ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَ الْحَوْضِ فَقُلْتُ لِيَحْيَی بْنِ حَمَّادٍ هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ فَقَالَ وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ فَقُلْتُ انْظُرْ لِي فِيهِ فَنَظَرَ لِي فِيهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ
محمد بن بشار، یحییٰ بن حماد شعبہ، قتادہ، حضرت ثوبان (رض) نبی ﷺ سے حوض کوثر کی حدیث کہ میں نے یحییٰ بن حماد سے کہا کہ تو نے یہ حدیث ابوعوانہ سے سنی ہے وہ کہنے لگے کہ اور میں نے یہ حدیث شعبہ سے بھی سنی ہے تو میں نے کہا وہ بھی مجھ سے بیان کرو تو انہوں نے وہ بھی مجھ سے بیان کردی۔
This is the hadith that I heard from Abu Awana and he said: I also heard it from Shubah. I said: Narrate that to me and he narrated that to me.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا کَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنْ الْإِبِلِ
عبدالرحمن بن سلام جمعحی ربیع ابن مسلم محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اپنے حوض کوثر سے لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح کہ اجنبی اونٹوں کو ہٹایا جاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I will drive away from my Cistern people just as the stray camels are driven away.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، محمد بن زیادہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ حدیث کی طرح فرمایا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْرُ حَوْضِي کَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَائَ مِنْ الْيَمَنِ وَإِنَّ فِيهِ مِنْ الْأَبَارِيقِ کَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَائِ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے حوض کی مقدار اتنی ہے جتنی کہ ایلہ کے مقام سے مقام صنعاء جو کہ علاقہ یمن کے درمیان ہے اور اس حوض میں برتن آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: My Cistern would be as extensive as the distance between Aila and Sana, of Yemen, and there would be in it jugs like stars in the sky.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي حَتَّی إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ اخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي فَلَيُقَالَنَّ لِي إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ
محمد بن حاتم، عفان بن مسلم صفار وہیب عبدالعزیز بن صہیب حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا حوض پر کچھ ایسے آدمی آئیں گے جو دنیا میں میرے ساتھ رہے یہاں تک کہ جب میں ان کو دیکھوں گا اور ان کو میرے سامنے کیا جائے گا تو ان کو میرے قریب آنے سے روک دیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے پروردگار یہ تو میرے ساتھی ہیں یہ تو میرے ساتھی ہیں تو جواب میں کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا (رسوم و بدعات) ایجاد کیں۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Some persons from amongst my associates would turn to my Cistern; when I would see them and they would be presented to me, they would be detained in the way while coming to me. I would say: My Lord, they are my companions, they are my companions, and it would be said to me: You dont know what innovations they made after you.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَی وَزَادَ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن حجر علی بن مسہر، ابوکریب ابن فضیل مختار بن فلفل، حضرت انس (رض) نبی ﷺ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں اور اس میں یہ زائد ہے کہ اس حوض کے برتن ستاروں کے برابر ہیں۔
Anas reported a hadith like this from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he made this addition: "The vessels would be as numerous as the number of stars.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لِعَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي کَمَا بَيْنَ صَنْعَائَ وَالْمَدِينَةِ
عاصم، بن نضر تیمی ہریم بن عبدالاعلی، معتمر قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ مقام صنعاء اور مدینہ منورہ کے درمیان فاصلہ ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There would be such a vast distance between the sides of my Cistern as it is between Sana and Madinah.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح و حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُمَا شَکَّا فَقَالَا أَوْ مِثْلَ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ حَوْضِي
ہارون بن عبداللہ عبدالصمد ہشام حسن بن علی حلوانی ابو ولید طیالسی ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس (رض) نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں دونوں راویوں کو شک ہے وہ کہتے ہیں کہ یا تو آپ نے فرمایا مدینہ منورہ اور عمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور ابوعوانہ کی روایت میں (لَابَتَيْ حَوْضِي) کے الفاظ ہیں۔
Anas reported this hadith with this change that there was some doubt between (places mentioned) and there is a slight variation of wording.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَی فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ کَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَائِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، محمد بن عبداللہ رزی خالد بن حارث، سعید حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت انس (رض) فرمایا اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تو اس حوض میں سونے اور چاندی کے کوزے دیکھے گا جتنے آسمان کے تارے ہیں۔
Anas reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: You would be shown in it jugs of gold and silver (as numerous) as the number of stars in the sky.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلَهُ وَزَادَ أَوْ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَائِ
زہیر بن حرب، حسن بن موسیٰ شیبان قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے مذکورہ حدیث کی طرح فرمایا اور اس میں اتنی بات زائد ہے کہ آسمان کے ستاروں کی تعداد سے زیادہ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Anas bin Malik (RA) with this addition: "More numerous than stars in the sky."
