سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِکٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّی تُزْلَفَ لَهُمْ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ أَخْرَجَکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيکُمْ آدَمَ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ اذْهَبُوا إِلَی ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ قَالَ فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ إِنَّمَا کُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَائَ وَرَائَ اعْمِدُوا إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ تَکْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی کَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيْ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُکُمْ کَالْبَرْقِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْئٍ کَمَرِّ الْبَرْقِ قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْبَرْقِ کَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ ثُمَّ کَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ کَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّکُمْ قَائِمٌ عَلَی الصِّرَاطِ يَقُولُ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتَّی تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّی يَجِيئَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا قَالَ وَفِي حَافَتَيْ الصِّرَاطِ کَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمَکْدُوسٌ فِي النَّارِ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا
محمد بن طریف بن خلیفہ بجلی، محمد بن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، ابوہریرہ، ابومالک، ربعی بن حراش، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مومنوں کو جمع فرمائیں گے اور جنت ان کے قریب کردی جائے گی پھر سارے مومن حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے ہمارے باپ ہمارے لئے جنت کا دراوزہ کھلوائیے تو وہ فرمائیں گے کہ تمہارے باپ کی ایک ہی خطا نے تو تم کو جنت سے نکالا تھا میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ میرے بیٹے ابراہیم کے پاس وہ اللہ کے خلیل ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں میرے خلیل ہونے کا مقام تو اس سے بہت پیچھے ہے جاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جن کو اللہ نے اپنے کلام سے نوازا ہے پھر لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ محمد ﷺ کے پاس وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوں گے اور آپ ﷺ کو شفاعت کی اجازت دیدی جائے گی اور امانت اور رحم کو چھوڑ دیا جائے گا اور وہ دونوں پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہوں جائیں گے تم میں سے پہلا آدمی بجلی کی طرح گزر جائے گا میں نے عرض کیا وہ کونسی چیز ہے جو بجلی کی طرح گزر جائے گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے بجلی کی طرف نہیں دیکھا کہ کس طرح گزرتی ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے اس کے بعد وہ لوگ پل صراط سے گزریں گے جو آندھی کی طرح گزر جائیں گے اس کے بعد پرندوں کی رفتار سے گزریں گے پھر اس کے بعد آدمیوں کے دوڑنے کی رفتار سے گزریں گے ہر آدمی اپنے اعمال کے مطابق رفتار سے دوڑے گا اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے ہوئے فرما رہے ہوں گے اے میرے پروردگار انہیں سلامتی سے گزار دے پھر ایک وقت آئے گا کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے اور لوگوں میں چلنے کی طاقت نہیں ہوگی اور وہ اپنے آپ کو پل صراط سے گھسیٹتے ہوئے گزاریں گے اور پل صراط کے دونوں طرف لوہے کے کانٹے لٹک رہے ہوں گے اور جس آدمی کے بارے میں حکم ہوگا وہ اس کو پکڑ لے لگا بعض ان سے الجھ کر دوزخ میں گرجائیں گے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) and Hudhaifa that the Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Blessed and Exalted, would gather people. The believers would stand till the Paradise would be brought near them. They would come to Adam علیہ السلامand say: O our father, open for us the Paradise. He would say: What turned ye out from the Paradise was the sin of your father Adam. I am not in a position to do that; better go to my son Ibrahim, the Friend of Allah. He (the Holy Prophet) said: He (Ibrahim) would say: I am not in a position to do that. Verily I had been the Friend (of Allah) from beyond, beyond; you better approach Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) with whom Allah conversed. They would come to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him), but he would say: I am not in a position to do that; you better go to Jesus, the Word of Allah and His Spirit. Jesus (peace be upon him) would say: I am not in a position to do that. So they would come to Mubammad ﷺ . He would then be permitted (to open the door of Paradise). Trust worthiness and kinship would be despatched, and these would stand on the right and left of the Path and the first of you would pass with (the swiftness) of lightning. He (the narrator) said: I said, O thou who art far dearer to me than my father and my mother I which thing is like the passing of lightning? He said: Have you not seen lightning, how it passes and then comes back within the twinkling of an eye? Then (they would pass) like the passing of the wind, then like the passing of a bird, and the hastening of persons would be according to their deeds, and your Apostle ﷺ would be standing on the Path saying: Save, O my Lord, save. (The people would go on passing) till the deeds of the servants would be failing in strength, till a man would come who would find it hard to go along (that Path) but crawlingly. He (the narrator) said: And on the sides of the Path hooks would be suspended ready to catch anyone whom these would be required (to catch). There would be those who would somehow or other succeed in trasversing that Path and some would be piled up in Hell. By Him in Whose Hand is the life of Abu Hurairah (RA) it would take one seventy years to fathom the depth of Hell.
نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَکْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعًا
قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ، جریر، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سارے لوگوں میں سے سب سے پہلے میں جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I would be the first among people to intercede in the Paradise and amongst the apostles I would have the largest following (on the Day of Resurrection).
نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَکْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ
ابوکریب، محمد بن علاء، معاویہ بن ہشام، سفیان، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے اور سب سے پہلا میں ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Amongst the apostles I would have the largest following on the Day of Resurrec tion, and I would be the first to knock at the door of Paradise.
نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی زائدہ، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جنت میں میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی کہ میری تصدیق کی گئی اور یہاں تک کہ انبیاء کرام میں سے بعض نبی ایسے ہوں گے کہ ان کی امت میں سے ان کی تصدیق کرنے والا صرف ایک آدمی ہوگا۔
Anas bin Malik (RA) said: The Apostle of Allah ﷺ said: I would be the first intercessor in the Paradise and no apostle amongst the apostles has been testified (by such a large number of people) as I have been testified. And verily there woald be an apostle among the apostles who would be testified to by only one man from his people.
نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ بِکَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَکَ
عمرو بن محمد ناقد، زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن جنت کے دروازہ پر آؤں گا اور اسے کھلواؤں گا جنت کا داروغہ کہے گا آپ کون ہیں تو میں کہوں گا محمد وہ کہے گا کہ مجھے آپ ﷺ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ کھولنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I will come to the gate of Paradise on the Day of Resurrection. and would seek its opening. and the keeper would say: Who art thou? I would say: Muhammad. He would then say: It is for thee that I have been ordered, and not to open it for anyone before thee.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: Verity the Messenger of Allah ﷺ said: There is for every apostle a (special) prayer with which he would pray. I wish I could reserve, my prayer for intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ وَأَرَدْتُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
زہیر بن حرب، عبد بن حمید، زہیر، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو کہ یقینًا قبول ہوتی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میں چاہوں گا کہ میں اپنی یہ دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن کروں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: There is for every apostle a prayer, and I intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، عبد بن حمید، زہیر، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح ذکر کی ہے۔
Amr bin Abu Sufyan (RA) transmitted a hadith like this from Abu Hurairah (RA) who narrated it from the Messenger of Allah ﷺ .
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لِکَعْبِ الْأَحْبَارِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ کَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے اور وہ اللہ کے ہاں یقینًا قبول ہوتی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھوں، حضرت کعب ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کہا کہ کیا آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہاں!
Amr bin Abu Sufyan (RA) reported: Abu Hurairah (RA) said to Kab al-Ahbar that the Apostle of Allah ﷺ had said: For every apostle there Is a (special) prayer by which he would pray (to his Lord). I, however, intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection. Kab said to Abu Hurairah (RA) : Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ ? Abu Hurairah (RA) said: Yes.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کر لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے تو ہر نبی نے جلدی کی کہ اپنی اس دعا کو مانگ لیا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میری شفاعت میری امت کے ہر اس آدمی کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرگیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو۔
Abu Hurairah (RA) said: The Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: There is for every apostle a prayer which is granted, but every prophet showed haste in his prayer. I have, however, reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection, and it would be granted, if Allah so willed, in case of everyone amongst my Ummah provided he dies without associating anything with Allah.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قتیبہ بن سعید، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ ؓ ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے جب بھی وہ اپنی امت کیلئے اس دعا کو مانگتا ہے تو اسے وہ دیا جاتا ہے اور میں نے (اپنی دعا) قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھی ہے۔
Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: Every Messenger is endowed with a prayer which is granted and by which he would (pray to his Lord) and it would he granted for him. I have, however, reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ فَاسْتُجِيبَ لَهُ وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے حق میں مانگتا ہے تو اس کی وہ دعا قبول کی جاتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں اپنی دعا کو قیامت کے دن تک اپنی امت کے شفاعت کے لئے مؤخر کر دوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: There was for every apostle a prayer with which he prayed for his Ummah and it was granted to him; but I wish, if Allah so wills, to defer my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوغسان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے لئے مانگتا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کرلیا ہے۔
Abu Ghassan reported: Verily the Apostle of Allah ﷺ said: There is for every apostle a prayer with which he prays (to Allah) for his Ummah. I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح
زہیر بن حرب، ابن ابوخلف، روح، شعبہ، قتادہ سے یہی حدیث ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔
This hadith is narrated with the same chain of narrators by Qatada.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ قَالَ قَالَ أُعْطِيَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوکریب، وکیع، ابراہیم بن سعید، ابواسامہ، مسعر، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
Misar transmitted it with the same chain of narrators from Qatada except that in the hadith narrated by Waki (the Prophet) said:" He was endowed," and in the hadith reported by Abu Usama (the words are):" It is reported from the Apostle of Allah ﷺ ."
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ
محمد بن عبدالاعلی، معتمر، انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت قتادہ ؓ نے حضرت انس ؓ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Muhammad bin Abdul Ala reported it to me: Mutamir narrated to us on the authority of his father who transmitted it liom Anas that verity the Apostle of Allah ﷺ said, and then narrated the hadith like the one transmitted by Qatada on the authority of Anas.
نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ وَخَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابن جریج، ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لئے مانگی اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لئے قیامت کے دن بطور شفاعت روک رکھی ہے۔
Abu Zubair heard Jabir bin Abdullah (RA) reporting it from the Apostle of Allah ﷺ : For every apostle was a prayer with which he prayed (to his Lord) for his Ummah, but I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
نبی ﷺ کا اپنی امت کے لئے دعا فرمانا اور بطور شفقت رونے کا بیان
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بَکْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِيرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي الْآيَةَ وَقَالَ عِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي وَبَکَی فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ وَرَبُّکَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْکِيکَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ وَهُوَ أَعْلَمُ فَقَالَ اللَّهُ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ فَقُلْ إِنَّا سَنُرْضِيکَ فِي أُمَّتِکَ وَلَا نَسُوئُکَ
یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکر بن سوادہ، عبدالرحمن بن جبیر، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان جو ابراہیم کے بارے میں ہے کی تلاوت فرمائی (رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اے پروردگار ان معبودان باطلہ نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو جس نے میری تابعداری کی تو وہ مجھ سے ہوا میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی تو تو اس کو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے اور یہ آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) جس میں عیسیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور فرمایا اے اللہ میری امت میری امت اور آپ ﷺ پر گریہ طاری ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرائیل جاؤ محمد ﷺ کے پاس حالانکہ تیرا رب خوب جانتا ہے ان سے پوچھ کہ آپ ﷺ کیوں رو رہے ہیں جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور جو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کو اس کی خبر دی حالانکہ وہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے تو اللہ نے فرمایا اے جبرائیل جاؤ محمد ﷺ کی طرف اور ان سے کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور ہم آپ ﷺ کو نہیں بھولیں گے۔
Abdullah bin Amr (RA) bin al-As reported: Verily the Apostle of Allah ﷺ recited the words of Allah, the Great and Glorious, that Ibrahim uttered. My Lord! Lo! They have led many of mankind astray:" But whoso followeth me, he verily is of me" (al-Quran, xiv. 35) and Jesus (peace be upon him) said:" If thou punisheth them, lo! They are Thy slaves, and if Thou forgiveth them-verily Thou art the Mighty, the Wise" (al-Quran, v 117). Then he raised his hands and said: O Lord, my Ummah, my Ummah, and wept; so Allah the High and the Exalted said: O Gabriel (علیہ السلام), go to Muhammad (though your Lord knows it fully well) and ask him: What makes thee weep? So Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) came to him and asked him, and the Messenger of Allah ﷺ informed him what he had said (though Allah knew it fully well). Upon this Allah said: O Gabriel (علیہ السلام), go to Muhammad any say: Verily We will please thee with regard to your Ummah and would not displease thee.
اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کفر پر مرا وہ دوزخی ہے اسے نہ ہی کسی کی شفاعت اور نہ ہی مقربین کی قرابت کوئی فائدہ دے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ فَلَمَّا قَفَّی دَعَاهُ فَقَالَ إِنَّ أَبِي وَأَبَاکَ فِي النَّارِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا باپ کہاں ہے آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں جب وہ آدمی واپس جانے لگا تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور پھر فرمایا کہ میرا باپ اور تیرا باپ دونوں دوزخ میں ہیں۔
Anas reported: Verily, a person said: Messenger of Allah, where is my father? He said: (He) is in the Fire. When he turned away, he (the Holy Prophet) called him and said: Verily my father and your father are in the Fire.
اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ يَا بَنِي کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ کَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَکِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا
قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، عبدالملک بن عمیر، موسیٰ بن طلحہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ) نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا عام وخاص سب کو جمع فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے کعب بن لؤی کے قبیلہ والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبدشمس کے قبیلے والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبد مناف کے قبیلہ والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے بنی عبدالمطلب والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے فاطمہ ؓ اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لے کیونکہ میں تمہارے لئے اللہ سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ میں تمہارا رشتہ دار ہوں اور بحثیت رشتہ داری کے میں تم سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔
Abu Hurairah (RA) reported: When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred (al-Quran, xxvi. 214), the Messenger of Allah ﷺ called the Quraish; so they gathered and he gave them a general warning. Then he made a particular (reference to certain tribes) and said: O sons of Kab bin Luwayy, rescue yourselves from the Fire; O sons of Murra bin Kab, rescue yourselves from the Fire: O sons of Abd Shams, rescue yourselves from the Fire; O sons of Abd Manaf rescue yourselves from the Fire; O sons of Hashim, rescue yourselves from the Fire; O sons of Abdul Muttalib, rescue yourselves from the Fire; O Fatimah, rescue thyself from the Fire, for I have no power (to protect you) from Allah in anything except this that I would sustain relationship with you.