Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 297 of 379

5928Sahih Muslimصحیح

خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَی اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَی النَّاسَ يَتَکَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلًا مِنْ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَأَرَاکَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَعَلَا ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْبُرْهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنْ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ وَأَمَّا مَا يَتَکَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ فَالْمُسْتَکْثِرُ مِنْ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنْ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيکَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ لَا تُقْسِمْ

حاجب بن ولید، محمد بن حرب، زبیدی، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس یا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے آج رات خواب میں بادل دیکھے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس سے اپنے اپنے ہاتھوں میں چلو بھر بھر کرلے رہے ہیں ان میں سے بعض زیادہ لے رہے ہیں اور بعض کم اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک ہے میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے پھر آپ ﷺ کے بعد ایک آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی چڑھ گیا پھر ایک دوسرا آدمی بھی اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا تو وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اس کے لئے جوڑ دی گئی تو وہ چڑھ گیا حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان اللہ کی قسم آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تعبیر کرو۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا بادل سے مراد اسلام کا سایہ ہے اور گھی اور شہد کے ٹپکنے سے مراد قرآن مجید کی حلاوت و نرمی ہے اس سے لوگوں کا حاصل کرنا قرآن مجید سے کم اور زیادہ حاصل کرنے کے مترادف ہے اور رسی جو آسمان سے زمین تک ہے اس سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ ﷺ قائم ہیں آپ ﷺ اسے مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اللہ اس کے ذریعے آپ ﷺ کو بلند فرمائے گا پھر آپ ﷺ کے بعد جو آدمی اس کو تھامے گا وہ اس کے ذریعہ بلند ہوگا پھر اس کے بعد دوسرا آدمی پکڑے گا وہ بھی بلند ہوجائے گا پھر اس کے بعد ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ بھی بلند ہوجائے گا پھر اس کے بعد ایک دوسرا آدمی پکڑے گا تو اس سے دین میں خلل واقع ہوگا لیکن وہ خرابی دور ہوجائے گی اور وہ بھی بلندی پر چلا جائے گا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان آپ ﷺ مجھے بتائیں کہ میں نے تعیبر درست کی ہے یا خطاء کی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بعض تعبیر تو نے درست کی ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے ابوبکر (رض) نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول آپ ﷺ مجھے بتائیں جو میں نے غلطی کی آپ ﷺ نے فرمایا قسم مت دو ۔

It is reported eithfr on the authority of Ibn Abbas (RA) or on the authority of Abu Hurairah (RA) that a person came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, I saw while I was sleeping during the night (this vision) that there was a canopy from which butter and honey were trickling and I also saw people collecting them in the palms of their hands, some more, some less, and I also saw a rope connecting the earth with the sky and I saw you catching hold of it and rising towards the heaven; then another person after you catching hold of it and rising towards (Heaven); then another person catching hold of it, but it was broken while it was rejoined for him and he also climbed up. Abu Bakr (RA) said: Allahs Messenger, may my father be sacrificed for you, by Allah, allow me to interpret it. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Well, give its interpretation. Thereupon Abu Bakr (RA) said: The canopy signifies the canopy of Islam and that what it trickles out of it in the form of butter and honey is the Holy Quran and its sweetness and softness and what the people get hold of it in their palms implies major portion of the Quran or the small portion; and so far as the rope joining the sky with the earth is concerned, it is the Truth by which you stood (in the worldly life) and by which Allah would raise you (to Heaven). Then the person after you would take hold of it and he would also climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and climb up with the help of it. Then another person would take hold of it and it would be broken; then it would be rejoined for him and he would climb up with the help of it. Allahs Messenger, may my father be taken as a ransom for you, tell me whether I have interpreted it correctly or I have made an error. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You have interpreted a part of it correctly and you have erred in interpreting a part of it. Thereupon he said: Allahs Messenger, by Allah, tell me that part where I have committed an error. Thereupon he said: Dont take oath.