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّکُونِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ کَمَا بَيْنَ صَنْعَائَ وَأَيْلَةَ کَأَنَّ الْأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ
ولید بن شجاع، بن ولید سکونی ابی (رض) زیادہ بن خیثمہ سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارے لئے پیش خیمہ ہوں گا اور اس حوض کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ مقام صنعاء اور مقام ایلہ کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں کوزے ستاروں کی طرح ہوں گے۔
Jabir bin ahadeeth reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Behold, I shall be present ahead of you on the Cistern, and the distance between its different sides would be like that between Sana and Aila, and its jugs would be like stars in the sky.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ أَخْبِرْنِي بِشَيْئٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَنَا الْفَرَطُ عَلَی الْحَوْضِ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، حاتم بن اسماعیل مہاجر بن مسمار حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی طرف اپنے غلام نافع کے ہاتھ ایک خط لکھ کر بھیجا کہ مجھے اس چیز کی خبر دو کہ جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں میں حوض کوثر پر تمہارے پیش خیمہ ہوں گا۔
Amir bin Sad bin Abu Waqqas reported: I wrote (a letter) to Jabir bin ahadeeth (and it was sent) through my servant Nafi asking him to inform me about something (pertaining to the Haud Kauthar). He wrote to me: I heard him (the Holy Prophet) say: I shall be there ahead of you at the Haud Kauthar.
نبی ﷺ کے اس اکرام کے بیان میں کہ فرشتوں نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر کفار سے قتال کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيکَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر ابواسامہ مسعر سعد بن ابراہیم، حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ میں نے غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا میں نے ان کو نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی دیکھا یعنی حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام۔
Sad reported that on the Day of Ubud I saw on the right side of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and on his left side two persons dressed in white clothes and whom I did not see before nor after that, and they were Gabriel (علیہ السلام) and Michael (Allah be pleased with both of them).
نبی ﷺ کے اس اکرام کے بیان میں کہ فرشتوں نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر کفار سے قتال کیا ہے۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا سَعْدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ کَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
اسحاق بن منصور عبدالصمد عبدالوارث ابراہیم بن سعد، سعد، ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں طرف دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ آدمی آپ ﷺ کی طرف خوب شدت سے قتال کر رہے تھے میں نے ان کو نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔
Sad bin Abu Waqqas reported: I saw on the right side of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and on his left side two persons with white clothes on the Day of Uhad fighting a desperate fight, and I saw them neither before nor after that.
