Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 26 of 379

502Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ جَرِيرٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ

عبیداللہ بن عمر، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

The same hadith is narrated by Ubaidallah bin Umar al-Qawariri from Abu Uwana, who transmitted it to Abdul Malik bin Umair on the same chain of transmitter and the hadith of Jarir is more perfect and comprehensive.

503Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَيُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، یونس بن بکیر، ہشام بن عروہ، عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈارئیے، تو رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ محمد کی بیٹی اے صفیہ عبدالمطلب کی بیٹی میری پھوپھی اے عبدالمطلب کی اولاد میں اللہ کے سامنے تمہارے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ یہاں میرے مال میں سے جو چاہو لے لو۔

It is narrated on the authority of Aisha that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Messenger of Allah ﷺ stood up on Safa and said: O Fatima, daughter of Muhammad. O Safiya, daughter of Abdul Muttalib, O sons of Abdul Muttalib. I have nothing which can avail you against Allah; you may ask me what you want of my worldly belongings.

504Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْکَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْکِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْکِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو آپ ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا اے قریش کی جماعت تم اپنی جانوں کو نیک اعمال کے بدلہ میں اللہ سے خرید لو میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی مجھ سے جو چاہو لے لو لیکن میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔

Abu Hurairah (RA) reported: When (this verse) was revealed to him:" Warn your nearest kinsmen." the Messenger of Allah ﷺ said: O people of Quraish, buy yourselves from Allah, I cannot avail you at all against Allah; O sons of Abdul Muttalib. I cannot avail you at all against Allah; O Abbas bin Abdul Muttalib, I cannot avail you at all against Allah; O Safiya (aunt of the Messenger of Allah) ﷺ , I cannot avail you at all against Allah; O Fatima, daughter of Muhammad, ask me whatever you like, but I cannot avail you at all against Allah.

505Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَکْوَانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا

عمرو ناقد، معاویہ بن عمرو زائدہ، عبداللہ بن ذکوان، اعرج ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated from the Apostle ﷺ by another chain of narrators, Amr al-Naqid, Muawiyah bin Amr, Abdullah bin Dhakwan, Araj on the authority of Abu Hurairah (RA) .

506Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَا لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا ثُمَّ نَادَی يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَی الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ

ابو کامل، یزید بن زریع تیمی، ابوعثمان، قبیصہ، مخارق، زہیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں، تو رسول اللہ ﷺ پہاڑ کے سب سے بلند پتھر پر کھڑے ہوئے اور پھر آواز دی اے عبدمناف کے بیٹو میں تمہیں (عذاب سے) ڈرا رہا ہوں میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا ہو اور وہ دشمن سے اپنے گھر والوں کو بچا نے کی لئے دوڑ پڑا ہو کہ کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے اور بلند آواز سے پکارا یا یا صباحاہ خبردار آگاہ ہوجاؤ دشمن (یعنی اللہ کا عذاب آرہا ہے)۔

Qabisa bin al-Mukhariq and Zuhair bin Amr reported: When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Apostle of Allah ﷺ set off towards a rock of the hill and ascended the highest of the rocks and then called: O sons of Abd Manaf! I am a warner; my similitude and your similitude is like a man who saw the enemy and went to guard his people, but, being afraid they might get there before him, he shouted: Be on your guard!

507Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابوعثمان، زہیر بن عمرو، قبیصہ بن مخارق ایک دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated from the Apostle of Allah ﷺ by another chain of narrators, Muhammad bin Abdul Ala, Mutamir, Abu Uthman, Zuhair bin Amr, Qabisa bin Mukhariq.

508Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا مُحَمَّدٌ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْکَ کَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَکُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَکَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ کَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَی آخِرِ السُّورَةِ

ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو اور اپنی قوم کے مخلص لوگوں کو بھی ڈرائیے، تو رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر چڑھے اور بلند آواز کے ساتھ فرمایا یا صباحاہ سنو آگاہ ہوجاؤ لوگوں نے کہا کہ یہ کون آواز لگا رہا ہے تو سب کہنے لگے کہ محمد ﷺ آواز لگا رہے ہیں تو سب آپ ﷺ کی طرف جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں کے بیٹو اے عبد مناف کے بیٹو اے عبدالمطلب کے بیٹو! تو وہ سب آپ ﷺ کی طرف جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے نیچے ایک گھڑ سوار لشکر ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے تو سب لوگوں نے کہا کہ ہم نے تو کبھی آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں پایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں بہت سخت عذاب سے ڈرا رہا ہوں، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابولہب نے کہا کہ (العیاذ باللہ) آپ ﷺ کے لئے تباہی ہے کیا آپ ﷺ نے ہمیں اسی لئے جمع کیا ہے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو یہ سورت نازل ہوئی ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود بھی ہلاک ہوجائے۔

It is reported on the authority of Ibn Abbas that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred" (and thy group of selected people among them) the Messenger of Allah ﷺ set off till he climbed Safa and called loudly: Be on your guard! They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad. They gathered round him, and he said: O sons of so and so, O sons of so and so, O sons of Abd Manaf, O sons of Abdul Muttalib, and they gathered around him. He (the Apostle) said: If I were to inform you that there were horsemen emerging out of the foot of this mountain, would you believe me? They said: We have not experienced any lie from you. He said: Well, I am a warner to you before a severe torment. He (the narrator) said that Abu Lahab then said: Destruction to you! Is it for this you have gathered us? He (the Holy Prophet) then stood up, and this verse was revealed:" Perish the hands of Abu Lahab, and he indeed perished" (cxi. 1). Amash recited this to the end of the Sura.

509Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا فَقَالَ يَا صَبَاحَاهْ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ نُزُولَ الْآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش اس سند کے ساتھ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صفا پر چڑھے آپ ﷺ نے فرمایا یا صباحاہ سنو آگاہ ہوجاؤ باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزری لیکن اس میں آیت کریمہ کے نزول کا ذکر نہیں۔

This hadith was narrated by Amash on the authority of the same chain of narrators and he said: One day the Messenger of Allah ﷺ climbed the hill of Safa and said: Be on your guard, and the rest of the hadith was narrated like the hadith transmitted by Usama; he made no mention of the revelation of the verse:" Warn thy nearest kindred."

510Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْئٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَغْضَبُ لَکَ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَکَانَ فِي الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ

عبیداللہ بن عمر، محمد بن ابی بکر مقدامی، محمد بن عبدالملک، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر بن عبداللہ بن حارث بن نوفل، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا کیونکہ وہ تو آپ ﷺ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ ﷺ کی وجہ سے لوگوں پر غضبناک ہوجاتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ دوزخ کے اوپر کے حصہ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا یعنی ان کے لئے دعا نہ کرتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں ہوتے۔

It is reported on the authority of Abbas bin Abdul Muttalib that he said: Messenger of Allah, have you benefited Abu Talib in any way for he defended you and was fervent in your defence? The Messenger of Allah ﷺ said: Yes; he would be in the most shallow part of the Fire: and but for me he would have been in the lowest part of Hell.

511Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَنْصُرُکَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنْ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَی ضَحْضَاحٍ

ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک، بن عمیر، عبداللہ بن حارث، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابوطالب آپ ﷺ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ ﷺ کی مدد کرتے اور آپ ﷺ کے لئے لوگوں پر غصے ہوتے تھے تو کیا ان باتوں کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ ہوا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے انہیں آگ کی شدت میں پایا تو میں انہیں ہلکی آگ میں نکال کرلے آیا۔

It is reported on the authority of Abbas bin Abdul Muttalib that he said: Messenger of Allah, have you benefited Abu Talib in any way for he defended you and was fervent in your defence? The Messenger of Allah ﷺ said: Yes; he would be in the most shallow part of the Fire: and but for me he would have been in the lowest part of Hell.

512Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، سفیان، عبدالملک بن عمیر، عبداللہ بن حارث، عباس بن عبدالمطلب نے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی ہے۔

This hadith is narrated from the Apostle ﷺ like one narrated by Abu Uwana on the authority of the chain of transmitters like Muhammad bin Hatim, Yahya bin Said, Abu Sufyan (RA) , Abbas bin Abdul Muttalib and others.

513Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن ہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ ہوا آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ قیامت کے دن میری شفاعت سے ابوطالب کو فائدہ پہنچے کہ دوزخ کے اوپر والے حصے میں لایا جائے گا کہ جہاں آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس کی شدت سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔

Abu Said al-Khudri reported: A mention was made of his uncle Abu Talib before the Messenger of Allah ﷺ He said: My intercession may benefit him on the Day of Resurrection and he may be placed in the shallow part of the Fire which would reach his ankles and his brain would be boiling.

514Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَی أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکیر، زہیر بن محمد، سہیل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں میں سب سے ہلکا جس کو عذاب ہوگا اس کو آگ کی دو جو تیاں پہنائی جائیں گی جن کی شدت کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

Abu Said al-Khudri reported: Verily, the Messenger of Allah ﷺ said: The least tormented of the inhabitants of the Fire would be he who would wear two shoes of Fire and his brain would boil on account of the heat of the shoes.

515Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، ابوعثمان نہدی، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا اور اسے آگ کی دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

Ibn Abbas reported: The Prophet ﷺ said: Among the inhabitants of the Fire Abu Talib would have the least suffering, and he would be wearing two shoes (of Fire) which would boil his brain.

516Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، نعمان بن بشیر نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کے پاؤں کے نیچے آگ کے انگارے ہوں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

Numan bin Bashir was delivering an address and saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: the least suffering for the inhabitants of Hell on the Day of Resurrection would be for the man under whose soles would be placed two embers and his brain would boil on account of them.

517Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ کَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ مَا يَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، اعمش، ابواسحاق، نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ جس طرح ہانڈی میں پانی جوش سے کھولتا ہے وہ سمجھ رہا ہوگا کہ اسے سب سے سخت عذاب دیا گیا ہے حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا گیا ہوگا۔

Numan bin Bashir was delivering an address and saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: the least suffering for the inhabitants of Hell on the Day of Resurrection would be for the man under whose soles would be placed two embers and his brain would boil on account of them.

518Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کا بیان کہ حالت کفر میں مرنے والے کو اسکا کوئی عمل فائدہ نہیں دیگا

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمِسْکِينَ فَهَلْ ذَاکَ نَافِعُهُ قَالَ لَا يَنْفَعُهُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، داود، شعبی، مسروق، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل حالت کفر میں صلہ رحمی کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا تو کیا اس سے اس کو فائدہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کام اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ یعنی اے میرے پروردگار قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔

Aisha reported: I said: Messenger of Allah, the son of Judan established ties of relationship, fed the poor. Would that be of any avail to him? He said: It would be of no avail to him as he did not ever say: O my Lord, pardon my sins on the Day of Resurrection.

519Sahih Muslim

مومنوں سے تعلق رکھنے اور غیر مومنوں سے قطع تعلق اور برأت کا بیان

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي يَعْنِي فُلَانًا لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَائَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ

احمد بن حنبل، محمد بن جعفر، شعبہ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس، عمروابن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ بلند آواز سے نہ کہ آہستہ آواز سے فرما رہے تھے آگاہ رہو کہ میرے باپ کی اولاد یعنی فلاں خاندان والے میرے دوست نہیں بلکہ میرا دوست تو اللہ ہے اور نیک مومن۔

Amr bin As reported: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ quite audibly and not secretly: Behold! the posterity of my fathers, that is, so and so, are not my friends. Verily Allah and the pious believers are my friends.

520Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ

عبدالرحمن بن سلام بن عبیداللہ، ربیع بن مسلم، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس آدمی کو ان لوگوں میں سے کر دے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لئے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ہیں۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Apostle of Allah ﷺ said: Seventy thousand (persons) of my Ummah would enter Paradise without rendering an account. Upon this a person said: Messenger of Allah. pray to Allah that He make me one of them. He (the Holy Prophet) said: O Allah! make him one of them. Then another stood up and said: Messenger of Allah, pray to Allah that He make me one of them. He (the Holy Prophet) said: Ukkasha has preceded you in this matter.

521Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن زیاد ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔

Muhammad bin Ziyad reported: I heard Abu Hurairah (RA) narrate this: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ saying a hadith like one narrated by al-Rabi.