5929Sahih Muslimصحیح

خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ

ابن ابی عمر سفیان، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد سے واپسی پر ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آج رات میں نے خواب میں ایک بادل دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا باقی حدیث یونس کی روایت کے مطابق ہے۔

Ibn Abbas reported that there came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a person as he was returning from Uhud and he said: Allahs Messenger, I saw in sleep during the night a canopy trickling butter and honey; the rest of the hadith is the same.

5930Sahih Muslimصحیح

خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ کَانَ مَعْمَرٌ أَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَرَی اللَّيْلَةَ ظُلَّةً بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ابن عباس (رض) یا حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آج رات میں نے بادل دیکھا باقی حدیث انہیں کی طرح ہے۔

It is reported either on the authority of Ibn Abbas or on that of Abu Hurairah (RA) that a person came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Verily I saw during the night a canopy; the rest of the hadith is the same.

5931Sahih Muslimصحیح

خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ کَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن کثیر سلیمان بن کثیر زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ (رض) سے فرمایا کرتے تھے تم میں سے جس نے خواب دیکھا ہو وہ اسے بیان کرے تاکہ میں اسے اس خواب کی تعبیر بتاؤں ایک آدمی آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے بادل دیکھا باقی حدیث گزر چکی۔

Ibn Abbas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to say to his Companions: He who amongst you sees a vision should narrate it and I would interpret it for him, and a person came and said: Allahs Messenger, I saw a canopy. The rest of the hadith is the same.

5932Sahih Muslimصحیح

نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيمَا يَرَی النَّائِمُ کَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب حماد بن سلمہ ثابت حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک رات وہ دیکھا جو سونے والا دیکھتا ہے گویا کہ ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں اور ہمارے پاس ابن طاب قسم کی تازہ کھجوروں میں سے کھجوریں لائیں گئیں تو میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ دنیا میں ہماری عظمت ہوگی اور آخرت میں بچاؤ ہوگا اور ہمارا دین بہت عمدہ ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I saw during the night that which a person sees during the sleep as if we are in the house of Uqba bin Rafi that there was brought to us the fresh dates of Ibn Tab. I interpreted it as the sublimity for us in the world and good ending in the Hereafter and that our religion is good.

5933Sahih Muslimصحیح

نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَذَبَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَکْبَرُ مِنْ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي کَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ إِلَی الْأَکْبَرِ

نصر بن علی ابی صخر بن جویریہ نافع ابن عمر حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں مسواک کر رہا ہوں دو آدمیوں نے مجھے کھینچا ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا میں نے وہ مسواک ان میں سے چھوٹے کو دے دی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو تو میں نے وہ مسواک بڑے کو دے دی۔

Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I saw in a dream that I was using miswak and the two persons contended to get it from me, the one being older than the other one. I gave the miswak to the younger one. It was said to me to give that to the older one and I gave it to the older one.

5934Sahih Muslimصحیح

نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَکَّةَ إِلَی أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَی أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَی فَعَادَ أَحْسَنَ مَا کَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَائَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمْ النَّفَرُ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَائَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْخَيْرِ بَعْدُ وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ

ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ بریدہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف جا رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے مگر وہ شہر یثرب تھا اور میں نے اپنے اس خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو حرکت دی تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی اس کی تعبیر وہ ہوئی جو مومنین کو غزوہ احد کے دن تکلیف پہنچی پھر میں نے تلوار کو دوبارہ حرکت دی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور سالم تھی اس کی تعبیر اللہ کی طرف سے فتح مکہ کی صورت میں اور مسلمانوں کے اجتماع سے ہوئی اور اسی خواب میں میں نے گائے کو بھی دیکھا اور اللہ بہتر ثواب عطا فرمانے والے ہیں۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کا غزوہ احد میں شہید ہونا تھا اور خیر سے مراد وہ بھلائی ہے جو اللہ نے اس کے بعد عطا کی اور سچائی کا ثواب وہ ہے جو ہمارے پاس اللہ نے غزوہ بدر کے بعد عطا کیا۔

Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I saw in sleep that I was about to migrate from Makkah to a land abounding in palm trees and I guessed that it would be Yamama or Hajar, but it was the city of Yathrib (the old name of Madinah), and I saw in this dream of mine that I was brandishing a sword and its upper end was broken and this is what fell (in the form of misfortune to the believers on the Day of Ubud). I brandished (the sword) for the second time and it became all right and this is what came to be true when Allah granted us victory and solidarity of the believers. And I saw therein cows also and Allah is the Doer of good. These meant the group from amongst the believers on the Day of Ubud and the goodness which Allah brought after that and the reward of attestation of his Truth which Allah brought to us after the Day of Badr.

5935Sahih Muslimصحیح

نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْکَذَّابُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ فَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ کَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدَةٍ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُکَهَا وَلَنْ أَتَعَدَّی أَمْرَ اللَّهِ فِيکَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّکَ اللَّهُ وَإِنِّي لَأُرَاکَ الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا أُرِيتُ وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُکَ عَنِّي ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ أَرَی الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا أُرِيتُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا کَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي فَکَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَائَ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ

محمد بن سہل تمیمی ابویمان شعیب عبداللہ بن ابی حسین نافع بن جبیر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور اس نے کہنا شروع کردیا کہ اگر محمد اپنے بعد حکومت میرے سپرد کردیں تو میں ان کی اتباع کرتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے کافی آدمیوں کے ہمراہ (مدینہ) آیا نبی ﷺ اس کی طرف تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے اور نبی ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ مسیلمہ کے پاس ان کے ساتھیوں میں جا کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا اگر تو مجھ سے لکڑی کا یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں گا اور میں تیرے بارے میں اللہ کے حکم سے ہرگز تجاوز نہ کروں گا اور اگر تو نے (میری اتباع سے) پیٹھ پھیری تو اللہ تجھ کو قتل کرے گا اور میں تیرے بارے میں وہی گمان رکھتا ہوں جو مجھے تیرے بارے میں خواب میں دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت ہیں جو تجھے میری طرف سے جواب دیں گے پھر آپ ﷺ اس سے واپس تشریف لائے ابن عباس (رض) نے کہا میں نے نبی ﷺ کے قول کے بارے میں کہ تیرے بارے میں وہی گمان کرتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے، پوچھا تو ابوہریرہ (رض) نے مجھے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے سوتے ہوئے دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں جن سے مجھے فکر پیدا ہوگئی تو خواب میں ہی میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں (کنگنوں) پر پھونک مارو میں نے انہیں پھونکا تو وہ اڑ گئے میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ دو جھوٹے میرے بعد نکلیں گے پس ان میں سے ایک عنسی صنعاء کا رہنے والا ہے اور دوسرا مسیلمہ یمامہ والا۔

Ibn Abbas (RA) reported that Musailima al-Kadhdhab (the greater liar) (who claimed prophethood after the death of the Holy Prophet) came during the lifetime of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to Madinah and said: If Muhammad assigns his caliphate to me after him I would follow, and there came along with him a large body of persons of his tribe and there came to him Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) along with Thabit bin Qais bin Shammas and the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had a piece of wood in his hand until he came in front of Musailima in the company of his companions and said: If you were to ask even this (wood), I would never give it to you. I am not going to do anything against the will of God in your case, and if you turn away (from what I say) Allah will destroy you. And I find you in the same state which I was shown (in the dream) and here is Thabit and he would answer you on my behalf. He (the Holy Prophet) then went back. Ibn Abbas said: I asked the (meanings of the) words of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : "You are the same what I was made to see about you in my dream." and Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: While I was sleeping I saw in my hands two gold bangles. This had a disturbing effect upon me and I was given a suggestion in the sleep that I should blow over them, so I blew over them and they were no more. And I interpreted these (two bangles) as the two great liars who would appear after me and the one amongst them was Anasi the inhabitant of Sana and the other one Musailima the inhabitant of Yamama.

