ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَی عَنْ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّهُ قَالَ يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِکُمْ يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْکُمْ يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُهُ فَاسْتَکْسُونِي أَکْسُکُمْ يَا عِبَادِي إِنَّکُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَکُمْ يَا عِبَادِي إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِي مُلْکِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا کَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِيهَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّيکُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِکَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ قَالَ سَعِيدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ
عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہرام دارمی مروان ابن محمد دمشقی سعید بن عبدالعزیز ربیعہ یزید بن ابی ادریس خولانی حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے روایت ہے اللہ عزوجل نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے کہ جسے میں ہدایت دوں تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو تو میں تمہیں لباس پہناؤں گا اے میرے بندو تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا اے میرے بندو تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو اے میرے بندو اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہوجاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہوجاؤ کہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کرسکتے اے میرے بندو اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔ اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لئے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے حضرت سعد (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, said: My servants, I have made oppression unlawful for Me and unlawful for you, so do not commit oppression against one another. My servants, all of you are liable to err except one whom I guide on the right path, so seek right guidance from Me so that I should direct you to the right path. O My servants, all of you are hungry (needy) except one whom I feed, so beg food from Me, so that I may give that to you. O My servants, all of you are naked (need clothes) except one whom I provide garments, so beg clothes from Me, so that I should clothe you. O My servants, you commit error night and day and I am there to pardon your sins, so beg pardon from Me so that I should grant you pardon. O My servants, you can neither do Me any harm nor can you do Me any good. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and even the whole of human race of yours, and that of jinns even, become (equal in) God-conscious like the heart of a single person amongst you, nothing would add to My Power. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and the whole human race of yours and that of the Jinns too in unison become the most wicked (all beating) like the heart of a single person, it would cause no loss to My Power. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and the whole human race of yours and that of jinns also all stand in one plain ground and you ask Me and I confer upon every person what he asks for, it would not. in any way, cause any loss to Me (even less) than that which is caused to the ocean by dipping the needle in it. My servants, these for you I shall reward you for thern, so he who deeds of yours which I am recording finds good should praise Allah and he who does not find that should not blame anyone but his ownself. Said said that when Abu Idris Khaulini narrated this hadith he knelt upon his knees.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ مَرْوَانَ أَتَمُّهُمَا حَدِيثًا
ابوبکر بن اسحاق ابومسہر مروان حضرت سعید بن عبدالعزیز اس سند کی اس روایت بیان کرتے ہیں کہ سوائے اس کے کہ مروان کی روایت ان دونوں روایتوں میں پوری ہے۔
The hadith is narrated through Abu Mushir from Said bin AbdilAziz except that the previous hadith through Marwan was the more complete of the two.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ابْنَا بِشْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ فَذَکَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ابو اسحاق حسن و الحسین بشر محمد بن یحییٰ ابومسہر حضرت ابواسحاق کہتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث حضرات حسن و حسین (رض) بشر کے بیٹے اور محمد بن یحییٰ نے ابومسہر کے حوالہ سے طویل ذکر کی ہے۔
This hadith is also transmitted through Ibna Bashr and Muhammad bin Muhammad through Abu Mashur through the same chain, narrated to its (full) extent
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَی نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَی عِبَادِي فَلَا تَظَالَمُوا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ الَّذِي ذَکَرْنَاهُ أَتَمُّ مِنْ هَذَا
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث ہمام قتادہ، ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کا فرمان بیان کیا ہے : (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میں نے اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم آپس میں ظلم نہ کرو اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that he reported it from his Lord, the Exalted and Glorious: Verily I have made oppression unlawful for Me and for My servants too, so do not commit oppression. The rest of the hadith is the same.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَهُمْ عَلَی أَنْ سَفَکُوا دِمَائَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب داؤد ابن قیس عبیداللہ بن مقسم حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل (یعنی کنجوسی) سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Be on your guardagainst committing oppression, for oppression is a darkness on the Day of Resurrection, and be on your guard against pettimindedness for pettimindedness destroyed those who were before you, as it incited them to shed blood and make lawful what was unlawful for them.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
