Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 328 of 379

6552Sahih Muslimصحیح

بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم خالد ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ثوبان (رض) مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اس وقت سے واپس آنے تک جنت کے میوہ زار میں ہوتا ہے۔

Thauban, the freed slave of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who visits the sick continues to remain in the fruit garden of Paradise until he returns.

6553Sahih Muslimصحیح

بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ

یحییٰ بن حبیب حارثی، یزید بن زریع خالد ابی قلابہ ابی اسماء رحبی حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوہ زار میں رہتا ہے۔

Thauban reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily, when a Muslim visits his brother in Islam he is supposed to remain in the fruit garden of Paradise until he returns.

6554Sahih Muslimصحیح

بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، یزید زہیر یزید بن ہارون، عاصم، عبداللہ بن زید ابوقلابہ ابی اشعث صنعانی ابی اسماء رحبی، حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے خرفہ میں رہتا ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول جنت کا خرفہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کے باغات۔

Thauban, the freed slave of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who visits the sick is supposed to remain in the fruit garden of Paradise. It was said: Allahs Messenger, what is this Khurfat-ul-jannah? He said: It is a place abounding in fruits.

6555Sahih Muslimصحیح

بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

سوید بن سعید مروان بن معاویہ حضرت عاصم سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Asim al-Ahwal with the same chain of transmitters.

6556Sahih Muslimصحیح

بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ يَا رَبِّ کَيْفَ أَعُودُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ يَا رَبِّ وَکَيْفَ أُطْعِمُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَکَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ يَا رَبِّ کَيْفَ أَسْقِيکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ اسْتَسْقَاکَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّکَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِي

محمد بن حاتم، بن میمون بہز حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی وہ کہے گا اے پروردگار میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اس کو پانی نہیں پلایا تھا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, would say on the Day of Resurrection: O son of Adam, I was sick but you did not visit Me. He would say: O my Lord; how could I visit Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Didnt you know that such and such servant of Mine was sick but you did not visit him and were you not aware of this that if you had visited him, you would have found Me by him? O son of Adam, I asked food from you but you did not feed Me. He would say: My Lord, how could I feed Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? He said: Didnt you know that such and such servant of Mine asked food from you but you did not feed him, and were you not aware that if you had fed him you would have found him by My side? (The Lord would again say:) O son of Adam, I asked drink from you but you did not provide Me. He would say: My Lord, how could I provide Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Such and such of servant of Mine asked you for a drink but you did not provide him, and had you provided him drink you would have found him near Me.

6557Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَکَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل مسروق، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ جسے رسول اللہ ﷺ کی تکلیف سے بڑھ کر تکلیف ہو۔

Aisha reported, I did not see anyone else being afflicted with more severe illness than Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In the narration transmitted by Uthman there is a slight variation of wording.

6558Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَخْبَرَنِي أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ

عبیداللہ بن معاذ ابی ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، بشر ابن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع عبدالرحمن ابن نمیر، مصعب بن مقدام سفیان، حضرت اعمش (رض) جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash through other chains of transmitters.

6559Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَکُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنِّي أُوعَکُ کَمَا يُوعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي

عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، اعمش، ابراہیم، حارث ابن سوید حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں آیا حال یہ کہ آپ ﷺ کو بخار تھا میں نے ہاتھ رکھ کر دیکھا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو بہت سخت بخار ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کے لئے دوہرا اجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی تکلیف آتی ہے تو اللہ اس تکلیف کے بدلہ میں اس کے اس طرح گناہ معاف کردیتا ہے کہ جس طرح (موسم بہار) میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ اور زہیر کی حدیث میں ہاتھ لگا کر دیکھنے کے الفاظ نہیں ہیں۔

Abdullah reported: I visited Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he was running high temperature. I touched his body with my bard and said to him: Allahs Messenger, you are running high temperature, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Yes, it is so. I comparatively have a more severe fever than any one of you. I said: Is it because there is a double reward in store for you? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Yes, it is so. And Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) again said: When a Muslim falls ill, his compensation is that his minor sins are obliterated just as leaves tall (in autumn). In the hadith transmitted on the authority of Zubair there is (no mention of these words):" I touched his body with my hands."

6560Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ وَيَحْيَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ مُسْلِمٌ

ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ محمد بن رافع عبدالرزاق، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، ابن بی غنیہ حضرت اعمش (رض) سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں ! اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آخر تک۔

This hadith has been transmitted on the authority of jarir and the hadith transmitted on the authority of Abu Muawiyahh (RA) there is an addition of these words: He said: Yes, by Him in Whose Hand is my life, there is no Muslim upon the earth." The rest of the hadith is the same.

6561Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًی وَهُمْ يَضْحَکُونَ فَقَالَتْ مَا يُضْحِکُکُمْ قَالُوا فُلَانٌ خَرَّ عَلَی طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَکَادَتْ عُنُقُهُ أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ فَقَالَتْ لَا تَضْحَکُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاکُ شَوْکَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا کُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر منصور ابراہیم، حضرت اسود سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ نوجوان سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں آئے اور حضرت عائشہ (رض) اس وقت منیٰ میں تھیں اور وہ نوجوان ہنس رہے تھے سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا تم کیوں ہنس رہے ہو وہ نوجوان کہنے لگے کہ فلاں آدمی خیمہ کی رسی پر گرپڑا ہے اور اس کی گردن یا اس کی آنکھ جاتے جاتے ہی بچی حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا تم مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی کانٹا یا کانٹے سے بڑھ کر کوئی چیز لگ گئی ہو تو اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔

Aswad reported that some young men from the Quraish visited Aisha as she was in Mina and they were laughing. She said: What makes you laugh? They said: Such and such person stumbled against the rope of the tent and he was about to break his neck or lose his eyes. She said: Dont laugh for I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If a Muslim runs a thorn or (gets into trouble) severe than this, there is assured for him (a higher) rank and his sins are obliterated.

