معاف کرنے اور عاجزی اختیار کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور جو آدمی بھی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Charity does not in any way decrease the wealth and the servant who forgives Allah adds to his respect, and the one who shows humility Allah elevates him in the estimation (of the people).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ ﷺ فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do you know what is backbiting? They (the Companions) said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Backbiting implies your talking about your brother in a manner which he does not like. It was said to him: What is your opinion about this that if I actually find (that failing) in my brother which I made a mention of? He said: If (that failing) is actually found (in him) what you assert, you in fact backbited him, and if that is not in him it is a slander.
اس آدمی کے لئے بشارت کے بیان میں کہ جس کے عیب کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں چھپایا آخرت میں بھی اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا۔
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَی عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
امیہ بن بسطام عیشی یزیدی ابن زریع روح سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کے عیب چھپاتا ہے قیامت کے دن بھی اللہ اس کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن بھی اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The servant (whose fault) Allah conceals in this world, Allah would also conceal (his faults) on the Day of Resurrection.
اس آدمی کے لئے بشارت کے بیان میں کہ جس کے عیب کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں چھپایا آخرت میں بھی اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان وہیب سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The servant (who conceals) the faults of others in this world, Allah would conceal his faults on the Day of Resurrection.
جس آدمی سے بے ہودہ گفتگو کو خطرہ ہو اس سے نرم گفتگو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَکَهُ النَّاسُ اتِّقَائَ فُحْشِهِ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر ابی ابی شیبہ عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابن عیینہ زہیر سفیان، ابن عیینہ ابن منکدر عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے (ملنے کی) اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے اجازت دے دو یہ اپنے قبیلہ کا برا آدمی ہے تو جب وہ آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اس آدمی سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس آدمی کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا جو فرمایا پھر آپ نے اس آدمی سے نرمی سے گفتگو کی آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں سے سب سے برا آدمی وہ ہوگا کہ جس کی بیہودگی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔
Aisha reported that a person sought permission from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to see him. He said: Grant him permission, and also added: He is a bad son of his tribe or he is a bad person of his tribe. When he came in he used kind words for him. Aisha reported that she said: Allahs Messenger, you said about him what you had to say and then you treated him with kindness. He said: Aisha, verily in the eye of Allah, worst amongst the person in rank on the Day of Resurrection is one whom the people abandon or desert out of the fear of indecency.
جس آدمی سے بے ہودہ گفتگو کو خطرہ ہو اس سے نرم گفتگو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ وَابْنُ الْعَشِيرَةِ
محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، حضرت ابن المنکدر سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اس میں صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Munkadir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید سفیان، بن منصور تمیم بن سلمہ عبدالرحمن بن ہلال حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا
Jarir reported from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، ابوکریب ابومعاویہ ابوسعید اشج حفص ابن غیاث اعمش، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر اسحاق جریر، اعمش، تیمیم بن سلمہ عبدالرحمن بن ہلال عبسی، حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے ہیں کہ جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا۔
Jarir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُرِمَ الرِّفْقَ حُرِمَ الْخَيْرَ أَوْ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
یحییٰ بن یحیی، عبدالوحد بن زیاد محمد بن ابی اسماعیل عبدالرحمن بن ہلال حضرت جریر عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا۔
Jarir bin Abdullah reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good and he who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَی مَا سِوَاهُ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابن ہاد بکر بن حزم بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! اللہ رفیق ہے اور رفق (یعنی نرمی) کو پسند کرتا ہے اور نرمی اختیار کرنے کی بناء پر وہ اس قدر عطا فرماتا ہے کہ جو سختی یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے اس قدر عطا نہیں فرماتا۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Aisha, verily Allah is kind and He loves kindness and confers upon kindness which he does not confer upon severity and does not confer upon anything else besides it (kindness).
