَمْ يَذْکُرْ الرَّجُلَ
یحییٰ بن یحیی، محمد بن علاء، علاء ابومعاویہ اعمش، عدی بن ثابت حضرت سلیمان بن صرد (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ان میں سے ایک آدمی کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ آدمی اسے کہہ لے تو اس سے (یہ غصہ) جاتا رہے (وہ کلمہ یہ ہے) أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وہ آدمی عرض کرنے لگا کیا آپ ﷺ مجھ میں جنون خیال کر رہے ہیں ابن علاء کی روایت میں هَلْ تَرَی کا لفظ ہے الرَّجُلَ کا لفظ نہیں ہے۔
Sulaiman bin Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the eyes of one of them became red as embers and the veins of his neck were swollen. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I know of a wording, if he were to utter that, his fit of rage (would be no more and that wording is): I seek refuge with Allah from Satan the accursed. The person said: Do you find any madness in me? Ibn al-Ala said: Do you see it? And he made no mention of the person.
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَامَ إِلَی الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا قَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَمَجْنُونًا تَرَانِي
نصر بن علی جہضمی ابواسامہ اعمش، عدی ثابت حضرت سلیمان بن صرد (رض) کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ان میں سے ایک کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگیا نبی ﷺ نے اس آمی کی طرف دیکھا تو فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہہ لے تو اس سے (غصہ کی یہ حالت) جاتی رہے (وہ کلمہ یہ ہے) أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ایک آدمی اس آدمی کی طرف کھڑا ہوا اور اس نے نبی ﷺ سے جو سنا اس آدمی کو کہا کہ کیا تو جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی ابھی کیا فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہ لے تو اس سے غصہ کی حالت جاتی رہے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ تو اس آدمی نے کہا کیا تو مجھے پاگل سمجھتا ہے۔
Sulaiman bin Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and one of them fell into a rage and his face became red. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw him and said: I know of a wording; if he were to utter that, he would get out (of the fit of anger) (and the wording is): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. Thereupon, a person went to him who had heard that from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said to him: Do you know what Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said? He (the Holy Prophet) said: I know of a wording; if he were to say that, (the fit) would be no more (and the words are): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. And the person said to him: Do you find me mad?
غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضلیت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شبیہ حفص بن غیاث، حضرت اعمش (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ انسان کی پیدائش بے قابو ہونے پر ہی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَکَهُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُکَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَکُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد حماد بن سلمہ ثابت بن انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنایا تو اسے اللہ تعالیٰ نے جتنا عرصہ چاہا جنت میں چھوڑے رکھا ابلیس اس کے چاروں طرف گھومتا رہا اور اسے دیکھتا رہا کہ وہ کیا ہے تو جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے کھو کھلا ہے کہ اللہ نے اسے ایسی مخلوق بنایا ہے کہ جو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے گا۔
Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When Allah fashioned Adam علیہ السلامعلیہ السلامin Paradise, He left him as He liked him to leave. Then Iblis roamed round him to see what actually that was and when he found him hollow from within, he recognised that he had been created with a disposition that he would not have control over himself.
اس بات کے بیان میں کہ انسان کی پیدائش بے قابو ہونے پر ہی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ بہزحضرت حماد اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters.
چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مغیرہ زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے بچے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When any one of you fights with his brother he should avoid striking at the face.