ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَکَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، ابی حازم حضرت سہل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں حوض پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا جو اس حوض پر آئے گا وہ اس حوض میں سے پئے گا اور جو اس میں سے (ایک مرتبہ) پی لے گا پھر وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا میرے پاس (حوض کو ثرپر) کچھ لوگ آئیں گے میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ لوگ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان (ایک پردہ) حائل کردیا جائے گا (یعنی میری طرف آنے سے روک دیا جائے گا) ابوحازم (رض) کہتے ہیں کہ جب میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا تو حضرت نعمان بن ابی عیاش (رض) بھی یہ حدیث سن رہے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت سہل (رض) سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے میں نے کہا جی ہاں۔ حضرت نعمان نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے بھی یہ حدیث اسی طرح سنی ہے لیکن وہ اتنی بات زیادہ فرماتے تھے کہ آپ ﷺ فرمائیں گے کہ یہ لوگ تو میرے ہیں تو آپ ﷺ کو جواب میں کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کے بعد کیا کیا کام کئے میں کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ وہ لوگ کہ جنہوں نے میرے بعد دین میں ردوبدل کردیا۔
Sahl (b. Sad) reported: I heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I shall go to the Cistern before you and he who comes would drink and he who drinks would never feel thirsty, and there would come to me people whom I would know and who would know me. Then there would be intervention between me and them. Abu Hazim said that Numan bin Abu Ayyash heard it and I narrated to them this hadith, and said: Is it this that you heard Sahl saying? He said: Yes, and I bear witness to the fact that I heard it from Abu Said Khudri also, but he made this addition that he (the Holy Prophet) would say: They are my followers, and it would be said to him: You do not know what they did after you and I will say to them: Woe to him who changes (his religion) after me.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، ابواسامہ ابوحازم، سہل نعمان ابن ابی عیاش حضرت ابوسعید خدری (رض) سے نبی ﷺ یعنی یعقوب کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَائٌ وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ الْوَرِقِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنْ الْمِسْکِ وَکِيزَانُهُ کَنُجُومِ السَّمَائِ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا
داؤد بن عمرو ضبی نافع بن عمر جمحی ابن ابی ملیکہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے حوض (کی لمبائی چوڑائی) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے سارے کونے برابر ہیں اور اس حوض کا پانی چاندی سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ بہتر ہے اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں تو جو آدمی میرے اس حوض سے پئے گا پھر اس کے بعد اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
Abdullah bin Amr al-As, reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: My Cistern (is as wide and broad that it requires) a months journey (to go round it) all, and its sides are equal and its water is whiter than silver, and its odour is more fragrant than the fragrance of musk, and its jugs (placed round it) are like stars in the sky; and he who would drink from it would never feel thirsty after that.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
قَالَ وَقَالَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي عَلَی الْحَوْضِ حَتَّی أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْکُمْ وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَکَ وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَکَ يَرْجِعُونَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ قَالَ فَکَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَی أَعْقَابِنَا أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا
حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حوض (کوثر) پر ہوں گا یہاں تک کہ جو تم میں سے میرے پاس آئے گا میں اسے دے رہا ہوں گا اور کچھ لوگوں کو میرے قریب ہونے سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے گا تو میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار ! یہ لوگ تو میرے (فرمانبدار) اور میرے امتی ہیں تو آپ ﷺ کو جواب میں کہا جائے گا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام (بدعات) کئے اللہ کی قسم آپ ﷺ کے بعد یہ لوگ فورا ایڑیوں کے بل پھرگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے اللہ ہم اس بات سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ایڑیوں کے بل پھرجائیں اور اس بات سے بھی کہ ہم اپنے دین سے کسی آزمائش میں مبتلا کردیئے جائیں۔
