Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 243 of 379

4848Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، یونس، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

The above tradition has also been narrated on the authority of Yunus through a different chain of transmitters.

4849Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، زکریا، عامر عروہ، بارقی، حضرت عروہ بارقی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑ روں کی پیشانیوں میں خیر و برکت یعنی اجر اور غنیمت قیامت کے دن تک باندھ دیئے گئے ہیں۔

The same tradition has been narrated on the authority of Urwat al-Bariqi who said that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Great good is attached to the forelock of the horses until the Day of Judgment.

4850Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْرُ مَعْقُوصٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَ ذَاکَ قَالَ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل، ابن ادریس، حصین، شعبی، عروہ، بارقی، حضرت عروہ بارقی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر و بھلائی مرکوز ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ کس وجہ سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تک ثواب اور غنیمت۔

Urwat al-Bariqi reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said this: Good is tied to the forelock of the horses. It Was said to him: Messenger of Allah, why is it so? He (the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said): For reward and booty until the Day of Judgment.

4851Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، حصین، عروہ بن جعد، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں عروہ بن جعد مذکور ہے۔

This hadith has been narrated with the same chain of transmitters with the difference that here instead of" Urwat al-Bariqi" there is" Urwa bin jad."

4852Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحییٰ بن یحیی، ہشام، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان، شبیب بن غرقدہ، عروہ بارقی، ان اسناد سے بھی عروہ باقی کی یہی حدیث نبی ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔

A version of the tradition narrated on the authority of Urwat al-Bariqi does not mention (the words):" reward and booty".

4853Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ

عبیداللہ بن معاذ، محمد بن مثنی، ابن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ابوتیاح، انس بن مالک، حضرت عروہ بن جعد (رض) سے اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس حدیث میں اجر و غنیمت کا ذکر نہیں۔

A version of the tradition transmitted on the authority of Urwa bin al-jad does not mention" reward and booty".

4854Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَرَکَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ

عبیداللہ بن معاذ، محمد بن مثنی، ابن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ابوتیاح، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is a blessing in the forelocks of the war horses.

4855Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

یحییٰ بن حبیب، ابن حارث، محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوتیاح، اس سند کے ساتھ بھی حضرت انس (رض) سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

4856Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی ناپسند یدہ صفات کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَکْرَهُ الشِّکَالَ مِنْ الْخَيْلِ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، ابوکریب یحییٰ وکیع سفیان سلم ابن عبدالرحمن ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو گھوڑوں میں سے شکال ناپسندیدہ تھے۔

It has been narrated on the authority of Abn Hurairah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to dislike the Shikal horse.

4857Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی ناپسند یدہ صفات کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَالشِّکَالُ أَنْ يَکُونَ الْفَرَسُ فِي رِجْلِهِ الْيُمْنَی بَيَاضٌ وَفِي يَدِهِ الْيُسْرَی أَوْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَی وَرِجْلِهِ الْيُسْرَی

محمد بن نمیر، ابوعبدالرحمن بن بشر، عبدالرزاق، سفیان اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے عبدالرزاق کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو۔

This tradition has been narrated on the authority of Sufyan with the addition from Abd ar-Razzaq (one of the narrators) explaining the meaning of shikal as a bone whose right back foot and left front foot or left back foot and right front foot are white.

4858Sahih Muslimصحیح

گھوڑوں کی ناپسند یدہ صفات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ وَفِي رِوَايَةِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَلَمْ يَذْکُرْ النَّخَعِيَّ

بن بشار محمد ابن جعفر محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، عبداللہ بن یزید نخعی، ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے نبی ﷺ کی یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

The tradition has been handed down through a different chain of transmitters.

4859Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ کَلْمٍ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَهَيْئَتِهِ حِينَ کُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْکٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَی الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَکِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ

زہیر بن حرب، جریر، عمارہ ابن قعقاع، ابی زوعہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس کا ضامن ہوجاتا ہے جو اس کے راستہ میں نکلتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی فرماتا ہے :" جو شخص صرف میرے راستہ میں جہاد اور مجھ پر ایمان اور میرے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے نکلتا ہے تو اس کی مجھ پر ذمہ داری ہے کہ اس کو جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اس کے اس گھر کی طرف اجر وثواب اور غنیمت۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے " جس کے قبضہ قدرت میں مجھ محمد کی جان ہے اللہ کے راستہ میں جو بھی زخم لگتا ہے وہ زخم لگنے کے وقت تھا اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی ہوگی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستہ میں جنگ کرنے والے لشکر کا ساتھ کبھی نہ چھوڑتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب لشکر والوں کو سواریاں دوں اور نہ وہ اتنی وسعت پاتے ہیں اور ان پر مشکل ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں جہاد کروں پھر مجھے قتل کیا جائے پھر جہاد کروں تو مجھے قتل کیا جائے پھر جہاد کروں تو مجھے قتل کیا جائے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace upon him) said: Allah has undertaken to look after the affairs of one who goes out to fight in His way believing in Him and affirming the truth of His Apostles. He is committed to His care that Re will either admit him to Paradise or bring him back to his home from where he set out with a reward or (his share of) booty. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad. If a person gets wounded in the way of Allah, he will come on the Day of Judgment with his wound in the same condition as it was when it was first inflicted; its colour being the colour of blood but its smell will be the smell of musk. By, the Being in Whose Hand is Muhammads life, if it were not to be too hard upon the Muslime. I would not lag behind any expedition which is going to fight in the cause of Allah. But I do not have abundant means to provide them (the Mujahids) with riding beasts, nor have they (i. e. all of them) abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) so that they could he left behind. By the Being in Whose Hand is Mubammgls lac, I love to fight in the way of Allah and be killed, to fight and again be killed and to fight again and be killed.