5936Sahih Muslimصحیح

نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ أُسْوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَکَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْکَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَائَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے تو وہ مجھ پر سخت گران گزرے اور انہوں نے مجھے فکر مند کردیا میری طرف وحی کی گئی کہ ان کو پھونک مار و میں نے انہیں پھونک ماری تو وہ دونوں جاتے رہے میں نے ان کی تعبیر یہ سمجھی کہ یہ دونوں کذاب ہوں گے جن کے درمیان میں ہوں ایک تو والئی صنعاء اور دوسرا والئی یمامہ۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: While I was sleeping, the treasures of the earth were presented to me and I was made to wear in my hands two gold bangles. I felt a sort of burden upon me and I was disturbed and it was suggested to me that I should blow over them, so I blew and both of them disappeared. I interpreted them as two great liars who would appear at any time, one is the inhabitant of Sana and the other is that of Yamama.

5937Sahih Muslimصحیح

نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي رَجَائٍ الْعُطَارِدِيِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ رَأَی أَحَدٌ مِنْکُمْ الْبَارِحَةَ رُؤْيَا

محمد بن بشار، وہب بن جریر، ابورجا عطاردی حضرت سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز ادا فرما کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کیا تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا ہے۔

ahadeeth bin Jundab reported that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had performed his dawn prayer he turned his face towards them (that is towards his Companions) and said: Did any one of you see any vision last night?

5938Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے نسب مبارک کی فضیلت اور نبوت سے قبل پتھر کا آپ ﷺ کو سلام کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ جَمِيعًا عَنْ الْوَلِيدِ قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَی کِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ وَاصْطَفَی قُرَيْشًا مِنْ کِنَانَةَ وَاصْطَفَی مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ

محمد بن مہران رازی محمد بن عبدالرحمن بن سہم ولید ابن مہران ولید بن مسلم، اوزاعی ابی عمار شداد، حضرت واثلہ بن اسقع (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور قریش کو کنانہ میں سے چنا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور پھر بنی ہاشم میں سے مجھے چنا۔

Wathila bin al-Asqa reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Verily Allah granted eminence to Kinana from amongst the descendants of Ismail and he granted eminence to the Quraish amongst Kinana and he granted eminence to the Quraish amongst Banu Hashim and he granted me eminence from the tribe of Banu Hashim.

5939Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے نسب مبارک کی فضیلت اور نبوت سے قبل پتھر کا آپ ﷺ کو سلام کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ حَدَّثَنِي سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّةَ کَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکیر ابراہیم، بن طہمان سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ جو مکہ مکرمہ میں میرے مبعوث ہونے سے پہلے مجھ پر سلام کیا کرتا تھا۔

Jabir bin ahadeeth reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I recognise the stone in Makkah which used to pay me salutations before my advent as a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and I recognise that even now.

5940Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ ساری مخلوقات میں سب سے افضل ہمارے نبی ﷺ ہیں۔

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ

حکم بن موسیٰ ابوصالح ہقل ابن زیاد اوزاعی ابوعمار عبداللہ بن فروض حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میں حضرت آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I shall be pre-eminent amongst the descendants of Adam علیہ السلامعلیہ السلامon the Day of Resurrection and I will be the first intercessor and the first whose intercession will be accepted (by Allah).

5941Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَائٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَی الثَّمَانِينَ قَالَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی الْمَائِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ

ابوربیع سلیمان بن داؤد عتکی حماد بن زید ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی مانگا تو ایک کشادہ پیالہ لایا گیا لوگ اس میں سے وضو کرنے لگے میں نے اندازہ لگایا کہ ساٹھ سے اسی تک لوگوں نے وضو کیا ہوگا اور میں پانی کو دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ کی انگلیوں سے پھوٹ رہا ہے۔

Anas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called for water and he was given a vessel and the people began to perform ablution in that and I counted (the persons) and they were between fifty and eighty and I saw water which was spouting from his fingers.

