Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 303 of 379

6052Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَی ثُمَّ خَرَجَ إِلَی أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا قَالَ وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي قَالَ فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيحًا کَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ

عمرو بن حماد بن طلحہ قناد اسباط ابن نصر ہمدانی سماک حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تو سامنے سے کچھ بچے آئے تو آپ ﷺ نے ان بچوں میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا کہ عطار کے ڈبہ سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔

Jabir bin ahadeeth reported: I prayed along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the first prayer. He then went to his family and I also went along with him when he met some children (on the way). He began to pat the cheeks of each one of them. He also patted my cheek and I experienced a coolness or a fragrance of his hand as if it had been brought out from the scent bag of a perfumer.

6053Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ أَنَسٌ مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْکًا وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

قتیبہ بن سیعد جعفر بن سلیمان ثابت انس، زہیر بن حرب، ہاشم ابن قاسم سلیمان ابن مغیر ثابت حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نہ عنبر کو نہ مشک اور نہ ہی کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو خوشبو میں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر سے محسوس کی اور نہ ہی میں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک سے زیادہ کسی دیباج اور ریشم کو نرم پایا۔

Anas reported: I never smelt ambergris or musk as fragrant as the fragrance of the body of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and I never touched brocade or silk and found it as soft as the body of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

6054Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَی تَکَفَّأَ وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ کَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

احمد بن سعید صخر دارمی حباب حماد ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک سفید چمکتا ہوا تھا اور آپ ﷺ کا پسنیہ مبارک موتی کی طرح چمکتا ہوا تھا اور جب آپ ﷺ چلتے تو آگے جھکتے ہوئے دباؤ ڈال کر چلتے تھے اور میں نے دیباج اور ریشم کو بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلیوں کو نرم پایا اور مشک وغیرہ میں وہ خوشبو نہیں تھی کہ جو رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک میں تھی۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had a very fair complexion and (the drops) of his perspiration shone like pearls, and when he walked he walked inclining forward, and I never touched brocade and silk (and found it) as soft as the softness of the palm of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and I never smelt musk or ambergris and found its fragrance as sweet as the fragrance of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

6055Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَائَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ قَالَتْ هَذَا عَرَقُکَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ

زہیر بن حرب، ہاشم ابن قاسم سلیمان ثابت، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا آپ ﷺ کو پسینہ آیا میری والدہ محترمہ ایک شیشی لائیں اور آپ ﷺ کا مبارک پسینہ پونچھ کر اس شیشی میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ بیدار ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم تم یہ کیا کر رہی ہو ام سلیم (رض) کہنے لگی یہ آپ ﷺ کا پسینہ مبارک ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے اور تمام خوشبوؤں سے بڑھ کر خوشبو محسوس کریں گے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to come to our house and there was perspiration upon his body. My mother brought a bottle and began to pour the sweat in that. When Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got up he said: Umm Sulaim, what is this that you are doing? Thereupon she said: That is your sweat which we mix in our perfume and it becomes the most fragrant perfume.

6056Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَی فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَائَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَی فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَيْتِکِ عَلَی فِرَاشِکِ قَالَ فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَی قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَی الْفِرَاشِ فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِکَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَکَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ

محمد بن رافع حجین بن مثنی عبدالعزیز ابن ابوسلمہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ام سلیم (رض) کے گھر تشریف لاتے تو ام سلیم کے بستر پر سو جاتے اور ام سلیم وہاں نہ ہوتیں۔ راوی حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ تشریف لائے تو ام سلیم (رض) کے بستر پر سو گئے ام سلیم آئیں تو ان سے لوگوں نے کہا نبی ﷺ آپ کے گھر میں آپ کے بستر پر سو رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم (رض) اندر آئیں تو دیکھا کہ آپ ﷺ کو پسینہ آ رہا ہے اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو رہا ہے تو ام سلیم (رض) نے ایک ڈبہ کھولا اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ گھبرا گئے اور فرمانے لگے اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو ام سلیم (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم اپنے بچوں کے لئے اس پسینے سے برکت کی امید رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو ٹھیک کر رہی ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to the house of Umm Sulaim and slept in her bed while she was away from her house. On the other day too he slept in her bed. She came and it was said to her: It is Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who is having siesta in your house, lying in your bed. She came and found him sweating and his sweat falling on the leather cloth spread on her bed. She opened her scent-bag and began to fill the bottles with it. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was startled and woke up and said: Umm Sulaim, what are you doing? She said: Allahs Messenger, we seek blessings for our children through it. Thereupon he said: You have done something right.