نبی ﷺ کی شجاعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَکَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَی الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ وَکَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، سعید بن منصور، ابوربیع عتکی ابوکامل یحییٰ یحیی حماد بن زید ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور تمام لوگوں سے زیادہ سخی اور تمام لوگوں سے زیادہ بہادر تھے ایک رات مدینہ منورہ والے گھبرا گئے اور جس طرف سے آواز آرہی تھی صحابہ کرام (رض) اس طرف چل پڑے راستے میں آپ ﷺ ان لوگوں کو واپس آتے ہوئے ملے اور آپ ﷺ اس آواز کی طرف سب سے پہلے تشریف لے گئے اور آپ ﷺ حضرت ابوطلحہ (رض) کے گھوڑے پر سوار تھے جو کہ ننگی پیٹھ تھا اور آپ کی گردن میں تلوار (لٹکی ہوئی) تھی اور فرما رہے تھے کوئی گھبرانے کی بات نہیں کوئی گھبرانے کی بات نہیں اور آپ ﷺ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو تیز رفتاری میں سمندر کی طرح پایا اور یہ تو دریا ہے اور وہ گھوڑا پہلے سست رفتاری میں مشہور تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was the sublimest among people (in character) and the most generous amongst them and he was the bravest of men. One night the people of Madinah felt disturbed and set forth in the direction of a sound when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met them on his way back as he had gone towards that sound ahead of them. He was on the horse of Abu Talha which had no saddle over it, and a sword was slung round his neck, and he was saying: There was nothing to be afraid of, and he also said: We found it (this horse) like a torrent of water (indicating its swift-footedness), whereas the horse had been slow before that time.
نبی ﷺ کی شجاعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَکِبَهُ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں کچھ گھبراہٹ سی پیدا ہوگئی تو نبی ﷺ نے حضرت ابوطلحہ (رض) کا گھوڑا مانگا جسے مندوب کہا جاتا تھا آپ ﷺ اس گھوڑے پر سوار ہوئے اور فرمایا ہم نے تو کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا۔
Anas reported that there was consternation in Madinah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) borrowed the horse from Abu Talha which was called Mandub. He rode it and said: We have found no reason for consternation, and we have found it to be (as quick as a torrent) of water.
نبی ﷺ کی شجاعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ فَرَسًا لَنَا وَلَمْ يَقُلْ لِأَبِي طَلْحَةَ وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث شعبہ، ابن جعفر حضرت شعبہ (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ ہمارا گھوڑا لیا اور اس میں حضرت ابوطلحہ (رض) کے گھوڑے کا ذکر نہیں اور خالد کی روایت میں عَنْ قَتَادَةَ کی جگہ سَمِعْتُ أَنَسًا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Anas with a slight variation of wording.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَکَانَ أَجْوَدَ مَا يَکُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَلْقَاهُ فِي کُلِّ سَنَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّی يَنْسَلِخَ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
منصور بن ابی مزاحم ابراہیم، ابن سعد زہری، ابوعمران محمد بن جعفر، بن زیاد ابراہیم ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ابن مسعود حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں میں سے مال کے عطا کرنے میں سخی تھے اور تمام اوقات سے زیادہ رمضان کے مہینے میں آپ ﷺ کی سخاوت ہوتی تھی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال رمضان کے اختتام تک آپ سے ملاقات کرتے تھے رسول اللہ ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو قرآن مجید سناتے تھے اور جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو آپ ﷺ چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was the most generous of people in charity, but he was generous to the utmost in the month of Ramadan. Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) would meet him every year during the month of Ramadan until it ended, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited to him the Quran; and when Gabriel (علیہ السلام) met him, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was most generous in giving charity like the blowing wind.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوکریب ابن مبارک یونس عبد حمید عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفًّا قَطُّ وَلَا قَالَ لِي لِشَيْئٍ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَهَلَّا فَعَلْتَ کَذَا زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَهُ وَاللَّهِ
سعید بن منصور، ابوربیع حماد بن زید ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کا شرف حاصل ہوا اللہ کی قسم آپ ﷺ نے مجھے کبھی بھی اف تک نہیں فرمایا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا۔ حضرت ابوالربیع نے یہ الفاظ زائد کہے ہیں کہ جو کام خادم کو کرنا چاہئے اور وَاللَّهِ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported: I served the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for ten years, and, by Allah, he never said to me any harsh word, and he never said to me about a thing as to why I had done that and as to why I had not done that. Abu Rabi has made this addition (in this narration): "The work which a servant should do." There is no mention of his words "By Allah".