4860Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن فضیل، عمارہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

The same tradition has been melted through another chain of transmitters.

4861Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ کَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ

یحییٰ بن یحیی، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو صرف اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے اس کے دین کی تصدیق کی خاطر اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ اس کے لئے اس بات کا ضامن ہوجاتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس کے گھر لوٹائے گا کہ اس کے ساتھ اجر وثواب یا مال غنیمت ہوگا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: Allah has undertaken to provide for one who leaves his home (only) to fight for His cause and to affirm the truth of His word; Allah will either admit him to Paradise or will bring him back home from where he had come out, with his reward and booty.

4862Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُکْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْکٍ

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جو آدمی بھی زخمی ہوتا ہے تو اللہ جانتا ہے کہ کسے زخم دیا گیا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who is wounded in the way of Allah-and Allah knows better who is wounded in His way-will appear on the Day of Judgment with his wound bleediing. The colour (of its discharge) will be the colour of blood, (but) its smell will be the smell of musk.

4863Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ کَلْمٍ يُکْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَکُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَکِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، حضرت ہمام بن منبہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی کئی احادیث ذکر کیں ان میں سے یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر وہ زخم جو کسی مسلمان کو اللہ کے راستے میں لگے پھر وہ قیامت کے دن اپنی اسی صورت پر ہوگا جس طرح وہ زخم لگائے جانے کے وقت تھا کہ اس سے خون نکل رہا ہوگا اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر مومنوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ ان سب کو سواریاں عطا کرسکوں اور نہ وہ وسعت رکھتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ جاسکیں اور ان کے دل میرے سے پیچھے رہ جانے سے خوش نہیں ہیں۔

It has been narrated on the authority of Abu Haraira that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Every wound received by a Muslim in the way of Allah will appear on the Day of Judgment in the same condition as it was when it was inflicted, and would be bleeding profusely. The colour (of its discharge) will be the colour of blood, but its smell will be the smell of musk. By the Being in Whose Hand is Muhammads life, if it were not hard upon the Muslims, I would not lag behind any expedition undertaken for Jihad, but I do not possess abundant means to provide the Mujahids with riding animals, nor do they (i. e. all of them) have abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) to follow me, nor would it please their hearts to stay behind me.

4864Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابن ابی عمر، سفیان، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر مومنین پر مشکل نہ ہوتی تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا باقی حدیث ان اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے اللہ کے راستہ میں شہید کیا جائے پھر زندہ کیا جائے باقی حدیث ابوزرعہ کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی طرح ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: I would not stay behind (when) an expedition (for Jihad was being mobilised) if it were going to be too hard upon the believers.... This is followed by the same words as have appeared in the previous tradition, but this tradition has the same ending as the previous hadith with a slight difference in the wording:" By the Being in Whose Hand is my life, I love that I should be killed in the way of Allah; then I should be brought back to life and be killed again in His way...."

4865Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ، یحییٰ بن سعید، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میری امت پر مشکل نہ ہوتا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا باقی حدیث گزر چکی ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If it were not hard upon my Umma (to follow my example), I would not lag behind any expedition-as in the traditions gone before.

4866Sahih Muslimصحیح

جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ إِلَی قَوْلِهِ مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَی

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر ضامن ہوتا ہے جو اس کے راستہ میں نکلا ہو آپ ﷺ کے قول میں اللہ کے راستہ میں کسی لڑنے والے لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا تک۔

Another version of the tradition narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Hurairah (RA) has the same wording as the previous tradition:" Allah takes care of one who goes out in the way of Allah" but ends in the words:" I would not lag behind any expedition which is undertaken to fight in the way of Allah, the Exalted."

4867Sahih Muslimصحیح

اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَی الدُّنْيَا وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، شعبہ، قتادہ، حمید، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں جس کا اللہ کے ہاں اجر وثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف لوٹنے کو بلکہ پسند کرتا ہو اور نہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کا ہوجائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے پھر قتل کیا جائے بوجہ اس کے جو اس نے شہادت کی فضیلت دیکھی۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said:" Nobody who dies and has something good for him with Allah will (ever like to) return to this world even though he were offered the whole world and all that is in its (as an inducement), except the martyr who desires to return and be killed in the world for the (great) merit of martyrdom that he has seen.