Asma, daughter of Abu Bakr (RA) said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I would be on the Cistern and so that I would be seeing those who would be coming to me from you, but some people would be detained (before reaching me). I would say: My Lord, they are my followers and belong to my Umma, and it would be said to me: Do you know what they did after you? By Allah, they did not do good after you, and they turned back upon their heels. He (the narrator) said: ibn Abu Mulaikah used to say (in supplication): O Allah, I seek refuge with Thee that we should turn back upon our heels or put to any trial about our religion.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِنِّي عَلَی الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْکُمْ فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ فَلَأَقُولَنَّ أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَکَ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ
ابن ابی عمر یحییٰ بن سلیم ابن خثیم عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اس حال میں کہ اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کہ میں حوض (کوثر) پر تمہارا انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون کون میرے پاس آتا ہے اللہ کی قسم کچھ آدمی میرے پاس آنے سے روک دیئے جائیں گے میں کہوں گا اے میرے پروردگار یہ تو میرے امتی ہیں تو اللہ فرمائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کئے یہ لگاتار اپنے ایڑیوں کے بل (یعنی اپنے دین) سے پھرتے ہی رہے۔
Aisha reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say in the company of his Companions: I would be on the Cistern waiting for those who would be coming to me from amongst you. By Allah, some persons would be prevented from coming to me, and I would say: My Lord, they are my followers and people of my Umma. And He would say,: You dont know what they did after you; they had been constantly turning back on their heels (from their religion).
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْکُرُونَ الْحَوْضَ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِکَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ اسْتَأْخِرِي عَنِّي قَالَتْ إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَائَ فَقُلْتُ إِنِّي مِنْ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَکُمْ فَرَطٌ عَلَی الْحَوْضِ فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُکُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي کَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ فَأَقُولُ فِيمَ هَذَا فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا
یونس بن عبدالاعلی صدفی عبداللہ بن وہب، عمرو ابن حارث بکیر قاسم بن عباس ہاشمی عبداللہ بن رافع مولیٰ حضرت ام سلمہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ لوگوں سے حوض (کوثر) کا ذکر سنتی تھی لیکن اس کے بارے میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا تھا ایک دن جبکہ ایک لڑکی میرے سر میں کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا اے لوگو کہ میں نے اس لڑکی سے کہا مجھ سے علیحدہ ہوجا وہ کہنے لگی آپ ﷺ نے صرف مردوں کو بلایا ہے اور عورتوں کو نہیں بلایا تو میں نے کہا میں بھی لوگوں میں سے ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لئے حوض کوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہ مجھ سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں ان کے بارے میں کہوں گا تو آپ ﷺ کو جواب دیا جائے گا کہ آپ ﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ ﷺ کے جانے کے بعد کیا کیا (رسوم و بدعات) ایجاد کرلیں تھیں تو میں (ان لوگوں سے) کہوں گا دور ہوجاؤ۔
Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said I used to hear from people making a mention of the Cistern, but I did not hear about it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . One day while a girl was combing me I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: "O people." I said to that girl: Keep away from me. She said: He (the Holy Prophet) has addressed the men only and he has not invited the attention of the women. I said: I am amongst the people also (and have thus every right to listen to the things pertaining to religion). Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I shall be your harbinger on the Cistern; therefore, be cautious lest one of you should come (to me) and may be driven away like a stray camel. I would ask the reasons, and it would be said to me: You dont know what innovations they made after you. And I would then also say: Be away.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ قَالَ کَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا کُفِّي رَأْسِي بِنَحْوِ حَدِيثِ بُکَيْرٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ
ابومعن رقاشی ابوبکر بن نافع عبد بن حمید ابوعامر عبدالملک بن عمرو افلح ابن سعید عبداللہ بن رافع ام سلمہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ وہ کنگھی کروا رہی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! حضرت ام سلمہ (رض) نے سنا تو کنگھی کرنے والی سے کہنے لگیں میرے سر کو رہنے دے باقی روایت بکیر عن القاسم کی روایت کی طرح نقل کی گئی ہے۔
