اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَی مِنْ الْکَرَامَةِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں جسے جنت میں داخل کردیا جائے وہ اس بات کی پسند کرتا ہو کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے اور اس کے لئے روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ اسے لوٹایا جائے پھر اسے دس مرتبہ قتل کیا جائے بوجہ اس کے جو اس نے عزت و کر امت دیکھی۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) (through a different chain of transmitters) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Nobody who enters Paradise will (ever like to) return to this world even if he were offered everything on the surface of the earth (as an inducement) except the martyr who will desire to return to this world and be killed ten times for the sake of the great honour that has been bestowed upon him.
اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ قَالَ فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
سعید بن منصور، خالد بن عبداللہ واسطی، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے برابر بھی کوئی عبادت ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم اس عبادت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ابوہریرہ ﷺ کہتے ہیں کہ یہ سوال آپ ﷺ کے سامنے دو یا تین مرتبہ دہرایا گیا اور ہر مرتبہ کے جواب میں یہی فرمایا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور تیسری مرتبہ فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا جہاد سے واپسی تک اس شخص کی طرح جو روزہ ادار قیام کرنے والا اور اللہ کی آیات پر عمل کرنے والا ہو اور روزہ و نماز سے تھکنے والا نہ ہو۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked: What deed could be an equivalent of Jihad in the way of Allah, the Almighty and Exalted? He answered: You do not have the strength to do that deed. The narrator said: They repeated the question twice or thrice. Every time he answered: You do not have the strength to do it. When the question was asked for the third time, he said: One who goes out for Jibad is like a person who keeps fasts, stands in prayer (constantly), (obeying) Allahs (behests contained in) the verses (of the Quran), and does not exhibit any lassitude in fasting and prayer until the Mujihid returns from Jihad in the way of Allah, the Exalted.
اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، زہیر بن حرب، جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، سہیل، ان دو اسناد سے بھی یہی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This tradition has been handed down through a different chain of transmitters.
اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ وَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَکِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ الْآيَةَ إِلَی آخِرِهَا
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ، معاویہ، زید بن سلام، ابوسلام، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کو آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل نہ کروں تیسرے نے کہا اللہ کے راستہ میں جہاد اس سے افضل ہے جو تم نے کہا۔ حضرت عمر (رض) نے ان سب کو ڈاٹنا اور کہا کہ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو یہ جمعہ کا دن تھا لیکن جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے آپ ﷺ سے اس کا فتوی طلب کیا جس میں انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کے عمل کے برابر قرا دیتے ہو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔
It has been narrated on the authority of Numan bin Bashir who said: As I was (sitting) near the pulpit of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , a man said: I do not care if, after embracing Islam, I do not do any good deed (except) distributing drinking water among the pilgrims. Another said: I do not care if, after embracing Islam, I do not do any good deed beyond maintenance service to the Sacred Mosque. Another said: Jihad in the way of Allah is better than what you have said. Umar reprimanded them and said: Dont raise your voices near the pulpit of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on Friday. When prayer was over, I entered (the apartment of the Holy Prophet) and asked his verdict about the matter in which they had differed. (It was upon this that) Allah, the Almighty and Exalted, revealed the Quranic verse:" Do you make the giving of drinking water to the pilgrims and the maintenance of the Sacred Mosque equal to (the service of those) who believe in Allah and the Last Day and strive hard in the cause of Allah. They are not equal in the sight of God. And Allah guides not the wrongdoing people" (ix. 20).
اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ، زید، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
This tradition has been narrated on the authority of Numan bin Bashir through another chain of transmitters.
اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت، انس بن مالک، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Leaving (for Jihad) in the way of Allah in the morning or in the evening (will merit a reward) better than the world and all that is in it.
اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ صبح جسے بندہ اللہ کے راستہ میں طلوع کرے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔
It has been narrated on the authority of Sahl bin Sad as-Saidi that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The journey undertaken by a person in the morning (for Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it.
اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک صبح یا شام اللہ کے راستہ میں جانا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا سے افضل ہے۔
It has been narrated on the authority of Sahl bin Sad as-Saidi that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A journey undertaken in the morning or evening (fond Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it.
اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنْ أُمَّتِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ، یحییٰ بن سعید، ذکوان، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری امت میں ایسے لوگ نہ ہوتے باقی حدیث گزر چکی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے اللہ کے راستہ میں شام یا صبح کرنا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا سے افضل ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If some persons of my Umma (were not to undertake the hardships of Jihad), and he ( Abu Hurairah (RA) ) then narrated the rest of the hadith and then said: A journey undertaken for jihad in the evening or morning merits a reward better than the world and all that is in it.
اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَإِسْحَقَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، زہیر بن حرب، ابوبکر اسحاق، مقری، عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، شرحبیل بن شریک معافری، ابوعبدالرحمن حبلی حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ اللہ کے راستہ میں صبح یا شام کرنا بہتر ہے ہر اس چیز سے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Ayyub that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A journey undertaken in the morning or evening (for Jihad) in the way of Allah is better than (anything) on which the sun rises or sets.
اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ سَوَائً
محمد بن عبداللہ بن قہزاذ، علی بن حسن، عبداللہ بن مبارک، سعید بن ایوب بن شریح، شرحبیل بن شریک، ابوعبدالرحمن حبلی، ابوایوب انصاری، اس سند سے بھی یہ حدیث بالکل من وعن مروی ہے۔
This tradition has been narrated on the authority of Abu Ayyub through a different chain of transmitters having the same wording.
جنت میں مجاہد کے لئے اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ درجات کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ وَأُخْرَی يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ کُلِّ دَرَجَتَيْنِ کَمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
سعید بن منصور، عبداللہ بن وہب ابوہانی خولانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوسعید جو اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ابوسعید نے اس بات پر تعجب کیا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ان کو دوبارہ شمار فرمائیں آپ نے ایسا (دوبارہ) کیا پھر فرمایا ایک اور بات بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بندے کے جنت میں سو درجات بلند ہوتے ہیں اور ہر دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد اللہ کے راستہ میں جہاد۔
It has been narrated on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said (to him): Abu Said, whoever cheerfully accepts Allah as his Lord, Islam as his religion and Mubammad as his Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is necessarily entitled to enter Paradise. He (Abu Said) wondered at it and said: Messenger of Allah, repeat it for me. He (the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did that and said: There is another act which elevates the position of a man in Paradise to a grade one hundred (higher), and the elevation between one grade and the other is equal to the height of the heaven from the earth. He (Abu Said) said: What is that act? He replied: Jihad in the way of Allah! Jihad in the way of Allah!
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید، عبداللہ حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام (رض) کے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان لانا افضل الاعمال ہیں ایک آدمی نے کھڑا ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اس بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا ہاں اگر تو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اور تو صبر کرنے والا (ثابت قدم) ، ثواب کی نیت رکھنے والا اور پیٹھ پھیرے بغیر دشمن کی طرف متوجہ رہنے والا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے کیا کہا تھا اس نے کہا میں نے کہا تھا کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہوجائیں گے تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس صورت میں کہ تو صبر کرنے والا ثواب کی نیت رکھنے والا اور پیٹھ پھیرے بغیر دشمن کی طرف متوجہ رہنے والا ہو تو سوائے قرض کے (سب گناہ معاف ہوجائیں گے) کیونکہ جبرائیل نے مجھے یہی کہا ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Qatadah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up among them (his Companions) to deliver his sermon in which he told them that Jihad in the way of Allah and belief in Allah (with all His Attributes) are the most meritorious of acts. A man stood up and said: Messenger of Allah, do you think that if I am killed in the way of Allah, my sins will be blotted out from me? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Yes, in case you are killed in the way of Allah and you were patient and sincere and you always fought facing the enemy, never turming your back upon him. Then he added: What have you said (now)? (Wishing to have further assurance from him for his satisfaction), he asked (again): Do you think if I am killed in the way of Allah, all my sins will be obliterated from me? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Yes, it you were patient and sincere and always fought facing the enemy and never turning your back upon him, (all your lapses would be forgiven) except debt. Gabriel (علیہ السلام) has told me this.