6057Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَکَانَ کَثِيرَ الْعَرَقِ فَکَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا قَالَتْ عَرَقُکَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم وہیب ایوب ابی قلابہ انس، حضرت ام سلیم (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لاتے تھے اور آرام فرماتے تھے ام سلیم آپ ﷺ کے لئے چمڑے کا ایک ٹکڑا بچھا دیتی تھیں اس پر آپ ﷺ آرام فرماتے آپ ﷺ کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا ام سلیم آپ ﷺ کا پسینہ مبارک اکٹھا کرتی تھیں اور اسے خوشبو اور شیشیوں میں ملا دیتی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم یہ کیا ہے وہ کہنے لگیں یہ آپ ﷺ کا پسنیہ مبارک ہے جس کو میں اپنی خوشبو میں ملاتی ہوں۔

Umm Sulaim reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited her house and (took rest) and she spread a piece of cloth for him and he had a siesta on it. And he sweated profusely and she collected his sweat and put it in a perfume and in bottles. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Umm Sulaim, what is this? She said: It is your sweat, which I put in my perfume. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sweated in cold weather when revelation descended upon him.

6058Sahih Muslimصحیح

سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کَانَ لَيُنْزَلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا

ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سردی کے دنوں میں وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگ جاتا تھا۔

Aisha reported: When revelation descended upon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) even during the cold days, his forehead perspired.

6059Sahih Muslimصحیح

سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ يَأْتِيکَ الْوَحْيُ فَقَالَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُهُ وَأَحْيَانًا مَلَکٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، ابوکریب ابواسامہ ابن بشر ہشام محمد بن بشر سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ پر وحی کیسے آتی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر وحی کبھی تو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے پھر وہ کیفیت موقوف ہوجاتی ہے اور میں اس وحی کو محفوظ کرچکا ہوتا ہوں اور کبھی تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں۔

Aisha reported that Harith bin Hisham asked Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : How does the wahi (inspiration) come to you? He said: At times it comes to me like the ringing of a bell and that is most severe for me and when it is over I retain that (what I had received in the form of wahi), and at times an Angel in the form of a human being comes to me (and speaks) and I retain whatever he speaks.

6060Sahih Muslimصحیح

سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی ابوقتادہ، حسن حطان بن عبداللہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ ﷺ پر سختی ہوتی اور آپ ﷺ چہرہ اقدس کا رنگ بدل جاتا۔

Ubadah bin Samit reported that when wahi (inspiration) descended upon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , he felt a burden on that account and the colour of his face underwent a change.

6061Sahih Muslimصحیح

سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ نَکَسَ رَأْسَهُ وَنَکَسَ أَصْحَابُهُ رُئُوسَهُمْ فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ

محمد بن بشار، معاذ بن ہشام ابی قرادہ حسن حطان بن عبداللہ رقاشی حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ﷺ اپنا سر مبارک جھکا لیتے تھے اور آپ ﷺ کے صحابہ بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی ختم ہوجاتی تو آپ ﷺ اپنا سر مبارک اٹھا لیتے تھے۔

Ubadah bin Samit reported that when wahi descended upon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , he lowered his head and so lowered his Companions their heads, and when (this state) was over, he raised his head.

6062Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک اور آپ ﷺ کی صفات اور پکے حلیہ مبارک کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا و قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ أَهْلُ الْکِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ يَفْرُقُونَ رُئُوسَهُمْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْکِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ

منصور بن ابی مزاحم محمد بن جعفر، بن زیاد منصور ابن جعفر ابراہیم، ابن سعد ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکے ہوئے چھوڑ دیتے تھے اور مشرک لوگ مانگ نکالتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جس کسی کام کے بارے میں اللہ کا حکم نہ ہوتا تو اس کام کے بارے میں اہل کتاب کی موافقت بہتر سمجھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ بھی اپنی پیشانی مبارک پر بال لٹکانے لگے پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے مانگ نکالنی شروع کردی۔

Ibn Abbas (RA) reported that the People of the Book used to let their hair fall (on their foreheads) and the polytheists used to part them on their heads, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) liked to conform his behaviour to the People of the Book in matters in which he received no command (from God); so Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) let fall his hair upon his forehead, and then he began to part it after this.

6063Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک اور آپ ﷺ کی صفات اور پکے حلیہ مبارک کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوطاہر ابن وہب، یونس حضرت ابن شہاب (رض) سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.

