وہ بد نصیب جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُهُ ثَلَاثًا ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی ناک خاک آلود ہوگئی پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Let him be humbled thrice, and the rest of the hadith is the same.
ماں باپ کے دوستوں وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَی حِمَارٍ کَانَ يَرْکَبُهُ وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً کَانَتْ عَلَی رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ فَقُلْنَا لَهُ أَصْلَحَکَ اللَّهُ إِنَّهُمْ الْأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَبَا هَذَا کَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن، سرح، عبداللہ بن وہب، سعید بن ابی ایوب، سلید بن ابی ولید، عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی مکہ مکرمہ کے راستے میں ان سے ملا۔ حضرت عبداللہ نے اس دیہاتی پر سلام کیا اور اسے اپنے گدھے پر سوار کرلیا جس پر وہ سوار تھے اور اسے عمامہ عطا کیا جو ان کے اپنے سر پر تھا حضرت ابن دینار نے کہا ہم نے ان سے کہا اللہ آپ کو بہتر بدلہ عطا فرمائے وہ دیہاتی لوگ ہیں جو تھوڑی سی چیز پر راضی ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا اس دیہاتی کا باپ حضرت عمر بن خطاب کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرماتے ہیں بیٹے کی نیکیوں میں سے سب سے بڑی نیکی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے۔
Ibn Dinar reported that a desert Arab met Abdullah bin Umar on the way to Makkah. Abdullah greeted him and mounted him upon the donkey on which he had been riding and gave him the turban that he had on his head. Ibn Dinar (further) reported: We said to him (Abdullah bin Umar): May Allah do good to you, these are desert Arabs and they are satisfied even with meagre (things). Thereupon Abdullah said: His father was loved dearly by Umar bin Khattib and I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The finest act of goodness on the part of a son is to treat kindly the loved ones of his father.
ماں باپ کے دوستوں وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، حیوہ بن شریح، ابن الہاد، عبداللہ بن دینار ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The finest act of goodness is that a person should treat kindly the loved ones of his father.
ماں باپ کے دوستوں وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَی مَکَّةَ کَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُکُوبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَی ذَلِکَ الْحِمَارِ إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ قَالَ بَلَی فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ وَقَالَ ارْکَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ قَالَ اشْدُدْ بِهَا رَأْسَکَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا کُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً کُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَکَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ وَإِنَّ أَبَاهُ کَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ
حسن بن علی حلوانی یعقوب بن ابراہیم، بن سعد، ابی، لیث، سعد یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ کی طرف جاتے تو اپنے گدھے کو آسانی کے لئے ساتھ رکھتے تھے جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو گدھے پر سوار ہوجاتے اور اپنے سر پر عمامہ باندھتے تھے ایک دن حضرت ابن عمر (رض) اپنے اسی گدھے پر سوار تھے اس کے پاس سے ایک دیہاتی آدمی گزرا تو حضرت ابن عمر (رض) نے اس دیہاتی سے فرمایا کیا تو فلاں بن فلاں کا بیٹا نہیں ہے ؟ اس نے عرض کیا کیوں نہیں آپ نے اس دیہاتی کو اپنا گدھا دے دیا اور اسے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجا اور اسے عمامہ دے کر فرمایا کہ اسے اپنے سر پر باندھ لے تو آپ سے آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ نے اس دیہاتی آدمی کو گدھا عطا کردیا حالانکہ آپ نے اسے اپنی سہولت کے لئے رکھا ہوا تھا اور عمامہ جسے آپ اپنے سر پر باندھتے تھے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور اس دیہاتی کا باپ حضرت عمر (رض) کا دوست تھا۔
Abdullah bin Dinar reported that when Abdullah bin Umar set out to Mecea, he kept a donkey with him which he used as a diversion from the tedium of journey on the camels back and had a turban which he tied round his head. One day, as he was riding the donkey a desert Arab happened to pass by him. He (Abdullah bin Umar) said: Arnt you so and so? He said: Yes He gave him his donkey and said: Ride it, and tie the turban round your head. Some of his companions said: May Allah pardon you, you gave to this desert Arab the donkey on which you enjoyed ride for diversion and the turban which you tied round your. head. Thereupon he said: Verily I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The finest act of goodness is the kind treatment of a person to the loved ones of his father after his death and the father of this person was a friend of Umar.