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، سعید بن ابوسعید مقبری، حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے بتائیں اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
The tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Qatadah (RA) who said: A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while he was on the pulpit and said: Do you think if I am killed in the way of Allah... (except this difference in its beginning, the rest of the tradition is the same as the previous one).
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي بِمَعْنَی حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ
سعید بن منصور، سفیان، عمرو بن دینار، محمد بن قیس، محمد بن عجلان، محمد بن قیس، حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ (رض) اپنے باپ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ منبر پر تھے اس نے عرض کیا اگر مجھے میری تلوار سے مارا جائے تو آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
Another version of the tradition differently transmitted begins with the words:" A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he was sitting on the pulpit.... He said: What do you find if I strike with the sword?" (The rest of the tradition is the same as the previous one.)
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ عَنْ عَيَّاشٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ کُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ
زکریا بن یحییٰ بن صالح مصری، ابن فضالہ، ابن عباس قتبانی، عبداللہ بن یزید، ابی عبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرمایا شہید سے سوائے قرض کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
It has been reported on the authority of Amr bin al-As that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: All the sins of a Shahid (martyr) are forgiven except debt.
جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُکَفِّرُ کُلَّ شَيْئٍ إِلَّا الدَّيْنَ
زہیر بن حرب، عبداللہ بن یزید مقری، سعید بن ابی ایوب، عیاش بن عباس قتبانی، ابی عبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں قتل ہونا سوائے قرض کے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
It has been reported on the authority of Amr bin al-As through a different chain of transmitters that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Death in the way of Allah blots out everything except debt.
شہدا کی روحوں کے جنت میں ہونے اور شہدا کے زندہ ہونے اور اپنے رب سے رزق دیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، اعمش، محمد بن عبداللہ بن نمیر حضرت مسروق سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ان کی روحیں سبز پرندوں کے جوف میں ہوتی ہیں ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ روحیں جنت میں پھرتی رہتی ہیں جہاں چاہیں پھر انہیں قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں ان کا رب ان کی طرف مطلع ہو کر فرماتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے وہ عرض کرتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کرتے ہیں اے رب ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ دیکھتا ہے کہ انہیں اب کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
It has been narrated on the authority of Masruq Who said: We asked Abdullah about the Quranic verse:" Think not of those who are slain in Allahs way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from wherever we like. Their Lord asked them the same question thrice. When they saw that they will continue to be asked and not left (without answering the question). they said: O Lord, we wish that Thou mayest return our souls to our bodies so that we may be slain in Thy way once again. When He (Allah) saw that they had no need, they were left (to their joy in heaven).
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَقَالَ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
منصور بن ابی مزاحم، یحییٰ بن حمزہ، محمد بن ولید زبیدی، زہری، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لوگوں میں سے کونسا آدمی افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو اللہ کے راستہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہے اس نے عرض کیا پھر کون افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہو اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہو۔
It has been narrated on the authority of Abu Said Khudri that a man came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Who is the best of men? He replied: A man who fights in the way of Allah spending his wealth and staking his life. The man then asked: Who is next to him (in excellence)? He said: Next to him is a believer who lives in a mountain gorge worshipping hid Lord and sparing men from his mischief.
جہاد کرنے اور پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عطاء بن یزید، لیثی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سے کون سب سے افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان اور اپنے مال میں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہو اس نے عرض کیا پھر کون آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص یکسو ہو کر پہاڑ کی گھاٹیوں میں کسی گھاٹی میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہو اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہو۔
It has been narrated (through a diferent chain of transmetters) on the same authority (i. e. Abu Said Khadri) who said: A man asked: Messenger of Allah, which of men is the best? He said: A believer who fights staking his life and spending his wealth in the way of Allah. He asked: Who is next to him (in excellence)? He said: Next to him is a man who lives an isolated life in a mountain gorge, worshipping his Lord and sparing men from his mischief.