Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 241 of 379

4808Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ، ابن نمیر، سفیان، ابی زبیر، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی بلکہ ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said: While swearing fealty to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) we did not take the oath to death but that we would not run away (from the battlefield).

4809Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ کَمْ کَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ کُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ

محمد بن حاتم، حجاج، ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوزبیر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت جابر (رض) سے پوچھا گیا کہ وہ صلح حدیبیہ کے دن کتنے تھے تو انہوں نے کہا ہم چودہ سو تھے ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور حضرت عمر (رض) ایک درخت کے نیچے جو کہ کیکر کا تھا آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے سوائے جد بن قیس انصاری کے وہ اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔

It has been narrated on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya He replied: We wore fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar was holding his hand while he was sitting Under the tree (to administer the oath). The tree was ahadeeth (a wild tree found in desers). All of as took tha oath of fealty at his hands except Jadd bin Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel.

4810Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ مَوْلَی سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ لَا وَلَکِنْ صَلَّی بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ

ابراہیم بن دینار، حجاج بن محمد اعور مولیٰ سلیمان بن مجالد، ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوزبیر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت جابر (رض) سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ نے ذوالحلیفہ میں بیعت کی تھی انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس جگہ آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی تھی سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی جگہ کے درخت کے پاس بیعت نہیں لی ابوزبیر کہتے ہیں حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حدبیہ کے کنوئیں پر دعا فرمائی تھی۔

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to whether the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took the oath of fealty at Dhul-Hulaifa. He said: No! But he offered his prayers at that place, and he administered the oath of fealty nowhere except near the tree in (the plain of Hudaibiya. Ibn Juraij said that he was informed by Abu Zabair who heard Jabir binAbdullah (RA) say: The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) prayed over the well at Hudaibiya (as a result of which its scanty water rose up and increased so as to be sufficient for the 140O or 150O men who had encamped at the place).

4811Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ و قَالَ جَابِرٌ لَوْ کُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُکُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ

سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید اسحاق بن ابراہیم، احمد بن عبدہ، سعید، عمرو، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے تو نبی ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا آج کے دن تم اہل زمین میں سب سے افضل ہو حضرت جابر (رض) نے کہا اگر میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said: We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to us: Today you are the best people on the earth. And Jabir said: If I had the eyesight, I could show you the place of the tree.

4812Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، سالم بن ابی جعد، جابر بن عبداللہ، حضرت سالم بن ابی الجعد (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے اصحاب شجرہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہم ایک ہزار پانچ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تو (بھی وہ پانی) ہمیں کافی ہوجاتا۔

It has been narrated on the authority of Salim bin Abu al-Jad who said: I asked Jabir bin Abdullah about the number of the Companions (of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.

4813Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ کِلَاهُمَا يَقُولُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَوْ کُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا کُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس، رفاعہ بن ہیثم، خالد طحان، حصین سالم ابن ابی جعد، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم پندرہ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو (وہ پانی) ہمیں کافی ہوجاتا۔

It has been narrated on the authority of Salim bin Abu al-Jad who said: I asked Jabir bin Abdullah about the number of the Companions (of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.

4814Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ کَمْ کُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، عثمان، جریر، اعمش، حضرت سالم بن ابی جعد (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے کہا تم اس دن کتنی تعداد میں تھے انہوں نے کہا ایک ہزار چار سو۔

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Salim bin al-Jad who said: I asked Jabir: How many were you on the Day of Hudaibiya? He said: One thousand and four hundred.

4815Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَی قَالَ کَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ وَکَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت ہے کہ ہم اصحاب شجرہ ایک ہزار تین سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔

It has been narrated on the authority of Abdullah bin Abu Aufa who said: The Companions of the Tree (i e. those who swore fealty under the tree) were one thousand and three hundred, and the people of Aslam tribe were one-eighth of the Muhajirs.

4816Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابن مثنی، ابوداؤد، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، شعبہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters.

4817Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَی الْمَوْتِ وَلَکِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، خالد، حکم بن عبداللہ بن اعرج، حضرت معقل بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ مجھے بیعت رضوان کا واقعہ یاد ہے کہ نبی ﷺ صحابہ (رض) سے بیعت لے رہے تھے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک ٹہنی کو میں آپ ﷺ کے سر اقدس سے ہٹا رہا تھا ہم چودہ سو تھے ہم نے موت پر بیعت نہیں کی لیکن ہماری بیعت اس پر تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔

It has been narrated on the authority of Maqil bin Yasar who aaid: I remember being present on the Day of the Tree, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield.

4818Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، یونس، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.

4819Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ کَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَکَانُهَا فَإِنْ کَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَکُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ

حامد بن عمرو، ابوعوانہ، طارق، حضرت سعید بن مسیب (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد بھی ان صحابہ (رض) میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخت کے پاس بیعت کی تھی انہوں نے کہا ہم اگلے سال حج کے لئے گئے تو اس درخت کی جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی پس اگر وہ جگہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے تو تم زیادہ جانتے ہو۔

It has been narrated on the authority of Said bin Musayyab who said: My father was one of those who swore fealty to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) near the tree. When we passed that way next year intending to perform the Hajj, the place of the tree was hidden to us. If you could point out clearly, you would (certainly) be knowing better. It has also been narrated on the authority of Said bin Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of Gods pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.

