Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 301 of 379

6012Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْکِينٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ

شیبان بن فروخ سلام بن مسکین بنانی حضرت انس (رض) سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

6013Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ کَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْکَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْئٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَکَذَا وَلَا لِشَيْئٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَکَذَا

احمد بن حنبل زہیر بن حرب، اسماعیل احمد بن اسماعیل بن ابراہیم، عبدالعزیز، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف لے کر چل پڑے اور عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ انس عقلمند لڑکا ہے یہ آپ ﷺ کی خدمت کرے گا حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سفر اور حضر میں آپ کی خدمت کی اللہ کی قسم آپ ﷺ نے کسی کام کے بارے میں جو میں نے کیا ہو کبھی نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور نہ ہی اس کام کے بارے میں جس کو میں نے کیا ہو آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ یہ کام تو نے کیوں نہیں کیا۔

Anas reported: When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to Madinah, Abu Talha took hold of my hand and brought me to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, Anas is a prudent young boy, and he will serve you. He (Anas) said: I served him in journey and at home, but, by Allah, he never asked me about a thing which I did as to why I did so, nor about a thing which I did not do as to why I had not done that.

6014Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن بشر زکریا، سعید بن انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ مجھے نو سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا ہے میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے کبھی فرمایا ہو تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے کوئی نکتہ چینی کی۔

Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I served the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for nine years, and I do not know (of any instance) when he said to me: Why you have done this and that, and he never found fault with me in anything.

6015Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ إِسْحَقُ قَالَ أَنَسٌ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّی أَمُرَّ عَلَی صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَکُ فَقَالَ يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُکَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

ابومعن رقاشی زید بن زید عمر بن یونس عکرمہ ابن عمار اسحاق، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے ایک دن آپ ﷺ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا اور میرے جی میں یہ بات تھی کہ جس کام کا اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے حکم فرمایا ہے اس کے لئے میں ضرور جاؤں گا تو میں نکلا یہاں تک کہ میں کچھ ایسے بچوں کے پاس سے گزرا کہ وہ بازار میں کھیل رہے تھے اچانک میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ پیچھے سے میری گدی پکڑے ہوئے ہیں حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ مسکرا رہے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے انس کیا تو وہاں گیا تھا ؟ جہاں جانے کا میں نے تجھے حکم دیا تھا حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول میں اب جا رہا ہوں۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had the best disposition amongst people. He sent me on an errand one day, and I said: By Allah, I would not go. I had, however, this idea in my mind that I would do as Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had commanded me to do. I went out until I happened to come across children who had been playing in the street. In the meanwhile, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came there and he caught me by the back of my neck from behind me. As I looked towards him I found him smiling and he said: Anas, did you go where I commanded you to go? I said: Allahs Messenger, yes, I am going.

6016Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں

قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْئٍ صَنَعْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا أَوْ لِشَيْئٍ تَرَکْتُهُ هَلَّا فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا

حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے نو سال تک آپ ﷺ کی خدمت کی میں نہیں جانتا کہ کسی کام کے بارے میں آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا یا کسی ایسے کام کے بارے میں کہ جس کو میں نے نہ کیا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔

Anas further said: I served him for nine years but I know not that he ever said to me about a thing which I had done why I did that, or about a thing I had left as to why I had not done that.

6017Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا

شیبان بن فروخ ابوربیع عبدالورث ابوتیاح، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ (کبھی بھی ایسا نہیں ہوا) کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was the best amongst people in disposition and behaviour.

6018Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا و

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو بن منکدر جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ ﷺ نے " نہ " فرمایا ہو (یعنی آپ ﷺ سے جس چیز کا بھی سوال کیا گیا آپ ﷺ نے وہ چیز فوراً عطا فرما دی ) ۔

Jabir bin Abdullah reported: It never happened that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked for anything and he said: No.

6019Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا مِثْلَهُ سَوَائً

ابوکریب اشجعی محمد بن مثنی، عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah through another chain of transmitters.

6020Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ قَالَ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَی قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَائً لَا يَخْشَی الْفَاقَةَ

عاصم، بن نضر تیمی خالد ابن حارث حمید موسیٰ بن انس، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ (جس کسی نے) اسلام قبول کرنے پر رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی آپ نے وہ چیز عطا فرما دی راوی کہتے ہیں ایک آدمی آیا آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں عطا فرما دیں وہ واپس اپنی قوم کی طرف آیا اور اس نے کہا اے قوم اسلام قبول کرلو کیونکہ محمد ﷺ اتنا عطا فرماتے ہیں کہ فاقہ کشی کا خوف ہی نہیں رہتا۔

Musa bin Anas reported on the authority of his father: It never happened that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want.