Umm Salamahh reported that she heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying this as he was sitting on the pulpit and she was getting her hair combed. (He uttered these words): "O people." And she said to one who was combing: Leave my head; the rest of the hadith is the same.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّی عَلَی أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَی الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَی حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِي وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابی خیر حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر نکلے اور شہداء احد کی نماز اس طرح سے پڑھی جس طرح کہ میت کی نماز پڑھا کرتے ہیں پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے لئے پیش خیمہ ہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں اور اللہ کی قسم ! میں اب بھی اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں ہیں یا زمین کی چابیاں اور اللہ کی قسم ! مجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک بن جاؤ گے بلکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا کے لالچ میں آکر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔
Uqba bin Amir reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) one day went out and he offered prayer over the martyrs of Uhud just as prayer is offered over the dead. He then came back and sat on pulpit and said: I shall be present there (at the Cistern) before you. I shall be your witness and, by Allah, I perceive as if I am seeing with my own eyes my Cistern at this very state and I have been given the keys of the treasures of the earth or the keys of the earth and, by Allah, I am not afraid concerning you that you would associate anything (with Allah after me), but I am afraid that you would be vying with one another (for the possession of) the treasures of the earth.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَائِ وَالْأَمْوَاتِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَإِنَّ عَرْضَهُ کَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَی الْجُحْفَةِ إِنِّي لَسْتُ أَخْشَی عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِي وَلَکِنِّي أَخْشَی عَلَيْکُمْ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِکُوا کَمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ قَالَ عُقْبَةُ فَکَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ
محمد بن مثنی، وہب ابن جریر، بن حازم ابی یحییٰ بن ایوب، یزید بن ابی حبیب، مرثد حضرت عقبہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد پر نماز پڑھی پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے جیسا کہ کوئی زندوں اور مردوں کو رخصت کررہا ہو آپ ﷺ نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور حوض کوثر کی چوڑائی اتنی ہے جتنا کہ ایلہ کے مقام سے جحفہ کے مقام تک فاصلہ ہے مجھے تم سے اس بات کو ڈر نہیں کہ تم میرے بعد مشرک بن جاؤ گے لیکن مجھے تم سے اس بات کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا کے لالچ میں آپس میں حسد کرنے لگ جاؤ گے اور آپس میں خون ریزی کرنے لگ جاؤ گے جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہوجاؤ گے جس طرح کہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے حضرت عقبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آخری مرتبہ منبر پر دیکھا تھا۔
Uqba bin Amir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allahs Messenger offered prayer over those who had fallen matyrs at Uhud. He then climbed the pulpit as if someone is saying good-bye to the living and the dead, and then said: I shall be there as your predecesor on the Cistern before you, and it is as wide as the distance between Aila and Juhfa (Aila is at the top of the gulf of Aqabah). I am not afraid that you would associate anything with Allah after me, but I am afraid that you may be allured by the world and vie with one another in possessing material wealth and begin killing one another, and you would be destroyed as were destroyed those who had gone before you. Uqba said that that was the last occasion that he saw Allahs Massenger on the pulpit.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَصْحَابِي أَصْحَابِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مُغِيرَةَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ کِلَاهُمَا عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ وَمُغِيرَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ابومعاویہ اعمش، شقیق، عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور کچھ لوگوں کی خاطر مجھے جھگڑنا پڑے گا پھر میں ان پر مغلوب کردیا جاؤں گا پھر میں عرض کروں گا یہ تو میرے ساتھی ہیں یہ تو میرے ساتھی ہیں تو جواب میں مجھ سے فرمایا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد کیا کیا (رسوم و بدعات) ایجاد کر ڈالی تھیں۔ عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر حضرت اعمش (رض) سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں أَصْحَابِي أَصْحَابِي کے الفاظ ذکر نہیں ہیں۔ عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابن مثنی محمد بن جعفر، سعبہ مغیرہ ابو وائل حضرت عبداللہ (رض) نبی ﷺ سے حضرت اعمش (رض) کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں اور شعبہ کی روایت میں عَنْ مُغِيرَةَ کی جگہ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ کے الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔ سعید بن عمرو اشعثی عبثر ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل حصین ابو وائل حضرت حذیفہ (رض) نبی ﷺ سے حضرت اعمش (رض) اور حضرت مغیرہ کی حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying; I shall be there at the Cistern before you, and I shall have to contend for some people, but I shall have to yield. I would be saying: My Lord, they are my friends, they are my friends, and it would be said: You dont know what innovations they made after you.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَارِثَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَائَ وَالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ الْأَوَانِي قَالَ لَا فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ تُرَی فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْکَوَاکِبِ
محمد بن عبداللہ بن بریع ابن ابی عدی، شعبہ، معبد بن خالد حضرت حارثہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا حوض اتنا بڑا ہے کہ جتنا کہ صنعاء اور مدینہ منورہ کے درمیان فاصلہ ہے حضرت مستورد نے یہ حدیث سن کر کہا کہ کیا آپ نے برتنوں کے بارے میں کچھ نہیں سنا انہوں نے کہا نہیں تو حضرت مستورد کہنے لگے کہ اس حوض میں ستاروں کی طرح برتن ہونگے۔
Haritha reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: His Cistern would be as extensive as the distance between Sana and Madinah. Mustaurid (one of the narrators) said: Did you not hear anything about the utensils? Thereupon he said. No. Mustaurid said: You would find that the utensils would be like stars.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَذَکَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ وَقَوْلَهُ
ابراہیم بن محمد بن عرعرہ حرمی بن عمارہ شعبہ، معبد بن خالد حضرت حارثہ بن وہب خزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اور پھر حوض کی روایت مذکورہ حدیث کی طرح نقل کی اور اس میں حضرت مستور کا قول ذکر نہیں کیا۔
Haritha bin Wahb al-Khuzai reported Allahs Messeiigers (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) words concerning the Cistern like it, but he made no mention of the words of Mustaurid.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَامَکُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ کَمَا بَيْنَ جَرْبَائَ وَأَذْرُحَ
ابوربیع زہرانی ابوکامل جحدری حماد بن زید ایوب نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے سامنے حوض ہے اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا کہ مقام جربا اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is before you a Cistern and the distance between its two sides is as it is between Jarba and Adhruh.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَمَامَکُمْ حَوْضًا کَمَا بَيْنَ جَرْبَائَ وَأَذْرُحَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّی حَوْضِي
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ قطان عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے سامنے حوض (کوثر) ہے (اور یہ اتنا بڑا ہے) جتنا کہ مقام جربا اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے اور ابن مثنی کی روایت میں حوضی کا لفظ ہے یعنی میرا حوض۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar and the words are: That he said there would be before you a Cistern extending from Jarba and Adhruh and the same has been transmitted on the authority of Ibn Muthanna and the wording is: "My Cistern."
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَرْيَتَيْنِ بِالشَّأْمِ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
ابن نمیر، ابی ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، عبیداللہ (رض) اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اس میں صرف یہ الفاظ زائد ہیں کہ حضرت عبیداللہ نے حضرت نافع (رض) سے مقام جرباء اور اذرح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ شام میں دو بستیاں ہیں ان دونوں بستیوں کے درمیان تین رات کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ابن کثیر کی روایت میں تین دن کا ذکر ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority, of Ubaidullah with this addition: Ubaidullah was asked (about these two names, i. e. Jarba and Adhruh). He said: These are the two towns of Syria and there is between them the distance which can be covered in three nights, and the hadith transmitted on the authority of Ibn Bishr (the words are). "Three days."
