Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 239 of 379

4768Sahih Muslimصحیح

غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَهِ وَعَلَی أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَی أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَی أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ بن عمر، عبادہ بن ولید، حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے آپ ﷺ کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔

It has been narrated on the authority of" Ubida who learnt the tradition from his father who, in turn, learnt it from his own father. Ubadahs grandfather said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took an oath of allegiance from us on our listening to and obeying the orders of our commander in adversity and prosperity, in pleasure and displeasure (and even) when somebody is given preference over us, on our avoiding to dispute the delegation of powers to a person deemed to be a fit recipient thereof (in the eye of one who delegates it) and on our telling the truth in whatever position we be without fearing in the matter ef Allah the reproach of the reproacher.

4769Sahih Muslimصحیح

غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس، ابن عجلان، عبیداللہ بن عمرو، یحییٰ بن سعید، عبادہ بن ولید، اس سند کے ساتھ یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ubadah bin Walid with the same chain of transmitters.

4770Sahih Muslimصحیح

غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ

ابن ابی عمر، عبدالعزیز دراوری، یزید ابن ہاد، عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

The same tradition has been handed down through more than one chain of transmitters.

4771Sahih Muslimصحیح

غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي بُکَيْرٌ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا أَصْلَحَکَ اللَّهُ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ فَکَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَکْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ قَالَ إِلَّا أَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنْ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ

احمد بن عبدالرحمن، ابن وہب بن مسلم، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابوامیہ، حضرت جنادہ بن امیہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم عبادہ بن صامت کے پاس حاضر ہوئے اور وہ بیمار تھے ہم نے کہا اللہ آپ کو تندرست کرے ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور اللہ اس کے ذریعہ نفع عطا فرمائے تو انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بلایا ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور جن امور کی آپ ﷺ سے ہم نے بیعت کی وہ یہ تھے ہم نے بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی کہ اپنی خوشی اور ناخوشی میں تنگی اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیئے جانے پر اور اس بات پر کہ ہم حکام سے جھگڑا نہ کریں گے سوائے اس کے کہ ہم واضح دیکھیں اور تمہارے پاس اس کے کفر ہونے پر اللہ کی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو۔

It has been narrated on the authority of Junida bin Abu Umayya who said: We called upon Ubadah bin Samit who was ill and said to him: May God give you health I Narrate to us a tradition which God may prove beneficial (to us) and which you have heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called us and we took the oath of allegiance to him. Among the injunctions he made binding upon us was: Listening and obedience (to the Amir) in our pleasure and displeasure, in our adversity and prosperity, even when somebody is given preference over us, and without disputing the delegation of powers to a man duly invested with them (Obedience shall be accorded to him in all circumstances) except when you have clear signs of his disbelief in (or disobedience to) God-signs that could be used as a conscientious justification (for non-compliance with his orders).

4772Sahih Muslimصحیح

امام کے مسلمانوں کے لئے ڈھال ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَی بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ کَانَ لَهُ بِذَلِکَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ کَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ

ابرہیم، مسلم، زہیر بن حرب، شبابہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا امام ڈھال ہے اس کے پیچھے سے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے امان دی جاتی ہے پس اگر اللہ کے تقویٰ کا حکم کرے اور عدل و انصاف کرے اور اس کی وجہ سے اس کے لئے ثواب ہوگا اور اگر وہ اس کے علاوہ (برائی) کا حکم کرے تو یہ اس پر وبال ہوگا۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A commander (of the Muslims) is a shield for them. They fight behind him and they are protected by (him from tyrants and aggressors). If he enjoins fear of God, the Exalted and Glorious, and dispenses justice, there will be a (great) reward for him; and if he enjoins otherwise, it redounds on him.