6064Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کی صفات اور اس بات کے بیان میں کہ آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ حسین تھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْکِبَيْنِ عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَی شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَائُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ میانہ قد کے آدمی تھے آپ ﷺ کے دونوں شانوں کا درمیانی حصہ وسیع تھا آپ ﷺ گنجان بالوں والے تھے جو کہ کانوں کی لو تک آتے تھے، آپ پر ایک سرخ دھاری دار چادر تھی میں نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین چیز کبھی نہیں دیکھی۔

Al-Bara reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was of medium height, having broad shoulders, with his hair hanging down on the lobes of his ears. He put on a red mantle over him, and never have I seen anyone more handsome than Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

6065Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کی صفات اور اس بات کے بیان میں کہ آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ حسین تھے۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَائَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْکِبَيْهِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْکِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ لَهُ شَعَرٌ

عمرو ناقد ابوکریب وکیع، سفیان ابواسحاق حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ میں نے کسی پٹے والے کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا آپ کے بال مبارک آپ کے کندھوں تک آرہے تھے آپ کے دونوں کندھوں کا درمیانی حصہ وسیع تھا اور نہ آپ ﷺ زیادہ لمبے قد کے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد کے۔

Al-Bara reported: Never did I see anyone more handsome than Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the red mantle. His hair had been hanging down on the shoulders and his shoulders were very broad, and he was neither very tall nor short-statured. Ibn Kuraib said he had hair.

6066Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کی صفات اور اس بات کے بیان میں کہ آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ حسین تھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا وَأَحْسَنَهُ خَلْقًا لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ وَلَا بِالْقَصِيرِ

ابوکریب محمد بن علاء اسحاق بن منصور ابراہیم، ابن یوسف ابی اسحاق حضرت براء (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ اقدس سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور آپ کے اخلاق سب لوگوں سے زیادہ اچھے تھے اور آپ ﷺ نہ زیادہ لمبے قد والے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد والے۔

Al-Bara reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had the most handsome face amongst men and he had the best disposition and he was neither very tall nor short-statured.

6067Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے بال مبارک کا بیان

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ کَيْفَ کَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ شَعَرًا رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا السَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ

شیبان بن فروخ جریربن حازم، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک کیسے تھے ؟ انہوں نے فرمایا درمیانے قسم کے تھے نہ تو بہت زیادہ گھونگریالے اور نہ ہی بہت سیدھے آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تک آپ کے بال تھے۔

Qatada reported: I asked Anas bin Malik (RA): How was the hair of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? Thereupon he said: His hair was neither very curly nor very straight, and they hung over his shoulders and earlobes.

6068Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے بال مبارک کا بیان

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْکِبَيْهِ

زہیر بن حرب، حبان بن ہلال محمد بن مثنی، عبدالصمد ہمام قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک کندھوں کے قریب تک تھے۔

Anas reported that the hair of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came upon his shoulders.

6069Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے بال مبارک کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ

یحییٰ بن یحیی، ابوکریب اسماعیل بن علیہ حمید، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک آدھے کانوں تک تھے۔

Anas reported that the hair of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reached half of the earlobe.

6070Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے مبہ مبارک اور آنکھوں اور ایڑیوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْکَلَ الْعَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ قَالَ قُلْتُ لِسِمَاکٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ عَظِيمُ الْفَمِ قَالَ قُلْتُ مَا أَشْکَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فراخ منہ والے تھے آپ ﷺ کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ ڈورے پڑے ہوئے تھے آپ ﷺ کی ایڑیوں میں بہت کم گوشت تھا راوی کہتے ہیں کہ میں نے سماک سے پوچھا کہ ضَلِيعَ الْفَمِ کا کیا معنی ہے انہوں نے فرمایا فراخ منہ راوی نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ أَشْکَلَ الْعَيْنِ کا کیا معنی انہوں نے فرمایا دراز آنکھوں کے شگاف راوی کہتے ہیں کہ میں نے پھر پوچھا کہ نْهُوسَ الْعَقِبَ کے کیا معنی ہیں انہوں نے فرمایا تھوڑے گوشت والی ایڑی۔

Jabir bin ahadeeth reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had a broad face with reddish (wide) eyes, and lean heels. Shubah reported: I said to Simak: What does this dali-ul-fam mean? And he said: This means broad face. I said: What does this ashkal mean? He said: Long in the slit of the eye. I said: What is this manhus-ul-aqibain? He said: It implies little flesh at the heels.

6071Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ نبی ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ مبارک سفید ملامت دار تھا۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَانَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَی عَنْهَا مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ سَنَةَ مِائَةٍ وَکَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سعید بن منصور، خالد بن عبداللہ حضرت جریری (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوالطفیل سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا ہاں آپ کے چہرہ اقدس کا رنگ مبارک سفید ملاحت دار تھا امام مسلم بن حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالطفیل نے 100 ھ میں وفات پائی اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے سب سے آخر میں وفات پانے والے یہی حضرت ابوالطفیل تھے۔

Jurairi reported: I said to Abu Tufail: Did you see Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He said: Yes, he had a white handsome face. Muslim bin Hajjaj said: Abu Tufail who died in 10O Hijra was the last of the Companions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .