Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 298 of 379

5948Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوکَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَی عَلَی حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْرُصُوهَا فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ أَحْصِيهَا حَتَّی نَرْجِعَ إِلَيْکِ إِنْ شَائَ اللَّهُ وَانْطَلَقْنَا حَتَّی قَدِمْنَا تَبُوکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَهُبُّ عَلَيْکُمْ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْکُمْ فَمَنْ کَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّی أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ وَجَائَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَائِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکِتَابٍ وَأَهْدَی لَهُ بَغْلَةً بَيْضَائَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْدَی لَهُ بُرْدًا ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّی قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَی فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا کَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا فَقَالَتْ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَائَ مِنْکُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ وَمَنْ شَائَ فَلْيَمْکُثْ فَخَرَجْنَا حَتَّی أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِينَةِ فَقَالَ هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَنَا آخِرًا فَأَدْرَکَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرًا فَقَالَ أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِکُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنْ الْخِيَارِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب سلیمان بن بلال عمرو بن یحییٰ عباس بن سہل بن سعد ساعدی حضرت ابوحمید سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہم وادی قری میں ایک عورت کے باغ پر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس باغ کے پھلوں کا اندازہ تو لگاؤ تو ہم نے اندازہ لگایا اور رسول اللہ کے اندازے کے مطابق دس وسق معلوم ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو ہمارا تیری طرف واپس آنے تک اس تعداد کو یاد رکھنا اور پھر ہم چلے یہاں تک کہ تبوک میں آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج رات بہت تیز آندھی چلے گی اور تم میں سے کوئی آدمی بھی اس میں کھڑا نہ ہو جس آدمی کے پاس اونٹ ہیں وہ انہیں مضبوطی سے باندھ دے ایسے ہی ہوا بہت تیز آندھی چلی ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا اسے لے کر اڑ گئی یہاں تک کہ طی کے دونوں پہاڑوں کے درمیان اسے ڈال دیا پھر اس کے بعد علماء کے بیٹے کا ایک قاصد جو کہ ایلہ کا حکمران تھا وہ ایک کتاب اور ایک سفید گدھا رسول اللہ ﷺ کے لئے بطور ہدیہ لے کر آیا رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کی طرف جواب لکھا اور ایک چادر بطور ہدیہ اس کی طرف بھیجی پھر ہم واپس ہوئے یہاں تک کہ ہم وادی قری میں آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے اس پھل کے باغ کے بارے میں پوچھا کہ اس باغ میں کتنا پھل نکلا اس عورت نے عرض کیا دس وسق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جلدی جانے والا ہوں اور تم میں سے جو کوئی جلدی جانا چاہے تو وہ میرے ساتھ چلے اور جو چاہے تو ٹھہر جائے پھر ہم نکلے یہاں تک کہ ہمیں مدینہ منورہ نظر آنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے اور یہ وہ احد پہاڑ ہے کہ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا انصار کے سب گھروں سے بہتر بنی نجار کے گھر ہیں پھر قبیلہ عبدالا شہل کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے پھر حضرت سعد بن عبادہ ہم سے ملے تو حضرت ابوسعید (رض) نے ان سے کہا کیا تو نے خیال نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے گھروں کی بھلائی بیان کی ہے اور ہمیں سب سے آخر میں کردیا ہے حضرت سعد (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے انصار کے گھروں کی بھلائی بیان کی ہے اور آپ ﷺ نے ہمیں سب سے آخر میں کردیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تم پسندیدہ لوگوں میں سے ہوجاؤ۔