6562Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْکَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق حنظلی اسحاق ابومعاویہ اعمش، ابراہیم، اسود سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی مومن آدمی کو کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A believer does not receive (the trouble) of running a thorn or more than that but Allah elevates him in rank or effaces his sins because of that.

6563Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْکَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو اگر کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے بدلہ میں اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A believer does not undergo (the trouble) of running a thorn or more than that when Allah effaces his sins.

6564Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

The above hadith has been transmitted by Hisham with the same chain.

6565Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا کُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّی الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا

ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یونس بن یزید ابن شہاب عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اسے اس کے گناہ کا کفارہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔

Aisha said: No trouble comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that it becomes (the means) whereby his sins are effaced or his sins are obliterated. Yazid says: He does not know which word Urwa said (whether he said Qussa or Kuffira).

6566Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةِ إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ

ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یزید بن خصیفہ عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ کم کر دئے جاتے ہیں یا اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے یزید نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے عروہ نے کون سا لفظ کہا ہے۔

Aisha reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated.

6567Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْئٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّی الشَّوْکَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ

حاملہ بن یحییٰ عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابن ہاد ابی بکر بن حرم عمرہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔

Aisha reported: I heard Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated.

6568Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّی الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا کُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ولید بن کثیر محمد بن عمر بن عطاء، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) ان دونوں حضرات سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ کسی مومن آدمی کے جب بھی کوئی تکلیف یا ایذاء یا کوئی بیماری یا رنج یہاں تک کہ اگر اسے کوئی فکر ہی ہو تو اس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔

Abu Said and abu Hurairah reported that they heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Never a believer is stricken with discomfort, hardship or illness, grief or even with mental worry that his sins are not expiated for him.

6569Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبْي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوئًا يُجْزَ بِهِ بَلَغَتْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَفِي کُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ کَفَّارَةٌ حَتَّی النَّکْبَةِ يُنْکَبُهَا أَوْ الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا قَالَ مُسْلِم هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ سفیان، ابن محصین محمد بن قیس ابن مخرمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (مَنْ يَّعْمَلْ سُوْ ءًا يُّجْزَ بِه) 4 ۔ النساء : 123) جو کوئی بھی کوئی برا عمل کرے گا تو اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا مسلمانوں کو اس سے بہت سخت پریشانی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میانہ روی اور استقامت اختیار کرو مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ جو اسے ٹھوکر لگتی ہے یا اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے امام مسلم (رح) کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالرحمن بن محصین مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that when this verse was revealed:" Whoever does evil will be requited for it", and when this was conveyed to the Muslims they were greatly perturbed. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Be moderate and stand firm in trouble that falls to the lot of a Muslim (as that) is an expiation for him; even stumbling on the path or the prickin of a thorn (are an expiation for him). Muslim said that Umar bin Abdul Rahman Muhaisin was from amongst the people of Makkah.

6570Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَکِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّی لَا بَارَکَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّی فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ کَمَا يُذْهِبُ الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع حجاج صواف ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مسیب کے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سائب یا اے ام مسیب تجھے کیا ہوا تم کانپ رہی ہو اس نے عرض کیا بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے کہ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited Umm Saib or Umm Musayyib and said: Umm Saib or Umm Musayyib. why is it that you are shivering? She said:" It is fever and may it not be blessed by Allah, whereupon he (the Holy Prophet) said: Dont curse fever for it expiates the sir of the posterity of Adam علیہ السلامعلیہ السلامjust as furnace removes the alloy of iron.

6571Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَا حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَکَرٍ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيکَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَی قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَائُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَکِ قَالَتْ أَصْبِرُ قَالَتْ فَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَکَشَّفَ فَدَعَا لَهَا

عیبد اللہ بن عمر قواریری یحییٰ بن سعید بشر بن مفضل عمران ابوبکر حضرت عطا بن ابی رباح (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھ سے فرمایا کیا میں تجھے ایک حبشی عورت نہ دکھاؤں۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا ستر کھل جاتا ہے آپ ﷺ میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجھے صحت و عافیت دے دے وہ عورت کہنے لگی کہ میں صبر کروں گی لیکن میرا ستر کھل جاتا ہے تو آپ ﷺ میرے لئے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے تو آپ نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی۔

Ata bin Abi Rabih said: Ibn Abbas (RA) said to me: May I show you a woman of Paradise? I said: Yes. He said: Here is this dark-complexioned woman. She came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I am suffering from falling sickness and I become naked; supplicate Allah for me, whereupon he (the Holy Prophet) said: Show endurance as you can do and there would be Paradise for you and, if you desire, I supplicate Allah that He may cure you. She said: I am prepared to show endurance (but the unbearable trouble is) that I become naked, so supplicate Allah that He should not let me become naked, so he supplicated for her.