5942Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوئَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ الْإِنَائِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَائَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّی تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ

اسحاق بن موسیٰ انصاری معن مالک ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا تھا اور لوگوں نے وضو کرنے کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہیں ملا پھر تھوڑا سا پانی رسول اللہ ﷺ کے وضو کے لئے لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور صحابہ کرام (رض) کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم فرمایا حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے بہہ رہا ہے پھر صحابہ کرام (رض) نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں سے جو سب سے آخر میں تھا اس نے بھی وضو کیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: I saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) during the time of the afternoon prayer and the people asking for water for performing ablution which they did not find. A small quantity of water was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he placed his hand in that vessel and commanded people to perform ablution. I saw water spouting from his fingers and the people performing ablution until the last amongst them performed it.

5943Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَائِ قَالَ وَالزَّوْرَائُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَائٌ فَوَضَعَ کَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ قَالَ قُلْتُ کَمْ کَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ کَانُوا زُهَائَ الثَّلَاثِ مِائَةِ

ابوغسان مسمعی معاذ ابن ہشام ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام (رض) زوراء کے مقام میں تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ زوراء مدینہ منورہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک مقام ہے آپ ﷺ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی مبارک اس پانی والے پیالے میں رکھ دی تو آپ کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے لگا پھر آپ کے تمام صحابہ نے اس سے وضو کیا حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ صحابہ کرام کتنی تعداد میں تھے حضرت انس (رض) نے فرمایا صحابہ کرام (رض) اس وقت تقریبا تین سو کی تعداد میں تھے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions were at a place known as az-Zaura (az-Zaura is a place in the bazar of Madinah near the mosque) that he called for a vessel containing water. He put his hand in that. And there began to spout (water) between his fingers and all the Companions performed ablution. Qatada, one of the narrators in the chain of narrators, said: Abu Hamza (the kunya of Hadrat Anas bin Malik (RA)), how many people were they? He said: They were about three hundred.

5944Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ بِالزَّوْرَائِ فَأُتِيَ بِإِنَائِ مَائٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ

محمد بن مثنی محمد بن جعفر، سعید قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ زوراء کے مقام میں تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا کہ جس میں صرف اتنا پانی تھا کہ اس میں آپ ﷺ کی انگلیاں ڈوبتی نہیں تھیں یا آپ ﷺ کی انگلیاں اس میں چھپتی نہیں تھیں پھر ہشام کی روایت کی طرح ذکر کی۔

Anas reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was at az-Zaura and a vessel containing water was brought to him in which his finger could not be completely dipped or completely covered; the rest of the hadith is the same.

5945Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ مَالِکٍ کَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُکَّةٍ لَهَا سَمْنًا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْئٌ فَتَعْمِدُ إِلَی الَّذِي کَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّی عَصَرَتْهُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَصَرْتِيهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَوْ تَرَکْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا

سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن زبیر جابر، ام مالک حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت مالک (رض) کی والدہ نبی ﷺ کی خدمت میں گھی کے ایک برتن میں گھی بطور ہدیہ کے بھیجا کرتی تھیں پھر اس کے بیٹے آتے اور اپنی والدہ سے سالن مانگتے لیکن ان کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو حضرت مالک کی والدہ اس برتن کے پاس جاتیں جس میں وہ نبی ﷺ کے لئے گھی بھیجا کرتی تھیں تو وہ اس برتن میں گھی موجود پاتیں تو اس طرح ہمیشہ ان کے گھر کا سالن چلتا رہا یہاں تک کہ ام مالک نے اس برتن کو نچوڑ لیا (یعنی بالکل خالی کردیا) پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں تو آپ نے فرمایا تو نے اس برتن کو نچوڑ لیا ہوگا تو اس نے کہا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کاش تو اسے اسی طرح چھوڑ دیتی تو وہ ہمیشہ قائم رہتا۔

Jabir reported that Umm Malik used to send clarified butter in a small skin to the Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Her sons would come to her and ask for seasoning when they had nothing with them (in the form of condiments) and she would go to that (skin) in which she offered (clarified butter) to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and she would find in that clarified butter and it kept providing her with seasoning for her household until she had (completely) squeezed it. She came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and (informed him about it). Thereupon, he (the Holy Prophet) said: Did you squeeze it? She said: Yes. Thereupon he said: If you had left it in that very state, it would have kept on providing you (the clarified butter) on end.