Abu Humaid as-Saidi reported: We went out with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the expedition to Tabuk and we came to a wadi where there was a garden belonging to a woman. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said. Make an assessment (of the price of its fruit). And Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) also made an assessment and it was ten wasqs. He asked that lady (to calculate the amount) until they would, God willing, come back to her. So we proceeded on until we came to Tabuk and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The violent storm will overtake you during the night, so none amongst you should stand up and he who has a camel with him should hobble it firmly. A violent storm blew and a person who had stood up was carried away by the storm and thrown between the mountains of Tayy. Then the messenger of the son of al Alma, the ruler of Aila, came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with a letter and a gift of a white mule. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wrote him (the reply) and presented him a cloak. We came back until we halted in the Wadi al-Qura. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked that lady about her garden and the price of the fruits in that. She said: Ten wasqs. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I am going to depart, and he who amongst you wishes may depart with me but he who wants to stay may stay. We resumed the journey until we came to the outskirts of Madinah. (It was at this time) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This is Taba, this is Uhud, that is a mountain which loves us and we love it, and then said: The best amongst the houses of the Ansar is the house of Bani Najjar. Then the house of Bani Abdul Ashhal, then the house of Bani Abdul Harith bin Khazraj, then the house of Bani Saida, and there is goodness in all the houses of the Ansar. Said bin Ubadah came to us and Abu Usaid said to him: Did you not see that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has declared the houses of the Ansar good and he has kept us at the end. Said met Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, you have declared the house of the Ansar as good and have kept us at the end, whereupon he said: Is it not enough for you that you have been counted amongst the good.

5949Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَکَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَکَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان اسحاق بن ابراہیم، مغیرہ بن سلمہ مخزومی وہیب حضرت عمر بن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے (اس روایت میں) آپ ﷺ کے اس فرمان تک ہے کہ انصار کے سب گھروں میں بھلائی ہے اور اس کے بعد حضرت سعد (رض) بن عبادہ والے واقعہ کا ذکر نہیں کیا اور وہیب کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایلہ والوں کے لئے ان کا ملک لکھ دیا اور وہب کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف لکھا۔

This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Yahya with the same chain of transmitters up to the words: There is good in all the houses of the Ansar, and there is no mention of the subsequent event pertaining to Sad bin Ubadah.

5950Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَأَدْرَکَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ کَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا قَالَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ قُلْتُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ مَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ قُلْتُ اللَّهُ قَالَ فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ جابر، ابوعمران محمد بن جعفر بن زیاد ابراہیم ابن سعد زہری، سنان بن ابی سنان دولی حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے تو ہم نے رسول اللہ کو ایک ایسی وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے نیچے اترے اور آپ ﷺ نے تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور صحابہ کرام (رض) اس وادی کے درختوں کے سائے میں علیحدہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی میرے پاس اس حال میں آیا کہ میں سو رہا تھا تو اس نے تلوار پکڑ لی میں بیدار ہو تو وہ آدمی میرے سر پر کھڑا تھا مجھے صرف اس وقت پتہ چلا جب ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی وہ آدمی مجھ سے کہنے لگا اب تجھے کون مجھ سے بچائے گا میں نے کہا اللہ دوبارہ پھر اس نے مجھ سے کہا اب تجھے کون مجھ سے بچائے گا میں نے کہا اللہ اس نے تلوار اپنی نیام میں ڈالی وہ آدمی یہ بیٹھا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ تعرض نہیں فرمایا۔

Jabir binAbdullah (RA) reported: We went along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on an expedition towards Najd and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) found us in a valley abounding in thorny trees. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed for rest under a tree and he suspended his sword by one of its branches under which he was taking rest. The persons scattered in the valley and they also began to take rest under the shade of trees, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A person came to me while I was asleep and he took hold of the sword. I woke up and found him standing upon my head and I had hardly become alert (and saw) that the sword was in his hand. And he said: Who can protect you from me? I said: Allah. He again said: Who can protect you from me? I said: Allah. He put his sword in the sheath (and you can see) this man sitting here. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not in any way touch him.

