فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبَا مَعْبَدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں راوی کہتا ہے کہ میں نے اس کے بھائی سے ملاقات کی تو اس نے کہا مجاشع نے سچ کہا ہے ابومعبد کا نام ذکر نہیں کیا۔
Another version of the tradition transmitted on the authority of Asim has the same wording but does not mention the name of Abu Mabad.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح یعنی فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو چلے آؤ۔
It has been narrated on the authority of Ibn Abbas that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said on the day of the Conquest of Makkah: There is no Hijra now, but (only) Jihad (fighting for the cause of Islam) and sincerity of purpose (have great reward) ; when you are asked to set out (on an expedition undertaken for the cause of Islam) you should (readily) do so.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ يَعْنِي ابْنَ مُهَلْهِلٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ کُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، سفیان، اسحاق بن منصور، ابن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، ابن مہلہل، عبد بن حمید، عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، منصور، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
The above tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی عبداللہ بن حبیب بن ابی ثابت، عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین، عطاء، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو فورا نکل پڑو۔
Aisha reported that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked about migration, whereupon he said: There is no migration after the Conquest (of Makkah), but Jihad and sincere intention. When you are asked to set out (for the cause of Islam), you should set out,
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ وَيْحَکَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَائِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَيْئًا
ابوبکر بن خلاد باہلی، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن عمرو اوزاعی، ابن شہاب، زہری، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعیدخدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ارے ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے کیا تیرے پاس اونٹ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تو سمندر پار عمل کرتا رہ بیشک اللہ تیرے اعمال میں سے کچھ بھی ضائع نہیں فرمائے گا۔
It has been narrated on the authority of Abu Said al-Khudari that a Bedouin asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about Migration. He replied: Do you talk of Hijra? The affair of Hijra is very difficult. But have you got camels? The bedouin said: Yes. He asked: Do you pay the poor-rate payable on their account? He replied: Yes. He (the Holy Prophet) said: Go on doing good deeds (across the seas), for surely God will not leave any of your deeds unrewarded.
فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَيْئًا وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ نَعَمْ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن یوسف اوزاعی، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں ہے کہ اللہ تیرے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا اور مزید یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اونٹنیوں کے پانی کے دن ان کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتے ہو تو اس نے کہا جی ہاں۔
This tradition has been handed down through a different chain of transmitter with the addition of the following words at the end:" Do you milk them on the day they arrive at the water? He replied: Yes."
عورتوں کی بیعت کے طریقہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ (رض) ، سیدہ عائشہ (رض) زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ جب مومن عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ہجرت کرکے آتیں تو آپ ﷺ اللہ کے اس قول کی بناء پر ان کا امتحان لیتے (یَاَیُّھَا النَّبِیُ اِذَا جَاءَکَ المُومِنٰتُ ) اے نبی جب آپ کے پاس عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گیں اور نہ چوری کریں گیں اور نہ زنا کریں گیں "۔ سیدہ عائشہ (رض) نے کہا کہ مومن عورتوں میں سے جو ان باتوں کا اقرار کرلیتی تو اس کا امتحان منعقد ہوجاتا اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ ان سے فرماتے جاؤ تحقیق ! میں تمہیں بیعت کرچکا ہوں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہ چھوا ہاں آپ ﷺ ان سے گفتگو کے ذریعہ بیعت لیتے تھے عائشہ (رض) نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے اللہ کے حکم کے علاوہ کسی بات پر بیعت نہیں لی اور نہ رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی نے کسی عورت کی ہتھیلی کو کبھی مس کیا اور آپ ﷺ جب ان سے بیعت لیتے تو انہیں زبان سے فرما دیتے کہ میں نے تمہاری بیعت کرلی۔
It has been narrated on the authority of Aisha, the wife of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . She said: When the believing women migrated (to Madinah) and came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , they would be tested in accordance with the following words of Allah. the Almighty and Exalted:" O Prophet, when believing women come to thee to take the oath of fealty to thee that they will not associate in worship anything with God, that they will not steal. that, they will not commit adultery..." to the end of the verse (lx. 62).
Whoso from the believing women accepted these conditions and agreed to abide by them were considered to have offered themselves for swearing fealty. When they had (formally) declared their resolve to do so, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would say to them: You may go. I have confirmed your fealty. By God, the hand of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never touched the hand of a woman. He would take the oath of fealty from them by oral declaration. By God, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never took any vow from women except that which God had ordered him to take, and his palm never touched the palm of a woman. When he had taken their vow, he would tell them that he had taken the oath from them orally.
عورتوں کی بیعت کے طریقہ کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا و قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَائِ قَالَتْ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُکِ
ہارون بن سعید ایلی، ابوطاہر، ابن وہب، مالک، ابن شہاب، حضرت عروہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) نے اسے عورتوں کی بیعت کی کیفیت کی خبر دی کہا رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا ہاں جس وقت آپ ﷺ بیعت لیتے اور عورت (زبانی) عہد کرلیتی تو آپ ﷺ (زبان سے) فرما دیتے جاؤ میں نے تجھے بیعت کرلیا۔
It has been narrated on the authority of Urwa that Aisha described to him the way the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took the oath of fealty from women. She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never touched a woman with his hand. He would only take a vow from her and when he had taken the (verbal) vow, he would say: You may go. I have accepted your fealty.