6021Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَی قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَائً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يُسْلِمُ حَتَّی يَکُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دو پہاڑوں کی بکریاں مانگیں تو آپ نے اسے اتنی ہی بکریاں عطا فرما دیں وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے قوم اسلام قبول کرلو اللہ کی قسم ! محمد ﷺ اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ پھر محتاجی کا خوف ہی نہیں رہتا حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سوائے دنیا حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول نہیں کرتا لیکن مسلمان ہونے کے بعد اسلام اس کی نظر میں آپ ﷺ کی صحبت اختیار کرنے کی وجہ سے ساری دنیا سے زیادہ اسے محبوب ہوجاتا ہے۔

Anas b. Malik reported that a person requested Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said: O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains.

6022Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنْ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّی إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ

ابوطاہر احمد بن عمر بن سرح عبداللہ بن وہب، یونس حضرت ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن غزوہ کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے ان تمام مسلمانوں کے ساتھ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے حنین کی طرف نکلے حنین میں مسلمانوں نے قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اس دن رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے پھر سو اونٹ عطا فرمائے پھر سوا ونٹ عطا فرمایا حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ صفوان کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا جتنا عطا فرمایا اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھے مبغوض تھے اور آپ ﷺ ہمیشہ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔

Ibn Shihab reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Makkah, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave one hundred camels to Safwan bin Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Said bin Musayyib said that Safwan told him: (By Allah) Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me.

6023Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَی الْآخَرِ و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ جَائَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيئَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ بَعْدَهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَی مَنْ کَانَتْ لَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ فَقُمْتُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ قَدْ جَائَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا فَحَثَی أَبُو بَکْرٍ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لِي عُدَّهَا فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ فَقَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا

عمرو ناقد سفیان بن عیینہ، ابن منکدر جابر بن عبداللہ، اسحاق سفیان، ابن منکدر جابر، عمرو محمد بن علی جابر، یزید ابن ابی عمر سفیان، محمد بن منکدر جابر، بن عبداللہ سفیان، عمرو بن دینار محمد بن علی حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اس اس قدر دوں گا اور اس قدر اور اس قدر اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا تو نبی ﷺ بحرین کے مال کے آنے سے پہلے ہی رحلت فرما گئے حضرت جابر (رض) آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم فرمایا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جس آدمی سے نبی ﷺ نے کوئی وعدہ کیا ہو یا جس پر آپ ﷺ کا قرض ہو تو اسے چاہئے کہ وہ آئے تو میں کھڑا ہوگیا اور میں نے عرض کیا نبی ﷺ (کا مجھ سے وعدہ تھا) کہ اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اس اس قدر دوں گا اور اس قدر اور اس قدر تو حضرت ابوبکر (رض) نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے فرمایا اسے گنو میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا اس سے دو گنا لے لو۔

Jabir bin Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr (RA) after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr (RA) took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you.

6024Sahih Muslimصحیح

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ أَبَا بَکْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ مَنْ کَانَ لَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ کَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

محمد بن حاتم، ابن میمون محمد بن بکر، ابن جریج، عمرو بن دینار محمد بن علی جابر بن عبداللہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ انتقال فرما گئے تو حضرت ابوبکر (رض) کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے کچھ مال آیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا جس آدمی کا نبی ﷺ پر کوئی قرض ہو یا جس سے آپ ﷺ نے کوئی وعدہ فرمایا ہو تو وہ آدمی ہمارے پاس آجائے باقی روایت ابن عیینہ کی روایت کی طرح منقول ہے۔

Jabir bin Abdullah reported: When Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died, there came to Abi Bakr wealth from al-Ala bin al-Hadrami. Abu Bakr (RA) said: He to whom Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same.

6025Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَی أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَی أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِکِيرِهِ قَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِکْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَکَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَکِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَی رَبُّنَا وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِکَ لَمَحْزُونُونَ