محمد بن حاتم، شبابہ عبدالعزیز ماجشون عبداللہ بن دینا حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہوں گی۔
Ibu Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Oppression is the darkness on the Day of Resurrection.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ کَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل زہری، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی مصیبت دور کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
Salim reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A Muslim is the brother of a fellow-Muslim. He should neither commit oppression upon him nor ruin him, and he who meets the need of a brotier, Allah would meet big needs, and he who relieved a Muslim from hardship Allah would relieve him from the hardships to which he would be put on the Day of Resurrection, and he who did not expose (the follies of a Muslim) Allah would conceal his follies on the Day of Resurrection.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
قتیبہ بن سعید، علی بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
Abu Hurairah (RA) . reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do you know who is poor? They (the Companions of the Holy Prophet) said: A poor man amongst us is one who has neither dirham with him nor wealth. He (the Holy Prophet) said: The poor of my Umma would be he who would come on the Day of Resurrecton with prayers and fasts and Zakat but (he would find himself bankrupt on that day as he would have exhausted his funds of virtues) since he hurled abuses upon others, brought calumny against others and unlawfully consumed the wealth of others and shed the blood of others and beat others, and his virtues would be credited to the account of one (who suffered at his hand). And if his good deeds fall short to clear the account, then his sins would be entered in (his account) and he would be thrown in the Hell-Fire.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَی أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّی يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَائِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَائِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگوں سے حقداروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے یہاں تک کہ بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لے لیا جائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The claimants would get their claims on the Day of Ressurection so much so that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ثُمَّ قَرَأَ وَکَذَلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَی وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ برید ابن حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ظالم آدمی کو مہلت دے دیتا ہے پھر جب اسے پکڑتا ہے تو پھر وہ اسے نہیں چھوڑتا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَه اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) 11 ۔ ہود : 102) اور اس طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظالم لوگوں کی بستیوں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ بڑی سخت درناک ہے۔
Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, grants respite to the oppessor. But when He lays Hand upon him, He does not then let him off. Re (the Holy Prophet) then recited this verse:" Such is the chastisement of thy Lord when He chastises the towns (inhabited by) wrongdoing persons. Surely, His punishment is painful, severe" (xi. 103).
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَنَادَی الْمُهَاجِرُ أَوْ الْمُهَاجِرُونَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَنَادَی الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا دَعْوَی أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا فَکَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ قَالَ فَلَا بَأْسَ وَلْيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا إِنْ کَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ وَإِنْ کَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ
احمد بن عبداللہ بن یونس زہیر ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ دو لڑکوں کا آپس میں جھگڑا ہوا ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور ایک لڑکا انصار میں سے مہاجر لڑکے نے مہاجروں کو پکارا اور انصاری لڑکے نے انصار کو پکارا تو رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور فرمایا یہ کیا جاہلیت کی پکار ہے لوگوں نے عرض کیا : نہیں ! اے اللہ کے رسول ! سوائے اس کے کہ دو لڑکے آپس میں جھگڑے ہیں ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے کی سرین پر مارا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں آدمی کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم اگر ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکو کیونکہ یہ اس کی مدد ہے اور اگر مظلوم ہے تو اس کی مدد کرو۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that two young men, one from the Muhajirin (emigrants) and the other one from the Angr (helpers) fell into dispute and the Muhajir called his fellow Muhajirin, and the Ansari (the helper) called the Ansar (for help). In the meanwhile, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came there and said: What is this, the proclamation of the days of jahiliya (ignorance)? They said: Allahs Messenger, there is nothing serious. The two young men fell into dispute and the one struck at the back of the other. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Well, a person should help his brother whether he is an oppressor or an oppressed. If he is the oppressor he should prevent him from doing it, for that is his help; and if he is the oppressed he should be helped (against oppression).
