جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَائً مِنْ الْعَذْرَائِ فِي خِدْرِهَا وَکَانَ إِذَا کَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ
عبیداللہ بن معاذ، ابی شعبہ، قتادہ، عبداللہ بن ابی عتبہ، ابوسعید خدری (رض) ، زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، احمد بن سنان، زہیر، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، قتادہ، عبداللہ بن ابی عتبہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم وحیاء والے تھے جو کہ باپردہ ہو اور جب آپ ﷺ کسی چیز کو ناپسند سمجھتے تھے تو ہم اسے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس سے پہچان جاتے تھے۔
Abu Said Khudri reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was more modest than the virgin behind the curtain (or in the apartment), and when he disliked anything, we recognised that from his face.
جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَی الْکُوفَةِ فَذَکَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَکُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ خِيَارِکُمْ أَحَاسِنَکُمْ أَخْلَاقًا قَالَ عُثْمَانُ حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَی الْکُوفَةِ
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، شقیق، عبداللہ بن عمرو معاویہ حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت حضرت امیر معاویہ (رض) کوفہ کی طرف تشریف لائے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا فرمانے لگے کہ آپ ﷺ نہ تو بد زبان تھے اور نہ ہی بد زبانی کرتے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔
Masruq reported: We went toAbdullah bin Amr when Mudwiya came to Kufa, and he made a mention of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: He was never immoderate in his talk and he never reviled others. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) also said: The best amongst you are those who are best in morals. Uthman said: When he came to Kufa along with Muawiyah... (The rest of the hadith is the same).
جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، ابن نمیر، ابی ابوسعید اشج ابوخالد احمر، حضرت اعمش (رض) سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith had been narrated on the authority of al-Amash through another chain of transmitters also.
رسول اللہ ﷺ کے تبسم اور حسن معاشرت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَثِيرًا کَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَکَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَکُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ سماک بن حرب (رض) حضرت سماک (رض) بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے عرض کیا کہ کیا آپ (رض) رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں بہت زیادہ آپ ﷺ صبح کی نماز جس جگہ پڑھا کرتے تھے تو وہاں سے سورج نکلنے تک نہ اٹھتے تھے اور جب سورج نکل آتا تو آپ ﷺ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوتے اور صحابہ کرام (رض) باتوں میں مصروف ہوتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے کاموں کا تذکرہ کرتے تو آپ ﷺ مسکرا پڑتے تھے۔
Simak bin Harb reported: I said to Jabir bin ahadeeth: Did you have the privilege of sitting in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He said: Yes, very frequently, and added: He did not stand up (and go) from the place where he offered the dawn prayer until the sun rose, and after the rising of the sun he stood up, and they (his Companions) entered into conversation with one another and they talked of the things (that they did during the Days of Ignorance), and they laughed (on their unreasonable and ridiculous acts). Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) smiled only.
نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَغُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَکَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ
ابوربیع عتکی حامد بن عمرو قتیبہ بن سعید، ابوکامل حماد بن زید ابوربیع حماد بن ایوب ابی قلابہ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور ایک سیاہ فام غلام جسے انجشہ کہا جاتا تھا وہ شعر پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے نجشہ ذرا آہستہ آہستہ چل اور ان اونٹوں کو شیشہ لدے ہوئے اونٹوں کی طرح ہانک۔
Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had in one of his journeys his black slave who was called Anjasha along with him. He goaded by singing the songs of camel-driver. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Anjasha, drive slowly as you are driving the mounts who are carrying glass vessels
نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو کَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ
ابوربیع عتکی حامد بن عمر ابوکامل حماد ثابت، حضرت انس (رض) سے مذکورہ روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی عَلَی أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ وَيْحَکَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَلِمَةٍ لَوْ تَکَلَّمَ بِهَا بَعْضُکُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ
عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر اسماعیل ایوب ابی قلابہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس آئے اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا جسے انجشہ کہا جاتا ہے آپ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ اگر تم میں سے کوئی اس طرح کی بات کرتا ہے تو تم اسے کھیل (مذاق) سمجھتے۔
Anas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to his wives as the camel-driver who was called Anjasha had been driving the camels on which they were riding. Thereupon he said: Anjasha, be careful, drive slowly for you are driving the mounts who carry vessels of glass. Abu Qilaba said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) uttered words which if someone had uttered amongst you, you would have found fault with him.
نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع سلیمان تیمی انس بن مالک، ابوکامل یزید بن تیمی، ام سلیم حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم (رض) جو کہ نبی کی ازواج مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ شیشوں کو لے کر چل۔
Anas bin Malik (RA) reported that Umm Sulaim was with the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass.
نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ لَا تَکْسِرْ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَائِ
ابن مثنی عبدالصمد ہمام قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حدی خوان خوش الحان (یعنی اچھی آواز والا) تھا رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ چل کہیں شیشوں کو نہ توڑ دینا یعنی کمزور عورتوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
Anas reported that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) had a camel-driver who had a very melodious voice. Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said to him:
Anjasha, drive slowly; do not break the vessels of glass, meaning the weak women.
نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ
ابن بشار ابوداؤد ہشام قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں لیکن اس میں حدی خوان کی خوش آوازی کا ذکر نہیں ہے۔
Anas reported this hadith through another chain of transmitters, but he made no mention of a camel-driver having a melodious voice.
نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الْغَدَاةَ جَائَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَائُ فَمَا يُؤْتَی بِإِنَائٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَائُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا
مجاہد بن موسیٰ ابوبکر بن نضر بن ابی نضر ہارون بن عبداللہ ابی نضر ابوبکر ابونضر ہاشم بن قاسم سلیمان بن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو مدینہ منورہ کے خادم اپنے برتنوں میں پانی لے کر آتے پھر جو برتن آپ ﷺ کے پاس لایا جاتا تو آپ ﷺ اس برتن میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے اور اکثر اوقات سخت سردی کے موسم میں بھی یہ اتفاقات پیش آجاتے تو پھر بھی آپ ﷺ اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔
Anas bin Malik (RA) reported that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had completed his dawn prayer, the servants of Madinah came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them.
نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ
محمد بن رافع ابونضر سلیمان ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے دیکھا کہ حجام آپ ﷺ کی حجامت بنا رہا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) آپ ﷺ کے اردگرد تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بال مبارک نیچے گرے بلکہ کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ میں آپ ﷺ کا بال گرے۔
Anas reported: I saw when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got his hair cut by the barber, his Companions came round him and they eagerly wanted that no hair should fall but in the hand of a person.
نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً کَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْئٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْکَ حَاجَةً فَقَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّکَکِ شِئْتِ حَتَّی أَقْضِيَ لَکِ حَاجَتَکِ فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّی فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت بن انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا وہ عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ ﷺ سے ایک کام ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ام فلاں تو جس جگہ چاہتی ہے ٹھہر لے میں تیراکام کر دوں گا تو آپ ﷺ نے ایک راستہ میں اس عورت سے علیحدگی میں بات کی یہاں تک کہ وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی۔
Anas reported that a woman had a partial derangement in her mind, so she said: "Allahs Messenger, I want something from you." He said: Mother of so and so, see on which side of the road you would like (to stand and talk) so that I may do the needful for you. He stood aside with her on the roadside until she got what she needed.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دو کاموں میں سے ایک کام کرنے کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے تھے شرط یہ ہے کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا ہو اور اگر گناہ کو کام ہوتا تو آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر اس کام سے دور رہتے اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی وجہ سے انتقام نہیں لیا لیکن اگر کوئی آدمی اللہ کے حکم کے خلاف کام کرتا تو آپ ﷺ اسے سزا دیتے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said that whenever he had to choose between two things he adopted the easier one, provided it was not sin, but if it was any sin he was the one who was the farthest from it of the people; and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never took revenge from anyone because of his personal grievance, unless what Allah, the Exalted and Glorious, had made inviolable had been violated.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، احمد بن عبدہ فضیل بن عیاض منصور محمد فضیل ابن شہاب جریر، محمد زہری، عروہ حضرت عائشہ (رض) سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب، یونس، حضرت ابن شہاب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ مالک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اس کام سے دور رہتے۔
Aisha reported: Never did Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) make a choice between two things but adopting the easier one as compared to the difficult one, but his choice for the easier one was only in case it did not involve any sin, but if it involved sin he was the one who was the farthest from it amongst the people.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ أَيْسَرَهُمَا وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ
ابوکریب ابن نمیر عبداللہ بن نمیر حضرت ہشام (رض) سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں أَيْسَرَهُمَا یعنی ان میں سے آسان کام کو اختیار فرمانے تک کا قول مذکور ہے لیکن اس کے بعد کا حصہ مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْئٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَکَ شَيْئٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ابوکریب ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا اور نہ ہی کسی عورت کو اور نہ ہی کسی خادم کو مارا سوائے اس کے کہ اللہ کے راستے میں جو جہاد کیا جاتا ہے اور جس نے بھی آپ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچائی تو آپ ﷺ نے اس سے بدلہ نہیں لیا سوائے اس کے کہ جس نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تو آپ ﷺ نے اللہ ہی کے لئے اس سے انتقام لیا۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never beat anyone with his hand, neither a woman nor a servant, but only, in the case when he had been fighting in the cause of Allah and he never took revenge for anything unless the things made inviolable by Allah were made violable; he then took revenge for Allah, the Exalted and Glorious.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبدہ وکیع، ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت منقول کی گئی ہے صرف کچھ کمی بیشی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.