ہداب بن خالد شیبان بن فروخ سلیمان شیبان سلیمان بن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات میرے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی میں نے اس لڑکے کا نام اپنے باپ حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا پھر آپ نے وہ لڑکا ام سیف کو دے دیا جو کہ ایک لوہار کی بیوی تھی اور اس لوہار کو ابوسیف کہا جاتا تھا (ایک دن) آپ ﷺ ابوسیف کی طرف چلے اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا۔ جب ہم ابو سیف کے ہاں پہنچے تو وہ اپنی لوہے کی بھٹی دھونک رہے تھے اور ان کا گھر دھوئیں سے بھرا ہو تھا تو میں نے جلدی جلدی رسول اللہ ﷺ سے پہلے جا کر اس سے کہا اے ابوسیف ٹھہر جاؤ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں تو وہ ٹھہر گئے نبی ﷺ نے بچے کو بلایا اور اسے آپ ﷺ نے اپنے سینے سے چمٹا لیا اور آپ ﷺ نے وہ فرمایا جو اللہ نے چاہا انس فرماتے ہیں کہ میں نے اس بچے کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دم توڑ رہا ہے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا آنکھیں اشک آلود ہیں اور دل غمزدہ ہے اور ہم وہ بات نہیں کہتے کہ جس سے ہمارا رب راضی نہ ہو اللہ کی قسم ! اے ابراہیم ! ہم تیری وجہ سے غمزدہ ہیں۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A child was born into me this night and I named him after the name of my father Ibrahim. He then sent him to Umm Saif, the wife of a blacksmith who was called Abu Saif. He (the Holy Prophet) went to him and I followed him until we reached Abu Saif and he was blowing fire with the help of blacksmiths bellows and the house was filled with smoke. I hastened my step and went ahead of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Abu Saif, stop it, as there comes Allahs Messenger (may peace he upon him). He stopped and Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called for the child. He embraced him and said what Allah had desired. Anas said: I saw that the boy breathed his last in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The eyes of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) shed tears and he said: Ibrahim, our eyes shed tears and our hearts are filled with grief, but we do not say anything except that by which Allah is pleased. O Ibrahim, we are grieved for you.

6026Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا کَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَکَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَکَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُکَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ

زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر اسماعیل ابن علیہ، ایوب عمرو بن سعید حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں نے بال بچوں پر اتنی شفقت کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا جتنی رسول اللہ ﷺ بچوں پر شفقت فرمایا کرتے تھے (آپ ﷺ کے لخت جگر) حضرت ابراہیم عوالئی مدینہ میں دودھ پیتے تھے اور آپ ﷺ وہاں چلے جایا کرتے تھے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ ﷺ ان کے گھر میں بھی چلے جاتے وہاں دھواں ہوتا کیونکہ اس کا خاوند لوہار تھا تو آپ ﷺ اپنے بچے کو لیتے اس سے پیار کرتے پھر آپ ﷺ واپس تشریف لے آتے عمر وکہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم انتقال کر گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم (رضی اللہ عنہ) میرا بیٹا ہے اور وہ رضاعت کی حالت میں ہی انتقال کر گیا ہے اب اس کے لئے دو انائیں ہیں جو اسے جنت میں رضاعت کی مدت پوری ہونے تک دودھ پلائیں گی۔

Anas bin Malik (RA) reported: I have never seen anyone more kind to ones family than Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and Ibrahim was sent to the suburb of Madinah for suckling. He used to go there and we accompanied him. He entered the house, and it was filled with smoke as his foster-father was a bricksmith. He took him (his son Ibrahim) and kissed him and then came back. Amr said that when Ibrahim died, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Ibrahim is my son and he dies as a suckling babe. He has now two foster-mothers who would complete his suckling period in Paradise.

6027Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَکُمْ فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالُوا لَکِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلِکُ إِنْ کَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْکُمْ الرَّحْمَةَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مِنْ قَلْبِکَ الرَّحْمَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ابن نمیر، ہشام حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کیا آپ ﷺ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تو وہ دیہاتی لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم ہم تو بچوں سے پیار نہیں کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کیا کروں اگر اللہ نے تمہارے اندر سے رحم کو اٹھا لیا ہے اور ابن نمیر کہتے ہیں اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that there came a few desert Arabs to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Do you kiss your children? He said: Yes. Thereupon they said: By Allah but we do not kiss our children. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Then what can I do if Allah has deprived you of mercy? Ibn Numair said: (He has deprived) your heart of mercy.

6028Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ فَقَالَ إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنْ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ

عمرو ناقد ابن ابی عمر سفیان، سفیان بن عیینہ، زہری، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہا قرع بن حابس (رض) نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ حضرت حسن (رض) کو پیار کر رہے ہیں اقرع کہنے لگا کہ میرے تو دس بیٹے ہیں میں نے تو ان میں سے کسی سے پیار نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported that al-Aqra bin Habis saw Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) kissing Hasan. He said: I have ten children, but I have never kissed any one of them, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who does not show mercy (towards his children), no mercy would be shown to him.

6029Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

The above hadith has likewise been narrated through another chain of transmitters.

6030Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ وَأَبِي ظِبْيَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، ابوکریب محمد بن علاء ابومعاویہ ابوسعید اشج حفص ابن عیاث اعمش، زید بن وہب، ابی طبیان جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah through different chains of transmitters and the words are: "That the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who shows no mercy to the people, Allah, the Exalted and Glorious, does not show mercy to him."

6031Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبداللہ بن نمیر اسماعیل قیس جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمرو احمد بن عبدہ سفیان، عمرو نافع بن جبیر حضرت جریر (رض) نبی ﷺ سے اعمش کی روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.