نیکی اور گناہ کی وضاحت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِي صَدْرِکَ وَکَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ
محمد بن حاتم، بن میمون ابن مہدی معاویہ ابن صالح عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان انصاری (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو اس پر لوگوں کو مطلع ہونے کو ناپسند کرے
Nawwas bin Siman al-Ansiri reported: I asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it.
نیکی اور گناہ کی وضاحت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ قَالَ أَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً مَا يَمْنَعُنِي مِنْ الْهِجْرَةِ إِلَّا الْمَسْأَلَةُ کَانَ أَحَدُنَا إِذَا هَاجَرَ لَمْ يَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِي نَفْسِکَ وَکَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ
ہارون بن سعید ایلی عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، عبدالرحمن بن جبیر نفیر، حضرت نو اس (رض) بن سمعان سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک ٹھہرا رہا اور مجھے سوائے ایک مسئلہ کے کسی بات نے ہجرت سے نہیں روکا تھا ہم میں سے جب کوئی ہجرت کرتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرتا تھا تو میں نے آپ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے جی میں کھٹکے اور تو اس پر لوگوں کے مطلع ہونے کو ناپسند کرے۔
Nawwis bin Simin reported: I stayed with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for one year. What obstructed me to migrate was (nothing) but (persistent) inquiries from him (about Islam). (It was a common observation) that when anyone of us migrated (to Madinah) he ceased to ask (too many questions) from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . So I asked him about virtue and vice. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your mind and that you disapprove of its being known to the people.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّی إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتْ الرَّحِمُ فَقَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ الْقَطِيعَةِ قَالَ نَعَمْ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَکِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَکِ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَذَاکِ لَکِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ أُولَئِکَ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَی أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
قتیبہ بن سعید، ابن جمیل بن طریف بن عبداللہ ثقفی محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل معاویہ ابن ابی مزرد مولیٰ بنی ہاشم ابوحباب سعید بن یسار حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہاں تک کہ جب ان سے فارغ ہوئے تو رشتہ داری نے کھڑے ہو کر عرض کیا یہ رشتہ توڑنے سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے اللہ نے فرمایا جی ہاں کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں تجھے ملانے والوں کے ساتھ مل جاؤں اور تجھے توڑنے والے سے میں دور ہوجاؤں رشتہ داری نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تیرے لئے (ایسا ہی فیصلہ ہے) پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو ان آیات کریمہ کی تلاوت کرو (21 فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُ قَطِّعُوْ ا اَرْحَامَكُمْ 22 اُولٰ ى ِكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰ ى اَبْصَارَهُمْ 23 اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا) 47 ۔ محمد : 24) تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تمہیں حکومت دی جائے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنی رشتہ داری کو توڑ ڈالو یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے پس ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا تو کیا وہ قرآن مجید میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily Allah created the universe and when He had finished that, ties of relationship came forward and said This is the place for him who seeks refuge from severing (of blood-relationship). He said: Yes. Are you not satisfied that I should keep relationship with one who joins your ties of relationship and sever it with one who severs your (ties of relationship)? They (the ties of blood) said: Certainly so. Thereupon He said: Well, that is how things are for you. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) then said: Recite if you like:" But if you turn away you are sure to make mischief in the land and cut off the ties of kinship. Those it is whom Allah has cursed, so He has made them deaf and blinded their eyes. Do they not reflect on the Quran? Or, are there locks on their hearts?".
