جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَبِي حَازِمٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَکُونُونَ شُهَدَائَ وَلَا شُفَعَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، معاویہ بن ہشام ہشام بن سعد زید بن اسلم ابی حازم ام دردا حضرت ابودرداء (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن گواہی دینے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی شفاعت کرنے والے ہوں گے۔
Umm Darda reported on the authority of Abu Darda as saying: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The invoker of curse would neither be witness nor intercessor on the Day of Resurrection.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَی الْمُشْرِکِينَ قَالَ إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً
محمد بن عباد ابن ابی عمر مروان یزید بن کیسان ابی حازم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول مشرکوں کے خلاف بد دعا فرمائیں آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported it was said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Invoke curse upon the polytheists, whereupon he said: I have not been sent as the invoker of curse, but "I have been sent as mercy."
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَکَلَّمَاهُ بِشَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ وَمَا ذَاکِ قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابی ضحی مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو آدمی آئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں بات کی میں نہیں جانتا کہ وہ کیا بات تھی انہوں نے آپ ﷺ کو ناراض کردیا تو آپ ﷺ نے ان دونوں آدمیوں پر لعنت کی اور ان کو برا کہا تو جب وہ دونوں آدمی چلے گئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ان دونوں آدمیوں کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ تکلیف اور کسی کو نہ پہنچی ہوگی آپ نے فرمایا وہ کس طرح حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا آپ ﷺ نے ان دونوں آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے اور انہیں برا کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے کیا شرط لگائی ہے میں نے کہا اے اللہ میں ایک انسان ہوں تو میں نے مسلمانوں میں سے جس پر لعنت کروں یا اسے برا کہوں تو تو اسے اس کے گناہوں کی پاکی اور اجر بنا دے۔
Aisha reported that two persons visited Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said: Allahs Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Dont you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ و قَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَی فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ جعلی بن حجر سعدی علی بن حجر سعدی اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش (رض) اس سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے خلوت میں ملاقات کی ان کو برا کہا اور ان پر لعنت کی اور انہیں نکال دیا۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Isa (the words are): "He had a private meeting with them and hurled malediction upon them and cursed them and sent them out."
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَکَاةً وَرَحْمَةً
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تو ایک انسان ہوں اور مسلمانوں میں سے جس آدمی کو برا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: O Allah, I am a human being and for any person amongst Muslims upon whom I hurl malediction or invoke curse or give him whipping make it a source of purity and mercy.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَکَاةً وَأَجْرًا
ابن نمیر، ابی اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں پاکیزگی اور اجر کا ذکر ہے۔
Jabir reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a hadith like it but with a slight variation of wording.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَی جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش (رض) سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amash and in the hadith transmitted on the authority of Isa the words are: Make it a source of reward, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) (the words are): "Make it a source of mercy."
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَکَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو ہرگز وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں صرف ایک انسان ہوں جس مومن کو میں تکلیف دوں اس کو برا کہوں اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو تو اسے اس کے لئے رحمت اور پاکیزگی اور ایسا باعث قرب بنا دے کہ وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: O Allah, I make a covenant with Thee against which Thou wouldst never go. I am a human being and thus for a Muslim whom I give any harm or whom I scold or upon whom I invoke curse or whom I beat, make this a source of blessing, purification and nearness to Thee on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَوْ جَلَدُّهُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ
ابن ابی عمر سفیان، ابوزناد حضرت ابوالزناد اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad with a slight variation of wording.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
سلیمان بن معبد سلیمان بن حرب حماد بن زید ایوب عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
A hadith like this has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی النَّصْرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ کَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَإِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ کَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید سالم نضر حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اے اللہ میں جس مومن بندے کو برا کہوں تو تو اسے اس بندے کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کو ذریعہ بنا دے۔
Salim, the freed slave of Nasriyyin, said: I heard Abu Hurairah (RA) as saying that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: O Allah, Muhammad is a human being. I lose my temper just as human beings lose temper, and I have held a covenant with Thee which Thou wouldst not break: For a believer whom I give any trouble or invoke curse or beat, make that an expiation (of his sins and a source of) his nearness to Thee on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِکَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اے اللہ میں جس مومن بندے کو برا کہوں تو تو اسے اس بندے کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کا ذریعہ بنا دے۔
Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: O Allah, for any believing servant whom I curse make that as a source of nearness to Thee on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِکَ کَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
زہیر بن حرب، عبد بن حمید زہیر یعقوب بن ابراہیم، ابن اخی ابن شہاب عمہ سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے ہیں اے اللہ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں اور تو ہرگز وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کا بھی برا کہوں یا اسے سزا دوں تو قیامت کے دن اسے اس کے لئے کفارہ کر دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I have held covenant with Thee which Thou wouldst not break, so for any believer whom I curse or beat, make that an expiation on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَکُونَ ذَلِکَ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا
ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں تو صرف ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے رب تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے جس بندے کو میں سب و شتم کروں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنا دے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I am a human being and I have made this term with my Lord, the Exalted and Glorious: For any servant amongst Muslims whom I curse or scold, make that a source of purity and reward.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن ابی خلف روح عبد بن حمید ابوعاصم، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ کَبِرْتِ لَا کَبِرَ سِنُّکِ فَرَجَعَتْ الْيَتِيمَةُ إِلَی أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْکِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَکِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتْ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَکْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا يَکْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّی لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَی يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّکَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَکْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَکْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَی رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَی کَمَا يَرْضَی الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ کَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَکَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ و قَالَ أَبُو مَعْنٍ يُتَيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنْ الْحَدِيثِ
زہیر بن حرب، ابومعن رقاشی زہیر اسحاق بن ابی طلحہ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ام سلیم کے پاس ایک یتیم بچی تھی اور وہ ام انس تھی رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا یہ تو وہی بچی ہے تو تو بڑی ہوگئی ہے اللہ کرے تیری عمر بڑی نہ ہو یہ سن کر وہ لڑکی ام سلیم کے پاس روتے ہوئے آئی ام سلیم نے کہا اے بیٹی تجھے کیا ہوا اس لڑکی نے کہا رسول اللہ ﷺ نے مجھے بد دعا دی ہے کہ میری عمر بڑی نہ ہو تو اب میں کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی یا اس نے کہا میرا زمانہ زیادہ نہ ہوگا تو حضرت ام سلیم جلدی میں اپنے سر پر چادر اوڑھتے ہوئے نکلی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے ام سلیم تجے کیا ہوا حضرت ام سلیم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی کیا آپ ﷺ نے میری یتیم بچی کے لئے بد دعا کی ہے آپ نے فرمایا اے ام سلیم وہ کیا ؟ حضرت ام سلیم نے عرض کیا اس بچی کا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے اسے یہ بد دعا دی ہے کہ اس کی عمر بڑی نہ ہو اور نہ اس کا زمانہ بڑا ہو راوی کہتے ہیں کہ اس کی عمر بڑی نہ ہو اور نہ اس کا زمانہ بڑا ہو راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ سن کر ہنسے پھر فرمایا اے ام سلیم کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے شرط لگائی ہے اور میں نے عرض کیا ہے کہ میں ایک انسان ہوں میں راضی ہوتا ہوں جس طرح کہ انسان راضی ہوتا ہے اور مجھے غصہ آتا ہے جس طرح کہ انسان کو غصہ آتا ہے تو اگر میں اپنی امت میں سے کسی آدمی کو بد دعا دوں اور وہ اس بد دعا کا مستحق نہ ہو تو (اے اللہ ! ) اس بد دعا کو اس کے لئے پاکیزگی کا سبب بنادینا اور اسے اس کے لئے ایسا قرب کرنا کہ جس سے وہ قیامت کے دن تجھ سے تقرب حاصل کرے۔ راوی ابومعن نے تینوں جگہ یتیمہ تصغیر کے ساتھ ذکر کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that there was an orphan girl with Umm Sulaim (who was the mother of Anas). Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw that orphan girl and said: O, it is you; you have grown young. May you not advance in years! That slave-girl returned to Umm Sulaim weeping. Umm Sulaim said: O daughter, what is the matter with you? She said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has invoked curse upon me that I should not grow in age and thus I would never grow in age, or she said, in my (length) of life. Umm Sulaim went out wrapping her head-dress hurriedly until she met Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said to her: Umm Sulaim, what is the matter with you? She said: Allahs Apostle, you invoked curse upon my orphan girl. He said: Umm Sulaim, what is that? She said: She (the orphan girl) states you have cursed her saying that she might not grow in age or grow in life. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) smiled and then said: Umm Sulaim, dont you know that I have made this term with my Lord. And the term with my Lord is that I said to Him: 1 am a human being and I am pleased just as a human being is pleased and I lose temper just as a human being loses temper, so for any person from amongst my Ummah whom I curse and he in no way deserves it, let that, O Lord, be made a source of purification and purity and nearness to (Allah) on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَائَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْکُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْکُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی قُلْتُ لِأُمَيَّةَ مَا حَطَأَنِي قَالَ قَفَدَنِي قَفْدَةً
محمد بن مثنی، عنبری ابن بشار ابن مثنی امیہ بن خالد شعبہ، ابی حمزہ قصاب حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے میرے دونوں کندھوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں آیا اور پھر میں نے عرض کیا وہ (کھانا) کھا رہے ہیں ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے پھر آ کر عرض کیا وہ کھانا کھا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ابن المثنی نے کہا میں نے امیہ سے کہا حطانی کیا ہے انہوں نے کہا تھپکی دینا۔
Ibn Abbas (RA) reported: I was playing with children that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) happened to pass by (us). I hid myself behind the door. He (the Holy Prophet) came and he patted upon my shoulders and said: Go and call Muawiyah. I returned and said: He is busy in taking food. He again asked me to go and call Muawiyah to him. I went (and came back) and said that he was busy in taking food, whereupon he said: May Allah not fill his belly! Ibn Muthanna, said: I asked Umm Umayya what he meant by the word Hatani. He said: It means "he patted my shoulders".
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن منصور نضر بن شمیل شعبہ، ابوحمزہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو میں آپ ﷺ سے چھپ گیا پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abbas (RA) with a slight variation of wording.
دو رخے انسان کی مذمت کے اور اس طرح کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن زناد اعرج حضرت ابویوہرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے برا وہ آدمی ہے جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The worst amongst the people is the double-faced one; he comes to some people with one face and to others with the other face.
دو رخے انسان کی مذمت کے اور اس طرح کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک ابن مالک حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سب سے برا وہ آدمی ہے کہ جو دو رخوں والا ہے کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے اس کا رخ اور ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The worst amongst people is one with the double face. He comes to some people with one face and to others with the other face.