5951Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَکَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَمَعْمَرٍ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی ابوبکر بن اسحاق ابویمان شعیب زہری، سنان بن ابی سنان دولی ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) جو کہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے تھے وہ خبر دیتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے تو جب نبی ﷺ واپس ہوئے تو ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے ایک دن دوپہر کو ہم نے ان کو آرام کرتے ہوئے پایا پھر اس کے بعد معمر اور ابراہیم بن سعد کی طرح حدیث ذکر کی۔

Jabir bin Abdullah al-Ansiri, who was one amongst the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that he went on an expedition along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) towards Najd and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed there, and when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came back he also came back along with him. They, for one day, stayed for rest; the rest of the hadith is the same.

5952Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان ابان بن یزید یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذات الرقاع تک پہنچ گئے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی لیکن اس میں یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ تعرض نہیں فرمایا۔

Jabir bin Abdullah reported: We went along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and as we reached the place Dhat-ur-Riqa; the rest of the hadith is the same, but there is no mention of the word that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not harm him.

5953Sahih Muslimصحیح

اس مثال کے بیان میں کہ نبی کریم ﷺ کو کتناعلم اور ہدایت دے کر مبعوث فرمایا گیا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْهُدَی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَکَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتْ الْمَائَ فَأَنْبَتَتْ الْکَلَأَ وَالْعُشْبَ الْکَثِيرَ وَکَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَکَتْ الْمَائَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَی إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَائً وَلَا تُنْبِتُ کَلَأً فَذَلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِکَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَی اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ ابوعامر اشعری محمد بن علاء ابی عامر ابوسامہ برید حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جتنا علم اور ہدایت دے کر معبوث فرمایا اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ زمین پر مینہ برسا اس زمین میں سے کچھ حصہ ایسا تھا کہ جس نے پانی اپنے اندر جذب کرلیا اور بہت کثرت سے چارہ اور سبزہ اگایا اور زمین کا کچھ حصہ سخت تھا کہ وہ پانی کو روک لیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو نفع دیتے ہیں لوگ اس میں سے پیتے ہیں اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں اور آگاہ رہو گھاس چراتے ہیں اور زمین کا کچھ حصہ چٹیل میدان ہے کہ وہ پانی کو نہیں روکتا اور نہ ہی اس میں گھاس پیدا ہوتی ہے تو یہی مثال اس کی ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے دین کو سمجھا اور جو دین اللہ تعالیٰ نے مجھے دے کر مبعوث فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا چناچہ اس نے خود بھی دین سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور مثال ان لوگوں کی کہ جنہوں نے اس طرف سر بھی نہیں اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت (دین) کو جسے مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اس کو قبول نہیں کیا۔

Abu Musa reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of that guidance and knowledge with which Allah, the Exalted and Glorious, has sent me is that of rain falling upon the earth. There is a good piece of land which receives the rainfall (eagerly) and as a result of it there is grown in it herbage and grass abundantly. Then there is a land hard and barren which retains water and the people derive benefit from it and they drink it and make the animals drink. Then there is another land which is barren. Neither water is retained in it, nor is the grass grown in it. And that is the similitude of the first one who develops the understanding of the religion of Allah and it becomes a source of benefit to him with which Allah sent me. (The second one is that) who acquires the knowledge of religion and imparts it to others. (Then the other type is) one who does not pay attention to (the revealed knowledge) and thus does not accept guidance of Allah with which I have been sent.

5954Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَی قَوْمَهُ فَقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَائَ فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَی مُهْلَتِهِمْ وَکَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَکَانَهُمْ فَصَبَّحَهُمْ الْجَيْشُ فَأَهْلَکَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ فَذَلِکَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَکَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنْ الْحَقِّ