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ
سوید بن سعید حفص بن میسرہ موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) نبی ﷺ سے حضرت عبیداللہ کی روایت کی طرح حدیث نقل کرتے ہیں۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَمَامَکُمْ حَوْضًا کَمَا بَيْنَ جَرْبَائَ وَأَذْرُحَ فِيهِ أَبَارِيقُ کَنُجُومِ السَّمَائِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا
حرملہ بن یحییٰ ، عبداللہ بن وہب، عمر بن محمد، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے سامنے حوض (کوثر) ہے (یہ حوض اتنا بڑا ہے) جتنا کہ مقام جرباء اور ازرج کے درمیان فاصلہ ہے اور اس حوض میں آسمان کے ستاروں کی طرح کوزے ہیں جو آدمی اس حوض پر آئے گا اور اس میں سے پئیے گا تو اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There would be before you a Cistern (as extensive) as there is the distance between Jarba and Adhruh and there would be jugs like stars in the sky; he who would come to that and drink from it would never feel thirsty after that.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَائِ وَکَوَاکِبِهَا أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنْ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَی أَيْلَةَ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَی مِنْ الْعَسَلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر مکی ابن ابی شیبہ ابن اسحاق عبدالعزیز بن عبدالصمد ابوعمر انجونی عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اس حوض کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اور اس رات کے ستارے جو رات اندھیری ہو اور جس میں بدلی ہو یہ جنت کے برتن ہیں جو اس برتن سے پئے گا وہ پھر کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا اس حوض میں جنت کے دو نالے بہتے ہیں جو اس سے پئے گا وہ پیاسا نہیں ہوگا اس حوض کی چوڑائی اور لمبائی دونوں برابر ہیں جتنا کہ مقام عمان اور مقام ایلہ کے درمیان فاصلہ ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
Abu Dharr (RA) said: Allahs Messenger, what about the vessels of that Cistern? He said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the vessels would outnumber the stars in the sky and its planets shining on a dark cloudless night. These would be the vessels of Paradise. He who drinks out of it (the Cistern) would never feel thirsty. There would flow in it two spouts from Paradise and he who would drink out of it would not feel thirsty; and the distance between its (two corners) is that between Amman and Aila, and its water is whiter than milk and sweeter than honey.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّی يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ فَقَالَ مِنْ مَقَامِي إِلَی عَمَّانَ وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَی مِنْ الْعَسَلِ يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنْ الْجَنَّةِ أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ
ابوغسان مسمعی محمد بن مثنی، ابن بشار معاذ بن ہشام ابوقتادہ، سالم بن ابی جعد معدان بن ابی طلحہ یعمری حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اپنے حوض کے کنارے پر لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا یمن والوں کو میں اپنی لاٹھی ماروں گا یہاں تک کہ یمن والوں پر (حوض کا پانی) بہہ پڑے گا پھر آپ ﷺ سے حوض کی چوڑائی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میرے اس مقام سے عمِّان تک، پھر آپ ﷺ سے اس کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (حوض کا پانی) دودھ سے ذیادہ سفید اور شہد سے ذیادہ میٹھا ہے سے زیادہ میٹھا ہے اس حوض میں جنت کے دو پرنالے بہیں گے جن کی جنت کے ذریعہ سے مدد ہوگی ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا اور دوسرا چاندی کا پرنالہ ہوگا۔
Thauban reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I would be pushing back from my Cistern the crowd of people. I would strike away from it (the Cistern) with my staff the people of Yemen until the water (of the Haud) would spout forth upon them. He was asked about its breadth. He said: From this place of mine to Amman, and he was asked about the drink and he said: It is whiter than milk and sweeter than honey. There would spout into it two streamlets having their sources in Paradise. The one is from gold and the other is from silver. This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and the words are: "I would be on the Day of Resurrection near the bank of the Cistern."
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِ هِشَامٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ
زہیر بن حرب، حسن بن موسیٰ شیبان، حضرت قتادہ (رض) سے ہشام کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن کوثر کے کنارے پر ہوں گا۔
Thauban reported this hadith pertaining to the Cistern. Muhammad bin Bashshar said: I said to Yahya bin Hammad.