فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبَةِ وَيُقَاتِلُ لِلْعَصَبَةِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي عَلَی أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مہدی بن میمون، غیلان بن جریر، زیاد بن ریاح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا پھر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے عصبیت پر غصہ کرتے ہوئے مارا گیا اور وہ جنگ کرتا ہو عصبیت کے لئے تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور میری امت میں سے جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک اور برے کو قتل کرے مومن کا لحاظ کرے نہ کسی ذمی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے تو وہ میرے دین پر نہیں۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who defected from obedience (to the Amir) and separated from the main body of the Muslim-then he died in that state-would die the death of one belonging to the days of Jahillyya. And he who is killed under the banner of a man who is blind (to the cause for which he is fighting), who gets flared up with family pride and fights for his tribe-is not from my Umma, and whoso from my followers attacks my followers (indiscriminately) killing the righteous and the wicked of them, sparing not (even) those staunch in faith and fulfilling not his obligation towards them who have been given a pledge (of security), is not from me (i. e. is not my follower).
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّی فَلَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، غیلان بن جریر، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے بہرحال ابن مثنی نے اپنی روایت میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں کیا اور بشار نے اپنی حدیث مبارکہ میں قال رسول اللہ ﷺ کہا ہے۔
This hadlth has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters with a slight variation in wording.
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَی مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَکْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ
حسن بن ربیع، حماد بن زید، جعد، ابوعثمان، ابورجاء، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جوا سے ناپسند ہو تو چاہئے کہ صبر کرے کیونکہ جو آدمی جماعت سے ایک بالشت بھر بھی جدا ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Abbas that the messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who found in his Amir something which he disliked should hold his patience, for one who separated from the main body of the Muslims even to the extent of a handspan and then he died would die the death of one belonging to the days of Jahiliyya.
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ خَرَجَ مِنْ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
شیبان بن فروغ، حماد، عبدالورث، جعد، ابورجاء عطار دی، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ فرمایا جسے اپنے امیر سے کوئی بات ناپسند ہو تو چاہئے کہ اس پر صبر کرے کیونکہ لوگوں میں سے جو بھی سلطان کی اطاعت سے ایک بالشت بھی نکلا اور اس پر اسی کی موت واقع ہوگئی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be upoh him) said: One who dislikes a thing done by his Amir should be patient over it, for anyone from the people who withdraws (his obedience) from the government, even to the extent of a handspan and died in that conditions, would die the death of one belonging to the days of jahilliyya.
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ
ہریم بن عبداعلی، معتمر، ابومجلز، جندب بن عبداللہ بجلی، حضرت جندب بن عبداللہ بجلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی کی اندھی تقلید میں عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہوا قتل کیا گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Abdullah al-Bajali that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who is killed under the banner of a man who is blind (to his just cause), who raises the slogan of family or supports his own tribe, dies the death of one belonging to the days of Jahiliyya.
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ جَائَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ کَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا کَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِکَ لِأَجْلِسَ أَتَيْتُکَ لِأُحَدِّثَکَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابن محمد بن زید، زید بن محمد، نافع، عبداللہ بن عمر، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) واقعہ حرہ کے وقت جو یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ہوا عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے تو ابن مطیع نے کہا ابوعبدالرحمن کے لئے غالیچہ بچھاؤ تو ابن عمر (رض) نے کہا میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔
It has been reported on the authority of Nafi, that Abdullah bin Umar (RA) paid a visit toAbdullah bin Muti in the days (when atrocities were perpetrated on the People Of Madinah) at Harra in the time of Yazid bin Muawiyah. Ibn Muti said: Place a pillow for Abu Abdul Rahman (family name of Abdullah bin Umar). But the latter said: I have not come to sit with you. I have come to you to tell you a tradition I heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I heard him say: One who withdraws his band from obedience (to the Amir) will find no argument (in his defence) when he stands before Allah on the Day of Judgment, and one who dies without having bound himself by an oath of allegiance (to an Amir) will die the death of one belonging to the days of Jahillyya.
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَی ابْنَ مُطِيعٍ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ابن نمیر، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، لیث، عبیداللہ بن ابی جعفر، بکیر بن عبداللہ بن اشج، نافع، ابن عمر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ ابن مطیع کے پاس گئے اور نبی ﷺ کی حدیث مبارکہ اسی طرح بیان کی۔
It has been narrated on the authority of Abu Umar that he visited Ibn Muti, and related from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the tradition that has gone before.
فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ
عمرو بن علی، ابن مہدی، محمد بن عمرو بن جبلہ، بشر بن عمر، ہشام بن سعد، زید بن اسلم، ابن عمر، اس سند کے ساتھ بھی یہی حدیث حضرت ابن عمر (رض) کے واسطہ سے نبی ﷺ سے مروی ہے۔
The same tradition has been transmitted by a different chain of narrators.
مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَتَکُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ
ابوبکر بن نافع، محمد بن بشا ر، غندر، محمد بن جعفر، شعبہ، زیاد بن علاقہ حضرت عرفجہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فتنے اور فساد ظاہر ہوں گے اور جو اس امت کی جماعت کے معاملات میں تفریق ڈالنے کا ارادہ کرے اسے تلوار کے ساتھ مار دو وہ شخص کوئی بھی ہو۔
It has been narrated on the authority of Arfaja who said: I have heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: Different evils will make their appearance in the near future. Anyone who tries to disrupt the affairs of this Umma while they are united you should strike him with the sword whoever he be. (If remonstrance does not prevail with him and he does not desist from his disruptive activities, he is to be killed.)
مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ح و حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ وَرَجُلٌ سَمَّاهُ کُلُّهُمْ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَاقْتُلُوهُ
احمد بن خراش، حبان، ابوعوانہ، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اسحاق بن ابراہیم، مصعب بن مقدام خثعمی، اسرائیل، حجاج، عارم بن فضل، حماد بن زید، عبداللہ بن مختار، ان چار اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے لیکن انہوں نے فَاضرِبُوہ کی بجائے فَاقْتُلُوهُ کا لفظ ذکر کیا ہے۔
In another version of the tradition narrated on the same authority through a different chains of transmitters we have the words:" Kill him."
مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَتَاکُمْ وَأَمْرُکُمْ جَمِيعٌ عَلَی رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاکُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوهُ
عثمان بن ابی شیبہ، یونس، ابویعفور عرفجہ، حضرت عرفجہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے تم اپنے معاملات میں کسی ایک آدمی پر متفق ہو پھر تمہارے پاس کوئی آدمی آئے اور تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے تو اسے قتل کردو۔
It has been narrated (through a still different chain of transmitters) on the Same authority (i. e. Arfaja) who said similarly-but adding:" Kill all of them." I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: When you are holding to one single man as your leader, you should kill who seeks to undermine your solidarity or disrupt your unity.
جب دو خلفاء کی بیعت لی جائے تو کیا کرنا چاہئے
و حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا
وہب بن بقیہ واسطی، خلاد بن عبداللہ، جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو ان دونوں میں سے دوسرے کو قتل کردو۔
It has been narrated on the authority of Aba Said al-Khudri that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When oath of allegiance has been taken for two caliphs, kill the one for whom the oath was taken later.
خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَتَکُونُ أُمَرَائُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْکَرَ سَلِمَ وَلَکِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا
ہداب بن خالد ازدی، ہمام بن یحیی، قتادہ، حسن، ضبہ بن محصن، حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کے خلاف شریعت اعمال کو تم پہچان لوگے اور بعض اعمال نہ پہچان سکو گے پس جس نے اس کے اعمال بد کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا جو نہ پہچان سکا وہ محفوظ رہا لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور تابعداری کی (وہ محفوظ نہ رہا) صحابہ (رض) نے عرض کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں۔
It has been narrated on the authority of Umm Salamah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: In the near future there will be Amirs and you will like their good deeds and dislike their bad deeds. One who sees through their bad deeds (and tries to prevent their repetition by his band or through his speech), is absolved from blame, but one who hates their bad deeds (in the heart of his heart, being unable to prevent their recurrence by his hand or his tongue), is (also) fafe ( so far as Gods wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them is spiritually ruined. People asked (the Holy Prophet): Shouldnt we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayers.
خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْکُمْ أُمَرَائُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ فَمَنْ کَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَکِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا أَيْ مَنْ کَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْکَرَ بِقَلْبِهِ
ابوغسان، مسمعی و محمد بن بشار، معاذ، ابی غسان، معاذ، ابن ہشام دستوائی، ابوقتادہ، حسن، ضبہ بن محصن عنزی، حضرت ام سلمہ (رض) زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم پر ایسے حاکم مقرر کئے جائیں گے جن کے اعمال بد تم پہچان لوگے اور بعض اعمال بد سے ناواقف رہوگے جس نے اعمال بد کو ناپسند کیا وہ بری ہوگیا اور جو ناواقف رہا وہ محفوظ رہا لیکن جو ان امور بد پر خوش ہوا اور اتباع کی (بری نہیں ہوگا اور نہ محفوظ رہے گا) صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں۔
It has been narrated (through a different chain of tmnamitters) on the authority of Umm Salamah (wife of the Holy Prophet) that he said: Amirs will be appointed over you, and you will find them doing good as well as bad deeds. One who hates their bad deeds is absolved from blame. One who disapproves of their bad deeds is (also) safe (so far as Divine wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them (is doomed). People asked: Messenger of Allah, shouldnt we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayer. (" Hating and disapproving" refers to liking and disliking from the heart.)
خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ زِيَادٍ وَهِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِکَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ کَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ
ابوربیع عتکی، حماد بن زید، معلی بن زیاد، ہشام، حسن، ضبہ بن محصن، حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی لیکن اس حدیث مبارکہ میں یہ ہے کہ جس نے انکار کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ناپسند کیا وہ محفوظ رہا۔
Another version of the tradition narrated on the same authority attributes the same words to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) except that it replaces kariha with ankhara and vice versa.
خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَکِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ لَمْ يَذْکُرْهُ
حسن بن ربیع بجلی، ابن مبارک، ہشام، حسن ضبہ بن محصن، حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی لیکن اس حدیث میں ولٰکِنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ) کے الفاظ مذکور نہیں ہیں۔
Another version omits a portion at the end of the tradition-a portion which begins with man radiya wa taba and ends with the last word of the tradition.
اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَيْئًا تَکْرَهُونَهُ فَاکْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ
اسحاق بن ابرہیم حنظلی، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، یزید بن یزید بن جابر، رزیق بن حبان، مسلم بن قرظہ، حضرت عوف بن مالک (رض) کی نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے حاکموں میں سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہو اور تمہارے حاکموں میں سے برے حاکم وہ ہیں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں اور تم انہیں لعنت کرو اور وہ تمہیں لعنت کریں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم انہیں تلوار کے ساتھ قتل نہ کردیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تک اپنے حاکموں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے اس عمل کو ناپسند کرو اور اطاعت و فرمانبرداری سے ہاتھ مت کھینچو۔
It has been narrated on the authority of Auf bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The best of your rulers are those whom you love and who love you, who invoke Gods blessings upon you and you invoke His blessings upon them. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you and whom you curse and who curse you. It was asked (by those present): Shouldnt we overthrow them with the help of the sword? He said: No, as long as they establish prayer among you. If you then find anything detestable in them. You should hate their administration, but do not withdraw yourselves from their obedience.
اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَخْبَرَنِي مَوْلَی بَنِي فَزَارَةَ وَهُوَ رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قَالُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِکَ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَکْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ يَعْنِي لِرُزَيْقٍ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ آللَّهِ يَا أَبَا الْمِقْدَامِ لَحَدَّثَکَ بِهَذَا أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
داؤد بن رشید، ولید ابن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر مولیٰ بنی فرارہ، رزیق بن حیان، حضرت عوف بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہوں اور تم ان کے جنازے میں شرکت کرتے ہو اور وہ تمہارے جنازوں میں شرکت کریں اور تمہارے بدترین حکمرانوں میں سے وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں تم ان پر لعنت کرنے والے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم اس وقت انہیں معزول نہ کردیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں آگاہ رہو جس شخص کو کسی پر حاکم بنایا گیا پر انہوں نے اس میں ایسی چیز دیکھی جو اللہ کی نافرمانی ہو تو وہ اللہ کی معصیت و نافرمانی والے عمل کو ناپسند کریں اور اس کی فرمانبرداری سے اپنا ہاتھ نہ کھینچیں ابن جابر نے کہا کہ میں نے رزیق سے کہا جب اس نے یہ مجھ سے بیان کیا، اے ابومقدام تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تجھ سے یہ حدیث کسی نے بیان کی ہے یا تم نے خود اسے مسلم بن قزعہ سے سنا ہے جنہوں نے عوف سے سنا اور عوف نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تو ابومقدام نے گھٹنوں کے بل گر کر قبلہ کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میں نے اسے مسلم بن قرظہ سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے عوف بن مالک سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سماعت کی۔
It has been narrated on the authority of Auf bin Malik al-Ashja (RA) i who said that he heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: The best of your rulers are those whom you love and who love you, upon whom you invoke Gods blessings and who invoke His blessing upon you. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you, who curse you and whom you curse. (Those present) said: Shouldnt we overthrow them at this? He said: No, as long as they establish prayer among you. No, as long as they establish prayer among you. Mind you! One who has a governor appointed over him and he finds that the governor indulges in an act of disobedience to God, he should condemn the governors act, in disobedience to God, but should not withdraw himself from his obedience. Ibn Jabir said: Ruzaiq narrated to me this hadith. I asked him: Abu Miqdam, have you heard it from Muslim bin Qaraza or did he describe it to you and he heard it from Auf (b. Malik) and he transmitted this tradition of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? Upon this Ruzaiq sat upon his knees and facing the Qibla said: By Allah, besides Whom there is no other God, I heard it from Muslim bin Qaraza and he said that te had heard it from Auf (b. Malik) and he said that he had heard it from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ رُزَيْقٌ مَوْلَی بَنِي فَزَارَةَ قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن موسیٰ انصاری، ولید بن مسلم، ابن جابر، رزیق مولیٰ بنی فزارہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
The above tradition has been narrated through a different chain of transmitters.
جنگ کرنے کے ارادہ کے وقت لشکر کے امیر کی بیعت کرنے کے استح اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَی الْمَوْتِ
قتیبہ بن سعید، لیث بن سعد، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم صلح حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور حضرت عمر (رض) ایک درخت کے نیچے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑے بیٹھے تھے اور یہ درخت کیکر کا تھا اور ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں اور موت پر بیعت نہیں کی تھی۔
It has been narrated on the authority of Jabir who said: We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya. We swore fealty to hiin (the Holy Prophet) and Umar was holding the latters hand (when he was sitting) under the tree (called) ahadeeth (to administer the oath to the Companions). The narrator added: We took oath to the effect that we would not flee (from the battlefield if there was an encounter with the Makkahns), but we did not take oath to fight to death.