عبداللہ بن براء، اشعری ابوکریب ابواسامہ برید حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے اس دین کی مثال جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرما کر مبعوث فرمایا ہے اس آدمی کی طرح ہے کہ جو اپنی قوم سے آکر کہے اے قوم میں نے اپنی آنکھوں سے دشمن کا ایک لشکر دیکھا ہے اور میں تم کو واضع طور پر ڈراتا ہوں تو تم اپنے آپ کو دشمن سے بچاؤ اور اس کی قوم میں سے ایک جماعت نے اس کی اطاعت کرلی اور شام ہوتے ہی اس مہلت کی بناء پر بھاگ گئی اور ایک گروہ نے اس کو جھٹلایا اور وہ صبح تک اسی جگہ پر رہے تو صبح ہوتے ہی دشمن کے لشکر نے ان پر حملہ کردیا اور وہ ہلاک ہوگئے اور ان کو جڑ سے اکھیڑ دیا یہی مثال ہے جو میری اطاعت کرتا ہے اور میں جو دین حق لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کرتا ہے اور مثال ان لوگوں کی جو میری نافرمانی کرتے ہیں اور جو دین حق لے کر آیا ہوں اسے جھٹلاتے ہیں۔

Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied me and the Truth with which I have been sent.

5955Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَتْ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ

قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور میری امت کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی ہوئی ہو اور سارے کیڑے مکوڑے اور پتنگے اس میں گرتے چلے جا رہے ہوں اور میں تمہاری کمروں کو پکڑے ہوئے ہوں اور تم بلا سوچے اندھا دھند اس میں گرتے چلے جا رہے ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and that of my Umma is that of a person who lit fire and there began to fall into it insects and moths. And I am there to hold you back, but you plunge into it.

5956Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

عمرو ناقد ابن ابی عمر سفیان، حضرت ابوالزناد (رض) سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

The above hadith was likewise narrated with another chain of transmitters.

5957Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَائَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا قَالَ فَذَلِکُمْ مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنْ النَّارِ هَلُمَّ عَنْ النَّارِ هَلُمَّ عَنْ النَّارِ فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام ابن منبہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی ہو تو جب اس نے آگ سے اپنے ارد گرد کو روشن کیا تو اس میں کیڑے مکوڑے اور وہ جانور جو اس میں گرتے ہیں وہ گرنے لگے وہ ان کو روکے مگر وہ نہ رکیں اور اس میں گرتے رہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ کر تمہیں دوزخ میں گرنے سے روکتا ہوں اور میں تمہیں کہتا ہوں کہ دوزخ کے پاس سے چلے آؤ دوزخ کے پاس سے چلے آؤ لیکن تم نہیں مانتے اور اس میں گرتے چلے جا رہے ہو۔

Hammam bin Munabbih reported: Abu Hurairah (RA) reported us some ahadith from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) amongst many, (and) one is this that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A person lit fire and when the atmosphere was aglow, moths and insects began to fall into the fire, but I am there to hold them back, but they are plunging into it despite my efforts, and he further added: That is your example and mine. I am there to hold you back from fire and to save you from it, but you are plunging into it despite my efforts.

5958Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَائَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنْ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي

محمد بن حاتم ابن مہدی سلیم سعید بن میناء، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی تو اس میں ٹڈی اور پتنگے گرنے لگیں اور وہ آدمی ان کو روکے اور میں بھی دوزخ کی آگ سے تمہاری کمروں کو تھامے ہوئے ہوں اور تم میرے ہاتھوں سے نکلتے چلے جا رہے ہو۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying. My example and your example is that of a person who lit the fire and insects and moths began to fall in it and he would be making efforts to take them out, and I am going to hold you back from fire, but you are slipping from my hand.

5959Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ فَکُنْتُ أَنَا تِلْکَ اللَّبِنَةَ

عمرو بن محمد ناقد، سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مثال اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے کوئی مکان بنایا اور اسے بہت اچھا اور خوبصورت بنایا اور لوگ اس مکان کے چاروں طرف گھومنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس مکان سے زیادہ خوبصورت مکان نہیں دیکھا سوائے اس ایک اینٹ کے (یعنی ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے) تو وہ اینٹ میں ہی ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles (before me) is that of a person who constructed a building and he built it fine and well and the people went round it saying: Never have we seen a building more imposing than this, but for one brick, and I am that brick (with which you give the finishing touch to the building).