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَکَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ دَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، احمد بن عبدہ ضبی ابن ابی عمرو ابن ابی شیبہ ابن عبدہ سفیان بن عیینہ، حضرت عمرو اور حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے تو مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا تو انصاری نے کہا اے انصار اور مہاجر نے کہا اے مہاجرو ! (یعنی دونوں نے اپنے اپنے قبائل کو مدد کے لئے پکارا) رسول اللہ ﷺ نے (یہ آواز سن کر) فرمایا یہ کیا جاہلیت کی پکار ہے لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ نازیبا بات ہے عبداللہ بن ابی نے جب یہ سنا تو اس نے کہا مہاجرین نے ایسے کیا ہے اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ہم میں سے عزت والا آدمی العیاذ باللہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو لوگ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: We were along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in an expedition that a person from amongst the emigrants struck at the back of a person from the Ansir. The Ansiri said: O Ansar! And the Muhijir said: O Emigrants! Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What are these proclamations of the Days of Ignorance? They said: Allahs Messenger, a person from the emigrants struck at the back of an Ansari, whereupon he said: It is something disgusting. Abdullah bin Ubayy heard it and said: They have indeed done it. By Allah, when we would return to Madinah the respectable amongst them (the Ansar) would turn away the mean (the emigrants). Thereupon Umar said: Permit me so that I should strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: Leave him, the people may not say that Muhammad kills his companions.
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور محمد بن رافع ابن رافع عبدالرزاق، معمر، ایوب عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا تو وہ انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ سے قصاص کے لئے عرض کیا نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ نازیبا بات ہے ابن منصور نے کہا کہ عمرو کی روایت میں سَمِعْتُ جَابِرًا ہے۔
Jabir bin Abdullah reported that a person from the emigrants struck the back of an Ansari. He came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and asked for compensation. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Leave it. for it is something disgusting. Ibn Mansur said that in the narration transmitted on the authority of Amr (these words are also found):" I heard Jabir."
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ وَابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوعامر اشعری عبداللہ بن ادریس ابواسامہ محمد بن علاء، ابوکریب ابن مبارک ابن ادریس ابواسامہ برید ابوبردہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط رکھتی ہے۔
Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A believer is like a brick for another believer, the one supporting the other.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکَی مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَی لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّی
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی زکریا، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن بندوں کی مثال ان کی آپس میں محبت اور اتحاد اور شفقت میں جسم کی طرح ہے کہ جب جسم کے اعضاء میں سے کسی عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اس کے سارے جسم کو نیند نہیں آئے اور بخار چڑھ جانے میں اس کا شریک ہوجاتا ہے۔
Numan bin Bashir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of believers in regard to mutual love, affection, fellow-feeling is that of one body; when any limb of it aches, the whole body aches, because of sleeplessness and fever.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
اسحاق حنظلی جریر، مطرف شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Numan bin Bashir reported a hadith like this from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ کَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَکَی رَأْسُهُ تَدَاعَی لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّی وَالسَّهَرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، اعمش، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن بندے ایک آدمی کی طرح ہیں کہ اگر اس کا سر دکھتا ہے تو اس کا باقی سارے جسم کے اعضاء بخار اور نیند نہ آنے میں اس کے شریک ہوتے ہیں۔
Numan bin Bashir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The believers are like one person; if his head aches, the whole body aches with fever and sleeplessness.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُونَ کَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَکَی عَيْنُهُ اشْتَکَی کُلُّهُ وَإِنْ اشْتَکَی رَأْسُهُ اشْتَکَی کُلُّهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حمید بن عبدالرحمن اعمش، خیثمہ حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان بندے ایک آدمی کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھنے لگ جاتا ہے اور اگر اس کے سرین میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔
Numan bin Bashir reported that Muslims are like one body of a person; if the eye is sore, the whole body aches, and if the head aches, the whole body aches.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ابن نمیر، حمید بن عبدالرحمن اعمش، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Numan bin Bashir through another chain of transmitters.
گالی گلوچ کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتداء کرنے والے پر ہی ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے (یعنی زیادتی نہ کرے) ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When two persons indulge in hurling (abuses) upon one another, it would be the first one who would be the sinner so long as the oppressed does not transgress the limits.