چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ إِذَا ضَرَبَ أَحَدُکُمْ
عمرو ناقد زہیع بن حرب سفیان بن عیینہ، حضرت ابوالزناد سی اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس میں انہوں نے کہا جب تم میں سے کوئی مارے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad and he said: " When one amongst you strikes (at the face)."
چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ
شیبان بن فروض ابوعوانہ، وہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے ڈرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When any one of you fights with his brother, he should spare his face.
چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری شعبہ، قتادہ، ابوایوب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور ابن حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہے کہ وہ چہرے پر ہرگز تھپڑ نہ مارے
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When any one of you fights with his brother, he should not slap at the face.
چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ الْمُثَنَّی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ
نصر بن علی ابی مثنی محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، مثنی بن سعید قتادہ، ابوایوب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور ابن حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے پر مارنے سے بچے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر تخلیق کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Hatim Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: When any one of you fights with his brother, he should avoid his face for Allah created Adam علیہ السلامعلیہ السلامin His own image.
چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَی بْنِ مَالِکٍ الْمَرَاغِيِّ وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ
محمد بن مثنی، عبدالصمد ہمام قتادہ، یحییٰ بن مالک ابوایوب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے پر مارنے سے بچے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When any one of you fights with his brother, he should avoid the face.
اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَی أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَی رُئُوسِهِمْ الزَّيْتُ فَقَالَ مَا هَذَا قِيلَ يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث ہشام بن عروہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام (رض) سے روایت ہے کہ وہ ملک شام میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر روغن زیتوں بہا یا گیا تھا حضرت ہشام نے پوچھا یہ کیا ان کی حالت ہے ؟ آپ سے لوگوں نے کہا خراج کی وصولی کے سلسلہ میں ان کو عذاب دیا جا رہا ہے حضرت ہشام نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگ دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔
Urwa reported on the authority of his father that Hisham bin Hakim bin Hizam happened to pass by some people in Syria who had been made to stand in the sun and olive-oil was being poured upon their heads. He said: What is this? It was said: They are being punished for (not paying) the Kharaj (the government revenue). Thereupon he said: Allah would punish those who torment people in this world (without any genuine reason).
اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَی أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ مَا شَأْنُهُمْ قَالُوا حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ فَقَالَ هِشَامٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا
ابوکریب ابواسامہ، ہشام بن حکیم بن حزام (رض) حضرت ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام ملک شام میں کچھ نبطی لوگوں کے پاس سے گزرے جن کو دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا انہوں نے فرمایا ان لوگوں کی یہ کیا حالت ہے لوگوں نے کہا جزیہ کی وصولی کے سلسلہ میں انہیں قید کیا گیا ہے تو حضرت ہشام نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگ دنیا میں (لوگوں کو) عذاب دیتے ہیں۔
Hisham reported on the authority of his father that Hisham bin Hakim bin Hizam happened to pass by people, the farmers of Syria, who had been made to stand in the sun. He said: What is the matter with them? They said: They have been detained for Jizya. Thereupon Hisham said: I bear testimony to the fact that I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah would torment those who torment people in the world.
اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَی فِلَسْطِينَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا
ابوکریب وکیع، ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت ہشام (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ان دنوں فلسطین پر ان کے حکمران حضرت عمیر بن سعد تھے حضرت ہشام ان کی خدمت میں گئے اور انہیں یہ حدیث بیان کی تو حضرت عمر بن سعد نے حکم دیا کہ ان کو رہا کردو۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he made this addition of Jarir that (Hisham bin Hakim) went to Umair bin Sad who was then ruler in Palestine and he narrated to him this hadith and he (submitting before the words of the Prophet) commanded that they should be let off and so they were let off.
اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَکِيمٍ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَی حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنْ النَّبْطِ فِي أَدَائِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ مَا هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا
ابوطاہر ابن وہب، یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر، ہشام بن حکیم حضرت عروہ (رض) بن زیبر سے روایت ہے کہ حضرت ہشام بن حکیم نے ایک آدمی کو دیکھا جو کہ ملک حمص کا حاکم ہے اس نے کچھ نبطی لوگوں کو جزیہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں دھوپ میں کھڑا کر رکھا ہے تو انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔
Urwa bin Zubair reported that Hisham bin Hakim found a person (the ruler of Homs) who had been detaining some Nabateans in connection with the dues of Jizya. He said: What is this? I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah would torment those persons who torment people in the world.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بِسِهَامٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِکْ بِنِصَالِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق ابوبکر سفیان بن عیینہ، عمرو حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کچھ تیر لے کر مسجد کے اندر سے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا اپنے تیروں کے پیکان پکڑ لو۔
Amr heard Jabir as saying: A person happened to come to the mosque with an arrow; thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Take hold of its pointed head.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ قَدْ أَبْدَی نُصُولَهَا فَأُمِرَ أَنْ يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا کَيْ لَا يَخْدِشَ مُسْلِمًا
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع یحییٰ حماد بن زید عمرو بن دینا، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی کچھ تیر لے کر مسجد کے اندر سے گزرا جن کے پیکان کھلے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا ان کی پیکانیں پکڑ لو تاکہ کسی مسلمان کو چبھ نہ جائیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that a person happened to come to the mosque with arrows and their iron-ends were exposed, so he was commanded that he should grasp the pointed heads so that these might not do any harm to a Muslim.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا کَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا و قَالَ ابْنُ رُمْحٍ کَانَ يَصَّدَّقُ بِالنَّبْلِ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کو حکم فرمایا کہ جو مسجد میں تیر صدقہ کر رہا تھا کہ جب تو مسجد کے اندر سے تیر لے کر گزرے تو تو ان کی پیکان پکڑ لیا کر۔
Jabir reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded a person who had been distributing arrows freely in the mosque that he should not move about in the mosque but by catching hold of their iron-heads. Ibn Rumh narrated this with a slight variation of wording.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِي مَجْلِسٍ أَوْ سُوقٍ وَبِيَدِهِ نَبْلٌ فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو مُوسَی وَاللَّهِ مَا مُتْنَا حَتَّی سَدَّدْنَاهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ
ہداب بن خالد حماد بن سلمہ ثابت حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ہاتھ میں تیرلے کر کسی مجلس یا بازار میں سے گزرے تو وہ ان کے پیکان پکڑ لیا کرے پھر ان کے پیکان پکڑ لے پھر ان کے پیکان پکڑ لے حضرت ابوموسی (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم اس وقت تک ہماری موت نہیں آئی جب تک ہم نے تیروں کو ایک دوسرے کے چہروں پر نہیں لگایا۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When any one of you happens to go to a meeting or the bazar with an arrow in his hand he must grasp its pointed head; then (he again said): He must grasp its pointed head. Abu Musa said: By Allah, we did not court death until some of us had flung arrows upon the faces of one another.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِکْ عَلَی نِصَالِهَا بِکَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْئٍ أَوْ قَالَ لِيَقْبِضَ عَلَی نِصَالِهَا
عبداللہ بن براد اشعری محمد بن علاء، عبداللہ ابواسامہ برید ابوبردہ حضرت ابوموسی (رض) نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ساتھ تیر لے کر ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے گزرے تو اسے چاہے کہ اپنے ہاتھ سے ان کے پیکان پکڑ لے تاکہ مسلمانوں میں سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے یا آپ ﷺ نے فرمایا ان کے پیکان اپنے قبضے میں رکھ لے۔
Abu Musa reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who amongst you moves in the mosque or in the bazar and there is an arrow with him he should take hold of its iron-head in his palm, so that none amongst the Muslims should receive any injury from it, or he said, should catch its iron-head.
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ
عمرو ناقد ابن ابی عمر عمرو سفیان بن عیینہ، ایوب ابن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اپنے کسی بھائی کی طرف ہتھیار کے ساتھ اشارہ کیا تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اشارہ کرنا چھوڑ نہیں دیتا اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: Abul-Qasim (the kunya of Allahs Messenger, may peace be upon him), said: He who pointed a weapon towards his brother the angels invoke curse upon him even if he is his real brother so long as he does not abandon it (the pointing of weapon towards ones brother Muslim).
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ابن عون محمد حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported a hadith like this from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) through another chain of transmitters.
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشِيرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ
محمد بن رافع عبدالرازق معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے جو چند احادیث نقل کی ہیں ان میں سے ذکر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید کہ شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوا دے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔
Abu Hurairah (RA) reported a hadith from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; (one of them was this) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: None amongst you should point a weapon towards his brother, for he does not know that Satan might cause the weapon (to slip) from his hand and (he may injure anyone) and thus he may fall into Hell-Fire.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابوبکر ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی چل رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک خار دار شاخ ملی تو اس آدمی نے راستے میں سے اس شاخ کو ہٹا دیا تو اللہ تعالیٰ نے (اس کی اس نیکی کی) قدر کی اور مغفرت فرما دی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: While a person was going along the path he found a thorny branch upon it. He pushed it to a side and Allah approved (this action) of his and (as a mark of appreciation) granted him pardon.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَی ظَهْرِ طَرِيقٍ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنْ الْمُسْلِمِينَ لَا يُؤْذِيهِمْ فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ
زہیر بن حرب جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایسے راستے سے گزرا کہ ایک خار دار شاخ اس پر تھی وہ کہنے لگا اللہ کی قسم میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے پھر وہ آدمی جنت میں داخل کردیا گیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A person while walking along the path saw the branches of a tree lying there. He said: By Allah, I shall remove these from this so that these may not do harm to the Muslims, and he was admitted to Paradise.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ کَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ شیبان اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کو جنت میں دیکھا کہ جس آدمی نے راستے میں ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا (جسکی وجہ سے) لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that he saw a person enjoying himself in Paradise because of the tree that he cut from the path which was a source of inconvenience to the people.