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابی بکر وکیع، معاویہ بن ابی مزرد یزید بن رومان عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رشتہ داری عرش کے ساتھ لٹکائی ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا اور جس نے مجھے توڑا اللہ اس سے دور ہوگا۔
Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The tie of kinship is suspended to the Throne and says: He who unites me Allah would unite him and he who severed me Allah would sever him.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر سفیان، زہری، محمد بن حضرت جبیر بن مطعم (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (رشتہ) توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا حضرت سفیان نے کہا یعنی رشتہ داری کو توڑنے والا۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The severer would not enter Paradise. Ibn Umar (RA) said that Sufyan (explained it as): One who severs the tie of kinship would not enter Paradise.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی جویریہ مالک زہری، محمد بن حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
Jubair bin Mutim reported that his father narrated to him that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The severer of the tie of kinship would not get into Paradise.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن رافع عبد ابن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، اس سند سے بھی حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے اسی طرح روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جس آدمی کو یہ بات پسند ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے مرنے کے بعد اس کو یاد رکھا جائے تو چاہے کہ وہ اپنی رشتہ داری کو جوڑے۔
Anas bin Malik (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who is desirous that his means of sustenance should be expanded for him or his age may be lengthened, should join the tie of relationship.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو یہ بات محبوب ہو کہ اس کے رزق کی کشادگی کی جائے اور اس کے مرنے کے بعد اسے یاد رکھا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی رشتہ داری کو جوڑے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who likes that his sustenance should be expanded and his age may be lengthened should join the tie of kinship.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ فَقَالَ لَئِنْ کُنْتَ کَمَا قُلْتَ فَکَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَکَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَی ذَلِکَ
محمد بن حاتم، مثنی محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، علاء، بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں جن سے میں تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں میں ان سے نیکی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بداخلاقی سے پیش آتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے کہا ہے تو گویا کہ تو ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو ایسا ہی کرتا رہے گا اللہ کی طرف سے ایک مددگار ان کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that a person said: Allahs Messenger, I have relatives with whom I try, to have close relationship, but they sever (this relation). I treat them well, but they treat me ill. I am sweet to them but they are harsh towards me. Upon this he (the Holy Prophet) said: If it is so as you say, then you in fact throw hot ashes (upon their faces) and there would always remain with you on behalf of Allah (an Angel to support you) who would keep you dominant over them so long as you adhere to this (path of righteousness).
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ (وہ اپنے بھائی کو) تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Neither nurse mutual hatred, nor jealousy, nor enmity, and become as fellow. brothers and servants of Allah. It is not lawful fora Muslim that he should keep his relations estranged with his brother beyond three days.
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
حاجب بن ولید محمد بن حرب محمد بن ولید زبیدی زہری، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے مالک کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying like this. This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَا تَقَاطَعُوا
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر عمرو ناقد ابن عیینہ ابن عیبیہ زہری سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں (وَلَا تَقَاطَعُوا) کے الفاظ زیادہ ہیں یعنی آپس میں قطع تعلقی نہ کرو۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters with the addition of Ibn Uyaina (and the words are):" Do not cut off (mutual relations)."
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ يَزِيدَ عَنْهُ فَکَرِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ يَذْکُرُ الْخِصَالَ الْأَرْبَعَةَ جَمِيعًا وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَقَاطَعُوا
ابوکامل یزید بن ابن زریع محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، سفیان، عبدالرزاق، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور وہ چار اکٹھی خصلتوں کا ذکر کرتے ہیں اور باقی عبدالرزاق کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Abdul Razziq (the words are):" Neither nurse grudge nor sever (the ties of kinship), nor nurse enemity."
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
محمد بن مثنی، ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔
Anas reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Nurse no grudge, nurse no aversion and do not sever ties of kinship and live like fellow-brothers as servants of Allah. ."
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ
علی بن نصر جہضمی وہب بن جریر، حضرت شعبہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں کہ اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with this addition:" As Allah has commanded you