4773Sahih Muslimصحیح

پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَائُ کُلَّمَا هَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَکُونُ خُلَفَائُ تَکْثُرُ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوحازم، ابوہریرہ، حضرت ابوحازم (رح) سے روایت ہے کہ میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ رہا تو میں نے ان کو نبی ﷺ سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت کرلو اسے پورا کرو اور احکام کا حق ان کو ادا کرو بیشک اللہ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔

It has been narrated by Abu Hurairah (RA) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may pceace be upon him) said: Banu Israil were ruled over by the Prophets. When one Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died, another succeeded him; but after me there is no prophet and there will be caliphs and they will be quite large in number. His Companions said: What do you order us to do (in case we come to have more than one Caliph)? He said: The one to whom allegiance is sworn first has a supremacy over the others. Concede to them their due rights (i. e. obey them). God (Himself) will question them about the subjects whom He had entrusted to them.

4774Sahih Muslimصحیح

پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن برادہ اشعری، عبداللہ بن ادریس، حسن بن فرات، اسی حدیث کی دوسری سند ہے۔

The same tradition has been transmitted by a different chain of narrators.

4775Sahih Muslimصحیح

پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَکُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَکَ مِنَّا ذَلِکَ قَالَ تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْکُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَکُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، وکیع، ابوسعید اشج، وکیع، ابوکریب، ابن نمیر، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، زید بن وہب، عبداللہ، اسی حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے اور ایسے امور پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ ہم میں سے انہیں حکم کیا دیتے ہیں جو یہ زمانہ پائے آپ ﷺ نے فرمایا تم پر کسی کا جو حق ہو وہ ادا کردو اور اپنے حقوق تم اللہ سے مانگتے رہنا۔

It has been narrated on the authority of Abdullah who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: After me there will be favouritism anad many things that you will not like. They (his Companions) said: Messenger of Allah, what do you order that one should do it anyone from us has to live through such a time? He said: You should discharge your own responsibility (by obeying your Amir), and ask God to cuncede your right (by guiding the Amir to the right path or by replacing him by one more just and God-fearing).

4776Sahih Muslimصحیح

پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَائَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَی مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَکُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَکُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَائٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَهَا وَتَجِيئُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِکَتِي ثُمَّ تَنْکَشِفُ وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَی إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَائَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُکَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْوَی إِلَی أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّکَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْکُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَيْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّهَ کَانَ بِکُمْ رَحِيمًا قَالَ فَسَکَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، زہیر، جریر، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ (رح) سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا تو عبداللہ نے کہا ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ رکے ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اور بعض تیراندازی کرنے لگے اور بعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی الصلوہ جامعہ (یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے) تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ذمے اپنے علم کے مطابق اپنی امت کی بھلائی کی طرف راہنمائی لازم نہ ہو اور برائی سے اپنے علم کے مطابق انہیں ڈرانا لازم نہ ہو اور بیشک تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی حصہ میں ہے اور اس کا آخر ایسی مصیبتوں اور امور میں مبتلا ہوگا جسے تم ناپسند کرتے ہو اور ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ ختم ہوجائے گا اور دوسرا ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہوگا جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اس معاملہ سے پیش آئے جس کے دیئے جانے کو اپنے لئے پسند کرے اور جس نے امام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر دل کے اخلاص سے بیعت کی تو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے اور اگر دوسرا شخص اس سے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن مار دو راوی کہتا ہے پھر میں عبداللہ کے قریب ہوگیا اور ان سے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو عبداللہ نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا میرے کانوں نے آپ ﷺ سے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا تو میں نے ان سے کہا یہ آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی معاویہ ہمیں اپنے اموال کو ناجائز طریقے پر کھانے اور اپنی جانوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اللہ کا ارشاد ہے اے ایمان والو اپنے اموال کو ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ ایسی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے اور نہ اپنی جانوں کو قتل کرو بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے راوی نے کہا عبداللہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔

It has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Abd Rabb al-Ka’bah who said: I entered the mosque when Abdullah bin Amr bin al-As was sitting in the shade of the Ka’bah and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now)Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: It was the duty of every Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that has gone before me to guide his followers to what he knew was good for them and warn them against what he knew was bad for them; but this Umma of yours has its days of peace and (security) in the beginning of its career, and in the last phase of its existence it will be afflicted with trials and with things disagreeable to you. (In this phase of the Umma), there will be tremendous trials one after the other, each making the previous one dwindle into insignificance. When they would be afflicted with a trial, the believer would say: This is going to bring about my destruction. When at (the trial) is over, they would be afflicted with another trial, and the believer would say: This surely is going to be my end. Whoever wishes to be delivered from the fire and enter the garden should die with faith in Allah and the Last Day and should treat the people as he wishes to be treated by them. He who swears allegiance to a Caliph should give him the piedge of his hand and the sincerity of his heart (i. e. submit to him both outwardly as well as inwardly). He should obey him to the best of his capacity. It another man comes forward (as a claimant to Caliphate), disputing his authority, they (the Muslims) should behead the latter. The narrator says: I came close to him (Abdullah bin Amr bin al-As) and said to him: Can you say on oath that you heard it from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He pointed with his hands to his ears and his heart and said: My ears heard it and my mind retained it. I said to him: This cousin of yours, Muawiyah, orders us to unjustly consume our wealth among ourselves and to kill one another, while Allah says:" O ye who believe, do not consume your wealth among yourselves unjustly, unless it be trade based on mutual agreement, and do not kill yourselves. Verily, God is Merciful to you" (iv. 29). The narrator says that (hearing this)Abdullah bin Amr bin al-As kept quiet for a while and then said: Obey him in so far as he is obedient to God; and diqobey him in matters involving disobedience to God.

4777Sahih Muslimصحیح

پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوسعید اشج، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، یہ حدیث ان دو اسناد سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash with a different chain of transmitters.

4778Sahih Muslimصحیح

پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ الصَّائِدِيِّ قَالَ رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ

محمد بن رافع، ابومنذر، اسماعیل بن عمر، یونس بن ابواسحاق ہمدانی، عبداللہ بن ابی سفر، عامر، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ صاعدی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے ایک جماعت کو کعبہ کے پاس دیکھا باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائی۔

It has been narrated on the authority of Abd Rabb al-Ka’bah as-Saidl who said: I saw a group of people near the Ka’bah.... Then he narrated the tradition as narrated by Amash.

4779Sahih Muslimصحیح

حاکموں کے ظلم پر صبر کرنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي کَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا فَقَالَ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِي عَلَی الْحَوْضِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک، اسید بن حضیر، حضرت اسید بن حضیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں عرض کیا کہ آپ ﷺ مجھے فلاں آدمی کی طرح عامل مقرر نہیں فرما دیتے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد عنقریب اپنے پر ترجیح کو پاؤ تو صبر سے کام لینا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔

It has been narrated on the authority of Usaid bin Hudair that a man from the Ansar took the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) aside and said to him: Will you not appoint me governor as you have appointed so and so? He (the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You will surely come across preferential treatment after me, so you should be patient until you meet me at the Cistern (Haud-i-Kauthar).

4780Sahih Muslimصحیح

حاکموں کے ظلم پر صبر کرنے کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، شعبہ بن حجاج، قتادہ، انس، حضرت اسید بن حضیر (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں عرض کیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

This tradition has been narrated on the same authority through a different chain of transmitters.

4781Sahih Muslimصحیح

حاکموں کے ظلم پر صبر کرنے کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبیداللہ بن معاذ، ابوشعبہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں خلوت رسول اللہ ﷺ کا ذکر نہیں۔

Another version of the tradition narrated on the authority of Shubah does not include the words:" He took the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) aside."

4782Sahih Muslimصحیح

حاکموں کی اطاعت کے بیان میں اگرچہ وہ تمہارے حقوق نہ دیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَائُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، علقمہ بن وائل، حضرمی بن وائل حضرمی، حضرت علقمہ بن وائل (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمی بن یزید جعفی (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنے حقوق تو مانگیں اور ہمارے حقوق کو روک لیں آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا اس نے آپ ﷺ سے پھر پوچھا آپ ﷺ نے پھر اعراض فرمایا پھر اس نے دوسری یا تیسری مرتبہ پوچھا تو اسے اشعث بن قیس نے کھینچ لیا اور کہا : اس کیا بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان پر ان کا بوجھ اور تمہارے اوپر تمہارا بوجھ ہے۔