5960Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ مِنْ قَبْلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَی بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَکْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمْ الْبُنْيَانُ فَيَقُولُونَ أَلَّا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً فَيَتِمَّ بُنْيَانُکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا میری مثال اور ان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کو اچھا خوبصورت اور مکمل طور پر بنایا لیکن اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی لوگ اس مکان کے چاروں طرف گھومتے ہیں اور اسے دیکھتے ہیں اور وہ مکان ان کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ ایک اینٹ رکھ دی جاتی تو تمہارا مکان مکمل ہوجاتا حضرت محمد ﷺ نے فرمایا میں ہی وہ اینٹ ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful and he made it complete but for one brick in one of its corners. People began to walk round it, and the building pleased them and they would say: But for this brick your building would have been perfect. Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: And I am that final brick.

5961Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ مِنْ قَبْلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر عبداللہ بن دینار ابوصالح سمان حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور ان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے مکان بنایا اور بہت اچھا اور خوبصورت بنایا لیکن مکان کے ایک کونے میں سے ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی لوگ اس کے مکان کے چاروں طرف گھومے وہ مکان ان کو بڑا اچھا لگا اور وہ مکان بنانے والے سے کہنے لگے کہ آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی آپ ﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہی ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful, but for one brick in one of its corners. People would go round it, appreciating the building, but saying: Why has the brick not been fixed here? He said: I am that brick and I am the last of the Apostles.

5962Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی۔

Abu Said reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles; the rest of the hadith is the same.

5963Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَکْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَائَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان سلیم بن حیان سعد بن میناء، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مثال اور دوسرے تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے ایک گھر بنایا اور اسے پورا اور کامل بنایا سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ خالی رہ گئی لوگ اس گھر کے اندر داخل ہو کر اسے دیکھنے لگے اور وہ گھر ان کو پسند آنے لگا وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہی اس اینٹ کی جگہ آیا ہوں اور میں نے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔

Jabir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles is like that of a person who built a house and he completed it and made it perfect but for the space of a brick. People entered therein and they were surprised at it and said: Had there been a brick (it would have been complete in all respects). Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I am that place where the brick (completing the building is to be placed), and I have come to finalise the chain of Apostles.

5964Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ بَدَلَ أَتَمَّهَا أَحْسَنَهَا

محمد بن حاتم، ابن مہدی حضرت سلم (رض) سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

5965Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب اللہ تعالیٰ امت پر رحم کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس امت کے نبی کو اس کی ہلاکت سے پہلے ہی بلا لیتا ہے۔

قَالَ مُسْلِم وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَمِمَّنْ رَوَی ذَلِکَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَإِذَا أَرَادَ هَلَکَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَأَهْلَکَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَکَتِهَا حِينَ کَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ

مسلم ابی اسامہ ابراہیم، بن سعید جوہری ابواسامہ یرید بن عبداللہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحم کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس امت کے نبی کو امت کی ہلاکت سے پہلے بلا لیتا ہے اور وہ اپنی امت کے لئے اجر اور پیش خیمہ ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس نبی کی زندگی میں ہی اس کے سامنے اس کی امت پر عذاب نازل فرماتا ہے اور نبی اس امت کی ہلاکت دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔

Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When Allah, the Exalted and Glorious, intends to show mercy to an Umma from amongst His servants He calls back His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to his eternal home and makes him a harbinger and recompense in the world to come; and when He intends to cause destruction to an Umma, He punishes it while its Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is alive and He destroys it as he (the Apostle) witnesses it and he cools his eyes by destruction as they had belied him and disobeyed his command.

5966Sahih Muslimصحیح

ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ

احمد بن عبداللہ بن یونس زائدہ عبدالملک بن عمیر حضرت جندب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں حوض پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا۔

Jundab reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I shall be there at the Cistern before you.

5967Sahih Muslimصحیح

ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب ابن بشر مسعر عبیداللہ بن معاذ ابی محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر حضرت جندب (رض) نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Jundab through another chain of transmitters.