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَکُونُ فِي شَيْئٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا شَانَهُ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، مقدام ابن شریخ بن ہانی سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز میں سے نرمی نکال دی جاتی ہے تو وہ چیز بد صورت ہوجاتی ہے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Kindness is not to be found in anything but that it adds to its beauty and it is not withdrawn from anything but it makes it defective.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ رَکِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا فَکَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْکِ بِالرِّفْقِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، مقدام بن شریح بن ہانی سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) ایک سرکش اونٹ پر سوار ہوئیں اور اسے چکر دینے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) سے ارشاد فرمایا نرمی اختیار کرو پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
This hadith has been reported by Miqdam bin Shuraih bin Hani with the same chain of transmitters but with this addition: "Aisha mounted upon a wild camel and she began to make that go round and round. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You should show kindness, and then he made a mention of this hadith.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَامْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَی نَاقَةٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ قَالَ عِمْرَانُ فَکَأَنِّي أَرَاهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ
ابوبکر بن ابی شبہ زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیراسماعیل بن ابراہیم، ایوب ابی قلابہ ابی مہلب حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی تو اچانک وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اپنی اس اونٹنی پر لعنت کی رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس اونٹنی پر جو سامان ہے اسے پکڑ لو اور اس اونٹنی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ملعونہ ہے حضرت عمران (رض) فرماتے ہیں گویا کہ میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی لوگوں کے درمیان چل پھر رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا۔
Imran bin Husain reported: We were with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in some of his journeys and there was a woman from the Ansar riding a she-camel that it shied and she invoked curse upon that. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard it and said: Unload that and set it free for it is accursed. Imran said: I still perceive that (dromedary) walking amongst people and none taking any notice of that.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادِ إِسْمَعِيلَ نَحْوَ حَدِيثِهِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ عِمْرَانُ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَائَ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ فَقَالَ خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ
قتیبہ بن سعید، ابوربیع حماد ابن زید ابن ابی عمر ثقفی ایوب اسماعیل حماد عمران اس روایت کی دو سندیں بیان کی گئی ہے ان میں سے ایک سند کے ساتھ حضرت عمران (رض) فرماتے ہیں کہ گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کی طرف دیکھ رہا ہوں اور دوسری سند کے ساتھ روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا اس اونٹنی پر جو سامان ہے اسے پکڑ لو اور اس کی پشت خالی کر کے چھوڑ دو کیونکہ یہ اونٹنی ملعونہ ہے۔
Imran reported: I perceive as if I am looking towards that dromedary, and in the hadith transmitted on the authority of Thaqafi (the words are): "Unload it and make its back bare for it is accursed."
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَی نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَضَايَقَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَقَالَتْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَاحِبْنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ
ابوکامل جحدری فضیل بن حسین یزید ابن زریع تیمی ابی عثمان حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ ایک باندی اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھی اس پر لوگوں کا کچھ سامان رکھا ہوا تھا کہ اچانک اس نے نبی ﷺ کو دیکھا حالانکہ ان کے درمیان پہاڑ کا تنگ درہ تھا تو وہ باندی کہنے لگی (اونٹنی کو) اے اللہ اس پر لعنت کر تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے کہ جس پر لعنت کی گئی ہے۔
Abu Burza al-Aslami reported that a slave-girl was riding a dromedary and there was also the luggage of people upon it that she suddenly saw Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The way of the mountain was narrow and she said (to that dromedary): Go ahead (but that dromedary did not move). She (that slave-girl), out of anger, said: O Allah, let that (dromedary) be damned. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Let the dromedary on which the curse has been invoked not proceed with us.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ لَا أَيْمُ اللَّهِ لَا تُصَاحِبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنْ اللَّهِ أَوْ کَمَا قَالَ
محمد بن عبدالاعلی معتمر بن سلیمن عبیداللہ بن سعید یحییٰ ابن سعید حضرت سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ کی قسم ہمارے ساتھ وہ سواری نہ رہے کہ جس پر اللہ کی لعنت کی گئی ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters but with a variation of words (and that is): "By Allah, let that accompany us not which has been damned, or he said like it."
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَکُونَ لَعَّانًا
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، سلیمان ابن بلال علاء بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدیق کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It does not seem proper for Siddiq that he should be an invoker of curse.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوکریب خالد بن مخلد محمد بن جعفر، حضرت علاء بن عبدالرحمن (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کیطرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Kuraib with the same chain of transmitters.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَی أُمِّ الدَّرْدَائِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا أَنْ کَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِکِ مِنْ اللَّيْلِ فَدَعَا خَادِمَهُ فَکَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَائِ سَمِعْتُکَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَکَ حِينَ دَعَوْتَهُ فَقَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَکُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَائَ وَلَا شُهَدَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سوید بن سعید حفص بن میسرہ حضرت زید بن اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء کی طرف اپنی طرف سے کچھ آرائشی سامان بھیجا پھر جب ایک رات عبدالملک اٹھا اور اس نے اپنے خادم کو بلایا تو اس نے آنے میں دیر کردی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی پھر جب صبح ہوئی تو حضرت ام دردا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابوالدردا (رض) سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شفاعت کرنے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی گواہی دینے والے ہوں گے۔
Zaid bin Aslam reported that Abdul Malik bin Marwan sent some domestic goods for decoration to Umm Darda on his own behalf, and when it was night Abdul Malik got up and called for the servant. It seemed as if he (the servant) was late (in responding to his call), so he (Abdul Malik) invoked curse upon him, and when it was morning Umm Darda said to him: I heard you cursing your servant during the night when you called him, and she said: I heard Abu Darda as saying that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The invoker of curse would neither be intercessor nor witness on the Day of Resurrection.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غسان مسمعی عاصم، بن نضر تیمی معتمر بن سلیمان اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، حضرت زید بن اسلم (رض) سے اس سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.