4820Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ وَقَرَأْتُهُ عَلَی نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ کَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَنَسُوهَا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ

محمد بن رافع، ابواحمد، نصر بن علی، ابواحمد، سفیان، طارق بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، حضرت سعید بن مسیب (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیعت شجرہ والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے یہ فرماتے ہیں کہ وہ اگلے سال اس درخت کو بھول گئے۔

It has also been narrated on the authority of Said bin Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of Gods pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.

4821Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا

حجاج بن شاعر، محمد بن رافع، شبابہ، شعبہ، قتادہ، حضرت سعید بن مسیب (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے اس درخت کو دیکھا تھا پھر میں اس کے پاس آیا تو میں اسے پہچان نہ سکا۔

The tradition has been narrated on the authority of Said bin Musayyib who learnt it from his father. The latter said: I had seen the tree. When I came to the spot afterwards, I could not recognise it.

4822Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَی الْمَوْتِ

قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید مولیٰ سلمہ بن اکوع، حضرت یزید بن ابی عبید (رض) مولیٰ سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ میں نے سلمہ سے کہا تم نے رسول اللہ ﷺ سے حدیبیہ کے دن کس بات پر بیعت کی تھی انہوں نے کہا موت پر۔

It has been narrated on the authority of Yazid bin Abu Ubaid (the freed slave of Salama bin al-Akwa) who said: 1 asked Salama as to what effect he had sworn fealty to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the Day of Hudaibiya. He said: To the effect that we will die fighting.

4823Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ

اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعدہ، یزید، سلمہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

The above tradition has also been handed down through a different chain of transmitters.

4824Sahih Muslimصحیح

جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَا ذَاکَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَقَالَ عَلَی مَاذَا قَالَ عَلَی الْمَوْتِ قَالَ لَا أُبَايِعُ عَلَی هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعد ہ، یزید سلمہ، حضرت عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ اس کے پاس کوئی آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں عبداللہ نے کہا کس بات پر اس نے کہا موت پر فرمایا اس بات پر رسول اللہ ﷺ کے بعد میں کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔

It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Zaid (RA) who said: A person came to him and said: Here is Ibn Hanzala who is making people swear allegiance to him. He (Abdullah) asked: To what effect? He replied: To the effect that they will die for him. Abdullah said: I will never swear allegiance to this effect after the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

4825Sahih Muslimصحیح

مہاجر کا اپنے وطن ہجرت کو دوبارہ وطن بنانے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی الْحَجَّاجِ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ ارْتَدَدْتَ عَلَی عَقِبَيْکَ تَعَرَّبْتَ قَالَ لَا وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ

قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) حجاج کے پاس گئے تو اس نے کہا اے ابن اکوع تم ایڑیوں کے بل لوٹ کر صحرا میں بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے صحرا میں واپس جانے کی اجازت دے دی تھی۔

It has been narrated by Salama bin al-Akwa that he visited al-Hajjaj who said to him: O son of al-Akwa, you have turned apostate and have come to live again in the desert with the Bedouins (after your migration). He said: No, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has permitted me to live in the desert.

4826Sahih Muslimصحیح

فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ عَلَی الْهِجْرَةِ فَقَالَ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لِأَهْلِهَا وَلَکِنْ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ

محمد بن صباح، ابوجعفر، اسماعیل بن زکریا، عاصم، ابوعثمان نہدی، مجاشع بن مسعود سلمی، حضرت مجاشع بن مسعود (رض) سلمی سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل ہجرت کی ہجرت تو گزر چکی ہے لیکن اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرسکتے ہو۔

It has been reported on the authority of Mujashi bin Masud as-Sulami who said: I came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to offer him my pledge of migration. He said: The period of migration has expired (and those who wereto get the reward for this great act of devotion have got it). You may now give your pledge to serve the cause of Islam, to strive in the way of Allah and to follow the path of virtue.

4827Sahih Muslimصحیح

فتح مکہ کے بعد اسلام جہاد اور بھلائی پر بیعت کرنے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے کی تاویل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ قَالَ جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَی الْهِجْرَةِ قَالَ قَدْ مَضَتْ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا قُلْتُ فَبِأَيِّ شَيْئٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ صَدَقَ

سوید بن سعید، علی بن مسہر، عاصم، ابی عثمان، مجاشع بن مسعود سلمی، حضرت مجاشع بن مسعود سلمی (رض) سے روایت ہے کہ میں اپنے بھائی ابومعبد کو لے کر فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے ہجرت پر بیعت لیں آپ ﷺ نے فرمایا اہل ہجرت کی ہجرت گزر چکی ہے میں نے عرض کیا پھر اس سے کس بات پر بیعت لیں گے آپ ﷺ نے فرمایا اسلام جہاد اور بھلائی پر ابوعثمان نے کہا میں ابومعبد سے ملا تو اسے مجاشع کے اس قول کی خبر دی تو انہوں نے کہا مجاشع نے سچ کہا ہے۔

It has been reported on the authority of Mujashi bin Masud who said: I brought my brother Abu Mabad to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) after the conquest of Makkah and said: Messenger of Allah, allow him to swear his pledge of migration at your hand. He said: The period of migration is over with those who had to do it (and now nobody can get this meritorious distinctions) I said: For what actions will you allow him to bind himself in oath? He said: (He can do so) for serving the cause of Islam, for fighting in the way of Allah and for fighting in the cause of virtue. Abd Uthman said: I met Abd Mabad and told him what I had heard from Mujashi. He said: He has told the truth.