It has been narrated on the authority of Alqama bin Wail al-Hadrami who learnt the tradition from his father. The latter said: Salama bin Yazid al-juafi asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah, what do you think if we have rulers who rule over us and demand that we discharge our obligations towards them, but they (themselves) do not discharge their own responsibilities towards us? What do you order us to do? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) avoided giving any answer. Salama asked him again. He (again) avoided giving any answer. Then he asked again-it was the second time or the third time-when Ashath bin Qais (finding that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was unnecessarily being pressed for answer) pulled him aside and said: Listen to them and obey them, for on them shall he their burden and on you shall be your burden.

4783Sahih Muslimصحیح

حاکموں کی اطاعت کے بیان میں اگرچہ وہ تمہارے حقوق نہ دیں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، شعبہ، سماک، اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اسے اشعث بن قیس نے کھینچا تو رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کی بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان کو بوجھ ان پر اور تمہارا بوجھ تمہارے اوپر ہے۔

It has been narrated through a different chain of transmitters. on the authority of Simak who said: Ashath bin Qais pulled him (Salama bin Yazid) when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Listen to them and obey them, for on them shall be the burden of what tney do and on you shall be the burden of what you do.

4784Sahih Muslimصحیح

فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُا کَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَکُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِکَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَائَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِکَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْکِرُ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِکَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَی أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا قَالَ نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَکَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَی إِنْ أَدْرَکَنِي ذَلِکَ قَالَ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَی أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّی يُدْرِکَکَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَی ذَلِکَ

محمد بن مثنی عنزی، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر بسر بن عبیداللہ حضرمی، ابوادریس، حضرت حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) تو رسول اللہ ﷺ سے خیر و بھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں برائی کے بارے میں اس خوف کی وجہ سے کہ وہ مجھے پہنچ جائے سوال کرتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم جاہلیت اور شر میں تھے اللہ ہمارے پاس یہ بھلائی لائے تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور اس خیر میں کچھ کدورت ہوگی میں نے عرض کیا کیسی کدورت ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا میری سنت کے علاوہ کو سنت سمجھیں گے اور میری ہدایت کے علاوہ کو ہدایت جان لیں گے تو ان کو پہچان لے گا اور نفرت کرے گا میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے بعد کوئی برائی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر جہنم کی طرف بلایا جائے گا جس نے ان کی دعوت کو قبول کرلیا وہ اسے جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ ہمارے لئے ان کی صفت بیان فرما دیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ ایسی قوم ہوگی جو ہمارے رنگ جیسی ہوگی اور ہماری زبان میں ہی گفتگو کرے گی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر یہ مجھے ملے تو آپ ﷺ کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کو اور ان کے امام کو لازم کرلینا میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت ہو نہ کوئی امام۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہوجانا اگرچہ تجھے موت کے آنے تک درخت کی جڑوں کو کاٹنا پڑے تو اسی حالت میں موت کے سپرد ہوجائے۔

It has been narrated on the authority of Hudhaifa bin al-Yaman who said: People used to ask the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the good times, but I used to ask him about bad times fearing lest they overtake me. I said: Messenger of Allah, we were in the midst of ignorance and evil, and then God brought us this good (time through Islam). Is there any bad time after this good one? He said: Yes. I asked: Will there be a good time again after that bad time? He said: Yes, but therein will be a hidden evil. I asked: What will be the evil hidden therein? He said: (That time will witness the rise of) the people who will adopt ways other than mine and seek guidance other than mine. You will know good points as well as bad points. I asked: Will there be a bad time after this good one? He said: Yes. (A time will come) when there will be people standing and inviting at the gates of Hell. Whoso responds to their call they will throw them into the fire. I said: Messenger of Allah, describe them for us. He said: All right. They will be a people having the same complexion as ours and speaking our language. I said: Messenger of Allah, what do you suggest if I happen to live in that time? He said: You should stick to the main body of the Muslims and their leader. I said: If they have no (such thing as the) main body and have no leader? He said: Separate yourself from all these factions, though you may have to eat the roots of trees (in a jungle) until death comes to you and you are in this state.