5946Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْکُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّی کَالَهُ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ لَمْ تَکِلْهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَکُمْ

سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابی زبیر حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو آپ ﷺ نے اسے آدھا وسق جو دے دیئے پھر وہ آدمی اور اس کی بیوی اور ان کے مہمان ہمیشہ اس سے کھاتے رہے یہاں تک کہ اس نے اس کا وزن کرلیا پھر نبی ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کاش کہ تو اس کا وزن نہ کرتا تو ہمیشہ تم اسی میں سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے لئے قائم رہتا۔

Jabir reported that a person came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and asked for food. And he gave him half a wasq of barley, and the person and his wife and their guests kept on making use of it (as a food) until he weighed it (in order to find out the actual quantity, and it was no more). He came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (and informed him about it). He said: Had you not weighed it, you would be eating out of it and it would have remained intact for you.

5947Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوکَ فَکَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِکَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوکَ وَإِنَّکُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّی يُضْحِيَ النَّهَارُ فَمَنْ جَائَهَا مِنْکُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّی آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاکِ تَبِضُّ بِشَيْئٍ مِنْ مَائٍ قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا قَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی اجْتَمَعَ فِي شَيْئٍ قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَائٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ غَزِيرٍ شَکَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ حَتَّی اسْتَقَی النَّاسُ ثُمَّ قَالَ يُوشِکُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَی مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوعلی حنفی مالک ابن انس، ابوزبیر، مکی ابوطفیل عامر بن واثلہ حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو آپ ﷺ نمازوں کو جمع فرماتے تھے ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھتے تھے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ایک دن نماز میں دیر فرمائی پھر آپ ﷺ نکلے اور ظہر و عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے پھر اس کے بعد آپ ﷺ تشریف لائے اور مغرب اور عشا کی نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر آپ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو کل تم دن چڑھے تک چشمہ پر پہنچ جاؤ گے اور تم میں کوئی اس چشمے کے پانی کو ہرگز ہاتھ نہ لگائے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے دو آدمی اس چشمے کی طرف پہنچ گئے اور چشمے میں پانی جوتی کے تسمے کے برابر ہوگا اور وہ پانی بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم نے اس چشمے کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے انہوں نے کہا جی ہاں تو نبی ﷺ نے جو اللہ نے چاہا ان کو برا کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چشمہ کا تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک اور اپنے چہرہ اقدس کو دھویا پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا پھر اس چشمہ سے جوش مارتے ہوئے پانی بہنے لگا یہاں تک کہ لوگوں نے بھی پانی پیا ( اور جانوروں نے بھی پانی پیا) پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ اس چشمے کا پانی باغوں کو سیراب کر دے گا۔

Muadh bin Jabal reported that he went along with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the expedition of Tabuk and he (the Holy Prophet) combined the prayers. He offered the noon and afternoon prayers together and the sunset and night prayers together and on the other day he deferred the prayers; he then came out and offered the noon and afternoon prayers together. He then went in and (later on) came out and then after that offered the sunset and night prayers together and then said: God willing, you would reach by tomorrow the fountain of Tabuk and you should not come to that until it is dawn, and he who amongst you happens to go there should not touch its water until I come. We came to that and two persons (amongst) us reached that fountain ahead of us. It was a thin flow of water like the shoelace. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked them whether they had touched the water. They said: Yes. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) scolded them, and he said to them what he had to say by the will of God. The people then took water of the fountain in their palms until it became somewhat significant and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) washed his hands and his face too in it, and then, took it again in that (fountain) and there gushed forth abundant water from that fountain, until all the people drank to their fill. He then said: Muadh, it is hoped that if you live long you would see its water irrigating well the gardens.