حسب طاقت احکام سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَيُّوبَ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا کُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل ابن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے احکام سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کرتے تھے اور آپ ﷺ ہمیں ارشاد فرماتے تھے جہاں تک تمہاری طاقت ہو۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Umar who said: We used to take oath to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that we would listen to and obey his orders. He would tell us (to say in the oath): As far as it lies in my power.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي قَالَ نَافِعٌ فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْکَبِيرِ فَکَتَبَ إِلَی عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ کَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَمَنْ کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے چودہ سال کی عمر میں اپنے آپ کو غزوہ احد کے دن جہاد کے لئے رسول اللہ ﷺ پر پیش کیا آپ ﷺ نے مجھے اجازت مرحمت نہ فرمائی پھر میں نے اپنے آپ کو پندرہ سال کی عمر میں خندق کے دن پیش کیا تو آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرما دی نافع نے کہا کہ عمر بن عبدا لعزیز کے پاس ان دنوں میں آیا جب وہ خلیفہ تھے اور انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کا ہو اس کا حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو اسے بچوں میں شمار کریں۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) inspected me on the battlefield on the Day of Uhud, and I was fourteen years old. He did not allow me (to take part in the fight). He inspected me on the Day of Khandaq-and I was fifteen yearsold, and he permitted me (to fight), Nafi said: I came to Umar bin Abdul Aziz (RA) who was then Caliph, and narrated this tradition to him. He said: Surely, this is the demarcation between a minor and a major. So he wrote to his governors that they should pay subsistence allowance to one who was fifteen years old, but should treat those of lesser age among children.
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، عبدالرحیم بن سلیمان، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، عبیداللہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں الفاظ ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں میں چودہ سال کا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا تصور فرمایا۔
This tradition has been handed down through a different chain Of transmitters with the following change in the wording:" I was fourteen years old and he thought me too young (to participate in the fight)."
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں کے ملک کی طرف قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade that one should travel to the land of the enemy taking the Quran with him.
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَنْهَی أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
قتیبہ، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ (رض) بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دشمنوں کے ملک کی طرف اس ڈر کی وجہ سے قرآن ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع کرتے تھے کہ کہیں قرآن دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to forbid that one should travel to the land of the enemy taking the Quran (with him) lest it should fall into the hands of the enemy.
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ قَالَ أَيُّوبُ فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ وَخَاصَمُوکُمْ بِهِ
ابوربیع عتکی، ابوکامل، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن مجید ساتھ لے کر سفر نہ کرو کیونکہ میں قرآن کے دشمنوں کے ہاتھ لگ جانے سے بےخوف نہیں ہوں راوی ایوب نے کہا اگر قرآن کو دشمنوں نے پا لیا تو اس کے ذریعہ تم سے مقابلہ کریں گے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Do not take the Quran on a journey with you, for I am afraid lost it should fall into the hands of the enemy. Ayyub (one of the narrators in the chain of transmitters) said: The enemy may seize it and may quarrel with you over it.
جب کفار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر ہو تو قرآن مجید ساتھ لے کر کفار کی زمین کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَالثَّقَفِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ فَإِنِّي أَخَافُ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، ابن ابی عمر، سفیان ثقفی، ایوب ابن رافع، ابن ابی فدیک ضحاک ابن عثمان نافع، ابن عمر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ایک سند میں ہے کہ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں خوف کرتا ہوں اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ دشمن کے ہاتھ لگ جانے کے خوف سے۔
The above hadith has been narrated through several other chains with slight differences of wording.
گھوڑوں کے مابین مقابلہ اور اس کی تیاری کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بِالْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنْ الْحَفْيَائِ وَکَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا
یحییٰ بن یحییٰ ، تمیمی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پریڈ کے قابل گھوڑوں میں حفیاء سے ثنیہ الوداع تک مقابلہ کرایا اور غیر قابل گھوڑوں میں ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور ابن عمر (رض) بھی ان میں سے تھے جنہوں نے اس گھڑ دوڑ میں حصہ لیا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had a race of the horses which had been especially prepared for the purpose from Hafya to Thaniyyat al-Wada (the latter being the winning post), and of those which had not been trained from Thaniyya to the mosque of Banu Zuraiq, and Ibn Umar (RA) was among those who took part in this race.
گھوڑوں کے مابین مقابلہ اور اس کی تیاری کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ وَابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجِئْتُ سَابِقًا فَطَفَّفَ بِي الْفَرَسُ الْمَسْجِدَ
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح، قتیبہ بن سعید، لیث، سعد، ح، خلف بن ہشام، ابوربیع، ابوکاملاں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے صرف ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں میں آگے بڑھ گیا اور گھوڑا مجھے لے کر مسجد میں جا پہنچا۔
This tradition has been handed down through another chain of transmitters with the addition of the following words fromAbdullah bin Umar (RA) :" I came first in the race and my horse jumped into the mosque with me."
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر و برکت قیامت تک رکھی گئی ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There will be great benefit in the forelock of the horses until the Day of Judgment.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ
قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ بن سعید، یحیی، عبیداللہ، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ، نافع، ابن عمران اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ قَالَ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْوِي نَاصِيَةَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ
نصر بن علی جہضمی، صالح بن حاتم بن وردان، یزید جہضمی، یزید بن زریع، یونس بن عبید، عمرو بن سعید، ابوزرعہ، عمرو بن جریر، حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی انگلیوں کے ساتھ گھوڑے کی پیشانی کو ملتے دیکھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیروبرکت یعنی ثواب اور غنیمت قیامت کے دن تک باندھ دی گئی ہے۔
It has been narrated on the authority of Jarir binAbdullah who said: I saw that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was twisting the forelock of a horse with his fingers and he was saying: (A great) benefit. i. e. reward (for rearing them for Jihad) and spoils of war, has been tied to the forelocks of horses until the Day of Judgment.