4785Sahih Muslimصحیح

فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْکَرٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا بِشَرٍّ فَجَائَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ فَهَلْ مِنْ وَرَائِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ هَلْ وَرَائَ ذَلِکَ الشَّرِّ خَيْرٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَهَلْ وَرَائَ ذَلِکَ الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ کَيْفَ قَالَ يَکُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ قَالَ قُلْتُ کَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَکْتُ ذَلِکَ قَالَ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُکَ وَأُخِذَ مَالُکَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ

محمد بن سہل بن عسکر تمیمی، یحییٰ بن حسان، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ ابن حسان، معاویہ ابن سلام، زید بن سلام، ابوسلام، حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ ہم شر میں مبتلا تھے اللہ ہمارے پاس اس بھلائی کو لایا جس میں ہم ہیں تو کیا اس بھلائی کے پیچھے بھی کوئی برائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے پیچھے کوئی خیر بھی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے پیچھے کوئی برائی بھی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے پیچھے کوئی برائی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا میرے بعد ایسے مقتداء ہوں گے جو میری ہدایت سے راہنمائی حاصل نہ کریں گے اور نہ میری سنت کو اپنائیں گے اور عنقریب ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے کہ ان کے دل انسانی جسموں میں شیطان کے دل ہوں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں کیسے کروں اگر اس زمانہ کو پاؤں آپ ﷺ نے فرمایا امیر کی بات سن اور اطاعت کر اگرچہ تیری پیٹھ پر مارا جائے یا تیرا مال غصب کرلیا جائے پھر بھی ان کی بات سن اور اطاعت کر۔

It his been narrated through a different chain of transmitters, on the authority of Hudhaifa bin al-Yaman who said: Messenger of Allah, no doubt, we had an evil time (i. e. the days of Jahiliyya or ignorance) and God brought us a good time (i. e. Islamic period) through which we are now living Will there be a bad time after this good time? He (the Holy Prophet) said: Yes. I said: Will there be a good time after this bad time? He said: Yes. I said: Will there be a bad time after good time? He said: Yes. I said: How? Whereupon he said: There will be leaders who will not be led by my guidance and who will not adopt my ways? There will be among them men who will have the hearts of devils in the bodies of human beings. I said: What should I do. Messenger of Allah, if I (happen) to live in that time? He replied: You will listen to the Amir and carry out his orders; even if your back is flogged and your wealth is snatched, you should listen and obey.

4786Sahih Muslimصحیح

فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَی عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَی أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَی مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ

شیبان بن فروخ جریر، ابن حازم، غیلان، ابن جریر، ابی قیس بن ریاح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی کسی عصبیت کی بناء پر غصہ کرتے ہوئے عصبیت کی طرف بلایا یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تو وہ جاہلیت کے طور پر قتل کیا گیا اور جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا کسی مومن کا لحاظ کیا اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تو وہ میرے دین پر نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who defected from obedience (to the Amir) and separated from the main body of the Muslims-if he died in that state-would die the death of one belonging to the days of Jahiliyya (i. e. would not die as a Muslim). One who fights under the banner of a people who ate blind (to the cause for which they are fighting. i. e. do not know whether their cause is just or otherwise), who gets flared up with family pride, calls, (people) to fight for their. family honour, and supports his kith and kin (i. e. fignts not for the cause of Allah but for the sake of this family or tribe) -if he is killed (in this fight), he dies as one belonging to the days of Jhiliyya. Whoso attacks my Umma (indiscriminately) killing the righteous and the wicked of them, sparing not (even) those staunch in faith and fulfilling not his promise made with those who have been given a pledge of security-he has nothing to do with me and I have nothing to do with him.

4787Sahih Muslimصحیح

فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا

عبیداللہ بن عمر قواریری، حماد بن زید، ایو ب، غیلان بن جریر، زیاد بن ریاح قیسی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے اس حدیث میں ( لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا) کے الفاظ ہیں۔

The same tradition has been narrated by the same authority through another chain of transmitters with a slight difference in wording.