عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی ( مسلمان) کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق کرے دونوں آپس میں ملیں تو یہ اس سے منہ موڑے اور وہ اس سے منہ موڑے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ آدمی ہے کہ جو سلام کرنے میں ابتداء کرے۔
Abu Ayyub Ansari reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three nights, the one turning one way and the other turning the other way when they meet; the better of the two is one who is the first to give a greeting.
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَمِثْلِ حَدِيثِهِ إِلَّا قَوْلَهُ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا فَإِنَّهُمْ جَمِيعًا قَالُوا فِي حَدِيثِهِمْ غَيْرَ مَالِکٍ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان، حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن ولید محمد بن حرب زبیدی اسحاق بن ابراہیم، حنظلی محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، مالک حضرت زہری سے ان سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اس میں صرف لفظی تبدیلی کا فرق ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording (and the words are):" The one turning away and the other turning away when they meet and one avoids the other and the other also avoids him."
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
محمد بن رافع محمد بن ابی فدیک ضحاک ابن عثمان نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے (مومن) بھائی سے تین دنوں سے زیادہ قطع تعلق کرے۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three days.
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد بن علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین (دن) کے بعد ترک تعلق جائز نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There should be no estranged relations beyond three days.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
یحییٰ بن یحیی، مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹ بات ہے اور نہ ہی تم ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور حرص نہ کرو اور حسد نہ کرو اور بغض نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی ہوجاؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Avoid suspicion, for suspicion is the gravest lie in talk and do not be inquisitive about one another and do not spy upon one another and do not feel envy with the other, and nurse no malice, and nurse no aversion and hostility against one another. And be fellow-brothers and servants of Allah.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَهَجَّرُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور نہ ہی کسی کے عیب تلاش کرو اور نہ ہی تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Dont have estranged relations (with the others) and dont nurse enmity and dont enter into a transaction when the other (has already entered) and be fellow-brothers and servants of Allah.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور نہ ہی بیع تناجش کرو (کسی کے پھنسانے کے لئے کسی چیز کی زیادہ قیمت لگاؤ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying. Dont nurse malice against one another, dont nurse aversion against one another and dont be inquisitive about one another and dont outbid one another (with a view to raising the price) and be fellow-brothers and servants of Allah.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَکُونُوا إِخْوَانًا کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ
حسن بن علی حلوانی علی بن نصر وہب بن جریر، شعبہ، حضرت اعمش (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ تم ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کرو اور تم بھائی بھائی ہوجاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmit ters (and the words are):" Dont sever relations of kinship, dont bear enmity against one another, dont bear aversion against one another and dont feel envy against the other and live as fellow-brothers as Allah has commanded you.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
احمد بن سعید دارمی حباب وہیب سہیل ابوہریرہ (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور نہ ہی حرص کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Dont bear aversion against one another and dont be jealous of one another and be servants of Allah.
مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَی هَاهُنَا وَيُشِيرُ إِلَی صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب داؤد ابن قیس ابی سعد عامر بن کریز حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور نہ ہی تناجش کرو (تناجش بیع کی ایک قسم ہے) اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقوی یہاں ہے کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Dont nurse grudge and dont bid him out for raising the price and dont nurse aversion or enmity and dont enter into a transaction when the others have entered into that transaction and be as fellow-brothers and servants of Allah. A Muslim is the brother of a Muslim. He neither oppresses him nor humiliates him nor looks down upon him. The piety is here, (and while saying so) he pointed towards his chest thrice. It is a serious evil for a Muslim that he should look down upon his brother Muslim. All things of a Muslim are inviolable for his brother in faith: his blood, his wealth and his honour.
مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ وَزَادَ وَنَقَصَ وَمِمَّا زَادَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَی أَجْسَادِکُمْ وَلَا إِلَی صُوَرِکُمْ وَلَکِنْ يَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَی صَدْرِهِ
ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح ابن وہب، اسامہ ابن زید ابوسعید عبداللہ بن عامر بن کریز حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر (مذکورہ) داؤد کی حدیث کی طرح ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کی طرف دیکھتا ہے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with some addition (and it is this):" Verily Allah does not look to your bodies nor to your faces but He looks to your hearts," and he pointed towards the heart with his fingers.
مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَی صُوَرِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَلَکِنْ يَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَعْمَالِکُمْ
عمرو ناقد کثیر بن ہشام جعفر بن برقان یزید بن عاصم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace be upqn him) as saying: Verily Allah does not look to your faces and your wealth but He looks to your heart and to your deeds.
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوموار اور جمعرات کے دن جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور ہر اس بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں اور ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The gates of Paradise are not opened but on two days, Monday and Thursday. and then every servant (of Allah) is granted pardon who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. And it would be said: Look towards both of them until there is reconciliation; look toward both of them until there is reconciliation; look towards both of them until there is reconciliation.
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ و قَالَ قُتَيْبَةُ إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ
زہیر بن حرب، جریر، قتیبہ بن سعید، احمد بن عبدۃ ضبی عبدالعزیز درا وردی حضرت سہیل اپنے باپ سے مالک کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Suhail who narrated it on the authority of his father with the chain of transmitters of MaIik, but with this variation of wording:, (Those would not be granted pardon) who bycott each other."
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي کُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ الْيَوْمِ لِکُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
ابن ابی عمر سفیان، مسلم ابن ابی مریم ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کرلیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کرلیں۔
Abu Hurairah (RA) reported it as a marfu hadith (and the words are): The deeds are presented on every Thursday and Friday and Allah, the Exalted and Glorious. grants pardon to every person who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. It would be said: Put both of them off until they are reconciled.
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا أَوْ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا
ابوطاہر عمرو بن سواد ابن وہب، مالک بن انس، مسلم بن ابی مریم ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ سوموار اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو ہر مومن بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے اور اپنے مومن بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان کو چھوڑ دو یا انہیں مہلت دے دو یہاں تک کہ یہ دونوں رجوع کرلیں۔
Abu Huraim reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation.
اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن عبدالرحمن بن معمر، ابی حباب سعید بن یسار حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ قیامت کے دن فرمائے گا کہاں ہیں آپس میں محبت کرنے والے میرے جلال کی قسم ! آج کے دن میں ان کو اپنے سائے میں رکھوں گا کہ جس دن میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily. Allah would say on the Day of Resurrection: Where are those who have mutual love for My Glorys sake? Today I shall shelter them in My shadow when there is no other shadow but the shadow of Mine.
اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَی فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَی مَدْرَجَتِهِ مَلَکًا فَلَمَّا أَتَی عَلَيْهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ هَلْ لَکَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا قَالَ لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْکَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ
عبدالاعلی بن حماد حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی اپنے ایک بھائی سے ملنے کے لئے ایک دوسرے گاؤں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو اس کے انتظار کے لئے بھیج دیا جب اس آدمی کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتہ کہنے لگا کہاں کا ارادہ ہے اس آدمی نے کہا اس گاؤں میں میرا ایک بھائی ہے میں اس سے ملنا چاہتا ہوں فرشتہ نے کہا کیا اس نے تیرے اوپر کوئی احسان کیا ہے کہ تو جس کا بدلہ دنیا چاہتا ہے اس آدمی نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ میں اس سے صرف اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا تیری طرف اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے کہ جس طرح تو اس دیہاتی آدمی سے محبت کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A person visited his brother in another town and Allah deputed an Angel to wait for him on his way and when he came to him he said: Where do you intend to go? He said: I intend to go to my brother in this town. He said: Have you done any favour to him (the repayment of which you intend to get)? He said: No, excepting this that I love Mm for the sake of Allah, the Exalted and Glorious. Thereupon he said: I am a meesenger to you from, Allah: (to inform you) that Allah loves you as you love him (for His sake)
اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابواحمد بن عیسیٰ ابوبکر محمد بن زنجویہ قشیری عبدالاعلی بن حماد نرسی حضرت حماد بن سلمہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Hammad bin Salama with the same of transmitters.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ رَفَعَهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
سعید بن منصور، ابوربیع حماد ابن زید ایوب ابی قلابہ ابی اسماء ابوربیع رفعہ حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیمار آدمی کی عیادت کرنے والا جنت کے میوہ زار میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔
Abu Rabi reported directly from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace upon him) as saying: The one who visits the sick is in fact like one who is in the fruit garden of Paradise so long as he does not return.